الثلاثاء، 07 شعبان 1441| 2020/03/31
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    28 من جمادى الثانية 1441هـ شمارہ نمبر: 1441 / 45
عیسوی تاریخ     ہفتہ, 22 فروری 2020 م
  • طالبان امریکہ معاہدہ پاکستان کی سرحد پر مستقل امریکی موجودگی
  • اورافغان جہاد کی پیٹھ میں زہر بجھاخنجر گھونپنا ہے

 

مسلمانوں کی ذلت اور شکست کی وجہ میدان جنگ میں ہماری افواج، مجاہدین اور امت کی بزدلی یا ایمان کی کمی نہیں بلکہ ہمارے اوپر مسلط کافر استعمار کے زرخرید غلام، مسلم حکمران ہیں، جوامت کو دھوکا دے کر مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے طالبان امریکہ معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے کرائے کی سہولت کاری کا کریڈٹ لیا اور مذاکرات کاروں کی آزادی کا تاثر دیتے ہوئے کہا،  "پاکستان نے مستقل طور پر امریکہ طالبان براہ راست مذاکرات کی حمایت کی ہے۔۔۔ہم 29 فروری 2020کو معاہدے پر دستخط کیلئے چشم براہ ہیں"۔  ایک ایسے وقت میں جب امریکا کے ناقابل شکست ہونے کے دعوووں کو پہاڑوں  میں رہنے والے چرواہوں نےتار تار کردیا ہے جو اسلام  کی بنیاد پرعزت کے متلاشی ،جارح کے خلاف لڑتے اور صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی پر توکل کرتے ہیں اور  ایک ایسے وقت میں جب امریکا زخموں سے چور ہے اور اس کے زخموں سے مسلسل خون رس رہا ہے جس کی بدبو کئی اور طاقتوں کو  اس بات کا حوصلہ فراہم کر رہی ہے  کہ وہ امریکا اور اس کے مفادات کو چیلنج کریں، اس امریکی کمزوری کے وقت میں باجوہ عمران حکومت نے ٹرمپ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر  میدان جنگ میں جیتی جنگ کو امریکی مستقل موجودگی میں تبدیل کرنے کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے اور carrot and stick پالیسی کے ساتھ طالبان کی قیادت کو امریکی انخلاء سے قبل سیز فائر، افغانستان میں امریکی ایجنٹوں کے ساتھ حکومتی شراکت داری، بین الاقوامی آرڈر کی بیڑیوں کو قبول کرنے اور کاؤنٹر ٹیررزم فوج کے نام پر مستقل امریکی فوجی موجودگی کو قبول کرنے پر مجبور کیا ہے ۔ یہاں تک کہ طالبان نائب امیر سراج حقانی  کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں کھل کر اقرار کرنا پڑا کہ "طویل مذاکرات کے بعد کوئی امن معاہدہ باہمی کمپرومائز کے بغیر نہیں ہوتا"۔  یہ پاکستانی حکمران، جب امریکہ کو جنگ کی ضرورت تھی تو،  امریکی جنگ کو ہماری جنگ کہتے تھے اور امریکی ڈکٹیشن پر افغان جہاد کا گلہ گھونٹنے کیلئے قبائل کو فوجی آپریشینوں سے تاراج کرنے کے جرائم کے مرتکب ہوئے ،  اور جب یہ آپریشن بھی امریکہ کو شکست سے نہیں بچا پائے تو اب یہ حکمران کرائے کے سہولت کار کی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے امن کے فضائل گنوانے لگ گئے ہیں! 

 

  ہم پوچھتے ہیں کہ اپنے گھر کی دہلیز پر امریکا کی سرکاری اور غیر سرکاری فوج کو  مستقل اڈے فراہم کرنے میں معاونت  کس طرح پاکستان اور افغانستان میں امن کا باعث بنے گی؟َ کیا امریکہ نے ایبٹ آباد، ڈمہ ڈولا، سلالہ اور قبائل پر ڈرون حملے افغانستان میں موجود اپنے اڈوں سے نہیں کئے؟   کیا یہی امریکہ عراق، شام اور افغانستان میں آئے دن معصوم لوگوں پر فضائی حملوں کا مرتکب نہیں؟ کیا پاکستان کے مشرقی بارڈر پر ہندو ریاست اور مغرب میں امریکہ کی موجودگی کے بعد پاکستان کے ایٹمی  ہتھیار اور دفاع  مستقل طور پر شدید خطرے کا شکار نہیں ہوں گے؟  کیا کلبھوشن یادیو نیٹ ورک پاکستان میں پھیلانے کے پیچھے افغانستان میں بھارت کے لیے امریکہ کی حمایت نہیں؟ کیا  لاکھوں شہدا  اور غازیوں نے افغان جہاد میں  جان، مال اور اپنے اعضاء کی قربانیاں امریکہ سے سیز فائر اور محدود انخلاء کے بعد پانچ سے آٹھ ہزار امریکی فوج کی مستقل موجودگی کیلئے دی تھیں؟  نہیں، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہے!

 

آج مسلمانوں کے پاس وہ ریاست نہیں جو ان کی بہادری اور استقامت کو فیصلہ کن فتح میں تبدیل کر سکے بلکہ مسلمانوں کے حکمران امت کا ناسور ہیں  جو امت کی بہادری اور استقامت سے حاصل شدہ فتح میں سے بھی دشمن کیلئے فتح کا راستہ بنا لیتے ہیں۔ حزب التحریر اس معاہدے کو مسترد کرتی ہے۔  اور افغان جہاد سے مطالبہ کرتی ہے کہ آخری امریکی فوجی کے انخلاء تک بندوقیں نیچی نہ کریں۔

اے  افواج پاکستان!

آپ کیسے اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں کہ آپ کی قوت اور طاقت مسلمانوں کے دشمن امریکہ کی حفاظت کے لیے استعمال ہو؟ آگے بڑھیں اور ٹرمپ کے دوستوں اور وفاداروں پر مبنی اس فوجی اور سیاسی  قیادت کی حکومت کا تختہ الٹ دیں۔اور خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں تا کہ آپ کی طاقت اور قوت صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لیے استعمال ہو۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک