السبت، 08 شوال 1441| 2020/05/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    11 من رمــضان المبارك 1441هـ شمارہ نمبر: 57 / 1441
عیسوی تاریخ     پیر, 04 مئی 2020 م

اٹھارویں آئینی ترمیم  - اصل مسئلہ وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم کا فارمولا نہیں بلکہ خود غیر اسلامی وفاقی نظام ہے

 

پچھلے کچھ دنوں سے ملک میں اٹھارویں آئینی ترمیم میں" ترمیم" کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک بحث چل رہی ہے۔اپریل 2010 میں جب آٹھارویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں موجود تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت   سے  منظور ہوئی تھی تو پاکستان کے عوام کو یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ اب ان کے مسائل تیزی سے حل ہوں گے کیونکہ صوبوں کو اب زیادہ اختیار اور وسائل میسر آگئے ہیں۔  اس ترمیم کے تحت پندرہ وزارتیں وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو گئی تھیں جن میں صحت اور تعلیم بھی شامل ہیں جبکہ وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ 48 فیصد سے بڑھا کر 57.5فیصد کردیا گیا جبکہ وفاق کا حصہ 52 فیصد سے گھٹ کر 42.5فیصد ہوگیا۔ لیکن اس ترمیم کی منظوری کو دس سال ہی گزرے ہیں کہ اس کی افادیت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ جب تک صوبوں کو زیادہ اختیارات اور وسائل فراہم نہیں کیے گئے تھے تو یہ کہا جاتا تھا کہ وفاق صوبوں کا حق کھا رہا ہے اور جب تک  صوبائی خودمختاری نہیں دی جائے گی لوگوں کے مسائل موثر طور پر حل نہیں ہوسکتے۔  لیکن اس ترمیم کے منظور ہونے کے دس سال بعد ایک بات تو واضح ہوچکی ہے کہ لوگوں کے مسائل آج بھی حل نہیں ہو رہے۔ وفاق کہتا ہے کہ وفاقی محاصل میں سے صوبوں کا حصہ دینے ، سود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ کرنے کے بعد کچھ بچتا ہی نہیں ہے جبکہ صوبے کہتے ہیں کہ وفاق اب بھی انہیں ان کا حصہ فراہم نہیں کررہا۔

 

یہ مقتدر طبقہ ساٹھ سال مرکز کو مضبوط بنا کر سمجھتا رہا کہ اس طرح ریاست مضبوط ہو گی، لیکن ناکام رہا۔ پچھلے دس سال سے صوبائی خودمختاری کے تجربے کی قلعی بھی ایک کورونا وائرس نے آشکار کردی، اور اب  ایک بار پھر اسی عطار کے لونڈےسے دوا لینے واپس آ گئے ہیں جس نے ان کا یہ حال کیا ہے۔ اللہ کی وحی کی آفاقی سچائی اور زماں و مکاں سے ماورا حق کو جھٹلا کر انسان جب اپنے عقل کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے hit and trial  کے ساتھ نئے تجربے کرتا ہے تو اس کییہی حالت ہوتی ہے۔  وسائل کی تقسیم کے فارمولے اور صوبائی خودمختاری کی مقدار سے قطع نظر، وفاقی نظام  یا کنفیڈریشن بنیادی طور پر مختلف اکائیوں کے درمیان 'اتحاد' اور ایک 'ڈیل' کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پس اتحاد اور ڈیل والے معاملات سے ہٹ کر سب اکائیوں کے اپنے وسائل، پالیسیاں اور  اپنی مرضی ہوتی ہے، یوں ریاست  ایک  ملک کے بجائے مختلف صوبوں کے اتحاد کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جیسے کہ ہر صوبہ لاک ڈاؤن سے لے کرمساجد کی تراویحتک کی پالیسیوں میں اپنی مرضی کر رہا ہے۔  اور اگر ایک اکائی کے ساتھ مسلسل 'زیادتی' کی جائے تو وہ اقوام متحدہ یا علاقائییا عالمی طاقت کی مدد سے الگ ہونے پر آمادہ ہو جاتا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کے معاملے میں ہوا۔ وسائل کی کثرت کی صورت میں تو یہ وفاقی نظام اپنے آپ کو کچھ حد تک  sustain کرتا ہے ، جیسا کہ مغربی ریاستوں کا ماضی قریب تک حال تھا، لیکن وسائل کی کمی کی صورت میں ریاست بچانے کیلئے فوج کشی تک کرنی پڑتیہے۔بنیادی طور پر یہ اندر سے ایک بہت کمزور نظام ہے جس میں لانگ ٹرم میں ریاست بچانے کا فارمولا اکثریتی وسائل صوبوں کو دے کر وفاق کو کمزور کرنا سمجھا جاتاہے۔ جو  ریاستی معاملات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کیلئے بھی راستہ ہموار کرتاہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ صوبوں کی خوشحالی کی ذمہ داری وفاق کی نہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ صوبے صرف اپنے بچے کھچے وسائل ہی دیگر صوبوں کودیں گے؟ کیا باقی صوبوں کے لوگ اس ملک کے شہری نہیں؟  کیا تمام صوبوں کے لوگ ایک ریاست کے شہری نہیں؟ تو ان میں تفریق کیوں؟ ان کے لیے مختلف پالیسیاں کیوں؟ مختلف قوانین اور ٹیکس کیوں؟ آخر لاہور، خضدار، چترال، لالہ موسیٰ، چلاس، پشین، لاڑکانہ ،  باجوڑ  اور اسلام آباد میں فرق کیوں ہے؟

 

اسلام کا نظام وفاقی نہیں بلکہ واحدانی ہے، جس میں ریاست مختلف اکائیوں کے معاہدے یا اتحاد سے وجود میں نہیں آتی، بلکہ یہ تمام اکائیاں ایک ریاست  اور ایک سرزمین ہوتی ہیں جس کے مسلمان شہری  ووٹ کے ذریعے خلیفہ کو منتخب کرکے شریعت کے نفاذ کی شرط پر اسے  بیعت دیتے ہیں۔ خلیفہ ریاست کو مختلف انتظامییونٹس میں تقسیم کرکے اپنے والی (گورنر) مقرر کرتا ہے، جن کی تقرری خلیفہ کی صوابدید پر ہے لیکن مجلس ولایہ کی شکایت پر اسے ہٹانا لازمی ہوتا ہے۔ تمام وسائل ریاست کی مشترکہ ملکیت ہیں، کسی ایک ولایہ کی نہیں۔ تمام ولایات کے تمام امور کی ذمہ داری خلیفہ کے سر ہے ، جس کو وہ والیوں کی مدد سے سرانجام دیتا ہے۔ تمام ریاست میں ایک ہی شرعی قانون اور ایک جیسی پالیسیوں کا نفاذ ہوتا ہے، اگرچہ انتظامی طور پر غیر مرکزیت(Decentralisation) کو بہتر تنظیم کیلئے اختیار کیا جاتا ہے۔ ایسا ہی ہمیں رسول اللہﷺ کی سنت مبارکہ اور خلفاء راشدین کے طرز عمل سے نظر آتا ہے ۔ اٹھارویں ترمیم جیسے مسائل کا حل خلافت کا واحدانی نظام ہے ، نہ کہ نت نئے تجربے، جس کا نتیجہ بخوبی معلوم ہے۔سیدنا ابوشریح خزاعیؓسےروایت ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

فَإِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ فَتَمَسَّكُوا بِهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا

" یہ قرآن ایک رسی ہے، اس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے، اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو، کیونکہ اس کے بعد تم ہرگز نہ گمراہ ہو سکتے ہو اور نہ ہلاک "(صحیح ابن حبان)۔ 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک