الخميس، 29 محرّم 1439| 2017/10/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاک - چین اقتصادی  راہداری (سی پیک)  –  حقائق،  رکاوٹیں ،  اور لائحہ عمل

تحریر: محمد سلیمان، پاکستان

 

حکومت پاکستان 2015 سے پاک -چین اقتصادی  راہداری (CPEC / سی پیک ) کو عوام کے سامنے ایسے پیش کر رہی ہے کہ جیسے یہ ایک منصوبہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا اور گویا پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ حکومتی ادارے ایک تسلسل سے پاک چین اقتصادی  راہداری کو ایک عظیم کامیابی قرار دے رہے ہیں اور مخصوص حلقوں میں تو اس کو پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے بھی تشبیہ دی جا رہی ہے۔  اور اس معرکہ کو "معاشی بم" بھی کہا جا رہا ہے۔

باوجود یہ کہ اس راہداری کے ساتھ بہت سی تشویش اور شک و شبہات  جڑ گئے ہیں، یہ راہداری چین کی اقتصادی اور سیاسی سنجیدگی کو ضرور ظاہر کرتی ہے۔  مزید براں، سی پیک پاکستان میں ہر خاص و عام کا موضوعِ بحث بن چکا ہے اور عمومی طور پر لوگ اس کے حق میں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ عوام   اس منصوبے کے بارے میں زیادہ تفصیلات سے ناواقف بھی ہیں۔

حاملینِ دعوت کے لئے   ضروری ہے کہ وہ سی پیک کے موضوع کو گہرائی سے سمجھیں تاکہ وہ  ایک سچے رہنما  کے طور پر امّت کی احسن طریقے سے رہنمائی کر سکیں ۔

یہ مضمون سی پیک کے حوالے سے مندرجہ ذیل امور پرروشنی ڈالے گا:

  1. چین کی ایک پٹی ایک سڑک ( OBOR-One Belt One Road)   کی ابتدا  ،    نقطۂ نظر اور اس کی اقتصادی وجوہات
  2. سی پیک اصل میں ہے کیا؟
  3. سی پیک سے  پاکستان کے لئے سیاسی اور اقتصادی خطرات
  4. کس طرح سے وسیع اسٹریٹیجک معاملات چینی خواہشات سے جڑتے ہیں
  5. سی پیک سے متعلق اسلام کا  نقطۂ نظر

 

1) OBOR اورCPEC کا نقطۂ آغاز

2013 کے اختتام پر چینی صدر سی جن پنگ( Xi Jinping) نے چین کی ایک نہایت ہی اولوالعزم خارجہ اور اقتصادی پالیسی کا  اعلان کیا۔ انہوں نے Silk Road Economic Belt اور اکیسویں صدی کی Maritime Silk Road ( راه آبي ابريشم)، مجموعی طور پر  One Belt One Road – OBOR بنانے کا اعلان کیا ۔  یہ منصوبہ Belt and Road کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔  چینی صدر   Xi کا بلند نظر ارادہ چین کے پسماندہ علاقوں کو پڑوسی ممالک سے بذریعہ زمینی و بحری   راستہ جوڑنا ہے ۔OBOR دورِ حاضر کا سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ تصّور کیا جاتا ہے۔  چین اپنے اندرونی پسماندہ  علاقے، جو کہ سمندر سے خاصے فاصلے پر واقع ہیں، ان کو بذریعہ  وسطی ایشیاء  یورپ تک رسائی دلانا چاہتا ہے۔ یہ رسائی زمینی راستے سے   ہو گی۔ اس راستے کو Silk Road Economic Belt کہا جا رہا ہے ۔  چینی صدرXiکے منصوبےکا دوسرا حصہ اکیسویں صدی کی Maritime Silk Road بنانا ہے۔  اس منصوبے کے  تحت چین کے جنوبی علاقوں کو ایشیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جنوب-مشرقی علاقوں تک رسائی حاصل ہو گی۔ یہ ہدف بذریع بحری اڈے اور ریل کا جال بچھا کر حاصل ہو گا ۔

2013  میں چین کی اٹھارویں پارٹی کانگریس سے پہلے، چین کے سیاستدانوں اور مفکروں میں چین کی خارجہ پالیسی،  بلخصوص چین کے ہمسایہ ممالک، کے  متعلق  شدید گرما گرمی کا عالم تھا۔ اکتوبر2013میں بیجنگ نے ایک اہم کانفرنس منعقد کی جس کو '  Peripheral Diplomacy Work Conference' یعنی 'بیرونی ڈپلومیسی '     کا نام دیا گیا۔ یہ کانفرنس چین کے وجود میں آنے کے بعد سے لے کر اب تک کی ایک اہم اور منفرد کانفرنس تھی جو کہ چین کے ہمسایہ ممالک کی طرف مرکوز تھی۔  اس کانفرنس میں چین کی خارجہ پالیسی کی تمام اہم شخصیات نے شرکت کی۔ شرکت کرنے والوں میں'Politburo' (کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی جس پر پارٹی کا   لائحہ عمل طے کرنے کی ذمّہ داری عائد ہے )کی مکمل   'Standing Committee' بھی شامل تھی۔

'Peripheral Diplomacy' کے دوران صدر Xi نے کہا کہ چین کے ہمسایہ ممالک 'سیاسی نوعیت سے اہمیت کے حامل ہیں'۔ انہوں نے مزید  کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کے چین اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنائے، اقتصادی اور عسکری  روابط کو بھی  مضبوط کرے۔ صدر Xi چین کی بے انتہا اقتصادی قوت کو بطور ایک سیاسی آلہ استعمال کر کے خطے میں چین کی قیادت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ ان کے اس قول سے بھی لگایا جا سکتا ہے :"خطے میں استحکام برقرار رکھنا 'Peripheral Diplomacy' کا ایک اہم جزؤ ہے۔ ہمیں علاقائی اقتصادی روابط کو نہ صرف فوقیت دینا ہو گی بلکہ اس میں بھرپور حصہ بھی لینا ہو گا۔ ہمیں اثاثاجات کھڑے کرنے  اور رابطہ سازی کے عمل میں تیزی لانا ہو گی۔ ہمیں Silk Road Economic Belt اور اکیسویں صدی کی Maritime Silk Road کو بنانا ہو گا جو کہ علاقائی اقتصادیت میں ایک نئی تاریخ رقم کرے گی"۔ چینی صدر چین کی زبردست معاشی وسائل کو استعمال کر کے خطے  استحکام کو برقرار اور ہمسائیہ ممالک میں چین کو قیادت دلانا چاہتے ہیں۔

چینی سیاسی شخصیات اور تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ OBOR کوایشیا میں  امریکی تسلط کے خلاف بطور حربہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ Justin Yifu Lin جو کہ ایک بااثرپالیسی مشیر ہیں، اور World Bank کے سابق Chief Economist بھی رہ چکے ہیں،  وہ کہتے ہیں کہ صدر Xi کا  OBOR کا آغاز کرنے  کا اصل مقصد امریکی پالیسی جیسا کہ Pivot اور (Trans-Pacific Partnership (TTP کو متوازن کرنا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ چین کو اپنے اقتصادی وسائل، زرِمبادلہ کے ذخائر اور اپنا بھرپور تعمیراتی تجربہ بروئےکار لاتے ہوئےاپنی  ساکھ  کو خطے میں مزید مستحکم کرنا چاہئے ۔ Tang Min جو کہ چینی حکومت کی ریاستی کونسل میں ایک کونسلر ہیں، کہتے ہیں کہ چین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو امریکی TTP سے بدستور باہر رکھا جا رہا ہے۔ ان سب کو ایک جدید  پول (Third Pole) کی ضرورت تھی جو کہ OBOR کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ 

 

چین کی اقتصادی صورتِ حال

OBOR چین کے موجودہ  اقتصادی مسائل کے حل   میں کچھ مدد ضرور کرے گا۔OBOR کے اصل ہدف کو سمجھنے کے لئے  چین کو درپیش درج ذیل تین مسائل کو دیکھنا بہت ضروری ہے:

  • ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بہتر رابطے کے ذریعے چین کی علاقائی معیشتوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی   
  • چینی صنعت کو  جدیدترین بنانا اور چینی معیار کی برآمد
  • ·اضافی پیداواری صلاحیت کا مسئلہ

 

OBOR کا علاقائی ترقیاتی پہلو دراصل چین کی اقتصادی پالیسی کا اہم ترین ہدف ہے۔  OBOR میں جو محکمہ سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ National Development and Reform Commission ہے۔  یہ محکمہ چین کا سب سے بڑا اور نمایاں اقتصادی منصوبہ بندی کا محکمہ ہے۔  یہ عین ممکن ہے کہ OBOR کے وہ منصوبے جو چین کے اندر واقع ہیں، ان کی تکمیل بیرونی  ممالک کے منصوبوں سے پہلے ہو۔   یہ اس لئے کیونکہ چین اپنی حدود کے اندر بہتر انداز سے منصوبوں پر عمل درآمد کروا  سکتا ہے۔ البتہ اگر چینی حکومت اپنے اندرونی منصوبوں کو بیرونی منصوبوں سے منسلک کرنے میں ناکام رہی تو OBOR اور دیگر چینی ترقیاتی منصوبوں میں کچھ فرق باقی نہ رہے گا۔     جس کی وجہ سے OBOR کی سیاسی اور اقتصادی حیثیت گھٹتی چلی جائے گی۔

OBOR کو سرکاری طور پر2014میں  سالانہ مرکزی اقتصادی کانفرنس (Central Economic Work Conference) کے دوران چین کی قومی اقتصادی ترقیاتی منصوبے کا حصہ بنایا گیا۔  اس کانفرنس میں تین  منصوبے پیش کیے گئے، جن میں سے ایک OBOR تھا۔  ان علاقائی ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اس طرح کی گئی  کہ یہ چین کا ایک طویل مسئلہ حل کر سکیں۔  وہ مسئلہ ہے چین کے علاقوں  کی ناہموار ترقی۔  چین کی حکمران پارٹی چین میں غیر ہموار ترقی سے خاصی پریشان ہے۔ یہ عدم مساوات چین کے  مغربی اندرونی پسماندہ علاقوں اور چین کے مشرقی ساحلی ترقی یافتہ صوبوں کے مابین ہے۔  مثال کے طور پر: چین کا شہر شنگھائی (Shanghai) جو کہ ساحلی شہر ہے، چین کے اندرونی صوبہ گانسو (Gansu) سے پانچھ گنا زیادہ مالدار ہے۔ گانسو صوبہ چین کی پرانی Silk Road کا حصہ بھی ہے۔ چین نےان صوبوں کے درمیان اس وسیع مالیاتی فرق کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

1999سے چینی حکومت مغربی ترقیاتی منصوبہ بندی (Western Development Strategy) پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ یہ صرف اس لئے تاکہ ان صوبوں میں جان ڈالی جا سکے جو ایک طویل عرصے سے مالیاتی طور پر غیر منافع بخش ہیں۔ ان صوبوں کی فہرست میں مسلم اکثریت والے صوبے بھی شامل ہے جیسا کہ سنکیانگ (Xinjiang)۔ البتہ یہ کاوشیں کوئی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکیں۔ چینی حکومت کی ترجیحی پولیسیوں، بڑے پیمانے پر فنڈز دینے، اور ریاستی سرمایہ کاری کے باوجود نتائج بہت ہی کم تھے۔ یہ مخصوص صوبے چین کے مجموعی GDP میں2000میں 17.1 فیصد پر تھے اور ان تمام کاوشوں کے بعد2010میں ان صوبوں کا حجم 18.7 فیصد پر کھڑا تھا۔

ان حکومتی کاوشوں اور رعایات کی وجہ سے جو منفی اثرات مرتب ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اِن مغربی صوبوں میں ایک کثیر تعداد ریاستی کمپنیوں کی ہے اور نجی تجارتی اداروں کی تعداد نہایت ہی  کم ہے۔  مثلاً چین کی اقتصادی تحقیقی ادارہ   (China Economic Research Institute)  کی Free Market Index رپورٹ کے مطابق چین کے سب سے کم درجے والے صوبے چین کے مغربی خطے  میں  واقع ہیں،  سنکیانگ (Xingiang)،  تبت (Tibet)،  چنگھائی (Qinghai)،  اور گانسو (Gansu)۔ ان چار صوبوں کا اوسطاً سکور 2.67 ہے۔ جبکہ ریاستی اوسط 6.56ہے۔ اس سکور میں صفر کا مطلب ہے کہ وہاں کوئی نجی کمپنی نہیں اور 10  کا مطلب ہے وہ مارکیٹ مکمل طور پر نجی ہے۔

OBOR پر نہ صرف چین کے مغربی علاقوں کا دار و مدار ہے بلکہ یہ چین کی اقتصادی صورت حال کو بہتر بنانے میں بھی ایک قلیدی کردار ادا کرے گا۔ جیسا کہ مالیاتی طور پر پیچھے رہ جانے والے صوبوں کو ترقی یافتہ بنانا، جن میں چین کے شمال-مشرقی اور جنوب-مغربی صوبے بھی شامل ہیں۔  دراصل چین کے تمام صوبے OBOR کا حصہ بننے کے لئے بے تاب ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ OBOR کے ذریعے وہ اپنے  اپنے صوبے کی ترقی کے لئے آسان شرائط پر فنڈ اور سیاسی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

چین نے پچھلی تین دہایوں میں 'عالمی فیکٹری' کی سی شہرت حاصل کر لی ہے۔    البتہ پچھلے کچھ سالوں سے چین اپنا 'سستی مزدوری' والا مقام کھو رہا ہے۔ اس وجہ سے چینی قیادت عالمی سطح پر اپنا مقام بہتر کرنا چاہتی ہے تاکہ بہتر مالیاتی فائدہ اٹھایا جا سکے۔یہ مقام حاصل کرنے کے لئے چین کو اپنی صنعت کو بہتر بنانا ہو گا۔  اور صنعت کو بہتر بنانے کا ہدف چین کے اندرونی مالیاتی اہداف میں سرِ فہرست ہے۔  اور یہ ہدف چین کی صنعت اور IT وزارت '(Ministry of Industry and Information Technology (MIIT'  کی پیش کردہ رپورٹ میں بھی عیاں ہے۔    اس کا اصل ہدف ملک کی پیداواری صنعت کو نئی ایجادات کی جانب راغب کرنا ہے، مقدار ست زیادہ معیار پر زور دینا ہے اور چین کی کم لاگت کی پیداواری صنعتوں کو منظم کرنا ہے۔

 

چینی معیشت میں   اضافی پیداواری  صلاحیت کا مسئلہ

عالمی مالیاتی بحران کے دوران چینی حکومت نے ماضی قریب کا سب سے بڑا ریلیف پیکج فراہم کیا۔ اس عمل کی وجہ سے چین سمیت کئی ممالک دیوالیہ پن سے بچ گئے، اس فہرست میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ اس ضمن میں اشیا ء کی قیمت  کئی   گنا بڑھا دی گئی۔ اس عمل کےدیر پا  منفی نتائج میں سے ایک چینی معیشت میں صنعتی اضافی صلاحیت کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ مختلف صنعتوں میں دیکھا جا سکتا ہے جیسے لوہے کی صنعت سے لے کر سیمنٹ کی صنعت تک۔ مثلاً2008 میں چین کی لوہے کی پیداوار 512 ملین ٹن تھی  جو2015  میں بڑھ کر 803  ملین ٹن تک پہنچ گئی۔ موازنے کے لئے، یہ اضافی 300 ملین ٹن امریکا اور یورپی یونین  (EU)  کی مشترکہ پیداوار سے زیادہ ہے۔

چینی حکومت کی ترجیحات میں سے ایک اس اضافی پیداواری صلاحیت سے نمٹنا ہے۔  حکومت نے اس مسئلہ کو سر پر لٹکتی ہوئی تلوار سے تشبیہ دی ہے۔  اضافی پیداواری صلاحیت کے  ضیاع کا مطلب ہے نجی کمپنی کے منافع میں کمی، قرضاجات میں اضافہ، اور ریاستی معیشتی نظام میں دراڑ ۔  مالیاتی بحران کے دوران اضافی پیداوار کی صلاحیت رکھنے والی بہت سی چینی سرکاری کمپنیاں بھاری قرضاجات لیتی رہیں۔ جس کی وجہ سے آج وہ کمپنیاں بمشکل گزارا کر رہی ہیں۔ اس کی وجوہات  سست معیشت، بین الاقوامی طلب میں کمی، اور زیادہ  پیداوار ہیں۔  ان کمپنیوں کے قرضاجات کی وجہ سے چین کے بینکوں پر بھی دباؤ ہے۔  چین کی حکومت نے اس اضافی پیداوار سے نمٹنے کے لئے کچھ تدابیر اختیار کی ہیں۔ جن کے تحت لوہے اور کوئلے کی صنعت سے  18 لاکھ مزدوروں کو نوکری سے نکالا گیا۔ مزید برآں  حکومت آلودگی پیدا کرنے والی لوہے اور Blast Furnace کی مل (Mills)بھی بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چینی ترقیاتی بینک (China Development Bank)کے چیئرمین Hu Huaibang، جو کہ OBOR کے سب سے نمایاں سرمایہ کار بھی ہیں ،کہتے ہیں کہ OBOR کا بنیادی مقصد چین کے اقتصادی ڈھانچے کی اصلاحات کرنا اور چین کی صنعت کو جدید بنانا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ، چین کو بڑے پیمانے پر سستی اشیا ء بنانے والے ماڈل سے دور کرنا ہے۔  وہ مزید کہتے ہیں:

"سب سے پہلے تو ہمیں رفتہ رفتہ اپنی نچلی سطح کی پیداوار دوسرے ممالک کو دے دینی چاہئے تاکہ ہماری صنعت پر  اضافی پیداوار کا بوجھ کم ہو سکے۔  ساتھ ہی ساتھ ہمیں تعمیراتی انجنیئرنگ، برق رفتار ریل، بجلی کی پیداوار، مشین بنانے، اور مواصلات جیسی صنعتوں کو بھی بیرونِ ملک منتقل کرنے میں مدد کرنی چاہئے ۔ "

'Silk Road Fund' جو کہ2014میں بطور آزاد مالیاتی ادارہ قائم کیا گیا تاکہ یہ ادارہ OBOR کے منصوبوں میں ابتدائی سرمایہ کاری کر سکے۔  اس ادارے کی سربراہ Jin Qi نے ایک نایاب خطاب میں اس بات کو واضح کیا کہ چین کو   اپنی اضافی پیداوار والی فیکٹریاں بیرون ملک، خاص طور پر OBOR سے منسلک ممالک میں منتقل کرنے سے نہ صرف چین اپنی اضافی پیداوار میں کمی لا سکتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے چین پسماندہ ممالک کو اپنی اپنی صنعت کھڑی کرنے میں بھی  مدد بھی کر سکتا ہے۔   اس طرح چین اپنے گھریلو واجبات کو غیر ملکی اقتصادی اور سفارتی اثاثاجات میں تبدیل کر سکتا ہے۔

اس سب کا خلاصہ یہ ہے کہ چین بھی دوسری استعماری طاقتوں کی طرح اپنے ہمسایہ ممالک کا استحصال کرنا چاہتا ہے۔  خاص طور پر  ان   ممالک کا  استحصال جو وسائل سے مالامال ہیں۔  اس استحصال کے ذریعے چین اپنے پسماندہ مغربی اور شمالی علاقوں کو ترقی یافتہ بنانا چاہتا ہے۔ 

 

2)  سی پیک اصل میں ہے کیا؟

OBORمنصوبے کا سب سے نمایاں اور اہم ترین منصوبہ پاک-چین اقتصادی راہداری(China-Pakistan Economic Corridor / CPEC)  ہے۔ اس منصوبے کے تحت سنکیانگ (Xinjiang)  چین میں کاشغر کو پاکستان میں گوادر سے جوڑا جائے گا۔

اس مضمون کے لکھے جانے تک، وہ معاہدہ جو چینی اور پاکستانی حکومتوں کے مابین طے پایا ہے، اس کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ یہ چین کی تدبیر کے عین مطابق ہے۔   ابھی تک جو معلوم ہے وہ صرف حکومتی بیانات ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سی پیک  منصوبہ بہت سے مختلف چھوٹے بڑے منصوبوں کا مجموعہ ہے۔ یہ منصوبے پاکستان بھر میں زیرِ تعمیر ہیں۔ ان میں ریل کے نظام کی جدت، سڑکوں کا جال بچھانا، مختلف توانائی کے منصوبے، اور مخصوص اقتصادی زون بنانا شامل ہیں۔  سی پیک کا کل تخمینہ 46بلین ڈالر اندازہ کیا جاتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے33 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں خرچ ہو گی۔ جبکہ13 بلین ڈالر ریل اور سڑک کے جال بچھانے پر صرف کیے جائیں گے۔

سی پک منصوبوں کی سرمایہ کاری چاردرج ذیل ذرائع سے کی جائے گی۔

  • رعایتی قرضاجات 
  • سودی قرضاجات
  • نجی شراکتی  سرمایہ کاری
  • (Asian Development Bank (ADB اور  (Asian Infrastructure Investment Bank (AIIB

البتہ ایک حالیہ خبر جو کہ پاکستان کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی، اس نے ایک عوام میں سی پیک کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔  خبر چین کے ترقی اور اصلاحاتی کمیشن

(National Development and Reform Commission -NDRC) اور چین کے ڈویلپمنٹ بینک (China Development Bank -CDB)کی2015میں لکھی گئی ایک رپورٹ پر مبنی تھی۔رپورٹ کا نام  پاک چین اقتصادی راہداری کا طویل مدتی پلان(Long Term Plan on China-Pakistan Economic Corridor) ہے۔اس تفصیلی پلان میں سی پیک کی حقیقت پاکستانی لیڈران کی طرف سے بیان کی  گئی منظر کشی سے یکسر مختلف ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سی پیک صرف شاہراہوں  اور توانائی تک محدود نہیں بلکہ اور کئی منصوبے بھی سی پیک میں شامل ہیں جیسا کہ زرعی اور معدنیات کے منصوبے ۔

زمینی حقائق اور حالیہ انکشافات کے بعد یہ کہنا درست ہو گا کہ سی پیک دراصل چین کی پاکستان کی زمین  میں  زراعت میں بھرپور سرمایہ کاری کا نام ہے ۔یہ بیجوں سے لے کر مال مویشی تک اور تمام زرعی پیداوار کو چین کے نام سے درآمد کرنے پر مرکوز ہوتا ہے۔ یہ درآمدات سی پیک کی بچھا ئی ہوئی سڑکوں اور ریل نیٹ ورک کے ذریعے ہوں گی۔پاکستان جن معدنیات سےزرخیز ہے، وہ بھی سی پیک کی سڑکوں کے ذریعے چین کے مغربی صوبوں کی صنعتوں تک پہنچائے جائیں گے۔  چونکہ سی پیک چین کے پسماندہ صوبہ سنگیانگ سے بھی منسلک ہے،  پاکستان کا خام مال وہاں کی صنعتوں تک پہنچایا جائے گا، جس سے   اس صوبے کی ترقی  کو یقینی بنایا جا سکے گا ۔

دوسرے صوبے بھی یکے بعد دیگرے پاکستانی وسائل کواپنی اپنی ترقی کے لئے استعمال  کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی توانائی اور بجلی کی زبوں حالی سے چین بخوبی واقف ہے۔ اس خراب صورت حال کی وجوہات مختلف نوعیت کی ہیں جن میں  گردشی قرضاجات، عمر رسیدہ پلانٹ بھی شامل ہیں۔ چین کو معلوم ہے کہ پاکستان کی توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کئے   بغیر وہ اپنی صنعتیں پاکستان میں نہیں چلا سکے گا۔جس کی وجہ سے پاکستان کے توانائی کے شعبے کی جدت بھی سی پیک کا حصہ ہے۔

 

سی پیک  اور ملاکا (Malacca) کی  دوہری مشکل

ملاکا کا شہر چین کو بذریعہ بحر یورپ، افریقہ، اور مشرق واسطہ تک سب سے قلیل سفر میں رسائی فراہم کرتا ہے۔چین کی توانائی کی درآمدات کا  تقریباً 80   فیصد کا گزر اس شہر سے ہوتا ہے۔ چین چونکہ دنیا میں  سب سے زیادہ  تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے بحری راستے کی حفاظت کے سلسلے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ موجودہ بحری راستوں پر امریکی بحری   جہاز  اکثر گشت کرتے پائے  جاتے ہیں۔

اس صورت میں اگر چین کو امریکہ یا امریکی اتحادی ممالک کی طرف سے جارحانہ مذمت کا سامنا کرنا پڑا تو چین کی درآمدات رک سکتی ہیں۔ درآمدات میں خلل کی وجہ سے چین کی معیشت گھٹنوں پر بھی   آ سکتی ہے۔اس صورت حال کو ملاکا کی  دوہری مشکل  (Malacca's Dilemma) بھی کہا جاتا ہے۔ملاکا میں خطرات کے علاوہ، چین جنوبی چینی سمندر پر بھی بھاری  انحصار کرتا ہے۔ متنازعہ سپراٹلی جزیرے   (Spratly Islands)بھی اس سمندر کے قریب واقع  ہیں۔ اور پراسل جزیرے  (Paracel Islands) بھی اس سمندر کے قریب واقع ہے جو کہ چین، تائیوان، ویت نام، اور امریکہ کے مابین کشیدگی کا باعث  ہیں ۔ سی پیک کا منصوبہ چینی برآمدات کو ان خطرات والے علاقوں  کی جگہ ایک محفوظ گزر گاہ فراہم کرے گا اور مغرب میں ایک نئی شاہراہ بن جائے گی اور اس طرح امریکہ اور چین کے درمیان تصادم کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

علاوہ ازیں بھارتی بحری فوج نے بھی ملاکا کے ارد گرد اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ وہ یہ عمل نکوبار جزیرہ  (Nicobar Island) کے بحری اڈے سے سر انجام دے رہا ہے۔ بھارت اس کی وجہ چین کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ (String of Pearls)  بتاتا ہے۔ انڈمان سمندر (Andaman Sea)  میں بڑھتی ہوئی بھارتی بحری فوج کی گشت کے باعث چین کی گوادر میں دلچسپی بڑھ سکتی ہے۔کایوپائے بندرگاہ (Kyaukpyu Port)  جو کہ  چینی حکومت میانمار میں تعمیر کروا رہی ہے، مستقبل میں چین کے لیے  ملاکا کا ایک متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔  لیکن یہ بندرگاہ  بھی بھارتی  بحری فوج کی  جارحیت سے محفوظ نہیں۔ تجویز کردہ بنگلا دیش-چین-بھارت-میانمار راہداری (BCIM Corridor)  بھی چین کے خلاف بھارتی جارحیت سے محفوظ نہیں۔ جس کی وجہ سے اس تجویز کردہ راہداری سے  چین کے لیے فائدہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس طرح چین کی سی پیک میں دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

 

3)  سی پیک سے  پاکستان کے لئے سیاسی اور اقتصادی خطرات

سی پیک کی افادیت اور اس کے معاشی اثرات کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں۔ مزید برآں پاکستان کو مختلف  داخلی و خارجی سیاسی مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سی پیک کی پیش رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ سی پیک کے  پاکستان پر درج ذیل چند منفی اثرات مستقبل کے کسی بھی ممکنہ فوائد پر بھاری پڑ جاتے ہیں:

  • خود مختاری کو لاحق خطرہ

 سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں چینی اثر و رسوخ بڑھتا  چلا جائے گا۔ اور پاکستان کو ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو پاکستان کی ساکھ کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً چین کچھ عرصے سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ گلگت۔بلتستان کو صوبائی حیثیت دی جائے جس کا مطلب ہے کہ کشمیر کے اوپر سمجھوتہ کرنا۔چین گوادر میں ایک بحری اڈا بھی بنا رہا ہے۔ اس کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے چین اپنی سرمایہ کاری کی حفاظت کرے گا۔ 9/11  کے بعد چین نے متعدد بار امریکی فوجی اور جاسوس اداروں کی پاکستان میں موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور اب چین چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنے اڈے پاکستان میں قائم کر سکے تاکہ وہ امریکی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے۔

  • ملکی صنعت کو لاحق خطرات

چین اپنی تباہ کاریوں کے لیے  مشہور ہے۔ چین جس بھی ملک میں گیا رفتہ رفتہ وہاں کی ملکی صنعت تباہ ہو گئی۔ پاکستان نے چین کے لیے اپنے تمام دروازے کھول دیے   ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی بچی کچی صنعت بھی چین کے آنے کی وجہ سے مٹ جائے گی ۔

  • قرضاجات اور سود کی اقساط

46بلین ڈالر میں ایک کثیر رقم قرضہ ہے جو پاکستان نے چین سے لیا ہے۔ اور ان قرضوں کی شرح سود بھی خاصی زیادہ ہے۔پاکستان جو کہ دیوالیہ پن کے دھانے پر ہے، وہ سی پیک کے منصوبوں کے تکمیل تک پہنچنے  سے پہلے ہیBalance of Payment کے مسئلہ میں پھنس چکا ہو گا۔ سری لنکا بھی اسی مسئلہ میں پھنسا ہوا ہے اور آج وہ چین کے لئے اپنے دروازے کھولنےپر پچھتا رہا ہے۔اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین سری لنکا پر زور دے رہا ہے کہ چین کو زمین 99  سال کے لئے بطور معاہدہ دے دے، جس کا دراصل مطلب ہے ملک کا ایک نمایاں حصہ چین کی حکمرانی میں دے دینا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ، نہ چین اور نہ ہی پاکستان نے اس  Transit فیس کا ذکر کیا ہے جو لاگوہو گی جب کوئی سامان گوادر سے چین کی طرف روانہ ہو گا۔

 

  • بجلی کی قیمت

سی پیک کا ایک اہم وعدہ ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان کو  بجلی فراہم کی جائے گی۔بجلی کی مد میں چینی سرمایہ کاری کی بدولت پاکستان کو اضافی10,000 میگا واٹ بجلی میسر ہو گی۔لیکن کوئی پاکستانی حکومتی عہدیدار اس بات کا  تذکرہ نہیں کر رہا کہ یہ بجلی کس ریٹ پر میسر ہو گی۔ بھارت میں فی یونٹ ریٹ 3.46روپے تک نیچے آ گیا ہے جو کہ تقریباً 0.0519    ڈالر بنتے ہیں۔موازنہ کےطور پر پاکستان میں فی یونٹ ریٹ 14سے16 روپے تک ہے۔ اور شاید مستقبل اس سے بھی بھیانک ہو۔یہ بات طے ہے کہ فی یونٹ ریٹ 18روپے  سے نیچے نہ ہو گا کیونکہ چین جو توانائی کی مد میں سرمایہ کاری کر رہا ہے وہ موجودہ آئی پی پی (Independent Power Producers)  میں کر رہا ہے اور ان کی ہمیشہ سے کوشش ہوتی ہے کہ فی یونٹ ریٹ زیادہ سے زیادہ رکھا جائے تاکہ منافع بڑھایا جا سکے۔اس ضمن میں  کیا کیا طے پایا جا چکا ہے، ان تفصیلات کو بھی چھپایا جا رہا ہے۔

 

  • اندرونِ ملک حفاظت پر زیادہ توجہ

معاہدے کے مطابق پاکستان پر ذمہ داری ہے کہ وہ چینی سرمایہ کاری، افراد، اور مزدوروں کو تحفظ فراہم کرے۔تعمیر کی جانے والی راہداری  ہزاروں میل لمبی ہو گی جو کہ میدانی علاقوں، پہاڑی علاقوں، اور صحراؤں سے گزرے گی۔پاکستان نے فوج کی ایک مکمل ڈویژن (Division) کھڑی کر دی ہے جو کہ چینی سرمایہ کاری، سڑکوں، اور ان پر سے گزارنے والے ٹرک کی حفاظت کرے گی۔ ایسا کرنے سے پاکستانی افواج مزید اندرونِ ملک سرگرمیوں میں مشغول ہو جا ئیں   گی جبکہ انہیں روایتی جنگی فوج بننے کی طرف لوٹنا چاہیے    ۔

 

4)  سی پیک اور امریکہ

امریکہ نے  محتاط انداز میں چینی Belt and Road اور سی پیک کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ ان اقدام سے منسلک بین الاقوامی سیاسی ،  خطرات اور مواقع،  دونوں سے بخوبی واقف ہے۔ امریکہ نے کافی عرصہ چین کی پیش قدمی کو شبہ کی نظر سے دیکھا ہے خاص طور پہ آج جب چین OBOR کے ذریعے ان ممالک میں ایک سیاسی طاقت بننے جا رہا ہے جہاں تاریخی طور پر امریکی اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے۔  لیکن ساتھ ہی ساتھ امریکہ اس موقع کو اپنے لئے سیاسی فائدے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے جہاں امریکہ چین کے ساتھ مل کر علاقائی مشکلات کا سامنا کرے۔ جس وجہ سے امریکہ نے افغانستان  کے کٹھ پتلی حکمران کو چین کے ساتھ معاشی روابط بڑھانے کی اجازت دی۔

امریکہ کا اپنا بھی Silk Trade Route  کا پلان موجود ہے، جو کہ2013 کے سنکیانگ منصوبے سے بھی پہلے کا ہے۔ یہ امر غور طلب ہے  کہ کیا امریکہ اور چین کے منصوبے آپس میں ٹکراتے ہیں یا نہیں۔ خاص طور پر وسطی ایشیا میں ترکمانستان میں توانائی کے منصوبے ، پاکستان میں ترقی، یا پھر ایشیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اثر و رسوخ کے معاملات پر تصادم۔ دیگر قوتیں، جیسا کہ بھارت اور روس ابھی تک اپنی علاقائی اہداف پر مبنی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ منصوبے یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ دنیا کے ایک  پسماندہ علاقے کی ہیت تبدیل کر دیں، مگر علاقائی تلخیاں، انتظامی رکاوٹیں، حفاظتی خدشات، غیر مستحکم سیاسی صورتِ حال پر سب کو متفق ہونا پڑے گا۔

2014 میں اس وقت کے ڈپٹی  سیکرٹری آف اسٹیٹ ولیم برنز (Deputy Secretary of State William Burns) نے ایک پالیسی خطاب میں کہا کہ،امریکہ کی حکمتِ عملی ہے کہ وسطی ایشا کی توانائی کی قابلیت جو کہ Hydro Power  اور قدرتی گیس پر مبنی  ہے،ان  کے لئے ایک مارکیٹ بنائی جائے۔ بھارت، پاکستان، اور جنوبی ایشا کے دیگر ممالک کے 1.6  بلین سے زیادہ صارفین قازقستان اور ترکمانستان جیسے توانائی کے وسائل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی پالیسی کا مرکز تجویز کردہ ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت  (TAPI)گیس پائپ لائن کا منصوبہ رہا ہے۔ اس کے ذریعے افغانستان کو نمایاں زرِ مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ترکمانستان دنیا کا دوسرا بڑا قدرتی گیس کے ذخائر کا حامل ہے۔TAPI کے ذریعے ترکمانستان درآمدات کا انحصار چین سے ہٹا کر بھارت اور پاکستان پر مرکوز کر سکتا ہے۔

سبق سفیر مارک گروسمین  (Marc Grossman) جو کہ افغانستان اور پاکستان کے لئے2011 سے2012  تک  امریکہ کے خصوصی نمائندے رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ، اس ضمن میں اگلا ہدف نجی شعبے کے سرمایہ کار  اور entrepreneurship کو ملانے کی ضرورت ہے۔  وہ ممکنہ درآمدی صنعت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جیسا کہ، افغانی پھل اور پاکستانی سیمنٹ، جو کہ فی الوقت تجارتی رکاوٹوں کی نظر  ہورہےہیں۔ بھارت اور ایران ممکنہ طور پر امریکی Silk Route پلان کے تحت وسطی ایشیا سے درآمد ہونے والی توانائی کو حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکہ نے بھارت اور ایران کو آپس کے تعلقات بہتر کرنے پر زور دیا۔

 

5) سی پیک سے متعلق اسلام کا  نقطۂ نظر

چین کے کھوکھلے  نعروں سے دھول ہٹا کر دیکھیں تو یہ بات واضح ہے کہ چین صرف پاکستانی وسائل کا استحصال کرنا  چاہتا ہے۔ چین پاکستانی وسائل کو استعمال کر کے اپنی ملکی معیشت بہتر بنانا چاہتا ہے۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کو جو سیاسی اور معاشی نقصان برداشت کرنا پڑے گا وہ ان  حاصل ہونے والے چند ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ اور دور رس ہیں۔ مزید یہ سمجھنے کی ضرورت ہےکہ سرمایہ دارانہ نظام کے کامیابی کو جانچنے کے تمام اسلوب ناقص ہیں۔

اسلام نے بہت گہرائی میں بین الاقوامی تجارت کے اصول مرتب کیے ہیں۔ کیونکہ اسلامی ریاستِ خلافت کوئی تنہائی پسند ریاست نہیں۔ بلکہ آنے والی خلافت دیگر ریاستوں سے معاشی، سیاسی، اور ثقافتی روابط استوار کرے گی۔

خلافت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ معاشی، عسکری، یا پھر سیاسی طور پر کفّار پر انحصار کرے۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے کفّار کو مسلمانوں پر سبیل (اختیار)حاصل ہو جاتا ہے جو کہ قطعا ًحرام ہے۔

ایسی غلامانہ  پالیسیاں مرتب کرنا ہر اس حکومت کا شیوہ ہے جو غیر الله کی بنیاد پر پاکستان میں  حکمرانی  کرتی ہے ۔  باجوہ-نواز حکومت اس سے ما وراء نہیں۔  یہ جمہوریت  کا نظام ہی ہے کہ جس کے ذریعے استعمار کو اپنے غلیظ اہداف حاصل کرنے کے لئے  چور دروازہ میسر آتا ہے۔  جمہوریت دراصل استعماریت کا  دوسرا نام ہے۔ اور اب چینی استعمار ہمارے  مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ اور امّت  کے ان مسائل کے بدلے حکمران استعمار سے اپنا فائدہ حاصل کریں گے۔

صرف جمہوریت کے خاتمے اور  خلافت کے قیام کے ذریعے ہی پاکستان میں ایک مضبوط اور دیر پا معاشی احیاء  لایا جا سکتا ہے۔  حزب التحریر نےاسلامی معیشت پر جامع اور تفصیلی مواد تیار کر رکھا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی آئین بھی مرتب کر رکھا ہے۔

 

خلافت معیشت میں سے ایک کثیر رقم زرعی اور صنعتی ترقی کے لئے مختص کرے گی۔  یہ بغیر کسی ٹیکس  لگائے کیا جائے گا۔ یہ ممکن ہو گا ریاستی ڈھانچے کو اسلام پر لانے سے، اور ریاستی اور نجی ملکیت کو درست کرنے اور دیگر ضروری اقدام اٹھانے سے۔ اسلام یہ لازم کرتا ہے کہ ریاست خلافت دنیا کی صف اول کی ریاست ہو۔ یہ ممکن ہو گا بھاری صنعت میں خاطر خواہ اضافہ کے ذریعے اور ساتھ ہی ساتھ ہر شعبہ میں  اعلی پائے کی تحقیق سے۔پچھلی خلافت میں منظم  زراعت پر دنیا  صدیوں رشک کیا کرتی تھی۔ آنے والی خلافت میں پاکستان ضرور دیکھے گا کہ کس طرح زمین کے متعلق اسلام کے سنہری اصول نافذ کر کے کس طرح آج بھی پاکستان کی زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔خلافت کی کرنسی سونا اور چاندی ہو گی جو افراط زر کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گی۔ توانائی کے وسائل واپس امّت کی ملکیت میں دے دیے جائیں   گے جس کی وجہ سے امّت کو بجلی انتہائی سستی میسر ہو گی۔اس طرح جو لوگ آج سرمایہ داری کے فرسودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں، خلافت ان کو اپنی مثال سے اسلام کا حق بیان کرے گی اور اسلام کی طرف عالمی دعوت کی علمبردار بنے گی۔

 

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الآخِرَةَ وَلاَ تَنسَ نَصِيبَكَ مِنْ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ

"اور جو (مال) تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی اللہ نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ  فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا"(القصص: ۷۷)

Last modified onجمعرات, 08 جون 2017 06:30

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک