الأربعاء، 04 ربيع الأول 1439| 2017/11/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 7 جولائی 2017

 

۔ پاکستان میں موجود افغان مزاحمت کاروں کے اڈوں پر حملوں کے نیٹو کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا خون مزید بہے گا

۔ ریمنڈ ڈیوس کی آب بیتی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ کس طرح غدار ہمارے دشمنوں کے سامنے ہمیں دھوکہ دیتے ہیں

۔ افغان سرحد پر باڑ لگانا ہمارے دروازے پر کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کے تحفظ کو یقینی بنائے گا

 

تفصیلات:

 

پاکستان میں موجود افغان مزاحمت کاروں کے اڈوں پر حملوں کے نیٹو کے اعلان کا مطلب

یہ ہے کہ مسلمانوں کا خون مزید بہے گا

 

29 جون 2017 کو بیلجیم کے شہر برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس کے بعد نیٹو اتحادیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مزید فوج افغانستان بھیجی جائے۔ نیٹو سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹین برگ نے سرحد کی دوسری جانب پاکستان میں موجود مزاحمت کاروں کے اڈوں کے متعلق کہا "ان سے نمٹنا تنازعے کے حل کا ایک حصہ ہے"۔ یہ ایک مشہور حقیقت ہے کہ خطے کے قبائلی مسلمانوں نے افغانستان پر امریکی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ قابض فوجوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قابض افواج افغانستان پر اپنے قبضے کو اب تک مستحکم نہیں کرسکی ہیں۔ واشنگٹن مسلسل پاکستان میں اپنی ایجنٹ حکومت سے یہ مطالبہ کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ قبائلی جنگجووں کے خلاف کارروائی کرے اور مزاحمت کو قابو میں کرنے کے لیے سرحد کی سخت نگرانی کرے۔ یہ مطالبہ درحقیقت پاکستان کی افواج سے ہے اور یہ وہ مطالبہ ہے جو امریکی بزدل افواج اپنے بل بوتے پر پورا نہیں کرسکتیں۔

 

افواج پاکستان کو اس مطالبے کو پورا کرنے پر مجبورکرنے کے لیے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کو امریکیوں نے یہ کام سونپا تھا کہ وہ کراچی سے لے کر قبائلی علاقوں تک بم دھماکے کروائے تا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے لیے رائے عامہ تیار ہو سکے۔ لہٰذا شمالی وزیرستان میں آپریشن سے قبل اس وقت کے امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ویلیم برنس نے مئی 2014 میں پاکستان کا دورہ کیا تا کہ قبائلی علاقوں میں موجود "دہشت گردوں" کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔ ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کومتحرک کردیا گیا کہ وہ فوجی و شہری اہداف کو نشانہ بنائے تا کہ فوجی آپریشن کی حمایت میں رائے عامہ بن سکے۔ ویلیم برنس کے دورے سے ایک دن قبل پاکستان آرمی کے دس سپاہی شمالی وزیرستان میں جاں بحق ہو گئے اور اس کے دورے کے بعد راولپنڈی کے قریب فوج کے دو اعلیٰ عہدیدار ایک حملے میں جاں بحق ہوئے اور پھر کراچی ائرپورٹ پر حملہ ہوگیا۔ ملک سے دہشت گردی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے نعرے لگاتے ہوئے راحیل-نواز حکومت نے شمالی وزیرستان میں "ضرب عضب" فوجی آپریشن کا اعلان کردیا۔ اسی طرح نیٹو کی جانب سے پاکستان میں موجود ٹھکانوں کے مسئلے کو حل کرنے کے اعلان کا مطلب ہے کہ افواج پاکستان کی جانب سے ان قبائلی مسلمانوں کے خلاف ایک اور فوجی آپریشن شروع کیا جائے جو افغانستان میں امریکی قابض افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا یہ بات خلاف توقع نہیں ہوگی اگر ایک بار پھر ملک میں بم دھماکے ہونا شروع ہو جائیں تاکہ ایک مزید فوجی آپریشن کے لیے رائے عامہ تیار کی جاسکے۔

 

خون خرابہ اور تشدد اسی طرح چلتا رہے گا جب تک خطے میں سانپ کے سر، امریکہ کی موجودگی اور اس کے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کو کچل نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ یہ امریکہ کی موجودگی ہی ہے جس نے افغانستان میں بھارت کو قدم جمانے اور ہمارے خلاف ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کو قائم کرنے میں پوری معاونت فراہم کی ہے۔ اگر ایک مخلص قیادت ہوتی تو وہ امریکی سفارت خانے ،کونسل خانوں اور نجی سیکیورٹی نیٹ ورک کو بند کرکےہماری سرزمین پر موجود امریکی اڈوں کا خاتمہ کردیتی۔ اور امریکی ایجنٹ باجوہ-نواز حکومت یہ کام کبھی نہیں کرے گی، لہٰذا اب افواج میں موجود مخلص افسران پر لازم ہے کہ وہ نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں۔ پھر خلیفہ راشد ،جو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرے گا ، دشمن کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرے گا اور ہر وہ ضروری قدم اٹھائے گا جس کے ذریعے مسلم علاقوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ اور ایسا ہماری افواج اور مخلص قبائلی جنگجووں کومشترکہ طور پر ہماری سرزمین پر موجود دشمنوں کے اڈوں کے خلاف حرکت میں لا کر کیا جائے گا۔

 

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ للَّهِ

"اور ان لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ کادین غالب نہ آجائے"(البقرۃ:193)

 

ریمنڈ ڈیوس کی آب بیتی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ کس طرح غدار

ہمارے دشمنوں کے سامنے ہمیں دھوکہ دیتے ہیں

 

27 جون 2017 کو ریمنڈ ڈیوس نے اپنی یادداشتیں "دی کنٹریکٹر: کس طرح میں پاکستانی جیل میں پہنچا اور سفارتی بحران پیدا ہوا" جاری کی جس میں اس نے بتایا کہ اس کی جیل میں کیا حالت تھی جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ اس نے وضاحت کی کہ کس طرح اسے "شرعی قانون" کے متعلق جلدی جلدی سبق پڑھایا گیا جس کے ذریعے اس کی رہائی ممکن ہوئی۔ ڈیوس نے بتایا کہ اس کے فرار کا منصوبہ اس کی عدالت میں آخری پیشی سے کئی ہفتوں قبل ہی تیار کرلیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ سیکریٹری خارجہ کیری اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر حقانی نے چار ہفتے قبل ایک ملاقات میں تیار کیا تھا۔ ڈیوس نے ایک اور رپورٹ کی نشان دہی کی جس کے مطابق اس منصوبے پر بعد میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل پاشا اور پاکستان میں امریکہ کے سفیر منٹر نے تفصیلی کام کیا۔ ڈیوس لکھتا ہے:" جو میری خیریت کے ذمہ دار تھے ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ مجھے پہلے ملک سے باہر نکالیں، اور انہیں یہ کام کرنے کی اس لیے جلدی تھی کہ ایک بار پھر بن لادن ہاتھ سے نکل نہ جائے"۔ اس نے مزید بتایا: "پاشا نے اس بات کی اہمیت کو اچھی طرح سے سمجھا کہ دونوں فریقین کے لیے یہ ضروری ہے کہ مجھے پاکستان سے جلد از جلد نکالا جائے"۔ ڈیوس کی باتیں اس سے قبل پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کی باتو ں کو صحیح ثابت کرتی ہیں جہاں اس نے قاتل جاسوس کی رہائی کے لیے پاشا کے کردار کی تعریف کی تھی۔ اور پاشا نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے کیا کہ ڈیوس ایک نجی فوجی ٹھیکیدار ہے جو ہماری سرزمین پر سی آئی اے کے لیے کام کرتا ہے۔

 

ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک نے بہت تباہی مچائی تھی اور پھر وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا لیکن اس کے باوجود پاشا نے اسے چھوڑ دیا۔ ایبٹ آباد آپریشن کا وقت قریب آرہا تھا لہٰذا پاشا نے ریمنڈ ڈیوس کی جلد ازجلد رہائی کے لیے ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے گھر والوں پر دن دہاڑے شدید دباؤ ڈالا۔ ایبٹ آباد آپریشن ہماری خودمختاری کی ایک انتہائی سنگین اور کھلی خلاف ورزی تھی اور یہ ہماری افواج کے منہ پر تھپڑ تھا لیکن ہمارے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پاشا کی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہ دی گئی۔ ریمنڈ ڈیوس کا پورا کا پورا واقع ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس طرح ہماری قیادت میں موجود غدار ہمارے دشمنوں کے فائدے کے لیےہمیں دھوکہ دیتے ہیں۔ ہماری افواج یقیناً ہمارے اتحاد اور طاقت کی علامت ہیں لیکن اس قسم کے بزدل فوجی رہنما ہمارے دشمنوں کے اتحادی بن کر ہماری عزت و وقار کو کوڑیوں میں فروخت کردیتے ہیں جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ

"اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ"(الممتحنہ:01)

 

جب برطانوی راج برصغیر پر اپنے قبضے کو مستحکم کررہا تھا تو مسلمان میر جعفر جیسے غداروں کی وجہ سے کمزور ہوگئے، بالکل ویسے ہی آج امریکی راج کے دور میں پاشا جیسے غداروں نے ہمارے پیٹھ میں خنجر پیوست کیا۔

اور آج بھارتی ریمنڈ ڈیوس، کلبھوشن یادیو، کے اعترافی بیانات کے باوجود باجوہ خاموش ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ہندو ریاست کے جبر وتشدد اور لائن آف کنٹرول پر مسلسل بھارتی جارحیت کے باوجود باجوہ اپنے امریکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے "تحمل" کا مظاہرہ کررہا ہے۔ افغانستان میں زبردست مزاحمت کی وجہ سے امریکی قبضہ مستحکم نہیں ہوسکا لیکن اس کے باوجود باجوہ صلیبیوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کررہا ہے۔ لیکن مسلمان جس عزت و وقار کا خواب دیکھتے ہیں وہ محض ایک خواب نہیں ہے۔ وہ ایک حقیقت ہے اور اس خواب کی تعبیر حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے اخلاص اور قربانی کی ضرورت ہے۔ افواج کے مخلص افسران پر یہ لازم ہے کہ وہ مزید کسی تاخیر کے نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں، اس سے پہلے کہ وہ ریٹائر ہو جائیں اور پھرپچتائیں کہ وہ اسلام اور اس امت کے لیے کیا کیا کچھ کرسکتے تھے۔

 

افغان سرحد پر باڑ لگانا ہمارے دروازے پر کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کے تحفظ کو یقینی بنائے گا

 

3 جولائی 2017 کو امریکی سینٹ کے وفد کے جنوبی وزیرستان کے دورے سے چند گھنٹوں قبل سی آئی اے کے ڈرون نے قبائلی علاقے کے ایک گاؤں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین مبینہ جنگجو لیڈر مارے گئے۔ افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بذات خود کیا جب وہ مہمند میں سرحدی علاقوں کا دورہ کررہے تھے، یہ بات آئی ایس پی آر نے جون کے آخری دنوں میں جاری ہونے والے بیان میں بتائی ۔ یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ 2430 کلو میٹر طویل سرحد پر 423 چھوٹے قلعے تعمیر کررہا ہے جن کا آپس میں فاصلہ تقریباً 6 کلومیٹر ہوگا تا کہ سرحد کی موثر نگرانی اور گشت کی جاسکے۔ اس کے علاوہ ریڈارز اور سینسرز لگائے جا رہے ہیں جو سرحد کی دوسری جانب ہونی والی نقل و حرکت کو دیکھ سکیں گے۔ ان انتظامات کےلیے درکار اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وزیر اعظم نے فوج کو 12 ارب روپے جاری کیے ہیں تا کہ سرحد کی نگرانی کا موثر نظام قائم کیا جاسکے جبکہ دوسری طرف حکومت کی جناب سےامریکی صلیبی جنگ کو لڑنے کی وجہ سے سرحد کے دونوں جانب رہنے والے مسلمانوں نے عظیم مالی نقصانات اٹھائیں ہیں۔

 

یہ ایک مشہور بات ہے کہ 1947 میں پاکستان کی تخلیق کے وقت سے کبھی کوئی ایسا وقت نہیں آیا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی دیکھ بحال کے لیے اس قسم کے وسیع انتظامات کی ضرورت پیش آئی ہو جبکہ یہ ایک طویل سرحد ہے جسے برطانوی سامراج نے "ڈیورنڈ لائن"کے نام پر مسلط کیا تھا۔ سرحد کے دونوں جانب رہنے والے مسلمانوں کے ایک دوسرے سے انتہائی قریبی خاندانی، قبائلی اور تجارتی تعلقات ہیں جس کی وجہ دونوں جانب سے مسلسل آنے جانے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ طویل سرحد پاکستان کے لیے کبھی بھی خطرے کا باعث نہیں رہی بلکہ دونوں جانب رہنے والے قبائل کے متعلق تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ پاکستان کے دفاع کی پہلی صف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب آخر سرحد پر ایسی کیا صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے سرحد کی نگرانی کے لیےاتنے وسیع انتظامات کی ضرورت پڑ گئی ہے؟َ جب سے امریکہ و نیٹو افواج نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے پاکستان کے مسلمانوں نے عمومی طور پر اور قبائلی مسلمانوں نے خصوصاً اس قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا۔ قبائلی مسلمان عرصے سے سرحد کی دوسری جانب قابض افواج کے خلاف جہاد کی حمایت بھی کررہے ہیں اور جہاد بھی کررہے ہیں اور یہ بات افغانستان میں امریکہ کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ امریکہ کے لیے یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان سے "دراندازی" کوروکا جائے اور اس بات پر امریکہ مشرف کے وقت سے اصرار کررہا ہے۔ شروع شروع میں باڑ لگانے کے حوالے سے فوج میں رائے منفی تھی اور اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے اس رائے کی نشان دہی 14 ستمبر 2005 کو کی جب اس نے سختی سے کہا،"سرحدوں پر باڑ لگانا پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے"۔ لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدا باڑ لگانے کے لیے درکار رائے عامہ اور ماحول بنانے کے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔

 

    مشرف کے وقت سے لے کر باجوہ کے دور تک غدار قیادت نے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک اور کلبھو شن یادیو نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری اور فوجی شہید ہو گئے۔ بلکہ جاسوسی اور تخریب کاری کے امریکی و بھارتی نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کی جگہ انہوں نے بم دھماکوں اور قتل وغارت گری کو اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو 'ہماری جنگ' ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا اور یہ بات اٹھائی کہ اب سرحد پر باڑ لگانا پاکستان کا مسئلہ بن گیا ہے۔ سرحد پر باڑ لگانا امریکی قبضے کو مستحکم کرے گا اور افغانستان میں موجود بھارتی اڈوں کی حفاظت کا باعث بنے گا کیونکہ یہ باڑ انہیں قبائلی مسلمانوں کے حملوں سے بچانے کا باعث بنے گی۔ یہی وقت ہے کہ افواج میں موجود مخلص افراد اسلام اور مسلمانوں کے عزت و وقار کے لیے کھڑے ہوں۔ وہ لازمی اس مجرم حکومت کو اکھاڑ پھینکیں جس کے ہاتھ اپنے ہی شہریوں اور فوجیوں کے مقدس خون سے رنگے ہوئے ہیں اور نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں جو اس خطے کے مسلمانوں کو تمام خطروں سے تحفظ فراہم کرے گی جیسا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں بتایا،

 

إنما الإمام جُنة يُقاتَل من ورائه ويُتّقى به

"یقیناً امام(خلیفہ) ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہوتا ہے"(مسلم)

Last modified onجمعہ, 07 جولائی 2017 21:26

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک