الثلاثاء، 02 رجب 1441| 2020/02/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

مغربی تہذیب بحران کا شکار ہے

تحریر: انجینئر معیز ، پاکستان

 

پوری دنیا میں سرمایہ داریت بحران کا شکار ہے۔ تیسری دنیا کے لیے ترقی کرنے کے لیے بنائے گئے نمونے، جن کی بنیاد فری مارکیٹ اکانومی ہے اور جو سیاسی لبرلائزیشن کے پروگراموں کے ساتھ منسلک ہیں ، ہمیشہ ہی اس حوالے سے ہدف تنقید رہے ہیں کہ کیا یہ پروگرام ترقی پزیر ممالک  کے شہریوں کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگیوں میں بہتری لاسکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن اس بار سرمایہ داریت کے صحیح ہونے کے حوالے سے خود مغربی دنیا میں سے سوالات جنم لے رہے ہیں  جہاں آبادی کے بڑے حصے اور مغربی دانشور حضرات کی قابلِ ذکر تعدادمغربی معاشی اور سیاسی سوچ اور اس کے ڈھانچے پر سوالات اٹھا رہی ہے۔  یہ چیلنج مارکسِسٹ-لینن ازم کے چیلنج سے مختلف ہے۔ فرانسیسی انقلاب کی انقلابیت سے متاثر مارکس نے سرمایہ داریت پر تنقید کی جس نے انیسوی صدی کے سیاسی جذبات کو اپنے حصار میں لے لیا جہاں یورپی عوام اپنی اشرافیہ سے سخت بےزار تھے جو اپنی قانونی حیثیت بادشاہ کی جانب سے قائم کیے گئے اداروں سے لیتے تھے اور خود کو عیسائی چرچ کے محافظ کے طور پر پیش کرتے تھے۔

 

نپولین کا حیرت انگیز عروج اور یورپ کی فتح، جو بعد میں برقرار نہیں رہ سکی، نے  انقلابی جذبات کو بھڑکا دیا جس نے یورپ کو آنے والی کئی دہائیوں تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ ان انقلابی جذبات کو مزید بھڑکانے میں بڑھتے ہوئے سماجی و معاشی فرق نے کردار ادا کیا جو یورپی معاشروں میں صنعتی  دور کے بعد تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ مارکس نے یورپ کے انقلابی جذبات کو مٹھی میں لیا اور اُس وقت کی صورتحال کی ایک فکری توجیح پیش کی۔ اس نے یہ کہا تاریخ میں معاشرے افکار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اشرافیہ اور غیر اشرافیہ  کے مسلسل ٹکراؤ سے آگے بڑھے ہیں۔ اس نے کہا کہ اشرافیہ کے ڈھانچے معاشی ذرائع پیداوار کو اپنے کنٹرول میں لیتے ہیں ، اگر ذرائع پیداوار کی ملکیت اجتماعی ہو تو اس طرح سے اشرافیہ  اور غیر اشرافیہ کی تقسیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتی ہے اور ایک مساوی معاشرے کی جانب قدم بڑھتے ہیں۔ مارکس کے "انقلابی سیاسی نظریات" نے کبھی بھی یورپ کی اشرافیہ کو متاثر نہیں کیا تھا جو ان  نظریات کو اپنی بقاء کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے تھے۔ یورپ چرچ اور مذہب مخالف قوتوں کے درمیان ہونے والی شدید جدوجہد سے باہر نکلاتھا۔ یہ ایک ایسی بحث تھی جس نے یورپ کو تقسیم کرکے رکھ دیا  تھاجس کے نتیجے میں سیکولر لبرل ازم  نےایک آئیڈیالوجی کی صورت میں جنم لیا۔ یورپی اشرافیہ  نے مارکس کےتاریخی ارتقاء   کے نظریے کو فوراً مسترد کردیا۔  لبرل یورپ کس طرح اس بات کو قبول کرسکتا تھا کہ انسانی معاشرے کی ترقی میں افکار اور انسانوں کا کو ئی کردار نہیں ہوتا جبکہ وہ کچھ ہی عرصہ قبل ایک شدید آئیڈیالوجیکل جدوجہد سے گزرے تھے اور جس کے زخم یورپی نفسیات میں ابھی تازہ تھے؟ البتہ مارکس کے "معاشی نظریات" نے یورپ کی اشرافیہ کو متاثر کیا جس کے نتیجے میں کئی مغربی ممالک میں بیسوی صدی  میں سوشل ڈیموکریٹک  سیاست کو عروج حاصل ہوا۔ مارکس ازم نے سرمایہ دارانہ دنیا کومتحدہ ہونے میں مدد فراہم کی۔

 

مارکس ازم کی مدد سے سرمایہ داریت اپنی ایک واضح تعریف متعین کرنے کے قابل ہوئی کہ وہ کن چیزوں کو اہمیت دیتی ہے اور کن چیزوں کو اہمیت نہیں دیتی  ، اس کے بنیادی اصول کیا ہیں اور ان اصولوں کی غیر موجودگی  اور مارکس ازم کے تجربے کے کیا تباہ کن سیاسی اور معاشی  نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس مقابلے کی وجہ سے اور کس طرح یہ دونوں آئیڈیالوجیز  خود کو ایک دوسرے سے مختلف  ثابت کرتی تھیں کے نتیجے میں فرانسز فوکویامہ نے  پرجوش اعلان کیا جب اس نے مشہور زمانہ سوال کیا کہ کیا کمیونزم کے خاتمے کے ساتھ ہی تاریخ کا ارتقاء بھی  ختم ہو گیاہے اور کیا لبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ داریت انسانیت کے لیے آخری اور حتمی طرز حکمرانی ثابت ہوا ہے۔

آج سرمایہ داریت اور لبرل ڈیموکریسی جس بحران کا سامنا کررہے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کا ہے جس کے وجہ سے مغربی اشرافیہ میں اعتماد کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔ آج اشرافیہ اور مغربی معاشروں کے اہم حصے ان بنیادی تصورات پر سوالات اٹھا رہے ہیں جو کہ مغربی تہذیب کی بنیادیں ہیں۔ دیوارِ برلن کے گرنے اور 2008 کے معاشی بحران کے درمیانی بیس سال کے عرصے میں بہت بڑے پیمانےپر معاشی  عالمگیریت  (اکنامک گلوبلائزیشن) کو بین الاقوامی معاہدوں جیسا کہ عالمی تجارتی تنظیم (ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن) ، یورپی یونین اور یورو زون کے شکل میں دیکھا گیا جن کا ہدف اشیاء، سہولیات، افراد اور سرمائے  کی بغیر روک ٹوک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کو یقینی بنانا تھا ۔ یہ کہا جاتا تھا کہ اس کے نتیجے میں ہم   ایک ایسےعالمی خوشحالی کے دور میں داخل ہوں گے  جس سے ہر ایک مستفید ہو گا۔ لیکن 2008 کے معاشی بحران  اور اس کے بعد عالمی مالیاتی نظام میں پیدا ہونے والے بحران نے فری مارکیٹ کے اصول پر یقین کو چیلنج کردیا کہ یہ اصول وسائل کو معیشت میں موثر طریقے سے تقسیم کرتا ہے۔ فری مارکیٹ اکانومی میں نجی شعبے کے جو ادارے بڑا  کردار ادا کرتے تھے ان کو تباہی سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر حکومتی مدد (بیل آوٹ)نے  ریاست اور معیشت کے درمیان تعلق کے حوالے سے سوالات پیدا کردیے جن کا جواب اب تک نہیں دیا جاسکے ہے۔  اس کے علاوہ  دیوار برلن کے گرنے  کے بعد سے  عالمگیریت کے اس عہد میں جو دولت پیدا  ہوئی اس نے مغربی معاشروں میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کردیا۔

 

سرمایہ د انہ معاشی سوچ کی بنیاد یہ  فکر ہے کہ ضروریات لامحدود  جبکہ وسائل محدود ہیں۔ اس سوچ  نے دولت کی پیداوار، معاشی بڑھوتی اور وسائل میں اضافے کو معیشت کو کنٹرول کرنے والی قوت بنادیا ہے۔ سرمایہ داریت یہ کہتی ہے  کہ اچھی معیشت وہ ہوتی ہے جو موثر ہو کیونکہ اس کے نتیجے میں وسائل ضائع نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے پیداوار میں اضافے کو معیشت میں ترقی کا معیار بنایا گیا ہے  جو کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ دولت پیدا کرتی ہے۔  ٹیکنالوجی میں ترقی  اور اس میدان میں بڑی بڑی کمپنیوں کے ظہور  کی وجہ سے پچھلی تین دہائیوں میں سرمایہ داریت نے بہت بڑی بڑی کارپوریشنز کو جنم دیا   جو کم سے کم وسائل سے معیشت میں بہت بڑے پیمانے پر دولت پیدا کرتی ہیں۔  اس وجہ سے دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں مزید اضافہ ہوا  اور اس طرح سے ایک اور مسئلہ پیدا ہوگیا۔ بہت زیادہ پیداوار دینے والی ٹیک اکانومی نے سرمایہ دارانہ معیشت کی غیر انسانی فطرت کو واضح کردیا۔ کیا وہ معیشت جو کم سے کم مزدوروں سے  بہت زیادہ پیداوار دیتی ہے  بہتر ہے یا وہ معیشت بہتر ہے جو زیادہ مزدوروں سے کم پیداوار دیتی ہے؟ کیا معیشت کی تعمیر ایسے ہونی چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیداوار دے تا کہ زیادہ دولت پیدا ہوسکے  اور جو چند ہاتھوں میں ہی گردش کرتی رہے یا پھر ایک کم موثر معیشت ہو لیکن جس میں زیادہ  مزدور کام کرسکیں  جس کی وجہ سے معاشرے کا بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں میں ملوث ہو؟ کیا پیداوار معیشت کا ہدف ہونا چاہیے یا مکمل روزگار معیشت کا ہدف ہو؟  کیا معاشی ترقی کو جانچنے کا واحد پیمانہ پیداوار ہی  ہے؟ سرمایہ داریت  کا صرف پیداوار اور دولت  پیدا کرنے کے حوالے سے جنون ،جو اس کی نظر میں معیشت کو چلانے کا مرکزی تصور ہے، نے دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بری طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔ پیداوار کو بڑھانے کے ذریعے دولت پیدا کرنے کی یہ جنونیت اور پاگل پن غیر فطری اور ناقابل برداشت ہے اور اس نے  دنیا کے ماحولیاتی نظام میں ان وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہےجو استعمال ہونے کےبعد دوبارہ پید   ابھی ہوسکتےہیں۔ اس عمل کی وجہ سے یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ دنیا کے ماحول کو مستقل طور پر ایسا نقصان پہنچ جائے گا جس کی تلافی ممکن نہیں ہو گی  اور اس کے نتیجے میں انسانی معاشروں پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ آخر انسانی ترقی کے لیے صرف اور صرف مادی خواہشات، ذاتی ترغیبات  اور منافع کی لالچ ہی ذریعے  معیشت کو چلانا کیوں  ضروری ہے؟ کیا صرف اسی طرح ہی سے معیشت کو چلانا ممکن ہے؟ کیا معاشی اصول معیشت کو چلانے  کے لیےانسانی ، روحانی یا اخلاقی اقدار کو تسلیم  نہیں کرتے جو کہ انسانی معاشرے کی بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہیں؟

 

                  مغرب میں شناخت کی سیاستidentity politics کے ابھرنے نے مغربی اشرافیہ  کے تصور کو چیلنج کیا ہے جو کہ سرمایہ داریت کو ایک عالمی تہذیب قرار دیتے ہیں۔ کیا مغربی معاشرے اتنے کمزور اور نازک ہیں کہ وہ دیگر ثقافتیں برداشت ہی نہیں کرسکتے جو تارکین وطن(مہاجرین) اپنے ساتھ ان کے معاشروں میں لاتے ہیں؟ اگر مغربی معاشرے اپنے دروازے تارکین وطن پر بند کرنا چاہتے ہیں جو مختلف پس منظر رکھتے ہیں خصوصاً اسلامی پس منظر، تو پھر وہ کیسے مغربی افکار کو عالمگیر قرار دے سکتے ہیں؟ ان  کے اس دعوے کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے کہ لبرل اور تکثیری معاشرہ(pluralistic society) ہی انسانی معاشروں کے لیے حتمی نمونے ہیں؟ کیا سفید فام نسل پرستی اور دائیں بازو کی مقبولیت عام سیاست محض عیسائی روایات اور مغربی تہذیب کی گہری اور جذباتی نمائندگی کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ تہذیب صرف  بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر بسنے والی عیسائی اقوام ہی کی تہذیب رہ جاتی ہے؟ فرانس کی صدر میکرون کی جانب سے شمالی میسیڈونیا  کی یورپی یونین میں شمولیت کو ویٹو کردینا  اور امریکی صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا کھل کر مغربی تہذیب کو جغرافیائی حدود میں مقید کرنا مغربی تہذیب کے اس دعوے کی نفی کرر ہے ہیں کہ وہ ایک عالمگیر تہذیب ہے۔

 

مغرب میں شناخت کی سیاست کے عروج نے مغربی دانشوروں کے ان تصورات کو بھی چیلنج کیا ہے جو وہ انسانی محرکات اور کس طرح ایک معاشرہ ان محرکات کے ذریعے ایک مخصوص شکل اختیار کرتا ہے، کے حوالے سے رکھتے ہیں۔ مغربی اشرافیہ بنیادی طور پر انسانوں کو اس نظر سے دیکھتی ہے کہ ان کے اعمال کا محرک  صرف مادی فوائد  کا حصول ہی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر اوقات عقلیت کو مغرب کے مختلف طبقات اس طرح سے بیان کرتے ہیں کہ انسان صرف اپنے معاشی اور ذاتی فائدے کے لیے  متحرک ہوتا ہے۔     مغرب میں شناخت کی سیاست کے عروج نے مغربی معاشروں میں ہونے والی ایک بہت گہری جدوجہد کو آشکار کیا ہے  اور وہ ہے کہ  زندگی کا مطلب کیا ہے، مقصد کیا ہے۔  صدیوں تک مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود رکھنے کے بعد  مادی تہذیب کا کھوکھلا پن واضح  ہوچکا ہے جس نے روحانیت اور مذہب کو اجتماعی زندگی میں ان کے جائز مقام سے محروم رکھا  اور اس وجہ سے موجودہ سیاسی رجحانات سامنے آرہے ہیں جس میں ثقافت کے گرد کھومتی سیاست کے ذریعے اجتماعی زندگی کے معنی جاننے کی  خواہش نظر آتی ہے ، جس سیاست کا ہدف یہ ہے کہ مغرب کی ایک تعریف متعین کی جائے۔ اس طاقتور سیاسی لہر نے پورے مغربی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس نے مغربی دانشوروں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ انسانی محرکات کے حوالے سے اپنے اب تک کے نظریات پر سوالات اٹھائیں کہ آیا وہ درست ہیں یا نہیں۔ کیا انسان صرف مادی فوائد کی وجہ سے ہی حرکت میں نہیں آتا، یا یہ کہ  روحانی، انسانی اور اخلاقی تقاضے کبھی معاشی تقاضوں پر اس طرح سے  حاوی ہوجاتے ہیں جو مکمل طور پر ایک دانشور کو خلاف عقل معلوم ہوں جو خلاف عقل  چیز کی تعریف اس طرح کرتا ہے کہ ایسا عمل جس سے مادی مفادات متاثر ہوتے ہیں۔

 

یہ اور اس جیسے دوسرے خدشات  جو مغربی تہذیب کے حوالے سے سر اٹھا رہے ہیں اس نے مغرب میں ایک بحران کا احساس پیدا کردیا ہے کیونکہ جن تصورات پر سوال اٹھ رہے ہیں ان کا تعلق مغربی تہذیب کی بنیادوں سے ہے۔ اگر مغربی معاشرے کا ان بنیادی تصورات پر سے اعتماد اٹھ جائے تو اس کے بہت ہی سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور  عالمی بالادست مغربی تہذیب کی بقاء کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب مغرب اپنی اندرونی کشمکش سے نبرد آزمہ ہے مسلم دنیا بھی ایک تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ 1924 میں عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد سے اسلامی امت  ایک فکری اور سیاسی جدوجہد کے عمل سے گزر رہی ہے جو اس پر استعماریوں نے مسلط کی ہے ، اور یہ جدوجہد اس کے وجود کی بقا سے تعلق رکھتی ہے ۔  کیا مسلم امت اپنی تاریخی  بنیادوں سے جڑی رہے گی ، جو کہ عظیم اسلامی تہذیب کی علمبردار تھی، اور اس طرح اپنے اصل مقام کو حاصل کرلے گی جو کہ ایک واحد ریاست کے سائے میں یکجا ہونا ہے جس کی قیادت ایک خلیفہ کے ہاتھ میں ہو گی جو اسلامی قوانین نافذ کرے گا اور اس کے مطابق امت کے امور کی نگہبانی کرے گا؟ یا یہ کہ مسلم دنیا مغربی تہذیب  اور اس کی ثقافت کو گلے لگا لے  گی اور مسلم عوام کی قومی ریاستوں میں تقسیم کو قبول کرلے گی جس کے معاملات سیکولر آئین اور قوانین کے مطابق چلائے جاتے ہیں ؟   

عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد سے اس جدوجہد نے  مسلم دنیا کی اندرونی سیاست اور فکری سمت کو متعین کردیا ہے۔ اور یہ وہ جدوجہد ہے جو اب اسلامی نشاۃِ ثانیہ میں تبدیل ہورہی ہے جس سے اختلاف صرف بے خبر لوگ ہی کرتے ہیں۔ مسلم دنیا کے لیے یہ ایک تکلیف دہ جدوجہد ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران امت اپنے امور کی دیکھ بھال کرنے کا اختیار کھو چکی ہے اور وہ بلواستہ یا بلا واستہ استعماریوں کی غلامی میں زندگی گزار رہی ہے۔ لیکن اس عرصے نے مسلمانوں کو دیگر اقوام پر ایک فوقیت بھی فراہم کیونکہ مسلم دنیا  اس قابل ہوئی ہےکہ وہ اسلامی تہذیب کے مغربی تہذیب کے ساتھ فکری اختلاف کا موازنہ کرسکے ، وہ اسلامی تہذیب جس سے وہ محبت کرتی ہے مگر وہ اس کے فہم میں کمزور ہوچکی تھی۔  اس عمل  نے اسلامی اور مغربی تہذیب کے فرق کو سمجھنے میں امت کی مدد کی ہے اور امت نے میں ایک بہت ہی گہری اور شدید آئیڈیالوجیکل  جدوجہد کے نتیجے میں مغربی تہذیب کو مسترد کیا ہے اور وہ  اسلامی تہذیب کی جانب  اس یقین کے ساتھ واپس آرہی ہے کہ صرف یہی وہ چیز ہے جو اس کے امور کی نگہبانی کرسکتی ہے۔    اس طرح اسلامی امت ایک منفرد صورتحال میں ہے جہاں وہ مغربی تہذیب کا متبادل فراہم کرسکتی ہے ۔ مغربی تہذیب صرف مغرب میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بحران کا شکار ہے  جبکہ اسلامی امت پورے شعور کے ساتھ اس راستے پر گامزن ہے جسے اس نے صحیح جان کر چنا ہے۔

 

امت اب اپنی ریاست کی واپسی کی جدوجہداور انتظار کررہی ہے جو کہ نبوت کے طریقے پر خلافت ہے۔ اسلامی ریاست کی واپسی اسلامی تہذیب کو ایک بار پھر زندہ کردے گی اور اس طرح دنیا کو مغربی تہذیب کا متبادل فراہم کرے گی جس پر سے مغربی اقوام اور پوری دنیا کا اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔

يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلُـنَا يُبَيِّنُ لَـكُمۡ كَثِيۡرًا مِّمَّا كُنۡتُمۡ تُخۡفُوۡنَ مِنَ الۡكِتٰبِ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ‌ؕقَدۡ جَآءَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌۙ‏ ط يَهۡدِىۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوٰنَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوۡرِ بِاِذۡنِهٖ وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرٰطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ

"اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے،جس سے اللہ اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے"

(المائدہ :16-15)

Last modified onجمعرات, 06 فروری 2020 00:45

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک