الجمعة، 10 صَفر 1443| 2021/09/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم


صرف خلافت ہی خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائے گی

 

24 جولائی 2021 کو اسلام آباد پولیس نے ایک ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھر کے ملازمین کو گرفتار کرلیا۔ ملزم ظاہر جعفر پر نور مقدم  پر تشدد کرنے ، اسے انتہائی سفاکی اور بے دردی سے قتل کرنے  کا الزام ہے، جبکہ ملزم کے والدین پر ثبوت چھپانے اور جرم میں معاونت کا الزام ہے۔ 23 جولائی 2021 کو ہونے والی سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر عبدالستار  نے عدالت کو بتایا  کہ مبینہ قاتل ، ظاہر، نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف-4/7 میں  اپنے گھر پر نور کا سر تن سے جدا کرنے سے قبل لوہے کے دستانے کے ذریعے اُس پر تشدد کیا تھا۔

 

نور مقدم کا قتل ایک خوفناک کہانی ہے، لیکن ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ اس قسم کے خوفناک واقعات ختم ہونے والے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کی طویل فہرست میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ یہ جرائم واضح کررہے ہیں کہ معاشرے کے ہر طبقے میں خواتین کی عزت  واحترام کا فقدان موجود ہے۔  اس سے بھی بڑھ کر یہ  بات واضح نظر آرہی ہے کہ جو مرد تشدد کرنے پر مائل ہیں انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں۔  ان جرائم پر ایک عرصے سے مسلسل بات ہو رہی ہے، اور وہ جو خواتین پر حملوں اور اُن کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، ان جرائم کی وجوہات بھی بیان کرتے ہیں اور اُن وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ اِن جرائم کی ذمہ داری  مردوں اور معاشرتی نظام پر ڈالتے ہیں جہاں مردوں کو فوقیت حاصل ہے۔ کچھ لوگ اِن جرائم کی ذمہ داری سزا دلوانے کے طریقہ کار پر ڈالتے ہیں جیسا کہ پاکستان علماء کونسل نے کیا۔ کچھ قانون سازی پر اس کی ذمہ داری ڈالتے ہیں اور قوانین میں تبدیلی  اور خواتین کے تحفظ پر مبنی  قوانین کی منظوری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

 

لیکن اس قسم کےخوفناک جرائم کو دوبارہ وقوع پزیر ہونے سے روکنے کے لیے ہمیں جزوی حل سے زیادہ ایک مکمل حل کی ضرورت ہے۔ ہمیں مسئلے کے حقیقی وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ان کو ختم کرنا ہے۔ یہ خوفناک جرائم اچانک سے نمودار نہیں ہوگئے بلکہ معاشرے میں موجود افکار و نظریات سے برآمد ہوئے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے نے مغربی سیکولر ازم کے ساتھ ساتھ غیر اسلامی روایات، جو کہ برصغیر میں اسلام کے آنے سے پہلے سے موجود ہیں، سے نکلنے والے  مختلف افکاراور قوانینکو  اپنایا ہوا ہے ۔ یہ افکار و قوانینہمارے اسکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں اور میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں ان کی ترویج کی جاتی ہے۔ یہ افکار  انفرادیت اور اپنی ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر عمل کرنے کی خواہش پیدا کرتے ہیں، اور احتساب کے تصور کی نفی کرتے ہیں۔

 

ہم معاشرے میں یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان افکار نے خواتین کے خلاف جرائم میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے حالیہ اعدادو شمار  کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرچکی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ عالمی طور پر بالادست سیکولر نظام کام نہیں کررہا  جو یہ کہتا ہے کہ عمل کی بنیاد نام نہاد انسانی حقوق  ہونے چاہیے۔ لیکن پاکستان اور دوسرے  مسلم ممالک نے مغربی استعماری ریاستوں کو ہم پر اپنی  اقدار اور عقائد کی بالادستی قائم کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ ان قوانین کا بھی نفاذ کر رکھا ہے کہ جن کے نفاذ کا وہ مطالبہ کرتے ہیں۔ مقامی غیر اسلامی ثقافت اس صورتحال کو مزید خراب کردیتی ہے جہاں اسلام سے پہلے کی روایات کو اسلامی روایات  کہہ کر پیش کیا جاتا ہےتاکہ لوگوں کے اسلامی جذبات  کی تسکین ہوسکے۔ یہ بدصورت آمیزش اب تک خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے، تو پھر کچھ لوگ کیوں نامکمل حل کے سلسلے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ سیکولر نظام میں امیر اور طاقتور پھلتے پھولتے ہیں جہاں دولت اور طاقت ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ معاشرے کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں کے پاس موجود طاقت اکثر خواتین کو ان کے ظلم کا شکار بنادیتی ہے۔

 

ہم جن حملوں کا اب مشاہدہ کررہے ہیں وہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم اگر واقعی مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک جامع تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا  ہوگا کہ اس وقت معاشرے میں موجود مسائل صرف اسی صورت میں حل ہوسکتے ہیں جب معاشرے کو اُن عقائد، اقدار اور قوانین پر کھڑا کیا جائے جن کا ماخذ صحیح ہو۔  صرف اسلامی خلافت کا قیام ہی ایک جامع تبدیلی لائے گا۔ اسلامی ریاست میں اسلامی قوانین اس بنیاد پر کام کرتے ہیں کہ جرم کو ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکے، جبکہ سزا عبرت اور انصاف دونوں کا کام کرتی ہے۔

 

ایسی شخصیات کو پروان چڑھا کر جرائم کو روکا جاتا ہے جو یہ سمجھتے ہوں کہ وہ اپنے ہر عمل کے لیے جو وہ کرتے ہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔  جرائم کو اس طرح سے بھی روکا جاتا ہے کہ لوگوں میں یہ خواہش پیدا ہو کہ وہ حلال اعمال کر کے  اور حرام اعمال سے اجتناب  کر کےاللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں۔ اسلامی تعلیمی نظام اور میڈیا  ان اسلامی تصورات کو پروان چڑھانے کو یقینی بنائے گا تا  کہ مرد و خاتون دونوں ان تصورات کو سمجھیں اور ان کے مطابق عمل کریں  ۔ اسلام میں خاتون ایک عزت ہے جس کی حفاظت لازمی ہے۔ اسی فہم کی وجہ سے خلیفہ معتصم نے صرف ایک مسلم خاتون کی پکار پر اس کی حفاظت کے لیے ایک فوج بھیجی تھی جس پر رومیوں نے حملہ کیا تھا۔ 

 

مرد و خواتین کو  یہ بات سمجھنی ہے کہ انہیں اسلام کے اُن قوانین کو تسلیم کرنا چاہیے جو انسانی مسائل کے حل کے لیے رکھے گئے ہیں۔ لیکن ان قوانین کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تمام قوانین ایک ساتھ نافذ ہوں۔ خواتین سے متعلق اسلامی قوانین کے ذریعے سے  ان کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ اسلام مرد و عورت کے درمیان رابطے اور تعلق کو اُن امور تک محدود کرتا ہے جو ضروری ہوں۔ اسلام نے مرد اور عورت کو ، جن کا ایک دوسرے سے محرم کا تعلق نہیں ، تنہائی میں ملاقات سے منع کیا ہے۔ اس قسم کے قوانین اُن دیگر قوانین کی طرح ہیں جن کے نفاذ کے لیے اسلامی ریاست کا قیام ضروری ہے تا کہ اُن کے حقیقی اور بھر پور اثر کا احساس ہوسکے۔  کچھ لوگ ان میں سے کچھ قوانین کو عورت پر ظلم قرار دیں، لیکن وہ اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ قوانین کو اُن مقامات پر نافذ کیا جاتا جہاں جرم ہوسکتا ہے۔

 

#میٹو(#MeToo) کی تحریک نے طاقتور کرپٹ مردوں کو بے نقاب کیا۔ وال اسٹریٹ نے طرز عمل میں تبدیلیاں کیں تا کہ مرد و عورت کے درمیان تنہائی سے بچا جاسکے۔ وال اسٹریٹ کے اس پار ، مردوں نے خود کو اور اپنی ساکھ کو بچانے کے لئے حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا۔ متعدد ہیج فنڈز ، لاء فرمز، بینکس، نجی ایکویٹی فرمز اور انویسٹمنٹ مینجمنٹ فرمز نے ایسی پالیسیاں اپنائیں جیسے 35 سال سے کم عمر کی خواتین کے ساتھ کاروباری عشائیہ سے انکار ، طیاروں میں خواتین ساتھیوں کے ساتھ بیٹھنے سے انکار ،ہوٹل کی مختلف منزلوں پر مرد و خواتین  کے الگ الگ کمرے بک کروانا ، صرف ایک مرد اور عورت کے درمیان ملاقات سے احتراز کرنا اور کھڑکیوں کے بغیر کمروں میں خواتین ملازمین سے ملنے سے انکار وغیرہ شامل ہے۔

 

ایک اسلامی معاشرے میں اسلامی اقدار بالادست ہوں گی، جہاں لوگ سیکولر معاشروں کے برعکس  مرد عورت کو بالکل ہی مختلف نظر سے دیکھیں گے۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ ان کی مائیں، بیٹیاں، بیویاں، خاتون رشتہ دار اور  دیگر تمام خواتین کو ایک عزت اور بھروسے کا مقام دیا گیا ہے۔

 

لیکن جس مسئلے کا ہم اس وقت شکار ہیں وہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک معاشرے کو مکمل طور پر تبدیل کر کے اسے صرف  اسلام کی بنیاد پر نہ کھڑا کردیا جائے ۔ خلافت کے ذریعے اسلام کے افکار کی ترویج کی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا نظام عدل بھی قائم ہوگا۔ پھر خواتین کو دوبارہ ؛بیوی، ماں، بیٹی، استانی، ڈاکٹر، کاروباری خاتون، جج، سائنسدان، فقیہہ وغیرہ، غرضیکہ کہ ہر کردار میں تحفظ و امان حاصل ہوگا۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

﴿وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۘ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗؕ اُولٰۤٮِٕكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾

"اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بےشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔"

(التوبۃ، 9:71)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے نور اقبال نے تحریر کیا – ولایہ پاکستان

Last modified onمنگل, 03 اگست 2021 16:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک