الجمعة، 19 رمضان 1440| 2019/05/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 25 جنوری 2019

۔ 23جنوری 2019 کوآنے والےمنی بجٹ میں حیرت انگیز طور پر کوئی نئی بات نہیں ہو گی کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات کررہی ہے

- سانحہ ساہیوال کے باوجود عمران خان اپنے گرتے ہوئےآقاامریکا کے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کویقینی بنانے کے لیے قطر کے دورے پر روانہ ہوگئے

- صرف اسلام ہی  ریاستی اداروں کی  حدود کا تعین کرتا ہے جنہیں کبھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا

تفصیلات:

 

23جنوری 2019 کوآنے والےمنی بجٹ میں حیرت انگیز طور پر کوئی نئی بات نہیں ہو گی کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات کررہی ہے

 

23 جنوری 2019 کوآنے والے منی بجٹ میں کسی نئی بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ باجوہ-عمران حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات کررہی ہے۔  حکومت کے جھوٹے دعوے  اور وعدوں کے باوجود آئی ایم ایف ڈالر کی عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی معیشت پر اپنے پنجے گاڑتی چلی جارہی ہے تا کہ اسے تباہ کرسکے۔ آئی ایم ایف کے کمیونیکیشن محکمہ کے ڈائریکٹر گیری رائس نے 17 جنوری 2019 کی پریس  بریفنگ میں تصدیق کی کہ ،"پچھلے سال اکتوبر میں ،ہمارے سالانہ اجلاس کے دوران، پاکستان کے وزیر خارجہ نے آئی ایم ایف سے باقاعدہ مالیاتی معاونت کی درخواست کی تھی۔ تو اُس وقت سےاس درخواست کےحوالے سے جس کامیں نے ذکر کیا  اسلام آباد میں ہماری اسٹاف ٹیم دورہ کررہی ہے"۔ اور 15 جنوری 2019 کو آئی ایم ایف نے تصدیق کی کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کےEnhanced General Data Dissemination نظام کو نافذ کردیا ہے جس کے ذریعے استعماری سرمایہ کار پاکستان کے سب سے قیمتی اثاثوں کی ملکیت حاصل اور انہیں استعمال کرسکیں گے، اور اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے جائزوں  (سرویز)کی  بُری یادیں تازہ کردی گئیں۔

مسلسل آنے والے منی بجٹ آئی ایم ایف کے لیے اصل کھاناکھانے سے پہلے کھائے جانے والی اس خوراک کی طرح ہے جس سے بھوک مزید چمک جاتی ہے۔ اس منی بجٹ کے بعد لیٹر آف انٹنڈ     پر دستخط کیے جائیں گے جس کے ساتھ معاشی و مالیاتی پالیسیوں کا میمورنڈم بھی منسلک ہو گا۔ ڈالر کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے استعماری طاقتیں زرتلافی(سبسیڈی) کے خاتمے اور ٹیکسوں میں اضافے کامطالبہ کرتی ہیں تا کہ پاکستان مزید ڈالر حاصل کرے اور اس کے ساتھ ساتھ روپے کی قدرمیں کمی کی جاتی ہے  جس سے مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔  تو یہ بات واضح ہے کہ باجوہ-عمران حکومت پوری استقامت کے ساتھ اُسی معاشی بربادی کےناکام راستے پر چل رہی ہے جس پر اس سے پہلے مشرف-عزیز، کیانی-زرداری اور راحیل-نواز حکومتیں چلتی رہی ہیں۔ یہ عمل کر کے حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام  کے علاوہ کسی اور عمل سے پاکستان میں تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔

اسلام ڈالر کے ساتھ منسلک کاغذی کرنسی کو مسترد کرتا ہے اور اس طرح انقلابی طور پر ڈالر کو ذخیرہ کرنے  اور مقامی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں کمزور کرنے کی ضرورت کو ختم کردیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں قائم ہونے والی ریاست میں سونے اور چاندی کو کرنسی قرار دیا تھا۔ نبوت کے طریقے پر قائم خلافت ہی ریاست کی کرنسی کو استحکام اور مضبوطی عطا کرے گی کیونکہ سونے اور چاندی کی اپنی ذاتی قدرہوتی ہے اور بین الاقوامی تجارت میں سب کے لیے قابل قبول ہوتی ہے۔

 

سانحہ ساہیوال کے باوجود عمران خان اپنے گرتے ہوئےآقاامریکا کے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو

یقینی بنانے کے لیے قطر کے دورے پر روانہ ہوگئے

جبکہ پاکستان کے مسلمان سانحہ ساہیوال میں ہونے والے ظلمِ عظیم پر انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں، جس میں امریکا کی "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں صف اول کاکردار ادا کرنے والی  سی ٹی ڈی نے قوت کا انتہائی وحشیانہ استعمال کیا تھا، عمران خان ٹوئیٹ کر کے تیزی سےقطر  روانہ ہوگئے۔ ایک   قومی بحران سے منہ موڑ کر وہ پروازپکڑ  کر چلےگئے جس کے فوراً بعد یہ خبر آئی کہ افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ قطر میں مذاکرات دوبارہ شروع کرلیے ہیں۔  یقیناً امریکا کو اس حوالے سے عمران خان پر پورا اعتماد ہے کہ وہ اسے افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء سے بچا سکتا ہے۔  عمران خان کے 20 جنوری 2019 کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئےامریکی سینٹ کی آرمز کمیٹی کے سینئر ریپبلیکن رکن لنڈسیں گراہم نے خوشی سے یہ کہا کہ، "ہمارے ملک میں یہ کہا جاتا   ہے کہ پاکستان ایک بات کہتا ہے اور کرتا کچھ اور ہے  اور یہ دوہرا کھیل ہے۔ میں آپ کوبتا سکتا ہوں کہ میں نے پاکستان میں مثبت سمت میں تبدیلی دیکھی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر صدر ٹرمپ کی کبھی عمران خان سے ملاقات ہو ئی  اور وہ کچھ سنیں جو میں آج  سنا ہے، تو میں سمجھتا ہوں وہ اس خطے کے متعلق کہیں زیادہ پُرجوش ہو جائیں گے جتنا کہ وہ آج ہیں"۔

ایک طرف تو باجوہ-عمران حکومت پچھلی حکومتوں کوامریکا کی  کرائے کی بندوق قرار دیتی ہے لیکن دوسری جانب قابض امریکی افواج کے لیے خود کرائے کے سہولت کار بننے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ جب لوگ سانحہ ساہیوال کی خوفناک خبریں سن رہے تھے تو عمران خان سینیٹر گراہم کی تعریف و توصیف  سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ سانحہ ساہیوال کی وجہ سےپورا ملک صدمے کی حالت میں تھا لیکن عمران خان فوراً قطر روانہ ہوئےتا کہ وہاں پہنچ کر اپنے گرتے ہوئے آقا امریکا  کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناسکیں۔ لہٰذا پاکستان کے لوگ شدت غم سے شدید  صدمے کا شکار ہیں لیکن عمران خان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امریکا کی سرکاری و غیر سرکاری افواج کو افغانستان میں مستقل قیام  کی صورت پیدا کرنے کے لیے دورہ قطر کو  ترجیح دی ۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَإِذَا لَقُواْ ٱلَّذِينَ آمَنُواْ قَالُوۤا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْاْ إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوۤاْ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

"اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں"(البقرۃ:14)۔

 

  پاکستان کے حکمران لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے  یہ کہا کرتے تھے کہ وہ امریکا کی اعلیٰ ترین قیادت کے سوا کبھی کسی امریکی اہلکار سے نہیں ملیں گے، لیکن اب ایک امریکی سینیٹر کے ساتھ ملاقات کرکے اپنی خوشی کا برملا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے  اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے دین کو نہیں بلکہ خود اپنے مقام کو گرالیا اور خود کو بے عزت کیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا

"جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب اللہ ہی کی ہے"(النساء:139)۔

 

تو آئیں کہ ہم ان حکمرانوں سے منہ موڑ لیں جو ہمیں دھوکہ دیتے ہیں اور ہمارے خلاف کفار کی  سازشوں میں ان کا ساتھ دیتے ہیں اور  ہمیں ان  کے سامنے تنہا بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ آئیں کہ ہم نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے داعیوں کے ساتھ کام کریں تا کہ ایک بار پھر اس امت کی ڈھال اور نگہبان کو امت کے دفاع میں  کھڑا کردیاجائے۔      

 

صرف اسلام ہی  ریاستی اداروں کی  حدود کا تعین کرتا ہے جنہیں کبھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا

17جنوری 2019 کو پاکستان کے نئے چیف جسٹس نے  فرمانِ حکمرانی یعنی چارٹر آف گورننس بنانے کے لیےاداروں کے درمیان بات چیت کی تجویز  دیتے ہوئے کہا کہ، "میں عزت ماب پاکستان کے صدر  سے ایک اجلاس بلانے اور اس کی صدارت کرنے کی دخواست کروں گا جس میں پارلیمنٹ کی اعلیٰ ترین  قیادت ، عدلیہ کی اعلیٰ ترین قیادت اور حکومت کی اعلیٰ ترین قیادت، فوج اورانٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت،  شریک ہوں۔   جناب چیف جسٹس آصف کھوسہ نے مزید کہا کہ، "ایک میز پر قومی حکمرانی سے تعلق رکھنے والے  تمام متعلقین (اسٹیک ہولڈرز) کو لانے کے بعد یہ کوشش کی جانی چاہیے کہ ماضی کے زخم بھرے جائیں، تکلیف دہ باتوں کو دیکھا جائے اور ایک قابل عمل پالیسی خاکہ تیار کیا جائے جہاں ریاست کا ہر ادارہ آئین میں متین کی گئی حدود کے مطابق اپنے اختیارات اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے"۔

                  جب سے پاکستان معرض وجودمیں آیا ہے  ریاست کے اداروں کے درمیان اختیارات کےحصول کا مقابلہ مسلسل  چل رہا ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، فوج اورحکومت زیادہ سےزیادہ اختیارات کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی چلی آرہی ہیں۔ پاکستان نے پارلیمانی جمہوریت، صدارتی جمہوریت اور فوجی آمریت  کے تجربے کیے۔ جب کبھی کوئی ایک قسم کی حکومت ناکام ہوجاتی ہے تو حکمران اشرافیہ ریاست کے اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بحث شروع کرادیتی ہے۔  اس وجہ سےبرطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان میں اب تک تین آئین بنائے جا چکے ہیں اور موجودہ تیسرے آئین، یعنی کہ 1973 کے آئین میں بھی اب تک 23ترامیم ہو چکی ہیں۔

انسانوں کے بنائے اس نظام کی ناکامی اس قدر مکمل اور واضح ہے کہ حکمران اشرافیہ نے ایک بار پھر وہی پرانی بحث شروع کرادی ہے۔ یہ بحث ایک دھوکہ ہے تا کہ لوگ کنویں کے مینڈک بن کر اسی ناکام نظام کے اسیر  رہیں اور یہ سوچ ہی نہ سکیں کہ ان کی بدترین صورتحال میں خوشگوار تبدیلی اس کنویں سے باہر  نکل کرہی آ سکتی ہے۔ ہم نے برطانوی راج کے چھوڑے ہوئے کفر نظام پر سوچ بچار میں 70 سال سے زائد  وقت کوضائع کردیا ہے۔  لہٰذا اب بہت دیکھ لیا انسانوں کے بنائے نظاموں کی ناکامی کو اور وقت آگیا ہے کہ ہم اسلام کے نظامِ حکمرانی، یعنی نبوت کے طریقے پر خلافت کی جانب رجوع کریں۔

                  خلافت میں خلیفہ، عدلیہ، مجلس امت اور فوج کے کردار اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا  ہے۔ خلیفہ کے پاس اسلام کو نافذ کرنے کے لیے درکارتما م عملی اختیارات ہوتے ہیں اور صرف وہی اسلام کو نفاذ کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسلام کے احکامات کے حوالے سے جہاں کہیں اختلاف رائے موجود ہو تو  صرف خلیفہ ہی کہ پاس یہ اختیار ہے کہ وہ  کسی ایک رائے کو دلیل کی قوت پر اختیار کرے اور اسے ریاست کا قانون قرار دے۔ مجلس امت حکمران کومشورے دیتی اور نصیحت کرتی ہے اور حکمرانی اور قوانین کی تبنی میں اس  کا احتساب کرتی ہے۔  عدلیہ تنازعات کا فیصلہ صرف قرآن و سنت سے کرتی ہے۔ فوج مکمل طور پر خلیفہ کے زیر قیادت اس  کےکنٹرول میں ہوتی ہے  اور وہ اسلام کے نفاذ کے لیے مسلسل نئے نئے علاقے فتح کرتی ہے۔  خلافت میں کوئی بھی اپنی مرضی و خواہش کے مطابق قانون سازی نہیں کرسکتا کیونکہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی مقتدر اعلیٰ اور شارع ہوتے ہیں۔  ہر قانون صرف اورصرف وحی کے ماخذ یعنی قرآن و سنت سے ہی اخذ کیا جاتا ہے۔ آئین کی ہر شق کو لازمی قرآن و سنت سے ہی اخذ کیا جاتا ہے اور جو بھی شق اس سے ہٹ کر لی گئی ہو وہ مسترد ہوجاتی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کو ان لوگوں کے لیے جگہ چھوڑ دینی چاہیے جو اسلام کو سمجھتے ہیں اور اسے زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔  آگے بڑھنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَلَا تَتَّبِعِ الۡهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَضِلُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌۢ بِمَا نَسُوۡا يَوۡمَ الۡحِسَابِ

"اور(اپنی) خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں اللہ کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا"(ص 38:26)

 

Last modified onہفتہ, 09 فروری 2019 11:29

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک