الثلاثاء، 30 ذو القعدة 1438| 2017/08/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

کیوبیک مسجد حملہ

مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا

 

29 جنوری بروز اتوار، کیوبیک کے اسلامک سینٹر پر بھر پور فائرنگ کی گئی۔فائرنگ کے نتیجے میں 6 مسلمان جاں بحق جبکہ دیگر لوگوں میں 5 شدید زخمی اور 12 افراد معمولی زخمی ہوئے۔  فل وقت کیوبیک سٹی سے تعلق رکھنے والا الیگزینڈر بسونیٹ مسجد فائرنگ کے حوالے سے قتل کے6 جبکہ5 اقدام قتل کے مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اس نے سوشل میڈیا پر کھلم کھلا "پناہ گزینوں کی مخالفت کی اور لی پین اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے حمایت کا اظہار کیا"(لی پین فرانس میں ایک اسلام مخالف پارٹی کی سربراہ ہے)۔

 

انناا للہ و انا الیہ راجعون۔ ہم ان 6 بھائیوں کے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں جن کو اس حملے میں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سوگواروں کو صبر اور اجر عطا فرمائے۔ ہم یہ بھی دعا کرتےہیں کہ اللہ تعالیٰ مقتولین کو روز قیامت شہداء کے ساتھ اٹھائے، اگر چہ ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کر کے اپنے رب کی قربت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور آخر میں ربِ کائنات کے حضور یہ دعا کرتےہیں کہ مشکل کی اس گھڑی سے گزرنے والوں کے درجات بلند  اور انھیں صبر عطا فرمائے۔ آمین۔

 

اس مشکل گھڑی میں ہم خود کو اور اس امت کو یاد کرانا چاہتے ہیں کہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ انسان کی حفاظت پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ  نےفرمایا:

 ﴿أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ

"تم جہاں بھی ہو،موت تمہیں آ لے گی، یہاں تک کہ تم مضبوط اور اونچے قلعوں میں بھی رہو تب بھی"(النساء:78)

 

نتیجتاً ہمیں اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کی فکر میں یہ نہیں بھول جانا چاہیے کہ ہمیں موت  اپنے وقت مقررہ پر ہی آ لے گی۔ ہمیں صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چا ہیے کہ اسی کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے، اور اسی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔

فائرنگ کرنے والے کے اقدام کا محاسبہ کرتے ہوئے ہمارا غم و غصہ بجا ہے۔ تاہم اسی دوران  یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ وہ شخص اتنا متنفر کیوں تھا؟ مسلمانوں اور اسلام سے اس کی نفرت کی وجہ کیا تھی؟

 

اگرچہ کچھ لوگوں نے اس آدمی کی شددت پسند سوچ کو لی پین کے گذشتہ سال مارچ کے دورے سے جوڑا ، لیکن سچ یہ ہے کہ کیوبیک کا  سیاسی طبقہ کیوبیک میں اسلام مخالف جذبات بھڑکانےمیں پیش پیش رہا ہے۔  مارچ 2010 میں بل - 94 کے تحت  خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی لگا کر مسلمانوں کونشانہ  بنانےکا سلسلہ شروع کیا۔ جین کریسٹ، جو کہ لبرل اور کیوبیک کے صوبے کا گورنر ہے، نے کہا "Two words:Uncovered face" ۔ 2013میں  پارٹی کیوبیکس نے چارٹر آف ویلیوز کے ذریعے حجاب پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔اگرچہ یہ پابندی کئی مذاہب  کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے، مگر اس نے خاص طور پر مسلم خواتین کو نشانہ بنایا۔ اس دوران مسلمانوں کے خلاف متشدد عناصر کی نفرت میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا۔

 

بہرحال، باوجود اس کے کہ یہ حملہ چونکا دینے والا ہے،مگر یہ غیر متوقع نہیں تھا جس کی وجہ وہ نفرت آمیز ماحول تھا جو موقع پرست سیاست دانوں کی طرف سے باقاعدہ طور پر بنایا گیا۔

 

  کینیڈا، یورپ اور امریکہ کے سیاست دان اپنے معاشرے کے شددت پسند سوچ کے حامل افراد کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔ہم نے یہ دیکھا جب  کینیڈین کنزرویٹو پارٹی کی طرف سے نقاب اور مسلمانوں پر کھلم کھلا تنقید  کی گئی۔ ایسا ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کی صورت میں بھی نظر آیا جس نے مسلم پابندی کا وعدہ سچ کر  دکھایا جو کہ شروعات میں چند مسلم ممالک کے لیے ہے۔ امریکہ میں بھی ٹیکساس میں ایک مسجد کو جلا دیا گیا اور یہ کیوبیک کے واقع سے صرف ایک دن پہلے ہوا۔  یورپ میں بھی ہمیں حجاب،نقاب یہاں تک کہ قران مجید پر پابندی لگانے کی کوششیں نظر آتی رہی ہیں۔

 

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

جوں جوں سرمایہ دارانہ نظام عوام کی مشکلات حل کرنے میں ناکام ہوتا  جارہاہے ، مغربی استعماری ممالک کے سیاسی طبقے کے پاس دو حل ہی بچتے ہیں، یا تو نظام میں مثبت تبدیلیاں کر کے لوگوں کی مشکلات آسان کریں ، یا پھر بھونڈے سیاسی حربوں سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو مورد الزام ٹھہرا کراس نظام کے مسائل ان کے کھاتے میں ڈال دیں۔ بدقسمتی سے لگتا ہے کہ سیاسی طبقے نے دوسرا حل پسند کیا ہے۔ ڈر اور نفرت کی سیاست انہیں مسلم ممالک پر قبضہ  کرنے کا جواز بھی فراہم کرتی ہے جس سے وہ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات پورے کرتے ہیں۔ عراق اور دیگر ممالک کا تباہ ہونا ایسی ہی پالیسیوں کا  نتیجہ ہے۔

 

مسلمانوں کو اللہ پر اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے اور خوف و ڈر کے حالات میں ثابت قدم رہنا چاہیے اور ساتھ ساتھ اس اصل حل کے لیے دعوت دیتے رہنا چاہیے جو انسانیت کے لیے درست حل ہے، یعنی وہ رحم اور دانائی سے بھرپور نظام حیات جسے قرآن وسنت کے ذریعے اتارا گیا۔ اللہ ہمیں  اور ہمارے خاندانوں کو ہمت اور طاقت عطا کرے ، ہمارا حافظ ہو اور اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے۔

 

ہجری تاریخ :26 من جمادى الأولى 1438هـ
عیسوی تاریخ : جمعہ, 03 فروری 2017م

حزب التحرير
کینیڈا

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک