الثلاثاء، 02 رجب 1441| 2020/02/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز31 جنوری 2020

 

- باجوہ-عمران حکومت امریکا  اور اقوام متحدہ سے مدد مانگ کر پاکستان کے کمزور ہونے کا تاثر پیش کررہی ہے

-ملکی ضروریات کو پس پشت ڈالتے ہوئے برآمدات بڑھانا  ملکی معیشت اور عوام کے ساتھ ظلم ہے

 

تفصیلات:

باجوہ-عمران حکومت امریکا اور اقوام متحدہ سے مدد مانگ کر

پاکستان کے کمزور ہونے کا تاثر پیش کررہی ہے

22جنوری 2020 کو  ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران انٹرنیشنل میڈیا کونسل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگرچہ اس وقت پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر نہیں کھڑے لیکن بین الاقوامی طاقتوں بشمول اقوام متحدہ اور امریکا کو "لازمی" دو ایٹمی طاقتوں  کو اس مقام پر پہنچنے سے روکنا چاہیے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ بھارت سرحد پر تناؤ میں اضافہ کرسکتا ہے تا کہ حکومت کے دو اقدامات کے خلاف ہونے والے داخلی مظاہروں سے دنیا کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ 

 

                  باجوہ-عمران حکومت کی جانب سے ممکنہ بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور امریکا سے مدد کی التجائیں کرنا پاکستان کے کمزور ہونے اور بھارت سے خوفزدہ ہونے کا تاثر پیدا کرتی ہیں ۔ باجوہ-عمران حکومت کا اس قدر بے بسی سے اقوام متحدہ اور امریکا ممکنہ بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے التجائیں کرنا یہ تاثر دیتا ہے کہ شاید پاکستان نیپال اور بھوٹان سے بھی کمزور ہے جو بھارتی دہمکیوں سے ہی شدید خوفزدہ ہوگیا ہے۔ کیا باجوہ-عمران حکومت ذہنی توازن کھو چکی ہے کہ اُس امریکا سے بھارتی جارحیت روکنے کی درخواستیں کررہی ہے جس نے 26 فروری 2019 کو پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں بھارتی حملے کی مذمت تو دور کی بات بلکہ یہ کہہ کر حمایت کی تھی کہ وہ حملہ انسداد دہشت گردی کے عمل کا حصہ تھا۔   پاکستان کے مسلمانوں اور اس کی بہادر افواج کے لیے باجوہ-عمران حکومت کا بھارت  سے خوفزدہ ہونے کا مظاہرہ ناقابل برداشت ہے۔ کیا پاکستان ا ُن مسلمانوں کا ملک نہیں جن کے آباؤ اجداد نے انگریز اور ہندو کی دشمنی، بدترین معاشی و تعلیمی استحصال کے باوجود لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر  1947 میں اس وقت کی سب سے بڑی مسلم ریاست قائم کی تھی؟ کیا پاکستان کی فوج دنیا کے ساتویں بڑی فوج نہیں جس کے بہادر افسران اور سپاہیوں کی ہیبت سے قریب اور دور کے کفار پریشان رہتے ہیں اور اسے کمزور بنانے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں؟ کیا پاکستان ایک ایٹمی و میزائل طاقت نہیں جس سے یہود و ہندو کی ریاستیں سخت خوفزدہ رہتی ہیں؟ کیا پاکستان وہ ملک نہیں جس نے سابق سپر پاور سوویت یونین کو افغانستان میں قبائلی علاقوں اور افغان مسلمانوں کے ساتھ  مل کر اس وقت ایسی بدترین  شکست دی تھی  جب پاکستان ابھی ایٹمی طاقت بھی نہیں تھا؟ لیکن ان حقائق کے باوجود باجوہ-عمران حکومت بھارت کے خلاف تحمل کی پالیسی کی بنیاد پر شدید بزدلی کا مظاہرہ کررہی ہے تا کہ افواج پاکستان کے شیروں اور پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں پر بھارت کا رعب قائم ہوجائے اور وہ بھارت کی علاقائی طاقت بننے کی خواہش کے سامنے کھڑے ہونے سے پیچھے ہٹ جائیں۔

 

                  باجوہ-عمران حکومت  بھی پچھلی حکومتوں کا ہی تسلسل ہے جو امریکا کے حکم پر بھارتی عزائم کے آگے بند باندھنے سے پیچھے ہٹ گئی ہے جو کہ خطے کے مسلمانوں کے مفاد کے سخت خلاف ہے۔ پاکستان کی افواج اور مسلمان تو بھارتی طاقت کے رعب میں اس وقت نہیں آئے جب ابھی پاکستان ایٹمی و میزائل طاقت بھی نہیں تھا کیونکہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد ونصرت پر ایمان رکھتے ہیں جس کے سامنے دنیا کی تمام طاقتیں  مل کر بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ان شاء اللہ جلد ہی نبوت کے طریقے پر قائم ہونے والی خلافت بھارتی دہمکیوں کے خلاف  خود ایکشن میں آئے گی اور افواج پاکستان کے شیروں کو کھلا چھوڑ دے گی اور وہ کیپٹن کرنل شیر خان کی سنت پر چلتے ہوئے بھارتی سورماوں کی درگت بنائیں گے اور مقبوضہ کشمیر کو ہندو ریاست کے قبضے سے آزاد کرا کر سرینگر  کی جامع مسجد میں شکرانے کی نماز ادا کریں گے اور خلافت کا پرچم لہرائیں گے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

لَاَنۡتُمۡ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ‏  

"(مسلمانو) تمہاری ہیبت ان (کافروں) کے دلوں میں اللہ سے بھی بڑھ کر ہے یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں"(الحشر، 59:13)۔

 

ملکی ضروریات کو پس پشت ڈالتے ہوئے برآمدات بڑھانا  ملکی معیشت اور عوام کے ساتھ ظلم ہے

26جنوری 2020 کو  ڈیری اینڈ  کیٹل  فارمرز ایسوسی ایشن اور پاکستان کیٹل فیڈ ایسوسی ایشن نے  کہا کہ اگر حکومت فیڈ کی قیمت کو کنٹرول نہیں کرتی یا دودھ کی قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دیتی تو ملک بھر میں دودھ کی سپلائی روک دی جائے گی اور فیڈ ملز کو بند کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چاول  سے کی فصل سے نکلنے والی اشیاء، جیسا کہ چاول کا چھلکا ، کو ملکی ضروریات پورا کیے بغیر برآمد کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے  اور اس طرح جانوروں کی فیڈ اور دودھ  کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔  

 

                  ابھی ملک آٹے کے بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مہنگائی کے طوفان سے نکلا نہیں کہ ایک اور بنیادی ضرورت کی چیز دودھ کے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔  پاکستان کا زرعی اور صنعتی شعبہ حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے جس کے تحت ایک ایک ڈالر کمانے کے لیے ملکی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے اشیاء کو  برآمد کیا جارہا ہے۔ اس پالیسی سے کسی حد تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائز میں تو اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ملکی معیشت زبردست نقصان کا شکار ہو رہی ہے۔ زرعی اور صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ ان میں استعمال ہونے والی اشیاء مقامی منڈیوں میں مناسب قیمت پر دستیاب ہوں تا کہ پیداواری لاگت کم سے کم رہے اور لوگوں کو اشیاء مناسب دام پر میسر آئیں۔ ایک جانب حکومت نے آئی ایم ایف کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں پچھلے 18 ماہ کے دوران ہوشربا اضافہ کرچکی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کا عندیہ بھی دے چکی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی زرعی اور صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس شدید مشکل کے بعد اگر وہ اشیاء بھی صرف اس وجہ سے مہنگی ہوجائیں جو مقامی پیداواری عمل کے لیے ضروری ہیں  کہ حکومت زرمبادلہ کمانے کے لیے ملکی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں برآمد کررہی ہے تو پھر مقامی زرعی و صنعتی شعبے کو بند ہونے سے کون روک سکتا ہے۔   

  

                  ریاست مدینہ اور تبدیلی کے نام پر آنے والی باجوہ-عمران حکومت بھی پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں پر ہی کاربند ہے جو کہ سرمایہ دارانہ اور  آئی ایم ایف کی ہیں۔ اسلام بجلی و گیس کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے لہٰذا اسلامی ریاست میں زرعی و صنعتی شعبے کو یہ دو بنیادی سہولتیں انتہائی مناسب قیمت پر حاصل ہوں گی۔ اس کے علاوہ اسلامی ریاست اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ وہ مقامی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ایسی شے کی برآمد کی اجازت نہ دے جس کی وجہ  سے مقامی منڈیوں میں ان کی قلت اور  قیمتوں میں اضافہ ہوجائے(مقدمہ دستور شق 161)۔ اس کے علاوہ اسلامی ریاست میں چونکہ کرنسی سونا اور چاندی ہوتی ہے اور وہ اسی میں عالمی تجارت کرتی ہے لہٰذا اسے ڈالروں کے حصول کے لیے غیر ضروری برآمدات کی جانب جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن یہ معاشی نظام جو کہ وحی پر مبنی ہے نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم پر  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے معاشی احکامات کے نفاذ کے لیے نبوت کے طریقے پر خلافت کا قیام فرض ہے۔ خلافت کے قیام کے ذریعے ہی ہم دنیا و آخرت میں سکون اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔    اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَخۡشَ اللّٰهَ وَيَتَّقۡهِ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡفَآٮِٕزُوۡنَ‏

"اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں"

(النور، 25:52)۔

Last modified onپیر, 10 فروری 2020 13:59

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک