الإثنين، 30 ربيع الأول 1439| 2017/12/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

امریکہ کابل کے خونی دھماکوں اور اس کے بعد بھڑکنے والی نسلی تفریق...

 ...کی آگ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے

حزب التحریرولایہ افغانستان، کابل میں ہونے والے حالیہ خونی دھماکوں کی پُرزور مذمت کرتی ہے اور مندرجہ ذیل باتوں کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے۔

Read more...

"کابل پراسس" پُرانے ناکام منصوبوں کا تسلسل ہے

کابل میں 6 جون کو ہونے والے المناک دھماکوں اور شدید احتجاج کے بعد ہم نے بین الاقوامی امن کانفرنس "کابل پراسس" ملاحظہ کی۔ اقوامِ متحدہ،  یورپی یونین اور نیٹو کے علاوہ 23 ممالک نے اُس میں شرکت کی۔  ہمیشہ کی طرح یہ اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گیا ۔

Read more...

امریکہ کی علاقائی اسٹریٹیجی بھارت کے اثر ورسوخ ...

...اور پاکستان و افغانستان کے درمیان دشمنی میں اضافہ کررہی ہے

حالیہ دنوں میں افغانستان و پاکستان کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے ، بالخصوص پاکستان کے مختلف شہروں میں خونریز دھماکوں کے بعد اس کشمکش میں تیزی آئی ہے۔  نتیجتاً دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان زبردست قسم کی لفظی جنگ بھی  ہوتی رہی ہے۔ پھ

 

Read more...

ہم استعماری حملہ آوروں کے فضائی حملے اور عبداللہ عبد اللہ کے بیان کی شدید مذمت کرتےہیں

ہم سابقہ مجاہدین کے اسلحے کے ذخیرے پر "آپریشن با عزم" کے نام کے تحت صوبہ پروان میں امریکہ اور نیٹو کے فضائی حملے اور ساتھ ہی ساتھ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری کے مدد سے بننے والی اتحادی حکومت اور اس کے چیف ایگزیکیٹو کے بیان کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں۔

Read more...

افغانستان میں معاشی جمود قابضین اور استعمار کی جانب سے سرمایہ داریت کو نافذ کرنے کا نتیجہ ہے

حال ہی میں گیلپ سروے کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 67 فیصدافغان یہ سمجھتے ہیں کہ معاشی شرح نمو میں کمی افغانستان کے لیے مسلح تصادم سے زیادہ خطرناک ہے۔


استعمار نے سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام مسلط کر کے فری مارکیٹ "مارکیٹ کو اپنا کام کرنے دو" کا نعرہ لگا کر گزشتہ تیرہ سالوں کے دوران افغان عوام کو قتل،بحران،کرپشن،بے حیائی ،ظلم،معاشرے میں طبقاتی تقسیم،بے روز گاری،غربت،اجارہ داری اور مافیا ۔۔۔وغیرہ کے سوا کچھ نہیں دیا ؛ یہاں تک کہ 10فیصد افغان سرمایہ دار ملک کے 90 فیصد سرمائے کے مالک بن چکے ہیں اورغربت و بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ استعماریت نے افغان معیشت کو استعمار کا غلام بنا رکھا ہے اور افغان حکومت بھی قابض قوتوں کی مدد کے بغیر بجٹ تیار کرنے اور ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل بھی نہیں ہے۔


افغانستان میں صرف یہی ایک مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کی تنظیم "اوکسفام" کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2016 کے اختتام تک دنیا کے ایک فیصد مالدار افراد دنیا کی دولت باقی 99 فیصد افراد کے مجموعی دولت سے زیادہ ہوجائے گی۔ اس رپورٹ کے حقائق دل دہلا دینے والے ہیں جیسا کہ دنیا کے 80 مالدار ترین افراد کے پاس3.5 ارب غریب لوگوں کی مجموعی دولت کے برابر دولت ہے۔


ان تمام تباہ کاریوں اور مصائب وآلام کی وجہ ، جن کا مسلمانوں اور مجاہد افغان قوم کو سامنا ہے، سرمایہ دارانہ نظام کا نفاذ اور ریاستی قوانین ہیں۔ اس لیے سرمایہ دارانہ نظام افغان عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا بلکہ اسی نے ان مسائل میں اضافہ اور ان کو زیادہ پیچیدہ کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام اپنے گڑھ مغرب میں بھی ناکام اور شکست خوردہ ہے اور اس کو موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ معاشی اور معاشرتی بحران اس نظام کے نفاذ کا نتیجہ ہیں جس نے مغربی اقوام کو ہلاکر رکھ دیا ہے اور وہ اب اس نظام سے بیزار ہو چکے ہیں۔


اس کے مقابلے میں اسلام وہ نظام ہے جو انسان،کائنات اور حیات کے خالق کی جانب سے ہے اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں میں احکام شرعیہ کونافذ کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے،جس میں معاشی نظام بھی شامل ہے۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اسلام نے ہی معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کیا اور لوگوں کے مابین دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا یا ،جس سے لوگوں کے درمیان طبقاتی امتیاز کے بغیر خوشحال زندگی کا دور دورہ رہا۔

 

حزب التحریر کا میڈیا آفس
ولایہ افغانستان

 

Read more...

پریس ریلیز شہریوں کی ہلاکتوں  میں اضافے کا براہ راست سبب غیر ملکی قبضہ اوراستعماریت ہے

افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کا مشن UNAMAنے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عام شہریوں کی  ہلاکتوں میں اضافہ ہوا،بالخصوص 2014 میں گزشتہ سالوں کی بنسبت یہ تعداد 19فیصدکی  شرح سے بڑھی۔ اقوام متحدہ کا مشن برائے افغانستان کی طرف سے 2009سے تا حال      17252 افغانیوں  کے قتل  اور 29536 کے زخمی ہونے کو ریکارڈ کیا گیاہے  جبکہ دوسری طرف اس رپورٹ میں یہ ذکر بھی  کیا گیا کہ ان نقصانات  اور ہلاکتوں  میں سے 75فیصدکے ذمہ دار طالبان ہیں کیونکہ اس علیحدگی پسند گروہ نے ہی بین الاقوامی اور افغان فوجیوں پر شدید  حملے کئے۔

حقیقت  میں ان تمام انسانی نقصانات کا اصل سبب  افغانستان میں امریکہ اور ناٹو کی جنگی مشینری کی موجودگی ہے۔       یہ مشینری مظلوم افغانی قوم کے خلاف مختلف   فورسز کے ذریعے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جیسا کہ سپیشل امریکن اینڈ افغان فورسز، باہمی سیکورٹی معاہدوں  کے  امن فورسز، بلیک واٹر ، مائیکل نیٹ ورک،علاقائی پولیس اور قومی انقلابی فورسز،اس  کے ساتھ جنگی طیاروں سے بمباری اور ڈرون  حملے شامل ہیں۔

افغانستان کی صلیبی جنگ تیرہ سال کا عرصہ پوراکرچکی ہے مگر بالآخر امریکہ اور ناٹو کو  شرمناک اور ذلت آمیز فوجی شکست کا سامنا کرناپڑا۔  لہٰذابھاری نقصانات اوربڑے خساروں کے  بغیرکم قیمت کے ساتھ جنگ کی قیادت کرنے کے لئے  امریکہ اور ناٹو نے افغانستان میں اپنی افواج میں کمی کر کے جنگ کو مقامی اور افغان باشندوں کے مابین جنگ کی سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔  جنگ کو جاری رکھنے کے لئے اُنہوں نے افغان فورسز کے لئے میدان جنگ  چھوڑدیا ۔ مزید برآں ، کابل اور واشنگٹن کے درمیان باہمی سیکورٹی معاہدے  (BSA) کے مطابق امریکی اور ناٹو فورسز رہنمائی کا کردار ادا کریں گے اور اپنے اڈو ں میں تعینات رہیں گی۔

بہر حال ، افغانستان کی عسکری وسیاسی قیادت کے لئے  ضروری ہے کہ  وہ قابض  مغربی استعماریوں کے آلہ کاروں اور مزدوروں  کا کردار ادا نہ کریں اور اپنے بھائیوں کے قتل سے اپنا ہاتھ روکیں۔    کیونکہ اسلام دشمن اور استعماری اہداف کے حصول کے لئے مغرب مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرواناچاہتا ہے۔  بحران کی اس کیفیت کو  جڑوں سے تبدیل کرنے اور اس المناک صورتحال سے نکلنے  کا ایک ہی حل  ہے  کہ نبوت کے نقش ِ قدم پر خلافت کو قائم کیاجائے اور دشمنوں  کے خلاف قوت ایک کی جائے۔

حزب التحریر کا  مرکزی میڈیا آفس

ولایہ افغانستان

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک