السبت، 11 صَفر 1440| 2018/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 4مئی 2018  

 

 

۔ جمہوریت سالانہ بجٹ کے ذریعے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے اور انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہے

- صرف خلافت ہی کرپشن کے ناسور کا خاتمہ  اور لوٹی ہوئی دولت کو واپس لائے گی

- ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ اس ضرورت کی تصدیق کرتا ہے کہ  امریکہ کے ساتھ ذلت آمیز اتحاد کوختم کیا جائے

تفصیلات: 

 

جمہوریت سالانہ بجٹ کے ذریعے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے اور انتخابات پر اثر انداز ہوتی ہے

30 اپریل2018 کو ڈان اخبار نے خبر شائع کی کہ وزیر اعلیٰ کے ترجمان صوبائی رکن اسمبلی شوکت یوسفزئی نے ڈان اخبار کو بتایا کہ کے پی کے حکومت بجٹ پیش کرنے کے خلاف تھی  لیکن  حزب اختلاف   کی جماعتوں کے اصرار پر اس نے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت موجودہ حکومت کی جانب سے اگلے مالی سال کا ترقیاتی بجٹ پیش کرنے کے خلاف تھی  اور وہ صرف  انتظامی بجٹ پیش کرنا چاہتی تھی۔ اس سے پہلے  12 اپریل 2018 کو سی ای سی کے اجلاس کے بعد عمران خان نے یہ اعلان کیا تھا  کہ ان کی جماعت کے پی کے میں اگلے سال کا  بجٹ پیش نہیں کرے گی اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ-ن کے وفا قی اور پنجاب کی صوبائی حکومت  اگلے سال کا بجٹ پیش نہ کریں کیونکہ موجودہ حکومت کی مدت صرف 45 دن رہ گئی ہے اس لیے وہ پورے سال کا بجٹ پیش نہیں کرسکتی۔   

 

جمہوریت میں ایک سال کا  بجٹ پیش کرنا اور پھر اسمبلی کی جانب سے اس کی منظوری لینا، جو اسے قانون کی شکل دے دیتی ہے، ایک لازمی ضرورت ہے ورنہ  حکومت کے ادارے مفلوج ہو جائیں گے۔ ہر سال حکومت  کو یہ اعلان کرنا  ہوتا ہے  کہ  اس کی کیا  ضروریات ہیں اور ان  پر کتنا خرچ کرنے کا ارادہ  رکھتی ہے اور ان اخراجات کے لیے وسائل معیشت کے کن شعبوں پر ٹیکس لگا کر جمع کرے گی۔ یہ سالانہ بجٹ  معاشی پالیسیوں کی سمت کا تعین کرتا ہے  لیکن ایک سال گزرنے جانے کے بعد دوبارہ ان پر غور کیا جاتا ہے اور چاہے ان میں کوئی تبدیلی کی جائے یہ نہ کی جائے  اس کو اسمبلی سے منظور کروانا ضروری ہوتا ہے ۔  سالانہ بجٹ کا تصور خود اپنی ذات میں  غیر یقینی صورتحال کو پیدا کرنے کا باعث ہے کیونکہ لوگ نہیں جانتے کہ نئے بجٹ میں کیا چیز سامنے آئے گی۔ اگر پچھلے بجٹ کے مقابلے میں اس میں تبدیلیاں ہوتی ہیں تو انہیں اپنے کاروبار چلانے کے لیے  اپنی حکمت عملی کو تبدیل  کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر یہ بجٹ  انتخابات سے پہلے آخری بجٹ ہو  تو جانے والی حکومت  یہ کوشش کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوش کرے تاکہ بڑی تعداد میں  ووٹ لے کر دوبارہ ا قتدار میں آسکے۔یہی وجہ ہے   کہ زیادہ تر حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کی مخالفت  کی جبکہ اس کی اپنی مدت ایک مہینے میں ختم ہونے والی ہو۔ 

 

جہاں تک اسلامی ریاست کی بات ہے تواس کا کوئی ایسا سالانہ بجٹ نہیں ہو تا جس کے لیے ہر سال قانون سازی کی ضرورت ہو،نہ ہی یہ بجٹ مجلسِ امت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی اِ س کے بارے میں اُس سے رائے لی جاتی ہے۔ اسلامی ریاست کو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں،کیونکہ بیت المال کے محصولات اسلام کے متعین شرعی احکامات کے مطابق حاصل کئے جاتے ہیں اور اسلام ہی کے متعین احکامات کے مطابق خرچ کئے جاتے ہیں۔   یہ سب دائمی احکامِ شرعیہ ہیں۔بیت المال کے مستقل محصولات یہ ہیں:فئے،غنائم،انفال(غنیمت کی ایک قسم)،خراج،جزیہ،عوامی ملکیت کے مختلف انواع کے محصولات،ریاستی ملکیت کے محصولات،عشر،رکاز کا خمس،معدنیات،زکوٰة کے اموال۔چونکہ یہ سب احکامِ شرعیہ ہیں چنانچہ اس میں نہ ہی محصولات کے ابواب میں اور نہ ہی اخراجات کے ابواب میں رائے لینے کی کوئی گنجائش ہے،بلکہ یہ دائمی ابواب ہیں جن کو شریعت کے دائمی احکام نے مقررکردیا ہے۔        

اس طرح نظام خلافت زیادہ مستحکم نظام ہے کیونکہ اس کی معاشی پالیسی  سب سے زیادہ مستقل رہتی ہے اور اس  میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے محاصل کے ذرائع کا تعین کردیا ہے جو کبھی بھی تبدیل نہیں کیے جاسکتے اور لوگ  بھی جانتے ہیں کہ ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی کیونکہ خلیفہ اپنی مرضی سے نہ تو کوئی ٹیکس لگا سکتا ہے اور نہ ہی  معیشت کے کسی شعبے کے حوالے سے معاشی پالیسی کو بغیر کسی شرعی دلائل کےتبدیل کرسکتا ہے۔ 

اسی لیے آنے والے خلافت کے مقدمہ دستور کے شق 148 میں حزب التحریر نے یہ استنباط کیا ہے کہ،"ریاستی بجٹ کے دائمی ابواب ہیں جن کو شرع نے متعین کیا ہے"۔ اور شق 149 میں استنباط کیا ہے کہ،"بیت المال کی آمدن کے دائمی ذرائع یہ ہیں۔تما تر فئے، جزیہ، خراج، رکاز کا خمس(پانچواں حصہ)، زکوۃ، ان اموال کو ہمیشہ وصول کیا جائے گا خواہ ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو"۔  تو کسی بھی دوسرے نظام کے مقابلے میں خلافت میں کاروبار کے لیے ماحول سے سے زیادہ سازگار اور موافق ہوتا ہے۔         

 

صرف خلافت ہی کرپشن کے ناسور کا خاتمہ  اور لوٹی ہوئی دولت کو واپس لائے گی

2 مئی 2018 کو نیب کے تحقیقاتی آفیسر نے شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے مقدمے میں  نیب عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ایون فیلڈ کی جائیدداد کے اس وقت مالک تھے جب وہ وزات اعظمی کے منصب پر فائز تھے۔  عمران ڈوگر نے بتایا  کہ نواز شریف نے آف شور کمپنی نیلسن اور نیکول  لمیڈڈ کے ذریعے لندن میں جائیدادیں خریدیں اور وہ ہی ان  فلیٹس کے اصل مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران  ملزم  اپنے ذرائع آمدن بتانے میں ناکام رہے تھے اور وہ 1993 سے ان فلیٹس کے مالک ہیں۔ 

 

اس سے پہلے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)، جس نے شریف خاندان کی آف شور کاروبار کی تحقیقات کیں تھیں، نے یہ معلوم کیا تھا کہ 1992 سے 1993 کے دوران شریف  خاندان کی دولت میں زبردست اضافہ ہوا تھا جب نواز شریف پہلی بار  ملک کے وزیر اعظم بنے تھے ۔ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کی دولت میں 4.3 گنا اضافہ ہوا جو 7.53ملین  روپوں  سے بڑھ کر 32.15ملین روپے ہو گئی۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز  کے اثاثوں میں محض ایک سال میں اکیس گنا اضافہ ہوا جو 1.47 ملین روپوں سے بڑھ کر 30.5 ملین روپے ہو گئے۔ نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کی دولت میں دس گنا اضافہ ہوا اور اس کے اثاثے 3.3 ملین روپوں سے بڑھ کر 33.63 ملین روپے ہو گئے۔  نواز شریف کے ایک اور بیٹےحسن نواز کے اثاثے 1991-92 میں 2.4 ملین روپے تھے جو 1992-93 میں 13.14گنا بڑھ کر 31.55 ملین روپے ہوگئے۔ نواز شریف کی ایک اور بیٹی اسماء نواز کے دولت میں بھی 1992-93 کے عرصے میں 21.7گنا اضافہ ہوا جو 1.47ملین روپوں سے بڑھ کر 31.55ملین روپے ہو گئی۔ نواز شریف کی بیوی بیگم کلثوم نواز  کی دولت میں 1992-93کے عرصے میں 17.5 گنا اضافہ ہوا اور ان کے اثاثے 1.66ملین روپوں سے بڑھ کر 28.62ملین روپے ہوگئے جبکہ ان کی آمدنی صرف 279,400 روپے تھی۔  اسی طرح اسماء نواز کے سسر، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی فائدہ اٹھایا۔  2008-09 میں میں انہوں نے جو ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرایا تھا اس کے مطابق سولہ سال کے دوران ان کی دولت میں 91 گنا اضافہ ہوا یعنی ان کے اثاثے 9.11ملین روپوں سے بڑھ کر 831.70ملین روپے ہو گئے۔  حکمران جماعت کے کئی دیگر وزراء بھی قومی احتساب بیورو کی عدالتوں میں کرپشن کے مقدمات کاسامنا کررہے ہیں۔  دور حکمرانی کے دوران حکمرانوں کی دولت میں زبردست اضافہ صرف مسلم لیگ-ن کا ہی منفرد "کارنامہ" نہیں ہے۔ اس کی مدمقابل جماعت  پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)  کے لوگوں کی دولت میں بھی زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سن 2000  کی  پہلی دہائی کے آخر میں فوربز میگزین کے مطابق آصف علی زرداری  زمیندار اور ایک  سنیما کے مالک سے  دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوگئے جب وہ پاکستان کے صدر بنے۔  جہاں تک عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا تعلق ہے  تو اس کے کئی لوگ بھی اس قسم کے کاموں میں ملوث ہیں جیسا کہ جہانگیر ترین جنہوں نے مشرف کے دور میں اس کی حکومت کا حصہ بن کر بے تہاشہ دولت جمع کی اور اب انہیں نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔  لہٰذا جمہوریت میں زرپرست لالچی لوگ دولت کا استعمال کر کے اقتدار میں آتے ہیں کہ قانون سازی کر سکیں اور اس کے ذریعے انتخابات میں لگائی گئی" سرمایہ کاری" کو کئی گنا منافع کے ساتھ حاصل کرتے ہیں۔ 

 

اسلام میں حکمران قانون سازی کا ماخذ نہیں ہوتے کیونکہ قانون سازی انسانوں کی خواہشات  کے مطابق نہیں کی جاسکتی بلکہ صرف اور صرف قرآن سنت کے مطابق ہوتی ہے۔ لہٰذا اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں کہ کوئی لالچی اپنی ذاتی دولت میں اضافے کے لیے قوانین میں ردو بدل کرسکے۔ خلافت میں وہ شخص جو کوئی حکومتی عہدہ رکھتا ہے تواُس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کاروبار سے منسلک ہو۔  وہ صرف اپنے ماہانہ معاوضے کا حق دار ہے۔ وہ شخص جو کوئی حکومتی عہدہ رکھتا ہے تواُس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی تجارتی یا مالیاتی کام سے منسلک   ہو۔  وہ صرف اپنے ماہانہ معاوضے کا حق دار ہے۔   تو اگر وہ اپنے دور میں مال دار  ہو جاتا ہے، تو اُس کا احتساب ہونا چاہیے، اور یہ بات آج کل کے تمام حکمرانوں میں مشترک ہے کہ اُنہوں نے حکومتی قرضوں سے مال کھا کر  اور عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت کے تحت آنے والے اثاثوں کو اپنے فرنٹ مینوں کے ذریعے اپنے کنٹرول میں رکھ کر اپنی دولت بڑھائی ہے۔  جب عمرؓ  کو اپنے کسی والی (گورنر) پر بدعنوانی کا شبہ ہوتا تو یا تو وہ حساب شدہ مال سے زائد مال کو ضبط کرلیتے یا پھروہ اسے بانٹ دیتے ۔  وہ عہدہ دئیے جانے سے قبل اور واپس لیے جانے کے بعد والیوں کی دولت کاحساب لگاتے اور اگر اُن کے اصولی حساب سے زیادہ پایا جاتا تو وہ یا تو اُس کو ضبط کرلیے اور یا وہ اُس کوتقسیم کر دیتے اور ضبط کیے ہوئے مال کو ریاستی خزانے (بیت المال)میں جمع کردیتے۔  یہ اُن کی ذاتی ملکیت پر دست درازی نہیں کیونکہ یہ آمدنی ناجائز تھی۔  کیونکہ اگر کوئی شخص کسی حکومتی عہدے پر فائز ہو اور وہ اپنے دورِ حکومت کے دوران بہت مال دار ہوجائے تو یہ اُس مال کو ضبط کرنے کے لیے ثبوت کے طور پر کافی ہے، کیونکہ اُس کا جائز حق صرف اُس کی تنخواہ ہے اور یہ تمام مال اُس سے زائد ہے۔  جو کچھ بھی والیوں سے ضبط کیا جائے گا وہ سرکاری خزانے کا حصہ بنے گا، اور قرضے اُس سے ادا کئے جائیں گے۔ لہٰذا صرف خلافت ہی امت کو کرپشن کے ناسور سے نجات دلائے گی اور لوٹی گئی دولت کو واپس حاصل کرے گی جو کہ سیکڑوں ارب ڈالر  ہے۔

 

ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ اس ضرورت کی تصدیق کرتا ہے

کہ امریکہ کے ساتھ ذلت آمیز اتحاد کوختم کیا جائے

3 مئی 2018 کو دفتر خارجہ نے ان افواہوں کی تردید  کی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی، جس کو کلعدم عسکری گروپ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے قید میں رکھا گیا ہے، کی پشاور سے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقلی  امریکہ کی حکومت کے ساتھ کسی سمجھوتے( ڈیل) کا نتیجہ ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دفتر خارجہ   کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اس بات پر اصرار کیا کہ حکومتی اتھاریٹیز  عافیہ صدیقی ، جو کہ  امریکی ایجنٹوں اور فوجی آفسران  کو قتل کرنے کی کوشش   کے جرم میں امریکہ میں  قید کاٹ رہی ہیں، کے بدلے میں یا امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بدلے میں  آفریدی کو حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں جو امریکہ میں رہائش پزیر ہیں اور میمو گیٹ اسکینڈل کے مرکزی ملزم ہیں جو 2011 میں سامنے آیا تھا ۔ ڈاکٹر فیصل نے اُن میڈیا رپورٹوں کا جواب دینے سے انکار کیا جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی سی آئی اے نے آفریدی کوچھڑانے اور فرار کرانے کے لیے پشاور کی جیل کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اس معاملے کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں کیونکہ اس کا تعلق وزارت داخلہ سے ہے۔ آفریدی ایک سابق سرجن ہے جس کے متعلق یہ خیال کیاجاتا ہے کہ وہ  55 سال کی عمر کے لگ بھگ ہیں۔ اسے آٹھ سال قبل گرفتار کیا گیا تھا جب یہ بات سامنے آئے تھی کہ اس نے  القائدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے متعلق معلومات سی آئی اے کے حوالے کیں تھیں۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے ایبٹ آباد میں القائدہ کے رہنما کو تلاش کرنے میں سی آئی اے کی مدد کی تھی لیکن  اس پر ان الزامات کے تحت کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

 

ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کاایبٹ آباد حملے میں کوئی کردار ہو لیکن کیا وہ حملہ پاکستان کے حکمرانوں کے علم میں لائے  بغیر اور ان کی رضامندی کے بغیر کیا جاسکتا تھا۔ لہٰذا آفریدی کےمبینہ جرم کی سنگینی کے باوجود پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کی غداری کے مقابلے میں ڈاکٹر آفریدی  بہت ہی چھوٹا مجرم ہے۔  اصل مجرم  وہ رہنما ہیں جنہوں نے امریکہ کی معاونت کی تا کہ ایبٹ آباد کے فوجی علاقے پر حملہ کیا جاسکے۔  انہوں نے  دشمن سےمسلم سرزمین اور اس کے لوگوں کی حفاظت کی قسم اٹھائی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس قسم کو توڑا تا کہ وہ گھٹیا جاسوسوں کا کردار ادا کریں اور امریکہ کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ ہمارے علاقوں کے متعلق معلومات جمع کرسکے۔ ان غدار حکمرانوں نے اپنا عہد اور  وعدہ کئی بار توڑا ہے جبکہ دوسروں کو اپنے عہد اور قسم کی پاسداری کا سبق پڑھاتے اور اس کی یاد دہانی بھی کراتے رہے۔  انہوں نے ہمارے کافر دشمنوں کے ساتھ اتحاد کیا، ہمارے خون پسینے  کو استعمال کرکے انہیں ہمارے علاقوں میں قدم جمانے کی اجازت دی جووہ کسی صورت خود اپنے بل بوتے پر نہیں کرسکتے تھے کیونکہ نہ تو وہ اتنے بہادر تھے اور نہ ہی اس کے پاس اس کے لیے وسائل تھے۔ یہ سب کر کے انہوں نے روز قیامت خود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غضب کا حقدار بنا لیا ہے۔  انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور ایمان والوں کے دشمن کے ساتھ اتحاد کیا جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

 يَا أَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنْ الْحَقّ 

"اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہومیرے اور( خود) اپنے دشمنوں کواپنا دوست نہ بناؤ،  تم تو دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آ چکا ہے کفر کرتے ہیں "(الممتحنہ:1)۔

    

ہم اپنے خطے میں کبھی امن نہیں دیکھ سکیں گے جب تک ہم خود کو امریکہ کے ساتھ اتحاد سے الگ نہ کرلیں۔  فتنے فساد کی بنیادی وجہ امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک، غیر سرکاری امریکی فوجی گروہ ، اڈے، قلع نما سفارت خانے اور قونصل خانے ہیں۔  ہماری موجودہ بدترین صورتحال کی وجہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہے خصوصا ً وہ پالیسی   جن کا تعلق چھوٹے تنازعات کو پیدا کرنے اور خفیہ فوجی آپریشنز سے ہے۔  یہ چھوٹے چھوٹے تنازعات اندرونی استحکام کو تباہ کرتے ہیں، ہماری صلاحیت کو کھا جاتے ہیں، ہماری استعداد کو محدود کردیتے ہیں اور امریکہ کو مداخلت کا جواز فراہم کرتے ہیں جو  پھر بار بار "ڈو مور" کا تقاضا کرتا ہے ۔  خفیہ "فالس فلیگ" آپریشنز  کے تحت دشمن کے نام پر حملے کیے جاتے ہیں  جو کہ ایک امریکہ طریقہ کار ہے اور اس کو پوری دنیا میں لاطینی امریکہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ چھوٹے چھوٹے تنازعات چلتے رہیں اور ان تنازعات کی آگ میں وہ ملک جلتا رہے۔ جس آپریشن کی ضرور ت ہے وہ یہ ہے کہ امریکی سفارت خانے، قونصل خانوں اور اڈوں کو بند، سفارتی، فوجی غیر سرکاری اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو ملک بدر کیا جائے۔  مسلمانوں کا خلیفہ بہت جلد انشاء اللہ یہ قدم  بغیر کسی مذاکرات، شور شرابے اور شرط کے  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کوپورا کرنے کے لیےاٹھائے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، 

 

إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ عْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ

 "اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور ایذا کے لیے تم پر ہاتھ پاؤں چلائیں اور زبانیں بھی اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ "(الممتحنہ:2)

 

Last modified onاتوار, 06 مئی 2018 03:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک