الثلاثاء، 12 صَفر 1442| 2020/09/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

#کرونا کے بارے میں  سوال کے جواب کے حوالے سےطلب کی گئی وضاحتوں کا جواب

 

کرونا مرض کے بارے میں سوال کے جواب پر وضاحت طلب کرنے والے احباب کے لیے۔۔۔۔یہ آپ کے سوالات کے جوبات ہیں:

 

1۔جہاں تک #وبا اور طاعون  یا کرونا اور طاعون کے درمیان فرق کی بات ہے  تو متعدی ہونے کے حوالے سے ان میں کوئی فرق نہیں طاعون اور کرونا دونوں ایسے امراض ہیں  جن میں ایک سے دوسرے کو لگنے کا امکان ہے جس طور پر   اللہ غالب اور طاقتور نے ان دونوں کو تخلیق کیاہے،  قطع نظر اس بات کے کہ مرض بیکٹریا سے منتقل ہوتاہے یا وائرس سے مگر متعدی ہونے کا امکان بہرحال موجود ہے اسی لیے متعدی ہونے کے امکان کےلحاظ سے  دونوں کا حکم مختلف نہیں۔۔۔۔جواب اسی پر مبنی ہے۔

 

2۔جہاں تک جواب میں اس بات  پراعتراض کا تعلق ہے کہ  موجودہ کرونا وائرس انسان کا بنایا ہوا نہیں، یہ کہنا کہ اس میں مغربی رپورٹس پر انحصار کیا گیا ہے جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔یہ بات باریک بینی پر مبنی نہیں ہے  کیونکہ سائنسی پہلو کو  کہیں سے بھی لیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کے درست ہونے کے رجحان پر اطمینان ہو، اس لیے کرونا کے انسان کے بنائے ہوئے نہ ہونے کے بارے میں مغربی رپورٹس پر اعتماد کرنے میں کوئی حرج نہیں  بلکہ یہ مرض تو انسان کی طرف سے بنائے بغیر فطری طور پر ہی موجود ہے جیسا کہ ہم نے جواب میں اس کے فطری طور پر موجود ہونے  کو انسان کی جانب سے  اپنے اہداف کے لیے اسے بنانے کی بات پر ترجیح دی ہے۔۔۔۔خاص کر یہ مرض خود ان ممالک میں موجود ہے جن پر اس حوالے سے الزام ہے جیسے#چین اور امریکہ۔۔۔۔ہم نے سوال کے جواب میں یہ کہاہے:

(۔۔۔یوں تاجی وائرس کرونا   کے پھیلاؤ کے حوالے سے امریکہ اور چین کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی۔۔۔دونوں نے ایک دوسرے پر اس مرض کو پھیلانے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا اگر چہ چین اور امریکہ دونوں حکومتوں کا اس کے پھیلاؤ میں ملوث ہونا بعید از امکان نہیں تاہم  چھان بین کے بعد اسی بات کو ترجیح حاصل ہوتی ہے کہ چین یا امریکہ میں سے کسی ایک کے  اس کو پھیلانے یا بنانے  کے بعد اس کو دوسرے ممالک میں پھیلانےکا کوئی ٹھوس ثبوت اور دلیل موجود نہیں۔۔۔۔) اس کی تفصیل سوال کے جواب میں ہے اور یہ ہمارے پیج پر موجود ہے اس کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے۔

 

3۔ نماز جمعہ مسجد میں ہی ادا کی جاسکتی ہے تاہم بعض فقہاء نے کہا ہے کہ کھلی فضاء میں بھی پڑھی جاسکتی ہے یعنی ایسے عوامی مقام پر جہاں کسی کو آنے سے روکا نہ جاتاہو، خاص جگہ جیسے گھر وغیرہ میں راجح قول کے مطابق جمعہ نہیں پڑھا جاسکتا، اس لیے اگر مسجد اور کھلی فضاء میسر نہ ہو تو گھروں میں ظہر کی چار رکعت ہی پڑھی جائیں گی ، اگر ریاست نے مسجد اور کھلی فضاء میں نماز پر پابندی لگائی ہو تو وہ گنہگار ہے کیونکہ نصوص سے یہی معلوم ہوتا ہے،  اللہ تعالی کے اس قول سے یہی  سمجھاجاسکتاہے"اے ایمان والو جب جمعے کے دن نماز کےلیے آذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور تجارت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو" یعنی مسلمان نماز کی طرف دوڑے گا اور کوئی اس کو منع نہیں کرسکتا،"اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور تجارت کو چھوڑ دو"  اس کےلیے لپکنا فرض ہے کیونکہ مباح عمل (یعنی تجارت) کو ترک کرنا اس کا قرینہ ہے۔۔۔ یعنی گھر جیسے خاص جہگوں میں جمعہ کی نماز درست نہیں جہاں آنے سے روکنا جائز ہے۔۔۔ اسی لیے سوال کے جواب میں ہے کہ حکمرانوں کی جانب سے مساجد کو تالے لگانا  اور اس میں نماز سے روکنا جائز نہیں اور ایسا کرنے والے حکمران سخت گنہگار ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ اگر حکمرانوں نے مساجد میں جمعہ پڑھنے سے روکا اور کوئی کھلی جگہ بھی میسر نہ ہوتو  گھروں میں ظہر کی چار رکعت ہی پڑھی جائیں گی اور مساجد کو تالہ لگانے والی ریاست گناہ  کا مرتکب ہو گی جیسا کہ ہم نے سوال کے جواب میں کہا ہے۔

 

4۔رہا یہ سوال کہ: (یعنی جمعہ اور جماعت کی نماز حکمرانوں کے  ظلم وجبرکےخوف سے ساقط ہوجاتی ہیں جیسا کہ میں نے سمجھا ہے واللہ اعلم)۔۔۔ اس کی تھوڑی تفصیل کی ضرورت ہے ، ہمارے جواب میں آیا ہے کہ : ( خوفزدہ پر واجب نہیں جیسا کہ  ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " جس نے آذان سنی اور اس کا جواب نہیں دیا تو اس کی نماز نہیں سوائے عذر کی وجہ سے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ عذر کیا ہے؟ فرمایا:  " خوف یا مرض" اسے البیھقی نے السنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے۔۔۔۔خوف جیسا کہ ابن قدامہ کی المغنی 1/451: (881) میں ہے فصل:  خوفزدہ کی جانب سے ان دونوں کو ترک کرنے کو عذر سمجھاجائے گا کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ " عذر خوف  یا مرض ہے" اور خوف کی تین قسمیں ہیں؛ جان کا خوف، مال کا خوف، اہل وعیال کا خوف۔ پہلا یہ کہ وہ اپنی جان کے حوالے سے حکمران  کی پکڑیا دشمن سے ڈرے۔۔۔ اسی طرح  جس چیز سے جان کو اذیت پہنچتی ہو۔۔۔) اسی طرح( شافعی فقہ میں شیرازی کی المہذب) میں ہے کہ: (۔۔۔اسی میں سے یہ بھی ہے کہ  جانی مالی  نقصان  کاخوف ہو یا ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے  جانا مشکل ہو، اس کی دلیل  ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے آذان سن کر  اس کا جواب نہیں دیا  تو اس کی نماز نہیں سوائے  عذر کے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول عذر کیا ہے؟ فرمایا:  "خوف یا مرض"۔۔۔) یعنی مسلمان اس وقت معذور سمجھا جائے گا جب ظالم حکمران کی وجہ سے ظلم سے پکڑنے کا خوف ہو،  اس کو یقین یا غالب گمان ہو کہ  ظالم حکمرانوں کے مددگار مسجد میں اس کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اسے پکڑ کر اذیت دیں تب اسے چاہیے کہ اس مسجد  کے علاوہ کہیں جمعہ پڑھنے کی جگہ تلاش کرے  اگر بھر پور کوشش کے باوجود  نہ ملے تو  گھر وغیرہ میں ظہر کی چار رکعت ہی پڑھے۔۔۔ اگر سائل نے ہمارے جواب سے یہی سمجھا ہے تو یہ درست ہے  باقی اللہ ہی زیادہ علم اور حکمت والا ہے۔

 

5۔حدیث(لاعدوی۔۔۔)جسے بخاری نے روایت کیا ہے، کی تشریح میں بعض متعدی کی نفی کی گئی ہے۔۔۔ مگر راجح  یہ ہے کہ یہ خبر طلب کے معنی میں ہے اس لیے اگر کوئی مسلمان کسی متعدی مرض کا شکار ہو یعنی ایسے مرض کا جس میں اللہ تعالی نے پھیلنے کا امکان رکھا ہو ایسی حالت میں مسلمان جمعہ اور جماعت کی نماز سے معذور ہے کیونکہ اس مرض کے کسی اور نمازی  کے متاثر ہونے کا خوف موجود ہے۔۔۔۔ اور یہ سابقہ حدیث میں مذکور اعذار میں سے ہے یعنی(خوف یا مرض)۔

 

6۔جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے  "جب بندہ بیمار ہوتاہے یا سفر میں ہوتاہے تب بھی  اس کے لیے وہی(اجر) لکھا جاتا ہے جو  وہ مقیم اور تندرست ہوکر کرتاتھا" اسے بخاری نے روایت کیا ہے،  یہ مسافر اور مریض کے بارے میں ہے  یعنی جمعہ اور جماعت کی نماز سے معذور کے بارے میں اور یہ ایسا ہی نماز پڑھے گا جیسا شرع نے اس پر فرض کیا ہے  مگر ان شاء اللہ اسے تندرست اور مقیم کا اجر ہی ملے گا مگر یہ  تندرست اور مقیم  ہوتے ہوئے بھی بغیر عذر کے جمعہ اور جماعت ترک کرنے والے کے لیے نہیں۔

 

7۔ جہاں تک جمعہ کی نماز میں کم سے کم تعداد کے حوالے سے ہمارے جواب پر اعتراض کا تعلق ہے اور یہ کہنا کہ شوافع کے ہاں کم سے کم چالیس  تعداد ہے تو یہ ایک اور بحث ہے۔۔۔ اس بارے میں مالکی کہتے ہیں کہ کم سے کم بارہ افراد ہونے چاہیے۔۔۔ یہاں تعارض نہیں یہاں موضوع   مسلمانوں کو جمعہ اور جماعت کی نمازکی ادائیگی سے روکنے کے لیے مساجد کو بند کرنے کا ہے، جمعہ اور جماعت کی نماز کے لیے کم سے کم تین افراد کے ہونے کا صحیح قول بھی ہے جیسا کہ ہم نے جواب میں ذکر کیا ہے۔

 

8۔اسباب کو اختیار کرنے کا موضوع درست ہے مگر اس میں شریعت کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، یہاں اسباب کو اختیار کرنا یہ ہے کہ مریض  جمعہ کی نماز کے لیے نہیں جائے گا جبکہ تندرست جائیں گے۔۔۔ہم نے جواب میں  مساجد کو بند نہ کرنے کے حوالے سے جو کہا ہے  وہ اس کی وضاحت کے لیے کا فی ہے "تاکہ تندرست لوگ نماز پڑھتے رہیں اور متعدی امراض کا شکار افراد کو مسجد آنے سے روکنے کےلیے اقدامات کیے جائیں گے یہ بات واضح ہے۔۔۔" یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ تندرست بھی کرونا میں مبتلا ہوسکتے ہیں جن پر علامات ظاہر نہ ہوں اس لیے سب کو مساجد میں  آنے سے روکا جائے گا یعنی کرہ ارض کے تمام باسیوں کو مساجد آنے سے روک دیاجائے گا۔۔۔!

اس بات کی کوئی دلیل  نہیں بلکہ یہ غالب گمان بھی نہیں!! اس لیے جس مریض کے مرض کا متعدی ہونا یقینی طور پر معلوم ہو صرف اسے مسجد آنے سے روکاجائے گا اور جس کے حوالے سے ایسا ہی ہونے کا غالب گمان ہو اس کو بھی روکا جائے گا باقی لوگ نماز پڑھتے رہیں گے۔۔۔

 

9۔جہاں تک سائل کی جانب سے یہ کہنے کا سوال ہے کہ کرونا میں ریڑ کی ہڈی نہیں ہوتی اس کا مطلب شاید یہ ہے کہ انسان کی طرح ریڑ کی ہڈی نہیں ہوتی، جی ایسا تو نہیں۔۔۔مگر اس مخلوق کا ڈھانچہ اسی طرح مربوط ہے جس کی وجہ سے انگریزی  میں اس کو(بیک بون) کہا جاتاہے جس کا  عربی میں طبی معنی (ریڑ کی ہڈی) ہے کیونکہ اس کا ڈھانچہ کا جوڑ انسانی  ریڑھ کی ہڈی سے مشابہ ہے۔۔۔۔اسی لیے ہم نے یہ کہا۔۔۔کیونکہ ہم نہیں سمجھتے تھے کہ اس پر بھی سوال ہو سکتاہے!

 

10۔رہی بات میت کو غسل دینے کی۔۔۔اس کے بارے میں حکم شرعی مندرجہ ذیل ہے:

ا۔ راجح یہ ہے کہ مسلمان میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے اس کے دلائل یہ ہیں:

۔رسول اللہﷺ نے اس محرم(احرام والے)   کے بارے میں فرمایا جسے  اس کی اونٹنی نے کچلا:" اسے پانی اور بیری(خوشبو) سے غسل دے کر اسی کے دونوں کپڑوں(احرام) میں دفن کرو" اسے بخاری نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔

۔ رسول اللہ ﷺ نے  اپنی بیٹی کو غسل دینے والیوں سے فرمایا:" اسے طاق غسل دو، تین یا پانچ" اسے مسلم نے ام عطیۃ سے روایت کیا ہے۔

۔دووں حدیثوں سے  یہ واضح ہوتاہے کہ مسلمانوں کی اتنی تعداد میت کو غسل دے گی جو اس کےلیے کافی ہو رسول اللہ ﷺ نے اسی پر اکتفا کیا۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات میں  ہر مسلمان مردے کے بارے میں اسی حکم پر مداومت کی  شہید کے علاوہ کسی کو غسل سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا، جیسا کہ بدر  اور احد کے شہداء کے  بارے میں آیا ہے۔۔۔یعنی مردے کو غسل دینا فرض کفایہ ہے۔

ب۔بہت سارے فقہاء نے اسی رائے کو اختیار کیا ہے:

۔سرخسی کی المبسوط میں ہے کہ"جان لو کہ میت کو غسل دینا واجب ہے اور یہ مسلمان کا مسلمان پر حق ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:"ایک مسلمان کے دوسرے پر چھ حقوق ہیں" جن میں سے ایک مردے کو غسل دینا ہے مگر کچھ مسلمانوں کی جانب سے اسے غسل دینے سے باقی کا فرض ادا ہوجائے گا کیونکہ مقصد حاصل ہوگیا۔'

۔امام شافعی نے کتاب الام میں کہا ہے کہ "میت کو غسل دینا، اس کا جنازہ پڑھنا  اور اس کو دفن  کرنا لوگوں  پر حق ہے  مگر سارے عام لوگ ایسا نہیں کرسکتے  اس لیے اگر  کچھ لوگوں نے یہ کام انجام دیا تو سب کی طرف سے کافی ہے ان شاء اللہ"

۔ ابن قدامہ کے الشرح الکبیر میں ہے"میت کو غسل دینے کا بیان، مسئلہ: میت کو غسل دینا کفن دینا، نمازِ جنازہ پڑھنا اور دفن کرنا فرض کفایہ ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس مردے کے بارے میں فرمایا جسے اس کی اونٹنی نے کچل دیا تھا کہ "اس کو پانی اور بیری سے غسل دو اور اس کو اسی کے دونوں کپڑوں میں کفن دے دو" متفق علیہ۔

ج۔اگر کسی وجہ سے مردے کو غسل دینا مشکل ہو جیسے پانی نہ ملنے کی صورت میں یا جل کرمرنے والے کی میت کو جس پر پانی ڈالے سے گوشت کے جدا ہونے کا خطرہ ہو۔۔۔یا اس کا انتقال جذام(کوڑھ) یا طاعون  یا کرونا  وغیرہ جیسے متعدی مرض سے ہوا ہو جسے غسل دینے سے مرض کے  غسل دینے والے میں منتقل ہونے کا خطرہ ہو۔۔۔ اگرچہ اس مسئلے میں ہم کوئی ایک رائے اختیار کرنا نہیں چاہتے مگر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس میں اس راجح قول پر عمل کرے جسے وہ مطمئن ہو،  میں  آپ کے لیے اس حوالے سے بعض فقہاء کے نزدیک بعض شرعی آراء کو نقل کرتاہوں:

۔احناف کے نزدیک پانی نہ ہونے کی وجہ سے جس کو غسل نہ دیا جا سکے اس کو مٹی سے تیمم دیا جائے گا، العنایہ16/261 میں کہا گیا ہے:"پانی نہ ہونے کی وجہ سے جس میت کو غسل نہ دیا جاسکے اس کو مٹی سے تیمم دیا جائے گا جس کو چھونا ممکن نہ ہو اس پر صرف پانی ڈال دیا جائے گا، جیسا کہ مراقی الفلاح 224 میں کہا گیا ہے:"وہ بوسیدہ لاش جس کو چھونا ممکن نہ ہو اس پر صرف پانی ڈال دیا جائےگا"۔۔۔

۔مالکی سمجھتے ہیں کہ جس میت کو پانی نہ ہونے کی وجہ سے غسل نہ دیا جاسکے اس کو تیمم دیا جائےگا،۔۔۔ اگر جسم میں زخموں  یا جلنے یا بوسیدہ ہونے کی وجہ سے  پانی سے غسل دینے کی صورت میں نعش کے پھٹنے، الگ الگ ہونے یا پھولنے کا خطرہ تو بقدر ضرورت پانی ڈالا جائے گا اور پانی ڈالنا مشکل ہو تو تیمم دیا جائے گا۔۔۔جیسا کہ مختصر خیل پر شیخ احمد الدردیر  کی شرح الکبیر میں ہے۔۔۔

۔ شافعی کہتے ہیں کہ کسی بھی وجہ سے میت کو غسل دینا مشکل ہو چاہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے  یا جلے ہوئے کی نعش پر پانی ڈالنے کی صورت میں نعش پھٹنے کے خطرے کی وجہ سے تو تیمم کیا جائے گا بلکہ شوافع نے میت کو غسل دینے کی صورت میں غسل دینے والے کو نقصان پہنچنے کے خطرے کی صورت میں میت کو تیمم کرنے کو واجب کہا ہے۔ نووی رحمہ اللہ نے المجموع میں کہا ہے کہ: " پانی نہ ہونے یا جلے ہوئے میت پر پانی ڈالنے کی صورت میں لاش کے خراب ہونے کا خطرہ ہو تو غسل کی بجائے تیمم کیا جائے گا، یہ تیمم واجب ہے  کیونکہ یہ وہ طہارت ہے جس کا  نجاست کو زائل کرنے سے تعلق نہیں  اس لیے پانی کے استعمال سے عاجزی کے وقت اس کی طرف لوٹنا جنابت کے غسل کی طرح ہے اگر میت ڈسا ہوا ہو غسل کی صورت میں نعش کے پگھلنے یا غسل دینے والے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو تیمم کیا جائے گا۔

۔حنابلہ کی اس حوالے سے دوروایت ہیں "بدن کو ملنا مشکل ہو تو صرف پانی ڈالا جائے گا ورنہ تیمم دیا جائے گا۔۔۔' دوسرا قول یہ ہے کہ غسل دینا کسی بھی وجہ سے مشکل ہو تو بغیر غسل کے نمازجنازہ پڑھا کردفن کیا جائے گا  کیونکہ غسل کا مقصد صفائی ہے تیمم سے وہ حاصل نہیں ہوتی۔

۔شیخ محمد بن محمد المختار الشنقیطی نے عمدۃ الفقہ کی شرح میں کہا ہے کہ : "جو مضر متعدی مرض کا شکار ہو یعنی مردے کی ضرر کی بات ہے، کبھی غسل دینے والے زندہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتاہے یعنی مرنے والا، تجربہ کاروں اور ماہرین کے بقول، کسی متعدی مرض کا شکار تھا اور غسل دینے کی صورت میں غسل دینے والے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو تیمم دیا جائے گا۔۔۔"۔

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں دو رائے ہیں  جب مردے کو غسل دینے سے نقصان کا خطرہ ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھ کر دفن کیا جائے گا۔۔۔ غسل ممکن نہ ہو تو بغیر تیمم کے جنازہ پڑھ کردفنایا جائے گا۔۔۔ جیسا کہ ہم نے شروع میں کہا تھا ہر  مسلمان کو اس رائے پر عمل کرنا چاہیے جس کے درست ہونے کا اسے اطمئنان ہے۔

 

11۔رہی یہ بات کہ ہم عقائد اور عبادات میں تبنی نہیں کرتے تو یہ بات درست ہے تاہم ہم صرف بنیادی عقیدہ اور ان عبادات میں تبنی کرتے ہیں  جن کا تعلق امت کی وحدت کے ساتھ ہے جیسے  کسی بھی جگہ چاند نظر آنے پر روزے اور عید کی وحدت اسی طرح مساجد کو بند کرنے کے حوالے سے  کیونکہ  مطلوبہ اوقات میں مساجد کو عبادت کے لیے  کھلا رکھنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے سوال کے جواب میں کہا تھا۔

 

18 شعبان1441

11اپریل2020

Last modified onجمعرات, 16 اپریل 2020 00:10

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک