الأحد، 29 ربيع الأول 1439| 2017/12/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    2 من رمــضان المبارك 1438هـ شمارہ نمبر: PR17041
عیسوی تاریخ     اتوار, 28 مئی 2017 م

خلافت تباہ کن ٹیکسوں کا خاتمہ کردے گی

پاکستان کے حکمران خزانے کو توانائی کے شعبے سےحاصل ہونے والے محصول سے محروم کردیتے ہیں اور پھر ہم پر ٹیکس لگاتے ہیں

 

26 مئی 2017 کو پاکستان کے وزیر خزانہ نے اس بات پر شادیانے بجائے کہ ٹیکسوں میں بہت بڑا اضافہ ہوا ہے، “13-2012 کے مالیاتی سال میں ایف بی آر نے 1946 ارب روپے جمع کیے تھے۔ موجودہ سال کے لیے ہدف 3521 ارب روپے ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں تاریخی 81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ۔۔۔ان تین سالوں میں 300 ارب روپے کی رعایتوں اور ٹیکس کی چھوٹ ختم کی گئی ہے”۔ لیکن باجوہ-نواز حکومت کے دیگر بلند بانگ معاشی دعووں کی طرح ٹیکسوں میں زبردست اضافہ ہماری موجودہ صورتحال کے لیے مایوس کن اور مستقبل کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ ٹیکسوں میں زبردست اضافے نے صنعت اور زراعت پر اس قدر بوجھ ڈال دیا ہے کہ کئی مقامی لوگوں نے پیداوار ی عمل کو چھوڑ کر غیر ملکی اشیاء کی تجارت شروع کردی ہے۔ ایک طرف امت پر ٹیکسوں کا بہت بڑا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، لیکن دوسری جانب حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ برا ہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی حصولہ افزائی کے نام پر غیر ملکی کمپنیوں کو زبردست رعایتیں اور ٹیکس چھوٹ ملے اور اس طرح ہماری معیشت کا غیر ملکی سرمائے پر انحصار بڑھتا جائے۔ اس کے علاوہ جمہوریت یعنی پارلیمنٹ قوانین میں اس طرح کی تبدیلیاں کرتی ہے جس سے حکمران طبقے پر ٹیکسوں کی شرح کم جبکہ عوام پر بڑھتی جائے یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب ہی جائیں۔ ٹیکسوں کی اس قدر بھر مار کرنے کی وجہ حکومت کی پاکستان کے خزانے کو توانائی کے شعبے سے حاصل ہونے والے محصول سے اس کی نجکاری کر کے محروم کردینا ہے۔ یہاں صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے، مالیاتی سال 14-2013 میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی نے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد ریکارڈ 124 ارب روپے منافع حاصل کیا۔ یقیناً توانائی کے شعبے کی نجکاری اور پھر ٹیکسوں کی بھر مار کرنا ایسے ہی ہے جیسے اپنے ہاتھوں اپنے ہی پیر پر ہتھوڑا مار دیا جائے اور پھر لوگوں سے کہا جائے کہ وہ آپ کو اٹھائیں!!!

 

توانائی کے شعبے کی نجکاری ہمارے مفاد میں نہیں ہے بلکہ باجوہ-نواز حکومت کے استعماری آقاوں کا یہ اہم ترین مطالبہ ہے۔ جیسے ہر سال ہر بجٹ پر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک آخری شکل اختیار نہیں کرتا جب تک کہ وزیر خزانہ آئی ایم ایف کی ٹیم سے دبئی میں ملاقات نہ کرلے، اس سال یہ ملاقات 28 مارچ 2017 کو ہوئی اور آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت ہیرلڈ فنگر کررہا تھا۔ اس ملاقات کے اختتام پر جناب فنگر نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ توجہ کریں “مالیاتی، بیرونی اور توانائی کے شعبے کے چیلنجز پر”(آئی ایم ایف پریس ریلیز # 11/17)۔ دہائیوں سے توانائی کے شعبے کی استعماری نگرانی میں نجکاری کی وجہ سے نجی مالکان اس شعبے سے مسلسل زبردست منافع حاصل کررہے ہیں جبکہ عوام پر کمر توڑ ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ ٹیکسوں میں اس قدر زبردست اضافہ بھی ہمارے کسی کام نہیں آتا کیونکہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کا بہٹ بڑا حصہ سودی بیرونی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا جاتا ہے جبکہ ان استعماری قرضوں کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اصل رقم بھی کئی بار ادا کرچکا ہے۔ توانائی کے شعبے کی نجکاری استعماری سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو اس دلدل سے نکلنے اور ایک طاقتور معیشت بننے سے روکنا ہے۔

 

پاکستان کے معاشی مسائل کا حل نجکاری، غیر ملکی سرمایہ کاری یا استعماری قرضوں میں نہیں ہے کیونکہ یہ تو خود بیماریاں ہیں۔ حل صرف اسلام کے معاشی نظام کا نفاذ ہے جس کے ذریعے اتنے محاصل حاصل ہوتے ہیں جو معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ سرمایہ داریت اور کمیونزم کے بر خلاف، اسلام نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ توانائی نہ تو نجی ملکیت ہوسکتی ہے اور نہ ہی سرکاری ملکیت بلکہ یہ عوامی ملکیت ہے یعنی تمام مسلمان اس کے مالک ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، المسلمون شرکاء فی ثلاث الماء والکلاء والنار “مسلمان تین چیزوں میں شراکت دار ہیں: پانی، چراہ گاہ اور آگ(توانائی)”(ابو داود)۔   لہٰذا ریاست خلافت عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت میں آنے والی چیزوں کے امور کو خود منظم کرتی ہے اور ان کی براہ راست نگرانی کرتی ہے۔ خلیفہ کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ عوامی ملکیت کے شے کو نجی ملکیت میں  کسی ایک شخص یا کمپنی کو دےسکے کیونکہ یہ تمام مسلمانوں کا مال ہوتا ہے۔ وہ اس سے حاصل ہونے والے محصول کو عوام پر خرچ ، اس کے امور کی دیکھ بحال اور اس کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ اصول تمام عوامی ملکیت کے اشیاء سے حاصل ہونے والی دولت پر لاگو ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق توانائی سے ہو جیسا کہ پیٹرولیم، گیس، بجلی، یا بہت بڑے بڑے معدنی ذخائر جیسا کہ تانبہ اور لوہا وغیرہ، یا پانی جیسا کہ سمندر، دریا اور ڈیمز، یا چراہ گاہوں اور جنگلات سے ہو۔ یقیناً پوری امت کا دنیا کے توانائی اور معدنی وسائل میں بہٹ بڑا حصہ ہے لیکن اسلام کے معاشی نظام کے بغیر مسلمان غربت کا شکار ہیں اور امت کا دنیا کے امور میں کوئی وزن نہیں ہے یہاں تک کہ ان ممالک سے بھی اس کا کوئی مقابلہ نہیں جن کے پاس ہمارے مقابلے میں بہت کم مادی دولت موجود ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

ہماری بد ترین معاشی صورتحال مزید بری ہوتی جائے گی جب تک ہم کفر کی حکمرانی میں رہنے کے لیے آمادہ رہیں گے جو استعماریوں کو ہمارے امور چلانے کا حق دیتا ہے۔ ہم نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے اس بات سے قطع نظر کہ کون اس ظلم کے نظام میں حکمرانی کرنے آتا ہے چاہے اس کا تعلق مسلم لیگ (ن) ، پی پی پی یا پی ٹی آئی سے ہو۔ تباہی و بربادی صرف ان ہی پر نہیں آتی جو کفر کی بنیاد پر حکمرانی کرتے ہیں بلکہ وہ بھی اس کا شکار ہوتے ہیں جو اس منکر کو دیکھیں لیکن اس کوختم کرنے کے لیے کچھ بھی نہ کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں،

 

وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

“اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں، اور جان لو رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے”(الانفال:25)۔

 

لہٰذا ہم سب پر لازم ہے کہ ہم خلافت کے منصوبے کے لیے اپنی پوری صلاحیت کو استعمال کریں اور اسلام کو ایک بار پھر طرز زندگی بنانے کے لیے حزب التحریر کے بہادر شباب کے ساتھ جدوجہد کریں۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک