الإثنين، 11 رجب 1440| 2019/03/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    9 من جمادى الثانية 1440هـ شمارہ نمبر: 1440/32
عیسوی تاریخ     جمعرات, 14 فروری 2019 م

پریس ریلیز

یمن میں اسکول کے بچوں کے قاتل اور امت کی تیل کی دولت

غصب کرنے والے محمد بن سلمان کی میزبانی نامنظور!

 

ایک طرف سادگی اختیار کرنے کے بلند بانگ دعوے کیے جارہے ہیں اور دوسری جانب باجوہ-عمران حکومت سعودی حکمران محمد بن سلمان عرف ”ایم بی ایس“ کے استقبال کے لیے خرچہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہی جو خود امت کی دولت کو پانی کی طرح بہاتا ہے۔ ایک طرف تو حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب حکومت پاکستان ائر فورس کے جے ایف-17 جیٹ طیاروں کے لیے مختص ایندھن کو ایم بی ایس کے جیٹ طیاروں کو پروٹوکول فراہم کرنے کے لیے ضائع کر رہی ہے۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو عسکری حمایت فراہم نہیں کی جارہی لیکن دوسری جانب حکومت ایم بی ایس کو سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے پاکستان آرمی کو متحرک کررہی ہے جو اپنی سیکیورٹی کے لیے ایک سو سے زائد سعودی رائل گارڈزاپنے ہمراہ لارہا ہے۔ ایک طرف حکومت لوگوں کو اپنے گھروں کی تعمیر کے لیے سود پرمبنی اسکیم کے بوجھ تلے دبا رہی ہے تو دوسری جانب حکومت وزیر اعظم ہاوس کی تزین و آرائش پر ہماری دولت کو لٹا رہی ہے جبکہ ایم بی ایس اپنے ساتھ 1100 سرکاری اہلکار اور کاروباری افراد، ذاتی سامان سے بھرے پانچ ٹرکس ، آٹھ کنٹینرز پر مبنی سامان اور درجنوں گاڑیاں لارہاہے،اور ان کو ٹہرانے کے لیے دو فائیو اسٹار ہوٹلز اور 300 لینڈ کروزرز کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی حدود ،ٹریفک اور ٹیلی مواصلات کی بندش بھی کی جائے گی اور ان تمام کی قیمت پاکستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ادا کی جائے گی۔

 

آخر ایم بی ایس کون ہے جس کے لیے حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس کا مہنگا ترین استقبال کیا جائے اور معمولات زندگی کو معطل کردیا جائے؟ ایم بی ایس خشوگجی کا قاتل ہے جو پاکستان کا دورہ اس لیے کررہا ہے تا کہ اپنی بین الاقوامی تنہائی کو ختم کرسکے اور باجوہ-عمران حکومت کے آقا، امریکا کی وہ بہتر طریقے سے خدمت کرسکے۔ ایم بی ایس یمن میں وحشیانہ اور بے رحمانہ سعودی مداخلت کا خالق ہےجس نے یمن کی سرزمین کو معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا ہے اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دربدر ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ ایم بی ایس ویژن 2030 کا معمار ہے جس کے تحت حرمین کی مقدس سرزمین پر تباہ کن مغربی معاشی اور ثقافتی اثرورسوخ کے لیے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ایم بی ایس اُس سعودی حکمران خاندان کا حصہ ہے جس نے امت کی تیل کی دولت کو لوٹا ہے جبکہ اسلام نے اس دولت کو عوامی ملکیت قرار دیا ہے جس کا فائدہ پوری امت تک پہنچنا چاہیے۔ ایم بی ایس سعودی بادشاہت کا مستقبل ہے وہ بادشاہت جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کے مطابق حکمرانی نہیں کرتی ، علما کو قید اور قتل کرتی ہے اور مسجد الاقصی پر قابض یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ اور ایم بی ایس اُس معاشی مافیا کا فرنٹ مین ہے جو امت کی دولت کو برا ہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے نام پر لوٹنا چاہتی ہے جو پاکستان میں بھی موجود ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

ہمارے حکمران اور مسلم دنیا کے دیگر تمام حکمران امت پر بوجھ ہیں۔ یہ ہماری دولت کو ایسے خرچ کرتے ہیں جیسے یہ انہیں وراثت میں ملی ہے۔ یہ استعماریوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں جبکہ وہ ہمارے دین اور سرزمین کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اور ہماری دولت کو لوٹتے ہیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کے قتل ہونے اور اپنی دولت کے لوٹے جانے پر خاموش تماشائی نہیں بننا۔ ظلم کے سامنے صبر کرنا نہ تو باعثِ ثواب ہے اور نہ دانشمندی ہے بلکہ یہ گناہ اور بے وقوفی ہے۔ آئیں کہ ہم اس بات کا ارادہ کریں کہ ہم نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے تا کہ ظلم کی حکمرانی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردیں۔ احمد نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ

پھر ظلم کی حکمرانی ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہیں گے۔ پھر جب اللہ چاہیں گے اسے ختم کردیں گے۔ اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی ۔اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

pk190214mme MbSNotWelcome Urdu 2

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک