الأحد، 09 ربيع الثاني 1440| 2018/12/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 5 اکتوبر 2018


۔ پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لیےپی ٹی آئی حکومت کی کوششیں بے ثمر ثابت ہوں  گی
- پاکستان کی خارجہ پالیسی اب بھی امریکی مفادات کی خدمت گزاری پرمبنی ہے
- کرنسی کے حوالے سے اسلامی احکامات کے عدم نفاذ کی وجہ سے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر وقت کرنسی کے بحران کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

 

تفصیلات:


پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لیے پی ٹی آئی حکومت کی کوششیں بے ثمر ثابت ہوں گی


یکم اکتوبر  2018 کوڈان اخبار نے خبر شائع کی کہ پچھلے مالی سال کے اختتام پر  پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9.79ارب ڈالر سے کم ہو کر 9.03ارب ڈالر ہوگئے ہیں جو کہ بمشکل دومہینے کی درآمدات کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔   زر مبادلہ کے ذخائر میں 753ملین ڈالر یا 7.7فیصد کی کمی تین مہینوں سے بھی کم میں وا قع ہوئی ہے کیونکہ  برآمدات اور  بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں کمی آئی جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدات  اور کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں اضافہ ہوا۔   جولائی – اگست میں اشیا اور خدمات کی برآمدات، اور بیرون ملک سے آنے والے ترسیلات زر کے ذریعے مجموعی طور پر 8.921 ارب ڈالر آئے۔  اس کے مقابلے میں اشیا اور خدمات کی درآمدات پر مجموعی طور پر 11.579ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.66ارب ڈالر خسارے کا سامنا رہا۔اس مالی سال کے   تین مہینے بھی پورے نہیں ہوئے لیکن اس عرصے کے دوران انٹر بینک مارکیٹ میں روپے نے اپنی قدر 2.26فیصد کھودی ہے۔ لہٰذا پچھلے 90 دنوں کے دوران معیشت کے حالت خرابی کی جانب گامزن ہے جس میں پی ٹی آئی حکومت کےپہلے 45 دن بھی شامل ہیں۔
 پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز یا نافذ کیے جانے والے احکامات کی نوعیت کم و بیش اسی طرح کے ہیں جو ان سے پہلے کے "کرپٹ" حکمران کیا  کرتے تھے جن میں تر قیاتی فنڈز میں کٹوتی، بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں اضافے کی تو قع ، جس میں دوسرے ممالک سے سی پیک کے منصوبوں کے نام پرلیے جانے والے قرضے  اور ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے آپشن کو کھلا رکھنا بھی شامل ہے۔   جہاں تک بیرونی سرمایہ کاری پرانحصار کرنا ہے، تو اس سے حکومت کی فوری ضرورت پوری ہوسکتی ہے، مگر اس سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع کا بیرون ملک جانامشکلات پیدا کردیتا ہے جو پہلے ہی دو ارب ڈالر سالانہ پر پہنچ چکی ہے اور اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ میں ہمیشہ خسارے کا سامنا رہتا ہے اور جو بڑھتا بھی رہتا ہے۔   جہاں تک ان کوششوں کا تعلق ہے جیسے تیل کی درآمد پر ادائیگی میں تاخیر کی سہولت ، تو اس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے توازن میں خرابی پیدا ہوتی ہے کیونکہ دیر سے ادائیگی کی وجہ سے ان پر سود دینا پڑتا ہے۔ اور جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق  ہے تو  اس نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مزید محصولات جمع کرے اور پہلے سے چلنے والے اسٹرک چرل اصلاحات خصوصاً سرکاری اداروں کے حوالے سے اصلاحات کو مکمل کرے تا کہ معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے پر آئے وفد ،جس کی قیادت آئی ایم ایف مشن کے پاکستان میں سربراہ ہیرلڈ فنگر کررہے ہیں، نے  یکم اکتوبر 2018 کو وزارت خزانہ  اور فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام سے تفصیلی ملا قاتیں کیں ۔


اس طرح اب تک پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے 45 دنوں میں جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ بالکل ویسے ہی ہیں جو ان سے پہلے پچھلی حکومتیں کیا کرتی تھیں اور انہیں فیصلوں  کی وجہ سے  معیشت کی صورتحال اس قدرخراب ہے۔ یہ ایک بے و قوفانہ عمل ہے کہ وہی پرانی غلطیاں دہرائی جائیں لیکن اس بات کی امید رکھی جائے کہ اس بار نتیجہ مختلف نکلے گا۔ اس بحران سے نکلنے میں پی ٹی آئی کی ناکامی یا گرتی ہوئی معیشت کو سنبھلا دینے کے لیےکوئی منفرد حل پیش کرنے میں اس کی  ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں صرف اور صرف سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہی نافذ ہوتا ہے۔ پاکستان کی معاشی مشکلات کے بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا نفاذ ہے جبکہ اس میں معاشی طا قت بننے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔


صرف اسلام کا معاشی نظام پاکستان کے معاشی بحران کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کے ذریعے حل کرسکتا ہے۔ یہ ہمارا دین ہے جس نے ایک منفرد نقطہ نظر اور طریقہ کار دیا ہے کہ جس کے ذریعے شہریوں پر ان کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ ڈالے بغیر ریاست کے لیے زیادہ سے زیادہ محصولات جمع کیے جاسکتے ہیں۔ اسلام منفرد طریقے سے املاک کو تین اقسام میں تقسیم کرتا ہے:نجی،ریاستی اور عوامی۔  توانائی اور معدنی وسائل جیسا کہ تیل، گیس،بجلی، تانبہ اور لوہا عوامی اثاثے ہیں اور ان کے ذریعے اربوں ڈالر کی دولت حاصل ہوسکتی ہے۔ عوامی اثاثوں کو نہ تو نجی ملکیت  اور نہ ہی سرکاری ملکیت میں دیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا ان سے حاصل ہونے والی زبردست دولت کو ریاست اپنی نگرانی میں لوگوں کے امور پر خرچ کرتی ہے۔ اسلام کے کمپنیوں کے ڈھانچے کے حوالے سے منفرد قوانین جوائنٹ اسٹاک  شیئرز کمپنی کی ممانعت کرتے ہیں اور اس طرح نجی کمپنیاں معیشت کے ان شعبوں میں زیادہ وسیع کردار ادا نہیں کرسکتیں جہاں بہت زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جیسا کہ ریلویز، ایوی ایشن ، ٹیلی کمیونی کیشن اور بھاری صنعتیں وغیرہ۔ اس طرح اسلامی ریاست معیشت کے ان شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور وسیع دولت جمع کرتی ہے جو لوگوں کے امور پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسلام کااپنا ایک منفرد محصولات کا نظام ہے جس میں تجارتی مال پر زکوۃ، زرعی زمین پر خراج شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی نوعیت کی ضرورت کے لیے درکار رقم صرف معاشرے کے دولت مند طبقات سے ٹیکس کی صورت میں حاصل کی جاتی ہے۔ اور اسلام نے سود اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے امور میں کفار کی بالادستی کو منع فرمایا ہے،جس کے نتیجے میں استعماری اداروں سے تباہ کن قرضے لینے کا دروازہ ہی بند ہوجاتا ہے۔  

      

پاکستان کی خارجہ پالیسی اب بھی امریکی مفادات کی خدمت گزاری پرمبنی ہے


2اکتوبر  2018  بروز منگل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  کی امریکہ کے قوی سلامتی کے مشیر جون بولٹن اور امریکی سیکریٹری خارجہ مائیکل پومپیو سے واشنگٹن میں علیحدہ علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں زیادہ تر افغانستان کے حوالے سے بات چیت ہوئی  ۔ بات چیت کا پہلا دور وائٹ ہاوس میں ہوا جہاں وزیر خارجہ کی ملاقات جان بولٹن سے ہوئی جو 40 منٹ تک جاری رہی۔ اس کے فوراً بعد وزیر خارجہ امریکی دفتر خارجہ گئے جہاں ان کی ملاقات اپنے ہم منصب  سیکریٹری خارجہ سے ہوئی۔  دوسری ملاقات بھی 40منٹ تک جاری رہی۔   ان دونوں ملاقاتوں میں پاکستان نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ افغانستان میں افغانوں کے ذریعے امن اور مصالحت کے عمل کی حمایت کرتا رہے گا۔ ایک بیان کے مطابق قریشی نے پاکستان کے اس موقف کودہرایا کہ افغانستان کاکوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس بات پر اصرار کیا کہ ہمسائیہ ملک میں امن خطے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی  کہ پاکستان نے افغانستان میں تعمیری کوششوں کے فروغ کے لیے افغانستان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن اور یکجہتی کی شروعات کی۔


پاکستان کے بدترین دشمن بھارت کو مسئلہ کشمیر پر اور افغانستان میں اس کے قدم جمانے کے لیے امریکہ کی  مسلسل حمایت کے باوجود پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت اب بھی امریکی قیادت کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لیے ہر جتن کررہی ہے۔ ستمبر 2018 میں امریکی سیکریٹری خارجہ کے دورہ بھارت کے فوراً بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں  امریکہ و بھارت نے  خطے میں پاکستان کی جانب سے  "دہشت گرد" تنظیموں کے استعمال پر تشویش کااظہار کیا تھا۔ ان دونوں نے پاکستان سےمطالبہ کیا تھا کہ وہ "ممبئی، پٹھان کوٹ، اُری اور دیگر سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث لوگوں کو" انصاف کے کٹہرے میں لائے۔بھارت و امریکہ کا   یہ مشترکہ اعلامیہ پومپیو  کے دورہ اسلام آباد کے فوراً بعد جاری کیا گیا تھا جس میں پاکستان اور امریکہ دونوں نے  تعلقات کو نام نہاد "ری سیٹ" کرنے پر رضامندی کااظہار کیا تھا۔


     واضح طور پر یہ بات نظر آرہی ہے کہ "تبدیلی" کی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ نہیں  ہے جس کی بنیاد خطے میں امریکی مفادات  کی نگہبانی کرنا ہے۔  9 نومبر 2011 کو عمران خان، جو کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم ہیں، نے یہ کہا تھا کہ، "افغان ہمیشہ ہر حملہ آور کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے سوویت یونین کے خلاف دس لاکھ جانوں کانقصان اٹھایا۔ دس لاکھ!"۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ، " بنیادی طور پر یہ جنگ آزادی ہے“
(https://www.newstatesman.com/asia/2011/11/pakistan-khan-interview-party
 لیکن  آج جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ، تو وہ پچھلے "کرپٹ"  حکمرانوں کی پالیسی کی پیروی کررہے ہیں جس کا مقصد افغانستان میں امریکی قبضے کو مستحکم کرنا اور افغان مزاحمت کو مزاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرنا ہے۔    اور پچھلے حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی افغان جہاد کی حمایت نہیں کررہے تا کہ امریکہ کو بھی ہمارے خطے سے ویسے ہی ذلیل و رسوا کرکے نکالاجاسکے جیسا کہ ماضی میں سویت یونین اور برطانوی استعماری راج   کو ذلیل و رسوا کرکے نکالا گیا تھا۔


یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہوچکی ہے کہ "تبدیلی" جمہوریت میں ظہور پزیر ہو ہی نہیں سکتی۔ جب جمہوری سیاستدان اقتدار میں نہیں ہوتے تو ان کا موقف مسلمانوں کے موقف کے مطابق ہوتا ہے جو کہ اسلام  کی بنیاد پر ہوتا ہے، لیکن جب یہ اقتدار میں آجاتے ہیں تو بغیر کسی شرم کے امریکی احکامات پر عمل شروع کردیتے ہیں۔ جب تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی بحال نہیں ہوتی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی "تبدیلی" نہیں آئے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،


 هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ
"وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام ادیان پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں "(التوبۃ:33)۔  


یہی وجہ ہے کہ حزب التحریر نے مقدمہ دستور کی شق 188 میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے اس اصول کی تبنی کی کہ "اسلامی دعوت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہی سیاست کو محور ہے جس کے گرد خارجہ سیاست گھومے گی اور اس کی بنیاد پر ریاست دوسری ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کرے گی“۔


کرنسی کے حوالے سے اسلامی احکامات کے عدم نفاذ کی وجہ سے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر وقت کرنسی کے بحران کا خطرہ موجود رہتا ہے۔


پچھلے نو ماہ میں روپیہ تقریباً 20 فیصد اپنی قدر کھو چکاہے۔  اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ روپیہ مزید اپنی قدر کھودے گا۔ پاکستان کوئی واحد ملک نہیں ہے جس کی کرنسی اپنی قدرکھو رہی ہے لیکن پاکستان اور ترکی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں وہ دو ممالک ہیں جو کرنسی کی قدرمیں کمی کاسامنا کررہے ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں روپے کی قدر کھونے کہ بنیادی وجہ بیلنس آف پیمنٹ کا بڑھتا خسارا ہے۔ پاکستان کو فوری طور پر 20 ارب ڈالر کی ضرورت ہے تا کہ وہ بیرونی ادائیگیوں پر ڈیفالٹ نہ کرجائے۔


1980 کی دہائی میں لاطینی امریکہ کے قرضے کے بحران کے بعد سے دنیا بھر میں بہت زیادہ تواتر سے کرنسی کے بحران پیدا ہورہے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جب سے کاغذی کرنسی کااجرا شروع ہوا ہے کرنسی کا بحران آئے دن سر اٹھاتا رہتا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق دنیا اوسطاً ہر 19 ماہ بعد ایک کرنسی کے بحران کا سامنا کررہی ہے۔  کیونکہ موجودہ کاغذی کرنسی کی اپنی کوئی قدر نہیں ہوتی لہٰذا اس کی قدر میں اچانک اضافہ یا کمی ہوجانا ایک عام بات ہے۔ کرنسی کی قدر میں اس اتار چڑھاؤ کی وجوہات میں  کمزور معاشی اشاریوں سے لے کر    قیاس آرائیاں تک شامل ہیں۔  مالیاتی و معاشی عدم توازن، معاشی ٹھراؤ اور بہت  زیادہ قرضے کمزور معاشی اشاریے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کرنسی  آخر  کاراپنی قدرکھو دیتی ہے۔


اس مسئلہ کی حقیقت یہ ہے کہ کاغذ دولت نہیں ہے۔ جب دنیا مالیاتی معاملات کے لیے دھاتی پیمانے کو استعمال کرتی تھی تو وہ دور معاشی خوشحالی اور مالیاتی استحکام کو دور تھا۔ سونا اور چاندی کانظام کرنسی کے مخصوص تبادلے کی شرح کا تعین کرتا تھاکیونکہ ہرملک قیمتی دھات کو کرنسی کے طور پر استعمال کرتا تھا اور اگر کاغذ کواستعمال کیا بھی جاتا تھا تو اس کے پیچھے دھات کی مکمل پشت پناہی موجود ہوتی تھی  جسے دے کر کبھی بھی قیمتی دھات حاصل کی جاسکتی تھی۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے ایک  پاونڈ کی قیمت  ایک پاونڈ چاندی کے وزن کے برابر ہوتی تھی۔ اس طرح امریکی ڈالر کی پشت پر سونا اور روپے کی پشت پر چاندی ہوتی تھی۔ یہ نظام مالیاتی یونٹ کی قدر میں اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر تجارت میں  استحکام کا باعث ہوتا تھا۔  اس کا ثبوت یہ ہے کہ 1910 میں سونے کی قیمت تقریباً وہی تھی جو   1890 میں تھی۔ اس صورتحال کی وجہ سے مختلف ممالک کے درمیان کرنسی کے تبادلے کی شرح ایک ہی رہتی تھی کیونکہ ان سب کے پیچھے ایک ایسی قیمتی دھات تھی  جس کی قیمت سے ہر ایک آگاہ تھا۔  اس وجہ سے اندرون ملک اور بیرون ملک مالیاتی یونٹ یعنی کرنسی کی قدرمیں استحکام رہتا تھا۔ کرنسی کے بحران کا حل یہ ہے کہ اسی قیمتی دھاتوں کے نظام پرواپس جایاجائے جس کی وجہ سے کرنسی کی شرح تبادلہ میں استحکام اور معاشی خوشحال تھی۔


آج دنیا میں حقیقی معاشی سرگرمیوں، یعنی خوراک، کپڑوں، گھروں، مشینری اور دیگر چیزوں  کی خریدو فروخت،  کے لیے  ضرورت کے مطابق سونا و چاندی موجود ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں سودی قرضوں، فریکشنل ریزرو بینکنگ، اسٹاک مارکیٹ اور فیوچر مارکیٹ کی وجہ سےپیدا ہونے والی کرنسی کی طلب کو سونا و چاندی کی رسد پورا نہیں کرسکتی۔  اس لیے ریاستوں نے قیمتی دھاتوں کے نظام کوخیر باد کہہ دیا اور اب کرنسی کے پیچھے صرف اس کو جاری کرنے والی ریاست کی طاقت  ہوتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپے جاسکتے ہیں اور اس طرح ہر آنے والا نیا نوٹ اپنے سے پچھلے نوٹ سے کم قدر رکھتا ہے۔


اسلام نے لازمی قرار دیا ہے کہ ریاست کی کرنسی کی پشت پر قیمتی دھات موجود ہونی چاہیے اور اس طرح سے اسلام نے افراط زر یعنی مہنگائی کی وجہ کو اس کی جڑ سے ہی ختم کردیا۔  رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سونے کے دینارجن کا وزن 4.25گرام   ہو اور چاندی کے درہم جن کاوزن 2.975 گرام ہو،بنائیں اور اسے ریاست کی کرنسی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہزار سال تک خلافت نے اس مالیاتی نظام کی وجہ سے قیمتوں میں استحکام دیکھا۔  بین الاقوامی تجارت میں سونے اور چاندی کے مالیاتی نظام پر واپس جانے سے بین الاقوامی تجارت میں ڈالر کی وجہ سے امریکہ کو حاصل امتیازی مقام کا خاتمہ ہوجائے گا۔  حزب التحریر نے مقدمہ دستور کی شق 166 میں یہ تبنی کیا ہے کہ، "ریاست اپنی ایک خاص کرنسی آزادانہ طور پرجاری کرے گی اور اس کو کسی غیر ملکی کرنسی سے منسلک کرنا جائز نہیں۔"۔ اور پھر شق 167 میں یہ تبنی کیا کہ، "ریاست کی نقدی (کرنسی) سونے اور چاندی کی ہو گی خواہ اسے کرنسی کی شکل میں ڈھالا گیا ہو یا نہ ڈھالا گیا ہو۔ ریاست کے لیے سونے اور چاندی کے علاوہ کوئی نقدی جائز نہیں ۔ تاہم ریاست کے لیے سونا چاندی کے بدل کے طور پرکوئی اور چیز جاری کرنا جائز ہے بشرطیکہ ریاست کے خزانے میں اتنی مالیت کا سونا چاندی موجود ہو"۔  اسی طرح شق  168 میں یہ تبنی کیا کہ، "اسلامی ریاست اور دوسری ریاستوں کی کرنسی کے مابین تبادلہ جائز ہے جیسا کہ اپنی کرنسی کا آپس میں تبادلہ جائز ہے"۔      

Last modified onجمعرات, 11 اکتوبر 2018 23:26

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک