الثلاثاء، 30 ذو القعدة 1438| 2017/08/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    17 من رمــضان المبارك 1438هـ شمارہ نمبر: PR17046
عیسوی تاریخ     پیر, 12 جون 2017 م

غزوہ بدر کی سالگرہ :

مقبوضہ کشمیر امت کی ڈھال خلافت کے ذریعے آزادی کا مطالبہ کرتا ہے

 

آج جب ہم غزوہ بدر کے دن کو یاد کررہے ہیں ، اس قیادت کو یاد کررہے ہیں جو صاحب بصیرت تھی اور اور ان جنگجووں کو یاد کررہے ہیں جو بہادر تھے، تو ہمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ رمضان کے مہینے میں بھی وحشی ہندو فوج نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ہندو فوج نے موجودہ طویل ظلم و جبر کی مہم پچھلے سال گرمیوں میں شروع کی تھی جس میں پیلٹ گن کے استعمال کے ذریعے لوگوں کو اندھا کیا جارہا ہے اور کہیں انہیں جیپ کے سامنے انسانی ڈھال کے طور پر باندھ کر اپنی حفاظت اور مسلمانوں کی تذلیل کی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سات دہائیوں سے جاری طویل ظلم و ستم اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں کیوں دیں تھیں۔ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ہندو انصاف کرنے کے صلاحیت سے محروم ہے اور اگر اسے مسلمانوں پر کسی بھی درجے کا اختیار حاصل ہوگیا تو مسلمانوں کی زندگی عذاب بن جائے گی۔ اور آج ہم آنسو بہاتے اور افسوس کرتے ہیں   اپنی ان بہنوں کے لیے جن کی عفت و عصمت پر ہندو مشرکین نے حملے کیے اور اپنے ان ہزاروں بہن بھائیوں کے لیے جو شہید ، زخمی یا اندھے کردیے گئے۔ ان مظالم میں 23 فروری 1991 کا وہ دل خراش واقع بھی شامل ہے جب ضلع کپواڑہ کے جڑواں گاوں کنان اور پشپورہ میں تلاشی کے دوران درجنوں مسلم خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور بین الاقوامی سطح پر شور مچ گیا تھا۔

 

مقبوضہ کشمیر کی اس خوفناک صورتحال میں ہمارے پاس ایسی قیادت ہونی چاہیے تھی جو ہمارے بہادر افسران اور فوجیوں میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے جوش وولولہ پیدا کرتی لیکن ہم پر ایسی اندھی قیادت مسلط ہے جو اپنی بے عملی کو چھپانے اور ہندو جارحیت کے خلاف”تحمل” کی پالیسی کو جاری رکھنے کے لیے صرف شور مچاتی ہے۔ بھارتی جارحیت کے باوجود ،جس میں 10 جون کو پونچھ میں ایک بزرگ مسلمان کی شہادت بھی شامل ہے،     پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ حرکت میں نہیں آتے۔ بلکہ اسی دن باجوہ نے اس جارحیت کے خلاف مسلمانوں کے سینوں میں لگی آگ کو ڈھنڈا کرنے کی کوشش کی جب لائن آف کنٹرول پر تعینات ہمارے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ، “ہم ملک کو درپیش دفاع اور سیکیورٹی کے چیلنجز سے باخبر ہیں اور ہم اس بات سے قطع نظر کے کون سا محاذ ہے ہر خطرے کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں”۔ ہمیں ایسی فوجی قیادت نہیں چاہیے جو کھوکھلے الفاظ کا سہارا لے جبکہ منہ توڑ ردعمل وقت کا تقاضا ہو! ہمیں ایسی قیادت نہیں چاہیے جو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر محض کھوکھلے مذمتی بیانات دیتی ہے تا کہ ایسا “حل” مسلط کردیا جائے کہ کشمیر کے مسلمانوں کا مستقبل بھی موجودہ حال کی طرح وحشی ہندو افواج کے مظالم کا سامنا کرنا ہی ہو اور ہندو کو مسلم علاقوں پر اختیار کی یقین دہانی کرادی جائے۔ ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بزدل ہندو فوج پچھلے ستر سالوں سے میدان جنگ میں لڑ کر ایسا اختیار اپنے زور بازو پر حاصل نہیں کرسکی جبکہ ابھی اس نے چھوٹے چھوٹے کمزور لیکن بہادر پُر جوش مسلح گروپوں کا سامنا کیا ہے۔ وہ دن کیا شاندار دن ہوگا جب خلیفہ راشد کی قیادت میں طاقتور مسلم افواج ہندو کو بدترین شکست فاش دیں گی اور رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کو بلند کریں گی۔

 

مسلمانو اب بس بہت ہوگیا! حزب التحریر ولایہ پاکستان مسلمانوں کو پکارتی ہے کہ وہ اپنی ڈھال ، اسلامی خلافت ، کو بحال کریں تا کہ رمضان کامیابیوں کا مہینہ بن جائے جیسا کہ ماضی میں صدیوں تک رمضان مسلمانوں کے لیے کامیابیوں کا مہینہ رہا ہے۔ آج بروز پیر 12 جون بمطابق 17 رمضان غزوہ بدر کی سالگرہ ہے جو 2 ہجری میں لڑی گئی تھی۔ یقیناً غزوہ بدر ہم سب کے لیے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب مسلمانوں کا امام ہوتا ہے جو اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کررہا ہو اور اللہ کے سواء کسی سے نہ ڈرتا ہو تو اس بات کے باوجود کے ان کا دشمن ان سے تعداد ااور اسلحے میں کتنا ہی برتر کیوں نہ ہو مسلمان اپنے دشمنوں پر کامیابیاں حاصل کرتے تھے۔ مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

 

إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ

“بے شک امام (خلیفہ) ہی ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اگر وہ اللہ عز و جل کا خوف رکھتا ہے اور انصاف کرتا ہے تو اس کے کے لیے اجر عظیم ہے اور اگر وہ اس سے ہٹ کر عمل کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آتا ہے “۔

 

غزوہ بدر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب مسلمانوں کی حفاظت ایسا امام کرتا تھا جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا تھا تو ان کے جنگجووں کا ایمان بڑھتا چلا گیا جس نے ان کی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دیا اور اس طرح ان کے دشمنوں میں ان کا خوف بیٹھ گیا اور کامیابی کی راہ ہموار ہو گئی۔ مسلم نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ بدر میں مشرکین سے پہلے پہنچے، اور جب وہ(مشرکین) پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے کہا،

 

لا يقدمن أحد منكم إلى شيء حتى أكون أنا دونه

“تم میں سے کوئی بھی مجھ سے آگے نہ بڑھے”

 

۔ جب مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے کہا،

قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض

“اب اٹھو اور جنت کی جانب بڑھتے چلو جس کی وسعت اتنی ہے جتنی زمین و آسمان کے درمیان ہے “،

 

عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: “کیا جنت زمین اور آسمان کی وسعت جتنی وسیع ہے؟” رسول اللہ ﷺ نے اس کا جواب اثابت میں دیا ۔ عمیر نے کہا: “زبردست!” رسول اللہ ﷺ نے پوچھا، ما يحملك على قولك بخ بخ “کس بات نے تمہیں یہ پوچھنے پر مجبور کیا؟” عمیر نے جواب دیا: کسی چیز نے نہیں اے اللہ کے رسول! صرف اس بات کی امید کرتا ہوں کہ میں بھی اس میں رہنے والوں میں شامل ہو جاؤ”۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا، فإنك من أهلها “تم یقیناً ان میں شامل ہو گے” ۔ عمیر نے کچھ کھجوریں اپنے تھیلے میں سے نکالیں اور انہیں کھانے لگے لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد کہا: “اگر میں اتنی دیر بھی زندہ رہوں کہ یہ کھجوریں کھا سکوں تو یہ ایک طویل زندگی ہو گی”۔ لہٰذا انہوں نے کھجوریں پھینک دیں اور دشمنوں سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔

لیکن آج ایسی ڈھال کی غیر موجودگی اور بصیرت سے عاری قیادت کے بوجھ کی وجہ سے ہماری کیا صورتحال ہے اگرچہ مسلمانوں کے پاس تیس لاکھ سے زائد فوج موجود ہے؟ اپنی ڈھال کے بغیر صورتحال یہ ہے کہ اس امت کے مقابلے میں انتہائی چھوٹی چھوٹی قومیں بھی اس پر حملہ آور ہیں جیسا کہ برما کے حکمران، اور بزدل بھی اس پر حملہ آور ہیں جیسا کہ یا یہودی وجود، ہندو ریاست اور صلیبی امریکہ۔ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ مسلمان نبوت کےطریقے پر خلافت کے قیام کی اپنی اسلامی ذمہ داری کو پورا کریں۔ اور اس بات کی بھی فوری ضرورت ہے کہ افواج کے افسران خود کو مجرم حکمرانوں سے آزاد کرائیں جنہوں نے انہیں باندھ رکھا ہے اور امت کی ڈھال، خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں۔

  

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک