الإثنين، 12 ربيع الثاني 1441| 2019/12/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز19جولائی 2019

 

۔غذائی اجناس کی غیر منصفانہ تقسیم سرمایہ دارانہ نظام کی جہ سے ہے

-سرمایہ دارانہ نظام روٹی جیسی بنیادی چیز کو لوگوں کی پہنچ سے دور کردیتا ہے

-بین الا قوامی قوانین کاکردار استعماری ہے

 

تفصیلات:

 

غذائی اجناس کی غیر منصفانہ تقسیم سرمایہ دارانہ نظام کی جہ سے ہے

ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تیسری سہ ماہی  رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 36.9فیصد گھرانے  غذائی اجناس کی قلت کا شکار ہیں جبکہ ان میں سے 18.3 فیصد گھرانے انتہائی غذائی قلت میں مبتلہ ہیں ۔ یہ ہی نہیں  حالیہ سروے  میں پاکستان کو عالمی بھوک کے انڈکس میں 119 ممالک میں سے 106 کے درجے پر رکھا گیا ہے یعنی ان ممالک میں جہاں  انتہائی حد تک بھوک و افلاس موجود ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کو ان سات ممالک میں شامل کیا گیا ہے جہاں دنیا کے دو تہائی غذائی اجناس  کی قلت میں مبتلہ  افراد رہتے ہیں ۔

 یہ غذائی قلت اس حقیقت کے باوجود ہے کہ پاکستان زیادہ تر غذائی اجناس کی پیداوار میں خود کفیل ہے ۔ وزارت برائے صحت اور یونیسیف کے قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق پاکستان گندم کی پیداوار میں دنیا میں آٹھویں نمبر پر ، چاول کی پیداوار میں دسویں  نمبر پر جبکہ گنّے  اور دودھ کی پیداوار میں بلترتیب پانچویں اور چوتھے نمبر پر ہے۔ غذائی اجناس میں خود کفالت کے باوجود  قلت کی وجہ حکومت کاڈالر کے حصول کی خاطر غذائی اجناس کو برآمد کردینا  اور  ملک میں نافذ سرمایہ دارانہ نظام کا نفاذ ہے ۔پاکستا نی حکومتعالمی استعماری اداروں اور ممالک  کی غلامی میں اندرونی ضرورتوں کونظر انداز کرتے ہوئے ملک میں موجود تجارتی خسارے کو کم کرنے اور ڈالر کی ہوس میں غذائی اجناس کو برآمد کردیتی ہے جو ملک میںغذائیاجناس میں قلت   نہ بھی پیدا کرے تو  کھانے پینے کی اشیاء میں مہنگائی کا باعث  ضروربن جاتا ہے جس سے غذائی اجناس عام افراد کی پہنچ سے باہر ہوجاتی ہے۔  مزید براں موجودہ حکومتیں سرمایہ دارانہ نظامِ حکومت کو اپناتے ہوئے غذائی اجناس کی پیداوار کو تو اپنا ہدف گردانتی ہیں لیکن  غذائی اجناس کی  ریاست کے تمام شہریوں تک رسائی کو اپنا مقصد نہیں  سمجھتیں ۔یہی وجہ ہے  کہ ہمیں حکمران ایسے جملے کہتے نظر آتے ہیں کے ٹماٹر مہنگے ہیں تو نہ کھاؤ، دو روٹی  کی جگہ آج ایک روٹی کھا لو یا امیر و غریب  کے طبقے تو اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں ہم کیا کرسکتے ہیں ۔ یہ ہی نہیں ،  آج  تک ترقی یافتہ ممالک بھی اپنے ملکوں سے غربت ختم نہ کر سکے ۔آج بھی امریکہ میں 4 کروڑ افراد بھوک سے لڑ رہے ہیں اور بچوں والے ہر چھ گھرانوں میں سے  ایک گھر اپنے خاندان کے لئے غذائی اجناس خریدنے  کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ ہے مغربی  سرمایہ دارانہ نظام کا مکروہ چہرہ۔

 

اس کے برعکس اسلام نے  پیداوار کو نہیں بلکہ تقسیم کو  اصل معاشی مسئلہ قرار دیا ہے ، لہٰذا اسلامی ریاست غذائی اجناس  کی تقسیم کو یقینی بناتی ہے ۔ اور جو لوگ معاشرے میں کما کر کھانے کی  استطاعت نہیں رکھتے ، تو پہلے ان کے رشتہ دار اور پھر خود ریاست ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے ۔ جب  حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ خلافت میں  مدینہ  میں گندم کی قلت پیدا ہوئی تو  آپؓ نے مصر کے والی کو حکم دیا کہ وہ گندم کا بندوبست کریں، تو مصر کے والی نے اونٹوں پر لاد کر گندم مدینہ کے لئے روانہ کی یہاں تک کہ مدینہ میں قلت ختم اور گندم کی فراوانی ہوگئی۔اس کے علاوہ خلافت میں کرنسی سونے اور چاندی پر مبنی ہوتی ہے  اور ریاست اسی کرنسی یا پھر بارٹر کو عالمی تجارت کے کئے استعمال کرتی ہے ، اس لئے ریاست کو عالمی تجارت کے لئے  غذائی اجناس کو برآمد کر  کے ڈالر کے حصول کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ لہٰذا صرف آنے والی خلافت ہی پاکستان اور دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے  پیدا ہونے والی غذائی اجناس کی قلت کو ختم کرے گی اور تمام  انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید کرے۔گی اللہ سبحان و تعالیٰ نے فرمایہ:

 

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الآخِرَةَ وَلاَ تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ

"اور جو (مال) تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی اللہ نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا"(القصص:77)

 

سرمایہ دارانہ نظام روٹی جیسی بنیادی چیز کو لوگوں کی پہنچ سے دور کردیتا ہے

11جولائی 2019 کو پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے نان بائیوں کی ایک روزہ ہڑتال کے بعد روٹی کی قیمت 10 روپے ے بڑھا کر 15 روپے کرنے پر رضامندی کا اظہار کردیا۔ نان بائیوں نے یہ ہڑتال روٹی کی سرکاری  قیمت میں اضافے کے لیے کی تھی کیونکہ ان کے مطابق آٹے، گیس اور بجلی  کی قیمتوں میں اضافے کے باعث روٹی 10 روپے میں فروخت نہیں کی جاسکتی۔

 

تبدیلی سرکار نے بھی پچھلی کرپٹ حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئی ایم ایف کی ہدایت پر بجلی و گیس کی قیمتوں میں قابل ذکر  اضافہ کیا۔  حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے حالیہ معاہدے کے تحت حکومت نے ہر تین ماہ بعد بجلی وگیس کی قیمتوں کا جائزہ لینا ہے اور  بتدریج اس پر دی جانے والی زرتلافی کو ختم کرنا ہے جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر بجلی و گیس کی قیمت میں صرف حالیہ اضافے کی وجہ سے نان بائی روٹی کی قیمت میں 50 فیصد اضافے پر مجبور ہوگئے ہیں تو آنے والے دنوں میں روٹی کی قیمت میں مزید کس قدرخوفناک حد تک اضافہ ہوگا؟   گندم میں خودکفالت کے باوجود آنے والے دنوں میں پاکستان کے عوام کی ایک بڑی اکثریت حقیقی معنوں میں دو وقت کی روٹی سے محروم ہوجائے گی۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر  قیمتوں میں یہ اضافہ بجلی و گیس کے ذخائر اور کمپنیوں کے نجی مالکان کے منافع کو یقینی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو درحقیقت عام آدمی کی نہیں بلکہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کی فکر ہوتی ہے۔  اس حقیقت سے ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ جمہوریت اورسرمایہ دارانہ نظام میں رہتے ہوئے   تبدیلی نہیں آسکتی اور جو یہ دعوی کرتے ہیں وہ سفید جھوٹ بولتے ہیں۔

نبوت کے طریقے پر قائم خلافت میں نان بائی بجلی و گیس کی وجہ سے روٹی کی قیمت بڑھانے پر مجبور نہیں ہوں گے کیونکہ اسلام کے معاشی نظام میں بجلی و گیس نجی ملکیت نہیں بلکہ عوامی ملکیت ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ

"مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراہگاہیں اور آگ (توانائی)"(احمد)۔

 

ہمارے عظیم دین میں  توانائی ایک عوامی اثاثہ ہے ،چاہے وہ پیٹرول کی شکل میں ہو یاگیس یا بجلی کی شکل میں ، جس کے معاملات ریاست اپنی نگرانی میں چلاتی ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ لوگوں کو یہ انتہائی مناسب قیمت پرمیسر ہوں اور اشیاء کی پیداواری لاگت قابو میں رہے اور اس طرح لوگوں کو روٹی بھی مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی رہے گی۔   

 

بین الا قوامی قوانین کاکردار استعماری ہے

14جولائی 2019 کی خبر کے مطابق عالمی بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے 5 ارب 97 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

اگرچہ کے ان اداروں کا کردار استعماری ہے پِھر بھی پاکستان کے حکمران اِس طرح کے فیصلوں کا انکار کرنے کے  بجائے ان ہی اداروں کا سہا رہ لے کے معاملات  حَل کرنے کی کوشش کرتے  ہیں جبکہ ان اداروں سے وابستگی ہی اصل مسئلے کی جڑ ہے۔ICSID عالمی بینک کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات پر بین ا لا قوامی قوانین کے تحت فیصلہ سناتا ہے ۔ بین ا لا قوامی قانون کی داغ بیل  سب سے پہلے  صلیبیوں نےعثمانی ریاستِ خلافت کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ڈالی تھی۔ مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد 1648 عیسوی میں یورپی عیسائی ریاستوں نے ویسٹ فیلیا  میں ایک کانفرنس منعقد کی جس میں صلیبیوں نے نام نہاد "بین الاقوامی قانون" کی بنیاد رکھی۔ اس قانون کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کو غصب کرنا اور اسلام کی بالادستی کو روکنا تھا۔ اس بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے لیگ آف نیشنز حرکت میں آئی اور اس نے عثمانی خلافت کو تباہ کیا، اس پر قبضہ کیا اور آخر کار اس کے ٹکڑے کردیے۔ اورآج بین الاقوامی قانون کو نافذ کرنے والے ادارے  اقوام متحدہ ، عالمی بینک ، آئی ایم ایف اور بین الاقوامی عدالتوں کی صورت میں  موجود ہیں ۔

 

چنانچہ  بین الاقوامی قوانین کا سہارا لے  کے ہمیشہ بڑے ممالک چھوٹے ممالک کے اوپر اپنی مرضی مسلط کرواتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ  یہ چند  طاقتور ممالک کا بنایا ہوا قانون ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی اِجا رہ داری قائم کرتے ہیں. لہٰذا یہ ایک غیر تحریری قانون ہے کہ  عالمی بینک کا صدر ہمیشہ امریکی ہوگا اگر چہ کہ عالمی بینک ایک عالمی ادارہ ہے ۔ جبکہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ  (ICC)  یورپ کا قائم کیا ہوا ادارہ ہے جو کہ بین الاقوامی قانون کی آڑ میں  یورپی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ لہٰذا اللہ رب العزت کا قانون ہوتے ہوئے ان اداروں میں شمولیت اختیار کر نا یا ان اداروں کے فیصلوں کو ما ننا، اپنے فیصلےطاغوت کے پاس لے جانے کے برابر ہے ۔ جیسا کے اللہ پاک نے فرمایا،

 

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا

"کیا آپ(ﷺ) نے نہیں دیکھا اُن لوگوں کو جو دعوی کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں، اس پر جو آپ ﷺ کی طرف اور آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا، چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت(غیر اللہ) کے پاس لے جائیں حالانکہ اِن کو حکم ہوچکا ہے کہ طاغوت کا انکار کردیں۔ شیطان چاہتا ہے کہ اِن کو بہکاکر دور جاڈالے"(النساء:60

 

انسان کا بنایا ہوا دنیا  کا کوئی بھی قانون کبھی بھی انسانیت کو انصاف نہیں دے سکتا اور یہ طاقت صرف اللہ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی  یعنی خلافت میں موجود ہےجو مکمل اچھائی اور انصاف سے لبریز ہے۔ وہ اُس قانون کی بنیاد پر حکمرانی نہیں کرے گی جو مقامی امریکی ریڈ انڈینز کے قاتلوں، برطانوی قزاقوں، فرانس کے جنگی مجرموں، مشرقی ترکستان پر ظلم کرنے  والے چین اور شام کے جابر کی حمایت کرنے والے روس کا بنایا ہوا ہو۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ:

 

الۗرٰ  ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ  ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ

"الرٰ! یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں  ان کے پروردگار کے حکم  سے زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی طرف"(ابراہیم:1)

Last modified onمنگل, 23 جولائی 2019 22:41

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک