Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    22 من ذي القعدة 1441هـ شمارہ نمبر: 80 / 1441
عیسوی تاریخ     پیر, 13 جولائی 2020 م

پریس ریلیز

خلافت معیاری تعلیم مفت فراہم کرکے نجی اسکولوں کی بھاری بھرکم فیسوں سے عوام کو نجات دلائے گی

 

ہر سال نجی اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ ہوجانا کچھ عرصے سے عوام کے درمیان ایک بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مسئلے پر پچھلے چند سالوں سے عدالتوں نے بھی احکامات جاری کیے ہیں۔  معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے والدین کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ ان کے لیے اسکول کی فیس ادا کرنا مشکل سے مشکل بنتا جارہا تھا لیکن یہ مسئلہ موجودہ غیر مستحکم معاشی حالات میں مزید گھمبیر ہوگیا ہے کیونکہ کورونا وائرس  کی وباء نے معاشی حالات کو بہت خراب کردیا ہے۔ اب یہ بات عام ہوتی جا رہی ہے کہ والدین رعایت ملنے کے باوجود نجی اسکول کی فیسیں ادا نہیں کر پا رہے۔  فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بچوں کو اسکول سے نکالا جاتا ہے جو والدین کے لیے انتہائی اذیت اور حزیمت کی بات ہوتی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کو کم فیس والے اسکول میں منتقل کرنا پڑتا ہے یا پھر وہ اپنے ایک یا تمام بچوں کے لیے گھر میں پڑھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ زیادہ تر کاروبار مشکلات کا شکار ہیں یا وہ ختم ہورہے ہیں، اسی طرح نجی اسکول بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ بڑے اسکول جو معاشرے کے امیر افراد کے بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں، آن لائن کلاسز کے باوجود والدین سے پوری فیس کا تقاضا کررہے ہیں جبکہ کئی چھوٹے اسکول فیس جمع نہ کر پانے کے باعث بند ہو رہے ہیں۔ بچوں کے والدین اور نجی اسکول مالکان دونوں کے لیے صورتحال خراب ہے۔  یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ بحران طویل ہے اور تمام فریقین کو انصاف کی فراہمی کے بنا جاری رہے گا۔

 

                اے پاکستان کے مسلمانو!

نجی اسکول ایک مہنگی ضرورت ہے جس کے تیزی سے پھیلنے کی واحد وجہ سرکاری اسکولوں کی انتہائی خراب حالت تھی اور ہے۔ سرکاری اسکول کم تنخواہوں، اساتذہ میں موٹیویشن کے فقدان، کلاسوں میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور بنیادی سہولیات سے محرومی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ موجودہ نظام سرکاری سطح پر تعلیم فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام ثابت ہوا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے پنجاب کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہاں اب پچاس ہزار سے زیاد نجی اسکول موجود ہیں۔  سرکاری سطح پر تعلیم کی فراہمی سے کی جانے والی غفلت کی وجہ تسلسل سے آنے والی نااہل حکومتیں ہیں جو مغرب کے استعماری اداروں کے مطالبات کی غلام ہیں۔ حکومت اپنے بجٹ کا ایک تہائی سے بھی زیادہ سود کی ادائیگیوں پر خرچ کرتی ہے، جس کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے، اور اس طرح اتنا پیسہ بچتا ہی نہیں کہ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال پر خرچ ہوسکے جس میں پرائمری اور سیکنڈری کی سطح پر معیاری مفت  تعلیم کی فراہمی بھی شامل ہے۔

 

                اسلامی ریاست پر یہ فرض ہے کہ وہ ہر فرد، خواہ وہ مرد ہو یا عورت،  کو اُس تعلیم سے آراستہ کرے جو روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دور میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم لازمی مفت فراہم کی جائے جبکہ اعلیٰ تعلیم  بھی ممکن حد تک مفت فراہم کی جائے۔ افراد کو اس چیز کی تعلیم دینا جو ان کی روزمرہ زندگی کی ضرورت ہو، لازمی امور میں سے ایک اہم امر ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں نقصان سے بچا جاتا ہے اور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے  کافر قیدیوں کا تاوان دس مسلمان بچوں کو پڑھانا رکھا تھا۔ آپﷺ نے تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا اور انہوں نے مسلمانوں سے اس کی کوئی اجرت نہیں لی۔

 

                خلافت تعلیم کی فراہمی کے فرض سے کوتاہی نہیں برتے گی بلکہ اسے ایک سہولت کی طور پر فراہم کرے گی اور پھر اس کے بعد ان نجی اسکولوں کو "مافیا" قرار دے گی جنہوں نے تعلیم کو ایک کاروبار بنا لیا ہے۔      کئی صدیوں تک خلافت نے اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کی اور موجودہ دور کی ریاضی، سائنس، آرٹس، انجینئرنگ اور طب  کی بنیادیں رکھیں۔ صرف نبوت کے نقش قدم پر خلافت کی واپسی ہی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بلآخر ہماری کمر توڑے بغیر  ہمارے بچوں کو ایسی تعلیم ملے  جو ان کی دنیا و آخرت میں کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

"مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں "(التحریم، 66:6)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.