الجمعة، 19 رمضان 1440| 2019/05/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 18 جنوری 2019

۔مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طا قت کی دہلیز پر امریکا کو اپنی فوجی موجودگی بر قرار رکھنے کے لیے سیاسی حمایت درکار ہے. ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنے سے امن و امان حاصل  نہیں ہوسکتا

- صرف خلافت ہی کرپشن کا خاتمہ کر کے لوٹی ہوئی دولت کو بیت المال میں جمع کرائے گی

- جمہورت لوگوں کا خون چوسنے والے سیاست دان پیدا کرتی ہے

تفصیلات:

 

  • مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طا قت کی دہلیز پر امریکا کو اپنی فوجی موجودگی بر قرار رکھنے کے لیے سیاسی حمایت درکار ہے. ان مذاکرات میں مدد فراہم کرنے سے امن و امان حاصل نہیں ہوسکتا۔

15 جنوری 2019 کوامریکی ڈپٹی اسسٹنٹ  لیزا کرٹس پاکستان کے دورے پر پہنچی جس کا مقصد افغانستان کے لیے امریکا کی جانب سے شروع کیے گئے امن عمل کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے ۔  ڈپٹی اسسٹنٹ  لیزا کرٹس نے جون میں واشنگٹن کے تھینک ٹینک سے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان میں امن عمل میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ "اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان اس میں مثبت کردار ادا کرے "۔ امریکاکے ذریعے شروع کی جانے والی بات چیت  میں امریکا یہ چاہتا ہے کہ کابل کی ایجنٹ حکومت میں طالبان کو بھی شامل کیا جائے جس کی سربراہی اشرف غنی کررہا ہے۔حکومت میں  طالبان کی شمولیت  امریکا کی بدتر صورتحال کو تبدیل کردے گی جس کا سامنا وہ اس وقت سے کررہا ہے جب اس نے پچھلی پاکستان دوست حکومت کو ہٹایا تھا۔ امریکاکی بیتابی اس وجہ سے ہے کیونکہ 24 اپریل 2019 کو افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے قبل وہ افغان حکومت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

اگر پاکستان میں کوئی مخلص قیادت ہوتی تو وہ کمزور ہوتے ہوئے امریکا کے لیے کرائے کی سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کی بجائے صورتحال کا آزادانہ جائزہ لیتی۔ یہ بات واضح ہے کہ متکبر امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔  جو لوگ امریکا کو اپنی خدمات اور مراعات پیش کرتے ہیں ، امریکا ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان سے مزید مطالبات کرتا ہے۔ لیکن  جب امریکا کا مدمقابل مسلح، جنگجو،مضبوط اور حوصلے والا ہوتا ہے تو وہ خود مراعات اور مذاکرات کی پیشکش کرتا ہے۔ 17 سال کی جنگ سے تھک کر امریکا طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔ تو اگر امریکا طالبا ن جیسی ہلکے ہتھیاروں سے مسلح  طاقت کے سامنے جھک گیا ہے تو جس ریاست کے پاس  طاقتور فوج  اور ایٹمی ہتھیار ہوں اس سے امریکا کس طرح بات کرے گا؟ پاکستان اس بات پر مکمل قادر ہے کہ امریکا کی سرکاری اور غیر سرکاری افواج کو خطے سے سر پر پیر رکھ کر بھاگنے پر مجبور کردے اور خطے کو مکمل طور پر امریکی وجود سے پاک کردے۔ جس چیز کی کمی ہے وہ نبوت کے طریقے پر خلافت  کی ہے جو مغربی استعماری طاقتوں کے منصوبوں کے سامنے نہیں جھکتی بلکہ اسلام کے جھنڈے کو سربلند کرتی ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

فَلاَ تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنْتُمْ الأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ

"تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا" (محمد 47:35)

 

صرف خلافت ہی کرپشن کا خاتمہ کر کے لوٹی ہوئی دولت کو بیت المال میں جمع کرائے گی

14 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان  کی بیٹی مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ کرپشن کے مقدمے میں سزا کو معطل کردیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے پاکستان کے عوام کو مایوسی ہوئی۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان  میاں ثاقب نثار کررہے تھے  ، نے قومی احتساب بیورو کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی۔  باجوہ-عمران حکومت انسداد کرپشن کی اپنی مہم میں بھی ویسے ہی ناکام ہو رہی ہے جیسے وہ اپنے دیگر وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت نے بھی انسانوں کے بنائے قوانین کو سینے سے لگا رکھا ہے۔  اگرچہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف کے خاندان کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن انسانوں کے بنائے قوانین میں موجود خامیاں انہیں  فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے ثابت کیا تھا کہ 93-1992میں  مریم نواز کے اثاثے میں صرف ایک سال کے دوران 21گنا اضافہ ہوکر 1.47ملین روپے سے بڑھ کر 30.5ملین روپے ہوگئے تھے۔ اسی عرصے کے دوران سابق وزیر اعظم کے ٹیکس ریٹرن کے مطابق ان کی دولت 8.33ملین روپوں سے بڑھ کر 68.027 ملین روپے ہوگئی تھی۔

صرف اسلام کی حکمرانی میں ہی سب کا بلا امتیاز احتساب اور تیزی سے انصاف ہوسکتا ہے۔ صرف اسلام کی ہی حکمرانی میں لوٹی ہوئی دولت کو واپس ریاست کے خزانے میں جمع کرایا جاسکتا ہے۔ صرف رشوت، کمیشن، کیک بیک، تحفے اور زمینوں پر قبضے ہی غیر قانونی نہیں ہوتے۔ کسی بھی حکمران یا حکومتی اہلکار کے دوران مدت ملازمت دولت میں اچانک زبردست اضافہ  بھی غیر قانونی ہوتا ہے۔ خلافت اپنے اہلکاروں کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ اپنے منصب کو معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کریں۔ رسول اللہ ﷺ اپنے گورنروں اور  عاملوں کے ذرائع آمدن کا حساب کتاب کیا کرتے تھے اور اس حوالے سے آپ ﷺ نے فرمایا،

 

من استعملناهُ على عملٍ فرزقناه رزقاً فما أَخَذَ بعد، فهو غُلُول

" ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیں اور ہم اس کی کچھ روزی(تنخواہ)مقرر کر دیں پھر وہ اپنے مقررہ حصے سے جو زیادہ لے گا تو وہ(مال غنیمت میں)خیانت ہے"۔

رسول اللہ ﷺ نے ابن اللطبيه   کا بنی سلیم کے صدقے کے مال میں سے اپنے لیے زائد لینے پر احتساب کیا اور فرمایا،

 

أما بعد فما بال العامل نستعمله فيأتينا فيقول: هذا من عملكم، وهذا أُهديَ إليّ؟ أفلا قعد في بيت أبيه وأمه، فنظر، هل يُهدى له، أم لا؟

"ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں(جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لیے)اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں اگر وہ سچا ہے"۔

 

خلیفہ راشد عمر بن خطابؓ اپنے عاملوں کو مناصب پر فائز کرنے سے پہلے  اور مناصب سے ہٹانے کے بعدیا مدت ملازمت پوری ہونے پر  ان کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرتے تھے ۔ اگر ان کے مال میں غیر معمولی اضافہ پاتے تو اس زائد مال کو بیت المال میں جمع کردیتے۔ عمرؓ کا یہ عمل کرنا  ذاتی اثاثے کی حرمت کی خلاف ورزی نہیں تھا کیونکہ وہ مال قانونی طریقے سے حاصل نہیں کیا گیا ہوتا تھا بلکہ معاشی فائدے کے لیے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا گیا ہوتا تھا۔ صرف وہی لوگ سیاسی کرپشن کا خاتمہ کرسکتے ہیں جو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کریں گے۔    

 

جمہورت لوگوں کا خون چوسنے والے سیاست دان پیدا کرتی ہے

13جنوری 2019 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب حکومت نے اپنے ہر ایک رکن پنجاب اسمبلی کے لیے 10کروڑ روپے مختص کرنےکا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی عمر تنویر نے کہا "صوبائی حکومت نے ہرایک حلقے کے لیے دس کروڑ روپے مختص کیے ہیں"۔  ماضی میں پی ٹی آئی ، پاکستان مسلم لیگ-ن پر اس حوالے سے تنقید کرتی تھی کہ وہ ترقیاتی فنڈز کو اراکین پارلیمنٹ کی ذریعے استعمال کرتی ہے جو کہ کرپشن کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔ لیکن اب پی ٹی آئی نے ایک اور یو ٹرن لے لیا ہے۔

کرپشن جمہوریت کا  حصہ ہے اور چاہے مغرب ہو یا مشرق، ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پزیر ممالک، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔ جمہوریت میں سیاست دان اپنی قانون سازی کی طاقت کو اپنے انتخابات کے خرچے پورا کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جیبیں بھرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔  2016 میں امریکامیں وفاقی عہدوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں امیدواروں نے 6.4ارب ڈالر خرچ کیے جبکہ لابسٹ کمپنیوں نے واشنگٹن میں حکومت کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کے لیے 3.15ارب ڈالر رقم خرچ کی تھی۔ اس صورتحال کی وجہ سے 27 مارچ 2012 کو امریکی خبر رساں ادارے سی بی ایس نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا:"کانگریس کیوں کروڑ پتیوں کا کلب ہے؟"۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ، "ایک بار جب امیدوار کانگریس میں پہنچ جاتا ہے تو اسے اپنی دولت میں اضافے کے نئے مواقع پیش کیے جاتے ہیں- جن کاکارپوریٹ کی دنیا سے بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے"۔ اس طرح ہندوستان میں،جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک رکن اسمبلی صرف اپنی ایک مدت کے دوران اوسطاً اپنی دولت میں 222 فیصد اضافہ کرلیتا ہے۔

یہ صورتحال اس لیے ہے کیونکہ جمہوریت انسانوں کو قانون سازی کا حق دیتی ہے۔ یہ طاقت حکمران اشرافیہ کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جمہوریت میں سیاست دان لوگوں کے مفادات  نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ اسلام نے قانون سازی کے حق کو صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات تک محدود کر کے اس وبائی کرپشن کی جڑ ہی کاٹ ڈالی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ

"حکم تو صرف اللہ ہی کاہے"(یوسف 12:67)۔

 

تو جو کوئی بھی اس میدان میں قدم رکھتا ہے، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے خاص ہے،تو وہ اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی سزا واجب کر لیتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

"اور جو کوئی اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ، وہ ظالم ہے"(المائدہ 5:45)۔

 

  تو خلافت میں نہ تو خلیفہ اور نہ ہی گورنر اورمجلس امت قوانین بناسکتے ہیں۔ جو بھی سیاست کے میدان میں داخل ہوتا ہے وہ صرف ان قوانین کو نافذ کرتا ہے جنہیں قرآن و سنت سے اخذ کیا گیا ہوتا ہے، اور اس طرح وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی اور لوگوں کی دعائیں حاصل کرتا ہے۔  یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جمہوریت کے ذریعے حقیقی "تبدیلی" ممکن نہیں ہے۔ حقیقی تبدیلی صرف اور صرف نبوت کے طریقے پر خلافت کا قیام ہے۔ تو ہم سب کو جمہوریت اور اس کے داعیوں سے منہ موڑ کر خلافت کے منصوبے اور اس کے داعیوں کو سینے سے لگانا چاہیے۔     

Last modified onہفتہ, 09 فروری 2019 11:22

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک