الإثنين، 22 صَفر 1441| 2019/10/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 26 جولائی 2019

 

- قبائلی علا قوں میں جمہوری انتخابات ان کی قسمت تبدیل نہیں کرسکتے

-عمران خان نے کشمیر پر امریکی ثالثی قبول کر کے اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے

-بلوچستان میں صحت اور خوراک  کی ابتر صورتحال سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ہے

 

تفصیلات:

 

قبائلی علا قوں میں جمہوری انتخابات ان کی قسمت تبدیل نہیں کرسکتے

ایکسپریس ٹریبیون نے 21 جولائی 2019 کو بتایا کہ سابقہ وفا ق کے زیر انتظام قبائلی علا قے (فاٹا) دو دہائیوں تک بدترین  عسکریت پسندی اور فوجی آپریشنز کا سامنا کرنے کے بعد جمہوریت کے نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جب وہاں پہلے بار ہونے والے تاریخی صوبائی اسمبلی کے انتخابات پرامن طریقے سے اختتام پزیر ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علا قے قیام پاکستان کے و قت سے اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے چلے آرہے تھے۔   غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی راج نے اس علا قے کو محدود آزادی دے کر اسے ایک الگ شناخت دی تھی۔  پاکستان بننے کے بعد قبائلی علا قے کو  ایک مخصوص قانون فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن(ایف سی آر) کے تحت  رکھا گیا  جو کہ پورے ملک میں نافذ ہونے والے قانون سے بالکل الگ تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قیام پاکستان کے فوراً اس علا قے کو باقی پاکستان کے ساتھ جوڑ دیا جاتا اور ایسا کرنا بہت آسان بھی ہوتا اگر پاکستان میں اسلام کامکمل نفاذ کردیا جاتا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی وفوجی قیادت نے  انگریز کے چھوڑے قانون کو ہی جاری رکھا جس کی وجہ سے قبائلی علا قوں کا پاکستان کے ساتھ انضمام مشکل ہوگیا کیونکہ وہاں کے مسلمان اپنی محدود آزادی کی وجہ سے اپنے کچھ معاملات اسلامی شریعت کے مطابق چلانے میں آزاد تھے۔  قبائلی علا قوں کی یہ نیم خودمختاری اور ان کی عسکریت پسند ی یعنی جہاد سے محبت پچھلی صدی کی آخری دہائی تک امریکا کے لیے قابل قبول بلکہ فائدہ مند تھی کیونکہ  ان اوصاف نے افغانستان میں سوویت روس کے قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت  کھڑی کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ لیکن افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد قبائلی علا قوں کی یہ خصوصیت امریکی مفاد کے خلاف تھی لہٰذا سے  ختم کرنے  کے لیے مسلسل دودہائیوں تک فوجی آپریشن کیے گئے اور پھر 24 مئی 2018 کو پاکستان کے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی علیحدہ شناخت کو ختم  ، انہیں خیبر پختونخوا کے صوبے میں ضم کردیا گیا اور انہیں صوبائی اسمبلی میں 16 نشتیں دیں گئیں۔

 

 پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت قبائلی علا قے کے انضمام کے لیے یہ جواز پیش کرتی آرہی ہے کہ الگ قانون ہونے کی وجہ سے قبائلی علا قے تر قی کی دوڑ میں پاکستان کے با قی علا قوں سے پیچھے رہ گئے ہیں اور اب جمہوری عمل کے ذریعے اس علا قے میں تر قی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ یہ حکومتی دعوی جھوٹ ہے کیونکہ اگر ان کی پسماندگی کی یہی وجہ ہوتی تو آج بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے اندرونی علا قوں  کی حالت بھی قبائلی علا قوں سے  مختلف ہونے چاہیے تھی کیونکہ وہاں تو 70 سال سے وہی قانون اور نظام نافذ ہے جو پورے پاکستان میں ہے۔  درحقیقت پاکستان کا تر قی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی وجہ برطانوی راج کے چھوڑے قوانین اور  نظام کو گلے سے لگائے رکھنے کی وجہ سے ہے  جو کہ سرمایہ داریت کا نظام ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے پاکستان اسلام کے مکمل نفاذ کے لیے  بنایا تھا اور جب تک اسلام کا مکمل نفاذ نہیں کیا جاتا پاکستان کے کسی علا قے میں حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔ حقیقی تبدیلی صرف اور صرف نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے بعد ہی آئے گی جو اسلام کو زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل طور پر نافذ کرے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأصْلَحَ بَالَهُمْ

"اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمدﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی"(محمد:2)

 

عمران خان نے کشمیر پر امریکی ثالثی قبول کر کے اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے

22جولائی 2019 بروز پیر امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ دونوں سربراہانِ  حکومت   کے درمیان  افغانستان میں امریکہ کی مدد ، کشمیر پر امریکی ثالشی  ،  امریکی امداد کی بحالی اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت کے فروغ پر بات چیت ہوئی ۔ امریکی صد ٹرمپ نے کشمیر پر اپنی ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا، "  اگر میں مدد کرسکوں  تو مجھے کشمیر پر ثالث بننے پر خوشی ہوگی"۔ ٹرمپ کی ثالثی کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ، " برِ صغیر میں سوا ارب سے زیادہ لوگ آباد ہیں ، جنہیں مسئلہ کشمیر نے یرغمال بنایا ہوا ہے ، اور میں سمجھتا ہوں کے صرف دنیا کی طاقتور ترین  ریاست ہی ٹرمپ کی قیادت میں دونوں ملکوں کو ساتھ لاسکتی ہے" ۔

 

عمران خان کا ٹرمپ کی ثالثی  کی پیشکش کو قبول کرنا   خطے اور خصوصاً کشمیر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے اور غداری کےمترادف ہے   کیونکہ امریکہ کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہ امریکہ ہی ہے جس نے افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمانو ں کا قتلِ عام کیا، جس نے شام کے جابر کو مسلمانوں  پر شبِ خون  مارنے کی اجازت دی۔ اور یہ امریکہ ہی ہے جس نے گجرات میں مسلمانوں کے قاتل مودی کی نہ صرف حمایت کی بلکہ  انتخابات میں اس کی کامیابی کو یقینی بنایا۔ تو پھر ایسے امریکہ اور ٹرمپ کی مسلمانوں کے مفادات میں ثالثی کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟ ۔ مزید برآں  ، ثالثی کی اس پیشکش کو قبول کرنا ، امریکہ کے دیرینہ خواب کی تعمیر ہے جس کے مطابق امریکہ پاکستان اور بھارت میں نا رملائزیشن کے نام پر بھارت کو مضبوط اور پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان کی خطے میں حیثیت  اور اثرورسوخ    نیپال اور بھوٹان کی طرح رہ جائے  اور بھارت خطے میں  چین  پر توجہ مرکوز کر سکے۔کیا عمران خان یا دورے میں ساتھ شامل جنرل باجوہ یہ نہیں جانتے کہ اس سے پہلے امریکہ یا اس کے  ذیلی ادارے  جیسے اقوامِ متحدہ جن معاملات میں آج سے پہلے ثالثی کر چکے ہیں ان کا کیا بنا ، کیا انڈونیشیا  سے مشرقی تیمور کا الگ ہونا اور سوڈان سے جنوبی سوڈان  کا الگ ہونا واضع سبق نہیں دیتا؟  کیا فلسطین کے مسئلے پر امریکی موقف  کو ہم نے نہیں دیکھا جہا ں اس نے ثالثی کے نام پر مسلم سرزمین پر  یہودی وجود کو ہمیشہ دوام بخشا، یہودی ریاست کی  فلسطینی مسلمانوں  پر وحشیانہ ظلم وستم پر ہمیشہ خاموشی اختیارکی اور یہاں تک کہ ٹرمپ نے یروشلم  کو یہودی  وجود کا دارالحکومت قرار دیا؟  تو  پھر ایسے امریکا اور ٹرمپ کی ثالثی قبول کرنا کشمیر  کے مسئلے سے غداری نہیں تو  اور کیا ہے؟۔

 

 پاکستانی حکمران  جنرل باجوہ اور عمران خان، مشرف کی طرح اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں جو اس دنیا میں بھی ان کا مقدر بنے گا اور آخرت میں بھی ذلیل و رسو ا کرے گا کیونکہ اللہ  سبحانہ وتعالی نے اپنے فیصلے طاغوت  کے پاس  لے جانے سے منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

((أَلَمْ تَرَ إلى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إلى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيداً))

" کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے"(سورۃ النساء:60)۔

 

لہٰذا مسلمانوں  اور مسلم افواج پر فرض ہے کہ ہم ان  طاغوتوں اور ان کے چیلے ہمارے حکمرانو ں کا انکار کریں اور خلافت کو قائم کریں جو کشمیر سمیت مسلمانوں کے تمام مسائل کو اللہ کی شریعت کے مطابق جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے حل کرے گی اور خوشحالی اور امن اس دنیا میں بھی ہمارا مقدر بنے گا اور ہم آخرت میں بھی  ان شاءاللہ سرخرو ہونگے۔

 

بلوچستان میں صحت اور خوراک  کی ابتر صورتحال سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے ہے

26 جولائی 2019 کو کوئٹہ میں ایک تقریب کے دوران قومی غذائی سروے 2018 پیش کیا گیا  جس کے مطابق پاکستان کے سب سے  بڑے صوبے  بلوچستان میں 73.7  فیصد بلوغت کو پہنچنے والے  لڑکے اور لڑکیاں خون کی کمی کا شکار ہیں ۔ سروے میں مزید اس حقیقت کو بھی آشکار کیا گیا کہ تولیدی عمر کو پہنچنے والے 61.3فیصد خواتین بھیخون کی کمی کا شکار ہیں ۔ جبکہ 5 سال یا اس سے کم عمر کے 50 فیصد سے زیادہ بچے وزن میں کمی میں مبتلہ ہیں ۔ خطرناک بات یہ کہ بلوچستان میں پچاس فیصد لوگ غذائی اجناس میں عدم تحفظ  کا شکار ہیں ۔

بلوچستان بے شمار معدنی زخائر ، اور گیس  سے مالا مال ہے اس کے باوجود وہ صحت کی ابتر صورتحال اور غذائی اجناس میں عدم تحفظ کا شکارہے ۔  بلوچستان ہی نہیں پوراپاکستان زیادہ تر غذائی اجناس کی پیداوار میں خود کفیل ہے ۔ وزارت برائے صحت اور یونیسیف کے قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق پاکستان گندم کی پیداوار میں دنیا میں آٹھویں نمبر پر ، چاول کی پیداوار میں دسویں  نمبر پر جبکہ گنّےاور دودھ کی پیداوار میں بلترتیب پانچویں اور چوتھے نمبر پر ہے۔پاکستان کی غذائی اجناس میں خود کفالت کے باوجودبلوچستان اور دیگر علاقوں میں صحت کی ابتر صورتحال اور غذائی اجناس میں قلت کی وجہ ملک میں نافذ سرمایہ دارانہ نظام ہے۔سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پر لوگوں  تک بنیادی ضرورتوں  کی رسائی کو ریاست کی زمہ داری نہیں گردانتا بلکہ اشیاء کی تقسیم کوقیمت کے نظام (PriceMechanism) پر چھوڑ دیتا ہےکیونکہ وہ سمجھتا ہےکہ قیمت ہی مزدور اور سرمایہ دار کے لیے پیداوار کو بڑھاوا دینے  کا واحد موجب ہے ۔ مزید براں،  سرمایہ دارانہ نظریہ کے مطابق یہ قیمت ہی ہے  جو انسانوں کواپنی حاجات کو پورا کرنے میں  اپنے پاس موجود سرمائے کے مطابق محدود کرنے میں مدد کرتی ہے ہے ، لہٰذا جس کے پاس جتنا سرمایہ ہوگا وہ اسی کے مطابق اپنی حاجتوں کو پورا کرسکے گا۔ لہٰذا اُن کے نزدیک قومی سرمائے میں ایک فرد کا حصہ اتنا نہیں جتنی اس کی ضرورت ہے بلکہ اس کا حصہ  اتنا ہے جتنا اشیاء اور خدمات کی پیداوار بڑھانے میں اس نے کردار ادا کیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اس شخص کو زندہ رہنے کا حق نہیں جس کا معیشت میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار بڑھانے میں حصہ نہیں۔ جبکہ جس کا معیشت مین اشیاء اور خدمات کی پیداوار بڑھانے میں جتنا زیادہ حصہ اس کو دوسروں کا حق مارنے اور ان پر بالادستی قائم کرنے کا اتنا ہی زیادہ حق ہے کیونکہ وہ زیادہ قابل ہے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ  معاشرے میں موجود امیر ترین افراد تو اپنی ضرورتوں اور صحت کے ضابتوں کا خیال کر لیتے ہیں  لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔   یہی وجہ ہے کہ موجودہ اور ماضی کی تمام حکومتیں سرمایہ دارانہ نظامِ حکومت کو اپناتے ہوئے غذائی اجناس کی پیداوار کو تو اپنا ہدف گردانتی ہیں لیکن  غذائی اجناس کی  ریاست کے تمام شہریوں تک رسائی کو اپنا مقصد نہیں  سمجھتیں بلکہ اس کوسرمایہ دارانہ نظریئے کے مطابق قیمت کے نظام (Price Mechanism) پر چھوڑ دیتی ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ  میں بھی آج  تک  4 کروڑ افراد بھوک سے لڑ رہے ہیں اور بچوں والے ہر چھ گھرانوں میں سے  ایک گھر اپنے خاندان کے لئے غذائی اجناس خریدنے  کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ ہے مغربی  سرمایہ دارانہ نظام کا مکروہ چہرہ۔

 

اس کے برعکس اسلام نے  تقسیم کو قیمت کے نظام کو (Price Mechanism) پر نہیں چھوڑا بلکہ ہر انسان تک بنیادی ضرورتوں کی تقسیم کو یقینی بنایا ، لہٰذا اسلامی ریاست غذائی اجناس  کی تقسیم کو  اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔صرف غذائی اجناس ہی نہیں ، اسلام نے  ریاست میں رہنے والے ہر فرد کے لئے روٹی ، کپڑا  اور مکان کو بنیادی ضرورت قرار دیا جبکہ تعلیم، صحت اور سیکیورٹی کو معاشرتی ضرورت قرار دیا۔   اسلام نے  ریاست  پر اس بات کو فرض قرار دیا  ہے کہ وہ ہ ہر شخص کے لئے  انفرادی اور اجتمائی بنیادی  ضرورتوں   کی دستیابی کو یقینی بنائے اور ریاست کے اندر ایسا ماحول پیدا کرے کہ ہر شخص اپنی ان بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکےاور جو لوگ معاشرے میں خود سے ان بنیادی ضرورتوں کے حصول  کی   استطاعت نہیں رکھتے ، ریاست پہلے ان کے رشتہ داروں  پر اور پھر خود ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتی ہے ۔ ۔ لہٰذا صرف آنے والی خلافت ہی پاکستان اور دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے  پیدا ہونے والی غذائی اجناس کی قلت کو ختم کرے گی اور تمام  انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید کرے گی۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے فرمایہ:

 

وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الآخِرَةَ وَلاَ تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَأَحْسِنْ كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ

"اور جو (مال) تم کو اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی اللہ نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا"(القصص:77)۔

Last modified onمنگل, 30 جولائی 2019 01:57

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک