الخميس، 14 صَفر 1442| 2020/10/01
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    16 من محرم 1442هـ شمارہ نمبر: 1442 / 09
عیسوی تاریخ     جمعہ, 04 ستمبر 2020 م

پریس ریلیز

یہ صرف ہماری خلافت ہی ہو گی جو ہماری افواج کی قوت کے ذریعے اِن شیطانوں کے ہاتھوں اور زبانوں کو لگام دے گی، جو ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں مسلسل گستاخیاں کر رہے ہیں

 

پاکستان کے مسلمانوں کا خون  فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو (Charlie Hebdo) کے جانب سے رسول اللہﷺ کی شان میں مسلسل گستاخیوں کی وجہ سے غصے سے اُبل رہا ہے جبکہ پاکستان کے حکمران ہمارے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی  کوشش کررہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے اِس ایک اور زندگی اور موت کے مسئلے کے متعلق  اپنی کوتاہی سے توجہ ہٹاسکیں۔  3 ستمبر 2020 کو پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک محتاط بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان کے مسلمانوں کو یاد دلانے کی کوشش کی  کہ وزیر اعظم عمران خان نے توہین آمیز خاکوں کے مسئلے کو 2019 ءمیںاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اٹھایا تھا۔

 

اقوام متحدہ کے سامنے مسلمانوں کے لیے زندگی و موت کے مسئلے کو اٹھانے کا کیا فائدہ کہ جس کی سیکیورٹی کونسل میں اسلام اور مسلمانوں کی بدترین دشمن طاقتیں حاوی ہیں،جنہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے؟ ایسے مذمتی بیانات کی کیا کوئی اوقات ہے جبکہ پاکستان کے حکمرانوں کی کمانڈ میں دنیا کی پانچویں بڑی آرمی ہے جس کے فوجی اور افسران شہادت کے جذبے سے سرشارہیں؟   اور ایسے حکمرانوں کی کیا کوئی وقعت ہے کہ جنہیں نہ تو رسول اللہﷺ کی شان میں ہونے والی توہین کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی وہ اسے روکنے کے لیے کوئی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں جس کا مطالبہ دینِ اسلام کرتا ہے؟

 

اے پاکستان کے مسلمانو اور افواج پاکستان!

رسول اللہﷺ نے فرمایا،

لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

" تم میں سے کوئی شخص ایمانوالا نہیں ہو سکتا جب تک میری محبت اس کے دل میں اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ نہ ہو جائے"(بخاری ومسلم)۔ 

 

یقیناً ہم مسلمان وہ لوگ ہیں جو رسول اللہﷺ کی شان کے  دفاع کے لیے اپنے جان و مال کی قربانی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ یقیناً رسول اللہﷺ کی حرمت کا شایانِ شان دفاع صرف وہی حکمران کریں گے جو رسول اللہﷺ سے ویسے ہی محبت کرتے ہوں کہ جیسے ہم کرتے ہیں، وہ حکمران کہ جو نبی ﷺ کی لائی ہوئی مبارک شریعت کی بنیاد پر حکمرانی کرتے ہوں اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سواء دنیا کی کسی طاقت سے خوف نہ کھاتے ہوں۔  بلاشبہ ماضی میں جب خلافت اپنی تاریخ کے کمزور ترین مقام پر تھی تب بھی خلافت کی طرف سے رسول اللہﷺ کی شان میں ہونے والی توہین کا بدلا لینے کے لیے مسلمانوں کی جانوں اوروسائل کو بروئےکار لایا جاتا تھا۔

 

کمزور پڑتی خلافت کے خاتمے سے صرف بیس سال قبل صلیبی طاقتوں ، برطانیہ اور فرانس نے رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی ایک ڈرامہ اسٹیج کرنے کی کوشش کی، لیکن خلافت نے فوجی کاروائی کی دھمکی دے کر ان شیاطین کی زبانوں کو لگام دے دی اور ان کے ہاتھروک دیے۔ جیسے ہی مسلمانوں کے خلیفہ سلطان عبدالحمید دوئم  کو اس جسارت کی خبر ملی تو انہوں نے فرانس کو دھمکی دی اور فرانس فوراًیہ ڈرامہ دکھانےسے رک گیا۔ اور جب برطانیہ نے متکبرانہ طرز عمل اختیارکیا  اور کہا کہ اس ڈرامے کے ٹکٹ فروخت ہوچکے ہیں اور ڈرامے کو بند کرنا اس کے شہریوں کی "آزادی" میں مداخلت ہے، تو خلیفہ نے صرف اتنا کہا، "میں اسلامی امت کی طرف حکم نامہ جاری کروں گا کہ برطانیہ ہمارے نبیﷺ کی توہین کررہا ہے۔ اورمیں جہاد کا اعلان کرتا ہوں۔۔۔"۔  یہ سن کر برطانیہ کی زبانیں خاموش ہو گئیں اور ہاتھ مفلوج ہوگئے ،اور پھر جب تک خلافت موجودرہی اسے رسول اللہﷺ کی شان میں توہین کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ لیکن آج جب خلافت کا خاتمہ ہوچکا ہے تو شر انگیزکافر اس  شیطانی عمل کو بغیر کسی خوف کےبار بار دُہرا رہے ہیں ۔

 

یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ہمارے دشمن ہماری جان، ہمارے علاقوں، ہمارے دین اور ہمارے رسول اللہﷺ کی ناموس پر حملے کرنے سے باز نہیں آئیں گے جب تک ہم اپنی  ڈھال، خلافت، کو بحال نہیں کرتے۔ لہٰذا وہ تمام لوگ جو رسول اللہﷺ سے حقیقی طور پر محبت کرتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے دن رات ایک کردیں، جس کے ذریعے اسلام کی عظمت کا پرچم بلند ہو گا اور دینِ حق اپنے نور سے پوری دنیا کو روشن کردے گا۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک