الثلاثاء، 12 ربيع الأول 1440| 2018/11/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال وجواب :

 

محمد بن سلمان کا برطانیہ، امریکہ اور فرانس کا دورہ

سوال:

سعودی کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنا فرانس کا دو روزہ دورہ مکمل کیا جو کہ9 اپریل کو شروع ہوکر10 اپریل 2018 کو ختم ہوا ۔اس سے پہلے وہ 10 مارچ 2018  کوبرطانیہ گیا جہاں وہ 3 دن رہا اور پھر 20 مارچ سے 8 اپریل 2018 تک وہ امریکہ میں مقیم رہا۔۔۔وہاں پر اس کا  ایک سربراہ ریاست کے طور پر خیرمقدم کیا گیا۔ تو ان دوروں کے کیا مقاصد ہیں؟ قابل غور بات یہ ہے کہ یہ دورے مختلف مفادات سے جڑی پارٹیوں کے ہاں  کیے گئے ہیں۔ ان میں مشترک بات کیا ہے؟ اس معاملے کو ذرا واضح کریں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

 

جواب:

محمد بن سلمان کا سب سے اہم دورہ امریکہ کا تھا۔برطانیہ کا اس کا دورہ صرف تشفی و تسلی کے لئے تھا کیونکہ محمد بن سلمان  نے برطانیہ  کے ایجنٹوں کے خلاف کڑے اقدامات اٹھائے تھے۔فرانس کا اس کا دورہ اپنی مقبولیت کے ماحول کو بڑھانے کے لئے تھا تاکہ یہ کہا جائے  کہ محمد بن سلمان نے امریکہ اور دیگر بڑے ممالک کا دورہ کیا ہے۔ان دوروں کی جزئیات اس طرح ہیں:

 

اول، محمد بن سلمان کا برطانیہ کا دورہ:

محمد بن سلمان کا برطانیہ کا دورہ 7 مارچ 2018 کو شروع ہوا اور 10 مارچ  2018 کو مکمل ہوا۔جیسا کہ شروع میں بیان کیاگیا ہے،اس کا مقصد برطانیہ کو تسلی و تشفی دینا تھا کیونکہ محمد بن سلمان جانتا ہے کہ برطانیہ کی سعودی شاہی  خاندان میں  گہری جڑیں  ہیں اور وہ اس کے لیے مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔اسی لیے اس نے برطانیہ کا دورہ کیا تاکہ کچھ معاشی معاہدات کے ذریعے  سے اسے تسلی دےسکے حالانکہ وہ بہت زیادہ نہیں تھے۔

اس حقیقت کی توثیق آخری بیان سے  ہوئی۔یہ  دورہ ایک معمول کے دورےکے مساوی تھا جس میں حسب دستور غیر مخصوص عمومی الفاظ سے معاہدات ہوئے سوائے کچھ معاشی نذرانوں کے۔مثال کے طور پر آخری بیان کے الفاظ ہیں:

ا) آخری بیانات میں کچھ مشترکہ عمومی باتیں:

برطانیہ سعودی وژن 2030 کی اور مملکت سعودی عرب کی معاشی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام کی مضبوطی سے تائید کرتا ہے جس کا مقصد معیشت کو وسعت دینا ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان اور برطانیہ کی وزیراعظم تھریسامے نے بدھ  کے دن تسلسل سے چلنے والے  مذاکرات کو جو دو طرفہ رشتوں کے سارے پہلوؤں کو مضبوط اور مستحکم کریں ، اس  کے لیے ایک طریقہ کار کے طور پرسالانہ اسٹریٹیجک  شراکت کونسل کی تشکیل کی۔۔۔سعودی عرب برطانیہ کی جانب سے تعلیمی میدان میں کیے گئے تجربات و مشاہدات کی تعریف کرتا ہے جوکہ کنڈرگارٹن، پرائمری اور سیکنڈری تعلیم سے لے کر  اعلیٰ تعلیم  اور  پیشہ وارانہ تربیتی تعلیم تک پھیلی ہوئی ہے ۔۔۔طبی میدان میں برطانیہ کے تجربات سے سعودی عرب آگاہ ہے۔ برطانیہ نے سعودی مملکت کے معاشی اصلاحی پلان کے تحت سعودی آرامکو کی کامیاب لسٹنگ کی تعریف کی۔۔۔اور سعودی عرب نے لندن کی ایک اہم عالمی معاشی سنٹرہونے  کی حیثیت سے تا ئید کی۔۔۔لندن کے اسٹاک ایکسچینج گروپ اور سعودی اسٹاک ایکسچینج ، اسٹاک مارکیٹ کی بہتری کے لیے  صلاحیت کی  تعمیر اور تربیتی پروگرام کو   کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔سعودی عرب اور برطانیہ نے دفاع اور سیکیورٹی تعلقات اور مشترکہ قومی تحفظ اور علاقائی استحکام کو حاصل کرنے میں ان کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔تبادلہ اطلاعات اور ان مختلف طریقوں کو سمجھنے کےلئے جس سے دہشت گرد اور انتہا پسند غیر محفوظ گروپوں (vulnerable) پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ، دہشتگردی اور انتہاپسندی سے نپٹنے کی خاطر دونوں ممالک نے اپنے ارادے کا پر زور اعلان کیا۔اس ضمن میں دونوں ممالک نے مفاہمت کی یاداشت (Memorandum of Understanding) پر دستخط کئے ہیں جس سے رفاقت اور شراکت میں گہرائی پیدا کی جا سکے۔اس میں آماد گی کی یادداشت (memorandum of intent) پر دستخط بھی شامل ہیں جس میں اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ طرفین مذاکرات کرکے ایسے سمجھوتے پر پہنچیں گے جس سے کہ مملکت سعودی کو اضافی ٹائی فون طیارے حاصل  کرنے کی راہ ہموار ہوسکے گی۔دونوں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیاکہ ایران کو بہترین پڑوسی کا کردار نبھانا  چاہیے اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

 

(ب) کچھ سیاسی اور سیکیورٹی معاملات  طے کیے جو کہ خاص نہیں بلکہ عمومی ہیں، مسائل کے  کلی حل کے طور پر پیش کئے گئے ہیں:

دونوں ممالک نے جی سی سی اور اس کے نفاذ کے میکینزم اور یمن کے قومی مذاکرات اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادنمبر  2216  کی بنیاد پر یمن کے بحران کے سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا جس کے نتیجے میں یمن کے مسائل کا سیاسی حل تلاش کیاجا سکتا ہےجس سے یمن اپنی حفاظت اور علا قائی خودمختاری‌‌ ‌‌(territorial integrity) کو قائم رکھنے  کی گارنٹی دے سکتا ہے۔دونوں ممالک نے یمن میں ا قوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی مارٹن گرفتھ کی تقرری کی پرزور تائید کی ہے۔۔۔انہوں نے اس بات کی اہمیت پر رضامندی ظاہر کی کہ حوثی جنگجو گروہ پر بین الاقوامی برادری زور ڈالے کہ وہ انسانی زندگی کے تحفظ کے لئے ضروری اشیاء کی رسائی میں کسی بھی طرح کی روکاوٹ کھڑی نہ کریں ۔۔۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ فوجی اتحاد کی مہم بین الاقوامی انسانی قوانین کی مناسبت سے قائم رہے، برطانیہ نے سعودی عرب کے  مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔ دونوں ممالک نےعرب  میں امن کی کوششوں اور متعلقہ قوام متحدہ کی قرارداد پر مبنی دو ملکی حل کے اپنےعہدکی پھرسے توثیق کی۔

 

(ت) برطانیہ کے ایجنٹوں کے خلاف بن سلمان کے ا قدامات کی وجہ سے برطانیہ کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ معاشی سمجھوتے کیے :

 -سعودی عرب اور برطانیہ وژن  2030 کے کامیاب نفاذ کے لیے   طویل المدت اشتراک کے لئے پرعزم ہیں جس سے  بہت سارے معاملات کا احاطہ کیا جا سکے: جس میں عوامی سرمایہ کاری کا فنڈاور باہمی تجارت کے ذریعے مختلف معاشی مواقعوں اور برطانیہ سے مشترکہ سرمایہ داری کا اندازہ لگانا۔۔۔کل ملاکر یہ مواقع دس سال میں تقریبا ً سو بلین ڈالر تک پہنچنتے ہیں جس میں 30 بلین ڈالر براہ راست سرمایہ داری کے ساتھعوامی سرمایہ کاری فنڈ بھی شامل ہے۔

 

۔اس دورے میں برطانیہ اور سعودی عرب نے متعدد بڑے تجارتی سمجھوتوں کا خیرمقدم کیا ; یہ سمجھوتے دو بلین سے زائد تک پہنچنے کی توقع ہے جس سےسعودی عرب اور برطانیہ میں روزگار کے مواقع اور خوشحالی پیدا ہونے کی امید ہے۔

ان تمام باتوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ اپنے اصل مقصدیعنی  برطانیہ کے لیے تسلی و تشفی سے  کچھ نہیں تھایعنی کچھ معاشی وعدوں کے ماسوا جو کہ زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ اس دورے میں صرف عمومی الفاظ کا باہمی تبادلہ ہوا ہے۔

 

دوم: محمد بن سلمان کا امریکہ کا دورہ:

جو کوئی بھی محمد بن سلمان کے امریکہ کے دوروں کا مطالعہ کر رہا ہے وہ یہ جان جائے گا کہ امریکہ محمد بن سلمان کو اپنا تابعدار اور فرماں بردار غلام کی صورت میں ڈھلنا چاہتا ہے،وہ اس کی توہین اس کے سامنے کرتا ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ  وہ مسکراتا ہے۔وہ  اس کو بلیک میل کرتا ہے اور وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے جس کی وضاحت  کچھ اس طرح سے ہے:

1۔23جنوری2015 کو اپنے بھائی عبداللہ کی وفات کے بعد حکمرانی کی مسند پر بیٹھنے کے بعد شاہ سلمان نے اپنی حکومت اور اپنے جانشینوں کو قائم کرنے کے لئے کچھ فوری اقدامات لیے۔ اس نے اپنے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ولی عہدی سے برخاست کر دیا جو کہ برطانیہ کا وفادار ہے اور اس کی جگہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد کے عہدے پر  مقرر کردیا اور اس کی بالادستی کو قائم کرنے کے لئے بہت سارے اختیارات سونپ دیے۔ اس نے اپنے بہت سے مدمقابلوں اور اپنے خاندان میں برطانیہ کے وفادار لوگوں کو برطرف اور علیحدہ کردیا اور امریکہ کے لئے اپنی پر زور وفاداری کو ظاہر کیا۔ دوسرا قدم یہ تھا کہ امریکیوں کو محمد بن سلمان اور اس کی قابلیتوں سے آگاہ کیا جائے جس سے کے وہ اس سے بہتر طریقے سے روشناس ہو سکیں اور اس کی امریکہ کے لئے وفاداری کا امتحان لے سکیں۔ اس لیے اس نے ٹرمپ کے باقائدہ طور پر امریکی صدر کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد 15 مارچ 2017 کو واشنگٹن کا دورہ کیا۔ٹرمپ نے اپنے نائب صدر پینس اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی موجودگی میں بن سلمان کی وہائٹ ہاؤس میں اعلی سطح پر آؤ بھگت کی جس سے کہ اس دورے کا معیار بلند ہوگیا۔ ٹرمپ نے بن سلمان کے لئے اپنی حمایت کو ظاہر کیا۔دوسرا قدم 4 نومبر 2017 کو آیا جب بن سلمان کی حکمرانی کو تقویت دینے کے لیے برطانوی ایجنٹس کے پروں کو کتر دیا گیا اور سب کو اس کے تسلط کے تابع کردیا گیا ، ان کے اکاؤنٹ ضبط اور بند کرنے کے لئے ان کی توہین  کی گئی اور انہیں  بلیک میل کیا گیا جہاں سینکڑوں شہزادوں ،وزراء سرکاری ملازمین اورتاجروں کی کرپشن کے نام  پر پکڑ دھکڑ ہونی شروع ہوئی۔ان سے سوبلین ڈالر وصول کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اور اس کے بعد بن سلمان کا واشنگٹن  کا دوسرا دورہ تاکہ وہ امریکہ کے لیے اپنی وفاداری اور رشتوں کو مستحکم کر سکے اور آخری قدم کے لئے تیاری کرسکے یعنی کہ سعودی عرب کا بادشاہ مطلق امریکیوں کی امید کے حساب سے  مقرر ہو سکے۔سلمان نے جس کسی بیرونی ملک کا دورہ کیا اس کا ایک ملک کے فرمانروا کے طور پر استقبال کیا گیا۔4 مارچ 2018 کو مصر میں ایک بادشاہ کے طور پر اس کا استقبال کیا گیا اسی طرح سے برطانیہ میں 7  مارچ 2018 کو خود وہاں کی ملکہ نے اس کا خیرمقدم کیا اور اس کے بعد اس کے لمبے امریکی دورے کی مہمان نوازی اور استقبال اس بات کی مزید توثیق  کرتی ہے۔اس بات کی نشاندہی بھی سلمان کو مخاطب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ان الفاظ میں کی تھی: "وائٹ ہاؤس میں آپ کے پچھلے دورے کے بعد بہت عمدہ چیزیں وقوع پذیر ہوئی ہیں"۔اپنے سابقہ دورے میں "آپ ولی عہد تھے اور اب آپ ولی عہدی سےآگے نکل گئے ہیں "( 21/03/2018 Russian Sputnik)۔

 

2) تو جیسے ہی بن سلمان  واشنگٹن پہنچا اس نے صدر ٹرمپ سے 20 مارچ 2018 کو ملاقات کی ۔ ٹرمپ نے کہا:" یہ ہمارے لیے اعزاز کا موقع ہے  کہ ولی عہد ہمارے یہاں تشریف فرماں ہیں، سعودی عرب ہمارا  جگری دوست رہا ہے۔۔۔میں مئی میں سعودی عرب میں تھا۔ اور ہم امریکہ میں سینکڑوں  بلین ڈالر  واپس لا رہے ہیں۔۔۔اور دوسری اہم چیز جس  کے لیے میں بہت خوش ہوں وہ یہ ہے کہ ہم نے 400 بلین ڈالر کی سرمایہ داری کے بارے میں بات چیت کی ہے"۔ اس نے مزید  کہا :" ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب ایک بہت مالدار ملک ہے،  اور میں پر امید  ہوں کہ وہ امریکہ کو  اس مال میں سے کچھ نوکریوں کی شکل میں اور کچھ دنیا کے بہترین جنگی ساز و سامان کی فروخت کی شکل میں عطا کرنے والا ہے"۔

بن سلمان نے جواب دیا:" سعودی عرب اور امریکہ کے رشتے بہت پرانے ہیں۔۔۔  80 سال سے زائد عرصے سے سیاسی، معاشی ،حفاظتی اور دوسرے  میدانوں میں ہمارے مفادات جڑے رہے ہیں۔۔۔اس رشتے کی بنیاد بہت مستحکم اور گہری ہے۔۔۔ہم نے 200  امریکی بلین ڈالر کا استعمال چار سال میں  مختلف مواقع کے لیے  کرنے کا سوچا تھا مگر اب یہ 400 بلین ڈالر  تک پہنچ گیا"(CNN 20/03/2018)۔

امریکہ سعودی عرب کو بلیک میل کر رہا ہے اور مسلمانوں کے مال و وسائل کو ان حکمرانوں  کے ذریعے لوٹ رہا ہے جنہوں نے امت کے اعتبار و بھروسے کو  تار تار کیا ہے۔ امریکہ اور ٹرمپ بس مسلمانوں کے مال و وسائل کو سعودی  حکمرانوں کے ذریعے چوسنا چاہتے ہیں جنہوں نے کفّار کے ساتھ اپنی وفاداری اور اتحاد کا اعلان  کرتے ہوئے ان کی معیشت کے لیے سرمایہ داری کر کے اور ان کے مفادات کے خاطر ہر طرح کی قیمت چکا کر مشر ق وسطی میں امریکہ کے مفادات کی پاسبانی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

 

3)ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے اشارتی کارڈ رکھے  اور ان کو بن سلمان کے سینے کے سامنے لگایا جن پر ان ہتھیاروں کی تصاویر بنی تھیں جن کو سعودی عرب  امریکہ سے خریدے گا اور  جلد ہی اسے یہ ہتھیار مل جائیں گے ۔ ٹرمپ نے ان ہتھیاروں کے سمجھوتوں کی  قیمت  بتاتے ہوئے  بن سلمان سے کہا:"یہ تو تمہارے لیے کوڑیوں کے مانند ہیں"۔  ٹرمپ نے کہا:"ان سمجھوتوں سے امریکہ میں  40 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔(Russian Sputnik 21/03/2018)۔ اس کے بعد ٹرمپ کارڈز میں ایک رسّی  ڈالتا ہے اور ان کو بن سلمان کی گردن میں لگا دیتا ہے جیسے وہ یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ  ہماری تمہارے لیے تا ئید صرف اس مال کی وجہ سے ہے جو  تم ہمارے لیے خرچ کر رہے ہو   اور اپنی زمینوں کو ہمارے  استعمال کے لیے چھوڑ رہے ہو  اور بنا کسی  مزاحمت کے ہمارے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو۔یہ عمل بن سلمان کو  ذلیل کرنے والا تھا مگر اس کے بعد بھی بن سلمان نے اس کا جواب احمقوں کی طرح  مسکرا کر دیا  جب کہ ٹرمپ  اسی طرح کی  بدلحاظی اور بے اعتنائی سے سے پیش آتا  رہا۔

 

4)محمد بن سلمان نے اپنے دورے کے دوران امریکی انتظامیہ اور دوسرے حلقوں  کے اہلکاروں سے  ملا قات کی:

(ا)اس نے  امریکہ کے لیے اپنی وفاداری ظاہر کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری دفاع  میٹس اور چیف آف اسٹاف ڈینفورڈ سے ملاقات کی:" آج کا چیلنج  

پہلا نہیں ہے جو دو نوں ممالک کو درپیش ہے۔ آج کے دور میں اپنے خطے اور پورے عالم میں ہم بہت ہی سنجیدہ چیلینج سے دوچار ہیں چاہے وہ ایران کی طرف سے ہو یا دہشت گردی سے اٹھنے والے مسائل ہوں"بن سلمان نے کہا۔(Al-Wiam Saudi Newspaper 24/03/2018)

"یمن  کی خانہ جنگی  کے پر امن حل کے لیے ہمیں اپنی کوششوں میں نئی جان پھونکنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں ہم آپ کی تائید کرتے ہیں"۔امریکی سیکریٹری دفع  میٹس نے بن سلمان سے کہا۔" ہم یمن کے لوگوں کے حق میں اس جنگ کو جلد ہی  مثبت طریقے سے ختم کرکے ہی رہیں گے، یہ سب سے اہم بات ہے"۔اس نے اس  وعدے کو بھی دہرایا کہ وہ ریاض کے ساتھ مل کر علاقے میں " استحکام اور حفاظت " کو بڑھانے کے لیے کام کرے گا (ریوٹرس 22/03/2018) ۔ یمن کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس میں امریکہ کو اس کے کامل مقاصد حاصل نہیں ہوئے ہیں اور  سعودی عرب  جو کہ امریکی مقاصد کو حاصل کروانے کا آلہ کار بنا ہوا ہے وہ ابھی بھی بحران میں گھرا ہوا ہے اور اس سے باہر آنے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ اس مسئلے کا خاتمہ اور اس سے سعودی عرب کا خیر و عافیت سے باہر آنا بن سلمان کے تسلط کو مزید تقویت دے گا۔

 

(ب)اس نے کئی نامہ نگاروں سے بھی ملاقات کی اور امریکہ سے اپنی مضبوط وابستگی کو ظاہر کیا:

-بن سلمان نے 31 مارچ 2018 کو  ٹائم میگزین  میں دئے گئے اپنے ایک بیا ن میں کہا:"ہم چاہتے ہیں کہ امریکی فوج طویل مدت تک نہ سہی  لیکن کچھ مدت تک مقیم رہنی چاہیے۔۔۔امریکہ کے پاس  مزاکرات کرنے  اور دباؤ بر قرار رکھنے کے لیے پتّے ہونے چاہیے اگر امریکہ اپنی فوج کو واپس بلا لے گا تو وہ ان پتّوں کو کھو دے گا۔"۔۔۔ "بشر ابھی رہے گا،" اس نے کہا۔ "لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ  بشر کے مفادات   ایرانیوں کو  اپنی من چاہی کر لینے دینے میں نہیں ہیں "۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 3 اپریل 2018 کو منگل کے دن یہ  بیان دیا۔ ۔۔ " میں شام سے نکلنا چاہتا ہوں ۔ میں اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانا چاہتا ہوں۔ میں اپنے ملک کی پھر سے تعمیر کرنا چاہتا ہوں"۔ 

"اس تعلق سے جہاں تک  ملک شام کا سوال ہے تو ہمارا اصل مقصد  داعش کا خاتمہ کرنا تھااور اس کام کو ہم نےتقریبا ً مکمل کرلیا ہے اور ہم جلد ہی اس کے بارے میں دیگر فریقوں کے ہمراہ فیصلہ لینے والے ہیں کہ آگے ہمیں کیا کرنا ہے، سعودی عرب ہمارے فیصلے میں دلچسپی لے رہا ہے اور میں نے ان سے کہا جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ ہم وہاں موجود رہیں تو  تمہیں اس کے لئے اخراجات اٹھانے پڑسکتے ہیں"(AFP, 3/4/2018)۔اس طرح امریکہ سعودی حکومت کو دھونس دینے کی پالیسی پر برقرار ہے جو خطے میں امریکی اثرونفوذ کوقائم رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔

 

2 اپریل 2018 کواٹلانٹک میگزین نے بن سلمان سے سوال کیا  کہ:"کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ یہودیوں  کو اپنی قومی ریاست کو رکھنے کا حق حاصل ہے کم ازکم اس حصے میں جو ان کا آبائی وطن ہے؟ اس سوال پر بن سلمان نے بیان دیا کہ "میرا ماننا ہے کہ ہر قوم جہاں کہیں بھی رہتی ہو اس کو امن کے ساتھ  اپنےوطن میں رہنے کا حق حاصل ہے۔۔ میں مانتا ہوں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی اپنی زمینوں پر بسنے کا حق حاصل ہے" ۔ (Al Wi’am Saudi website 3/4/2018)

یوں بن سلمان نےاسراء والمعراج کی مقدس سرزمین کے تعلق سے اپنی غداری کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

 اور تفریح کے نام پر ایک بڑا بجٹ پیش کیا۔ سعودی عرب میں تفریح کی خاطر بنائی گئی جنر ل اتھارٹی کے چیرمین احمد بن عقیل الخطیب نےبیان دیا کہ "انتظامیہ آنے والی دہائی میں تفریح کے میدان میں240 ارب ریال یعنی 64 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے"۔ اورساتھ ہی مملکت سعودی عرب کے قیام کے بعد سے اب تک  کا پہلا اوپرا ہاؤس  تعمیر کرنے  کا اعلان بھی کیا  (Saudi Al Arabya website 22/2/2018)۔

۔واشنگٹن پوسٹ نے  بن سلمان کے واشنگٹن دورے کے چوتھے اور آخری دن 24 مارچ 2018 کو سرکاری افسران سے ہونے والی ملاقات کے متعلق انٹرویو لیا جس کے متعلق اس نے بتایا کہ "ملاقات کے دوران یمن کی جنگ ، مشرق وسطی  میں امن کے لیے کوشش، ایران، ریاست میں داخلی اصلاحات کا عمل اور سعودی عرب  کی ایٹمی  صلاحیت کے حصول کی خواہش کے متعلق گفتگو کی گئی"۔  اس نے کہا کہ امریکہ  آنے کا اس کا اصل مقصد امریکی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا اور ساتھ ہی سعودی عرب میں جاری اصلاحات کی خاطر تکنیکی اورعلمی تعاون حاصل کرنا ہے۔ اس نے اخبار کودیگر معاملات مثلاً سعودی مملکت میں عورتوں کو ان کے مختلف حقوق دینے کے متعلق  بھی بات کی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس ملاقات کے دوران پورے خطے  کے معاملات کے متعلق فائلوں کو اس کے سامنے کھول کر بیان کیا گیا  اور ان پر اس سے مزاکرہ کیا گیا تاکہ وہ یہ جان لے کہ ان پر کس طر ح عمل درآمد کرنا ہے اوران  پالیسیوں کی تائید اور انجام دہی میں امریکیوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ یمن کے موضوع سے الگ مشرق وسطی اورفلسطین کے مسئلہ کےحل کےلیے ایک ٹرمپ پلان موجودہے جیسا کہ6 دسمبر 2017 کوٹرمپ نے یروشلم کو یہودی ریاست کا دارلحکومت  منظور کرنے کے بعد یہ کہا تھا کہ وہ آنے والے مہینوں میں  مشرق وسطی کے متعلق اپنے منصوبے کا اعلان کرے گا۔  اورمزید یہ کہ خطے کے دشمن کے طور پر یہودی وجود کے بجائے ایران کو اپنادشمن سمجھنا جس پربن سلمان کو بھی رضا مند ہونا پڑے گا اور اس کے ساتھ سعودی داخلہ  پالیسی کو اس طرح مرتب کرنا جیسا امریکہ چاہتا ہے، یعنی ملک کو لادین یعنی سیکولر بنانا اور مغربی تہذیبی اقدار کو پھیلانا اور پروان چڑھانا اور اس کے ساتھ ہی امریکی سرمایہ کاروں کو سعودی معیشت پرمکمل طور پراثرانداز ہونے کی خاطر مواقع فراہم کرنا ۔

عرب 21 ویب ائٹ نے 29 مارچ 2018 کو برطانوی اخباردی انڈیپنڈنٹ کے حوالے سے بتایا کہ: " اس نے سعودی ولی عہدکے پروگرام کو دیکھا ہے جس میں بڑی کمپنیوں کے عہدیداروں، سیاستدانوں، تیل کے کاروباریوں، ٹیکنالوجی، تفریح ، فن کے شعبہ میں کام کرنے والے لوگوں سے ملاقات شامل تھی تاکہ امریکی رائے عامہ سے تعلق قائم کیا جاسکے۔ میڈیا کمپنی سی بی ایس اسٹیشننے اس کے ساتھ اپنے نشریاتی پروگرام Sixty Minutes میں ایک انٹرویو لیا۔ اس اسٹیشن کے ذریعہ کسی سعودی حکمران  کے ساتھ کئی  دہائیوں  میں یہ پہلا انٹرویو تھا۔ اس نے اس موقع کواپنے متعلق منفی تاثر کو بہتر بنانےکے لئے استعمال کیا اور خود کوایک نوجوان، جرات مند، آزاد اور مصلح کے طور پرظاہر کیا جو مملکت میں درکارضروری اصلاحات لارہا ہے جیسا کہ اس نے مذہبی پولیس کے اختیارات کو محدود کیا اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی آزادی دی وغیرہ۔ اخبار نے بیان کیا کہ اس نے27 مارچ 2018 کومنگل کے روز سابق اہلکاروں سے ملاقات کی جیسا کہ کسنجر، بل کلنٹن، ہلیری کلنٹن وغیرہ اور بڑے بڑے اخبارات کے مالکان سے ملاقاتیں کیں اور سابق امریکی صدر اوبامہ اور سابق سکریٹری آف سٹیٹ جان کیری اور ڈیوڈ پٹریوس سے ملاقات کرے گا۔

بن سلمان نے امریکہ سے فرانس جاتے ہوئے ٹرمپ کے امریکہ سے وفاداری کے پیغام کے طور پرٹویٹ کے ذریعہ مزید اپنی عاجزی و تابعداری  کا اظہارکیا کہ "عالی جاہ،  امریکی صدرڈونلڈٹرمپ ، آپ کو مبارک باد، آپ کے ملک سے جاتے ہوئے، جو ہمارا اتحادی ہے، میں بےحد خوشی اوراحسان مندی  کے ساتھ آپ کی جانب سے میری اور میرے  ساتھ آئے وفد کی مہمان نوازی کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، اور اس موقع پرہمارے ملکوں کے درمیان تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو مختلف میدان میں مزید آگے بڑھ رہے  ہیں اور میں اس بات پر زور دینے سے نہیں چوکوں گا کہ جن معاملات پر ہماری گفتگو ہوئی ہے ان سے ہمارے آپس کے تعلقا ت  کو مزید گہرائی ملے گی ، ہمارے رشتے مضبوط ترین  ہوں گے اور باہمی تعاون کے اس تعلق کو استحکام ملے گا،  آپ کی صحت و خوشی  اور امریکی عوام  کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعاگو ہوں "۔ 

ہم اس دورے کے خلاصہ کے طور پر دوبارہ وہی  دوہراتے ہیں جوبات  ہم نے شروع میں کہی کہ" بن سلمان کے امریکی دورے پر نظر رکھنے والا دیکھ سکتا ہے کہ امریکہ بن سلمان کی اپنے فرمانبردار غلام کی طرح نشوونما کر رہا ہے، وہ اس کو اس کی نظروں کے سامنے ذلیل کرتا ہے اور وہ مسکراتا رہتا ہے اور امریکہ اس کو دھونس دیتا ہے اور وہ سر تسلیم خم کرتا ہے"۔

 

سوم : محمد بن سلمان کا فرانس  کا دورہ

1)محمد بن سلمان کا فرانس  دورہ اصل میں امریکی دورے سے واپسی پر گزرتےہوئے کیا گیا اور یہ ایک ضمنی دورہ تھا جو بن سلمان  کی شہرت کا ماحول بنانے کی خاطر تھاتاکہ بیان کیا جاسکے کہ اس نے مغرب کا برطانیہ سے امریکہ تک اور پھر یوروپین یونین (فرانس ) کا بھی دورہ کیا ہے اور چونکہ فرانس کا یہ  دورہ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا اسی لئے سفارت کاری کے بین الاقوامی معمول کی پابندی میں بھی کم ہی گئی تھی ۔ مثال کے طور پر فرانسیسی وزیراعظم کے دفتر کے ایک افسر نے پیر کے روز بتایا کہ سعودی ولی عہد نے پیرس  کی  ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منعقد ایک بڑے مجمع سے اپنی ملاقات  کو منسوخ  کردیا  تھاجس کا مقصد ٹیکنالوجی کے میدان میں سعودی فرانسیسی تعلقات کی گہرائی کو اجاگر کرنا تھا۔ لا ٹریبون La Tribune اخبار کے مطابق  ولی عہد بن سلمان کے "اسٹیشن ایف"  کامپلیکس  کا دورہ منسوخ کرنے سے فرانسیسی صدر ماکرون کو ناراضگی ہوئی ہوگی  جیسا کہ اس سے گذشتہ ہفتہ ولی عہد سلمان نے امریکہ میں سلیکان ویلی میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں سے ملاقات کی تھی۔ بن سلمان نے اس کامپلیکس کے دورے کے متعلق ایک شرط عائد کی تھی جس نے ماکرون کی ناراضگی کو بھڑکادیا تھا"۔ 

عرب ورلڈ سائٹ نے 9 اپریل 2018 کو رائٹر کے پول کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ: La Tribune نے بتایا کہ :سعودی ولی عہد سلمان نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون کوناراض  کردیا  جب اس نے فرانسیسی کمپنیوں کے مملکت سعودی عرب کے ساتھ تجارتی معاہدات سےنفع کمانے پر ایک  شرط عائد کی ۔  اخبار نے بتایا کہ "بن سلمان نے  ماکرون سے بیان کیا کہ فرانسیسی کمپنیاں امریکن گروپس کی طرح  ان معاہدات سے نفع اٹھا سکتی  ہیں اگر وہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات نہ رکھیں"، اور بتایا کہ یہ شرط ماکرون کی ناراضگی   کا باعث بنی ۔

 

2) اور جو کچھ وہ دونوں اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے کے متعلق ڈینگیں ماررہے تھے ان پر دستخط بھی نہیں کئے گئے اور اس کو آٹھ مہینوں یعنی سال 2018 کے آخر تک ملتوی کردیا گیا۔ سب یہ بات جانتے ہیں کہ بین الاقوامی پالیسی میں تبدیلیاں تیزی سے آتی ہیں اس طرح کے معاہدات پر دستخط کرنے کے وعدے کو اکثر پورا نہیں کیا جاتا  بالخصوص جب مقررہ تاریخ اتنی طویل  دی جائے۔ فرانسیسی صدارت کے قریبی ذرائع نے اعلان کرکے اخباری نمائندوں  کو بتایا کہ ماکرون اوربن سلمان ایک اسٹریٹجک  دستاویزبنانے پر کام کریں گے جو اس سال کے آخر میں تیار ہو جائے گا جن کے نتیجے میں  بننے والے معاہدوں کو (ماکرون ) دستخط کروانے کی خاطر اس سال کے آخر میں سعودی عرب لے کر جایں گے۔ (Al Bayan 10/4/2018)۔ العربیہ نیٹ نے بھی 9 اپریل 2018 کو  پیر کے روزرپورٹ کیا کہ :"صدر اور ولی عہد ایک مشترکہ اسٹریٹجک دستاویز پر کام کریں گے جو سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا ا ور اس کے تحت ایسے معاہدات  ہوں گے جن پر سال کے اختتام سے قبل ماکرون کے سعودی دورہ پر دستخط کیے جائیں گے" اور اس کو فرانس  24 نے 9 اپریل 2018 کو رپورٹ کیا۔

 

3) مزیدبراں فرانسیسی صدر نے جس بات کا اعلان کیا ہے یہ قابل  توقع اور ایسے  پروٹوکول کے ما تحت ہے جن پر تبادلہ خیال اور مشاورت ابھی باقی  ہے تاکہ معاہد ہ کو موثر طور پر طے کیا جاسکے۔

"ہم نئے اشتراک  وتعاون کی  امید کرتے ہیں جو موجودہ معاہدات پر کم اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر زیادہ مرکوز ہوگا بالخصوص ڈیجیٹل اور قابل تجدید توانائی کے میدان میں ، فرانسیسی صدارت نے کہا" ۔(AFP 5/ 04/2018)

ایسی امید ہے کہ بن سلمان کے فرانس دورے کا اختتام مختلف میدانوں میں بارہ پروٹوکول کے معاہدات پر دستخط کے ساتھ ہوگا مثلا ً سیاحت جس میں پیرس مملکت کے شمال مغربی علاقہ میں واقع مدائن صالح ( الہجر) کے مقام کو نمایاں اور اجاگر کرنے میں ریاض کی مدد کرے گا جو کہ عالمی ثقافتی ورثہ  کے طور پر یونیسکو کی فہرست میں شامل ہے اس کے علاوہ دیگر میدانوں میں  جیسے صحت ، توانائی، نقل وحمل وغیرہ  (AFP, 08/04/2018)

 

4) اس لیے اس دورہ پر اہم معاشی معاہدات طے نہیں ہوئے  کیونکہ یہ مختصر دو دن کا دورہ تھا چنانچہ Elysee Palace کو اس پر خفت بھی محسوس ہوئی۔ چنانچہ ولی عہد کے تین ہفتے کے امریکی دورے کے بعد فرانس کے مختصر دورہ کے متعلق سوال کیے جانے پر جواب دیا گیا کہ Elysee Palace ولی عہد کے پہلے غیرملکی دورہ میں فرانس کو شامل کئے جانے کا خیر مقدم کرتا ہے (France 24 / AFP05/04/2018)۔ اور اس میں معاہدات پر دستخط نہ کئے جانے پر Elysee Palace کو خفت کا سامنا کرنا پڑا:"دوسری طرف فرانسیسی سفارتی ذرائع نے فرانس 24 کو بتایا کہ  فرانس سعودی عرب کے ساتھ ماضی کی طرح تجارتی معاہدات کی بجائے طویل مدتی معاشی اور ٹیکنالوجی ترقی کی بنا پر یکساں وژن کے اشتراک کو قائم کرنا چاہتا ہے "۔(AFP, 08/04/2018)

 

5) ان تمام باتوں کے ساتھ اس دورے کے ساتھ کچھ  انصاف کرنے کی خاطر ایک معاہدہ کیا گیا جس نے بن سلمان کا دل جیت لیا اور وہ معاہدہ ایک قومی آرکیسٹرا اور ڈرامہ کے لئے آپرا ہاؤس کی تعمیر کا تھا، اور کس جگہ پر؟ حرمین کی زمین پر!! فرانسیسی ثقافتی وزیر Françoise Nyssen نے کہا کہ پیرس آرکیسٹرا بنانے اور آپرا ہاؤس کی تعمیرکے لئےریاض کی مدد کرے گا "۔ آج پیرس آپراء ہاؤس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تاکہ پیرس سعودی عرب کے قومی آرکیسٹرا اور ایک آپرا ہاؤس کی تعمیر میں مدد کرے"۔ Nyssen نے کلچراور انفارمیشن کےسعودی وزیرعود العود کے ساتھ پیرس  میں معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد بیان دیا  (Arab World website on 09/04/2018 © REUTERS / POOL)

بن سلمان نے معاہد ے سےقبل سرکاری ملاقات سے پہلے اتوار کو ایک مخصوص دورہ کیا اور جنوبی فرانس میں ایسٹر تہوار کے اختتام پر موسیقی کی محفل میں شرکت کی: ولی عہد سلمان 8 اپریل 2018 کو اتوار کے روز امریکہ سے یہاں پہنچے اور وہ اتوار کے روز ایسٹر کی اختتامی محفل میں شرکت کررہے ہیں جو Marseille کے قریب Aix-en-Provence شہر میں منعقد ہورہی ہے تاکہ روایتی موسیقار Debussy, Robert Schumann and Felix Mendelssohn کی موسیقی کا مزہ لے سکے۔(AFP 08/04/2018)

 

6) بن سلمان کا یہ دورہ کسی بھی طرح سے اہم نہیں تھا، نہ ہی معاہدات اور نہ ہی قرار ناموں کے اعتبارسے، سوائے اگر آپراء ہاؤس کو اہم مانا جائے اور ایسا کرنے سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اور 10 اپریل 2018 کو منگل کے روز کی آخری  پریس کانفرنس سے یہ بات  مزیدواضح ہوجاتی ہےجس کی تفصیل اخبارات میں11 اپریل2018 کو شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا کہ پروٹوکول اور قرارنامہ مقاصدکو منظوری دی گئی ،سوائے آپرا ہاؤس کے کیونکہ، اس پر پہلے ہی دستخط کردئیے گئے تھے۔ الجزیرہ نیٹ نے 11 اپریل 2018 کو شائع کیا: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کے دن فرانس اور سعودی کمپنیوں کے درمیان 18 بلین ڈالر مالیت والے پروٹوکول کے 19 معاہدات پر دستخط  کر کے فرانس کے دو روزہ دورہ کا اختتام کیا۔ قرارنامہ مقاصد کا تعلق صنعتی شعبوں سے تھا جیسے پٹروکیمیکل، پانی کی صفائی  اس کے علاوہ سیاحت، ثقافت، صحت، زراعت وغیرہ ، ان میں سب سے اہم سعودی تیل کمپنی آرمکو  کا 12 بلین ڈالر کے معاہدات کا  اعلان تھا جو فرانسیسی کمپنیوں  Total, Technip , Suezky کے ساتھ مشترکہ طور پرسعودی عرب کے مشرقی علاقہ  الجبیل کے مقام پر نئے پٹروکیمیکل ذخیرہ کی تعمیر سےمتعلق تھا جس کے اندر فرانسیسی گروپ آف کمپنی دنیا میں سب سے بڑی ریفائنری کی مالک ہے البتہ یہ معاہدات بھی صرف آرامکو کمپنی کی تجارت کو ترقی دینے کے لئے نہیں تھے  بلکہ ان کا زیادہ تعلق  فرانسیسی کمپنی کی ریفائنری سے مالیاتی  پیداوار کی ترقی  سے تھا۔

اس کو 11 اپریل 2018 کو AFP کی جانب سے پریس کانفرنس سے بھی رپورٹ کیا گیا تھا۔  ذرائع نے مزید بتایا کہ: " منگل کے روزشہزادہ سلمان کے فرانس  کےدورے کے اختتام پر دونوں ممالک نے سعودی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان 19 پروٹوکول معاہدات  پر دستخط کئے ہیں جن کی مجموعی مالیت 18 بلین ڈالر ہے۔ یہ معاہدات صنعتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے پٹروکیمیکل،  پانی کی صفائی  اس کے علاوہ سیاحت، ثقافت، صحت، زراعت وغیرہ ، یہ سعودی فرانسیسی تجارتی فورم  کے دئیے گئے بیان کے مطابق ہے جس میں دونوں  ممالک کے نمائندے اور ملازم شامل ہیں"۔

پریس کانفرنس میں بن سلمان اور ماکرون نے عمومی مسائل پر بات چیت کی جیسے ایران،  ایٹمی معاہدہ، شام، یمن وغیرہ اور کسی بھی  مسئلہ پر مخصوص حل کی وضاحت  کئے بغیربات چیت ہوئی۔

 

چہارم: خلاصہ

اوپر بیان کی گئی بات کا ہم پھر سے اعادہ کرتے ہیں : بن سلمان  کا اصل دورہ امریکہ کا ہے ، اس کا برطانوی دورہ برطانیہ کواطمینان وتشفی  دلانے کی خاطر تھا کیونکہ پچھلے دنوں اس نے سخت ترین  ہتھکنڈے اپناکر مملکت میں برطانوی  ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں تھیں اور اس کا فرانس دورہ اس موقع پر بن سلمان  کی شہرت کا ماحول بنانے کی خاطر تھاتاکہ بیان کیا جاسکے کہ اس نے امریکہ و یورپ کے بڑے ممالک کا دورہ کیا ہے۔

 

24 رجب 1439 ہجری

11 اپریل 2018

Last modified onجمعرات, 07 جون 2018 13:48

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک