الخميس، 11 ذو القعدة 1441| 2020/07/02
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    17 من شوال 1441هـ شمارہ نمبر: 67 / 1441
عیسوی تاریخ     پیر, 08 جون 2020 م

پریس ریلیز

مخلص اور نگہبان ریاست خلافت کی غیر موجودگی میں مسلمان کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے بحران کا سامنا یتیموں کی طرح کر رہے ہیں

 

 

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد چین سے زیادہ ہو گئی ہے جہاں سے یہ وباء عالمی سطح پر پھیلی تھی اور جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ ہسپتال کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے بھر گئے ہیں اور اب کچھ ہسپتال مریضوں کو داخل کرنے سے معذرت کرتے ہوئے انہیں واپس بھیج رہے ہیں۔ غیر مناسب حفاظتی اقدامات کے باعث اس وائرس سے متاثر ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان علاقوں میں وینٹی لیٹرز کی قلت ہے جہاں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس بحران سے پہلے ہی سرکاری ہسپتالوں کی استعداد بہت محدود تھی جس کی وجہ سے اب لوگ وہاں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نجی ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہیں جن کا داخلہ، ادویات اور ٹیسٹ کے اخراجات بہت ہی زیادہ ہیں اور عام آدمی کے لیے انہیں برداشت کرنا ممکن ہی نہیں۔ جیسے جیسے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ویسے جراثیم کش اشیاء (سینیٹائزرز) اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ان کی سپلائی طلب کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ "اسمارٹ لاک ڈاؤن" کے تحت روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جبکہ اس بیماری کو مؤثر طور پر روکنے کے لیے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیسٹ کیے جانے چاہیے۔ پی ٹی آئی کی حکومت واضح طور پر غیر موثر ثابت ہو رہی ہے، وہ ایسے دعوے اور اعلانات کر رہی ہے جیسے یہ وباء اور بحران کسی اور ملک میں موجود ہو۔ بیماری پر قابو پانے کے لیے درکار مؤثر پالیسی اور عملی اقدامات سے منہ موڑنے کی وجہ سے اب جب اس بیماری نے بھرپور شدت اختیار کر لی ہے تو پی ٹی آئی کی حکومت اس کی ذمہ داری عوام پر ڈال رہی ہے۔

 

جمہوریت بنیادی طور پر مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وہ طاقتور حلقوں کے مفادات کی تکمیل کو عام عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ موجودہ بحران کے دوران بھی پی ٹی آئی کی حکومت غیر ملکی اور مقامی سرمایہ داروں کو سود کی ادائیگی کر رہی ہے جو پاکستان کے قرضہ کے بحران سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جمہوریت میں صحت کے شعبہ پر برائے نام توجہ دی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں جمہوریت میں نجی کمپنیوں کو سرکاری ہسپتالوں کو سروسز، ادویات اور طبی آلات کی فراہمی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں یا پھر شعبہ صحت بشمول ہسپتالوں کے، نجی شعبے کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں جمہوریت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ شعبہ صحت کو اتنے مالی وسائل بجٹ میں فراہم ہی نہ کیے جائیں جس کے ذریعے سرکاری شعبے میں ایک مضبوط اور باصلاحیت صحت کا شعبہ قائم ہو سکے۔ ریاست کی جانب سے صحت کے شعبے میں بہت ہی محدود وسائل فراہم کیے جاتے ہیں نتیجتاً نجی کمپنیاں ان بیماریوں کے علاج دریافت کرنے پر سرمایہ لگاتیں ہیں جن کے پھیلاؤ کا ثبوت ان کے پاس ہو تاکہ وہ ادویات کی فروخت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نفع کما سکیں اور یوں شعبہ صحت بڑے پیمانے پر ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے درکار صلاحیت سے محروم رہتا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی جمہوریت کی ناکامی واضح نہیں ہوئی بلکہ پوری دنیا میں اس کی ناکامی واضح ہے اور اس میں امریکا بھی شامل ہے جو جمہوریت کا علمبردار ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر آنے والے کیسز اور مجموعی کیسز اور اموات کے لحاظ سے امریکا اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے۔ اس کے باوجود امریکا  نے طاقتور اشرافیہ کو معاشی نقصان سے بچانے کے لیے کئی ٹریلین ڈالر خرچ کیے جبکہ اس کے ارب پتی افراد  نے اس بحران کے دوران اپنی دولت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ

" تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ پھر جو کوئی سلطان ہے وہ لوگوں پر ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا" (بخاری و مسلم)۔

 

اسلام کی حکمرانی کے دور میں خلفاء نے اعلیٰ پیمانے کا صحت کا شعبہ قائم کیا جسے بھرپور سرکاری وسائل فراہم کیے جاتے تھے کیونکہ شعبہ صحت کا قیام اسلام  نے ریاست پر فرض کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کی ذمہ داری بھی ریاست پر ہی ڈالی ہے۔ خلافت کے ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے فراہم کیے جاتے تھے جب تک کہ وہ بیماری سے مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو جاتے۔ خلافت میں ہسپتال تحقیق اور طبی تربیت فراہم کرنے میں فعال تھے اور اسلامی تہذیب نے وہ بنیادیں فراہم کیں جس پر آج کی جدید طب کی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے علاوہ خلافت میں شعبہ صحت کو بہت زیادہ اہمیت اسلام کے فروغ کے لیے دعوت و جہاد کی وجہ سے بھی ملی کیونکہ جنگوں کے دوران پیش آنے والی ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خلافت میں ہسپتالوں کا ایک بڑا جال بچھایا جاتا تھا۔ لہٰذا آج نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کی واپسی کے بعد ہی دنیا کے لوگوں کو سکون ملے گا جو جمہوری نظام میں انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے جبر کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحريرکا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک