السبت، 11 صَفر 1440| 2018/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ ترکی

ہجری تاریخ    30 من رجب 1438هـ شمارہ نمبر: TR-BA-2017-MB-TR-007
عیسوی تاریخ     جمعرات, 27 اپریل 2017 م

پریس ریلیز

  کیا ترکی کا مقام امت مسلمہ کی قیادت کرنا ہے یا یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنا ؟

 

یورپی کونسل کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) کے رکن ممالک  اپنےموسم بہار کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لئے 25 اپریل 2017 کو ملے، جس میں ایک رپورٹ بعنوان " ترکی میں جمہوری اداروں کی عملی کارکردگی" پر بحث کی گئی۔ اس اجلاس میں رپورٹ کے ساتھ آنے والے فیصلے کےمطابق 45 ووٹوں کے مقابلے میں 113 ووٹوں کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ ترکی کا "سیاسی معائنہ"("political inspection") کیا  جانا چاہئے۔اسرپورٹ میں مطالبہ کیا گیا  کہ "خاص طور پر 15جولائی  کی بغاوت کی کوشش کے بعد ہنگامی حالت کے تحت کیے گئے فیصلوں سے جمہوری اداروں کے کام کرنے  کے طریقہ کار میں کمزوری واقع ہوئی ہے، لہذا ہنگامی حالت کو جلد از جلد ختم کیا جانا چاہئیں"۔ اس مطالبے کے  بعد ترکی اور یورپ کے درمیان تعلقات2004  سے پہلے کی سطح  پرواپس لوٹ گئے ہیں۔ صدر اردوان نے یورپی کونسل کی پارلیمانی اسمبلی (PACE) کی جانب سے" معائنہ " کے مطالبہ کو ایک "سیاسی فیصلہ" قرار    دیا اور کہا "ترکی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا"۔

 

ہم حزب التحریر/ ولایت ترکی  نے ، پورے 13 سال پہلے، 12 ستمبر 2004 میں استنبول میں منعقدہ ایک کانفرنس میں ایک سوال پوچھا تھا ؛" کیا  ترکی کا مقام امت مسلمہ کی قیادت ہے یا  یورپی یونین کی رکنیت ؟ " اور کہا تھا کہ "ترکی کی جگہ سامراجی یورپ میں نہیں!اس کے بجائے اسے امت مسلمہ کی قیادت کرنا چاہئے،تاکہ یہ تمام انسانیت کے لئے تہذیب، مسرت اور امن کا پرچم بردار ہو سکے۔ اور جبوزیر اعظم رجب طیب اردوان کی طرف سے مذاکرات کی تاریخ ترکی کی طرف ایک بار پھر واپس پیش کی گئی ، جب اردوان کا "یورپ کے فاتح" کے طور پر خیر مقدم کیا جارہا تھا تو ہم نے ان کے نام مشورہ اور تنبیہ کا ایک کھلا خط لکھا تھا ؛ "اس ملک کے حکمران اس کے لوگوں کو اپنے دین سے پھیرنےمیں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے ،یہ حکمران بے کار اور گھٹیا مغربی تہذیب اور اس  کے نیچ  اور آلودہ مغربی نظریات پر چلنے پر کبھی   بھی لوگوں کوقائل نہیں کرسگیں گے۔ یورپی یونین ترکی کو کبھی بھی اپنی صفوں میں قبول نہیں کرے گا جب تک کہ یہ مکمل طور پر اسلام کو چھوڑ نہیں دیتے"،  کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

 

«الدِّينُ النَّصِيحَةُ» قيل: لمن يا رسول الله؟ قال: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ»

"دین نصیحت ہے."ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ کس کے لئے؟آپ ﷺ نے فرمایا ، "اللہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کے لئے،مسلمانوں کےرہنماؤں اور ان کے عام لوگوں کے لئے"

 

ہم  بھروسہ کرتے ہوئے ایک بار پھر ترکی کے حکمرانوں کو مشورہ  دیتے  ہیں!شاید وہ اپنے غلط عمل سے گریز کریں اور نصیحت حاصل کریں!

 

1- آپ کو اعلان کرناہے کہ آپ نے یورپی یونین کے ساتھ تمام تعلقات ختم کردیئے ہیں جو  کہ کفارممالک پر مشتمل ہے جواسلام اور مسلمانوں کےمخالف ہیں اور یہ کہ آپ ترکی کو یورپی یونین میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

2- آپ ترکی کا کنٹرول حوالے کردینگے :امریکہ کو اگر آپ صدارتی نظام اختیار کرتے ہیں ،یورپ کو اگر آپ یورپی یونین میں شمولیت اختیار کرتے ہیں، اور روس کواگر آپ شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔یہ ترکی کے عوام کے لئے آپ کی طرف سےکیا جانے والا ایک نہایت ہی  گھٹیا فیصلہ ہوگا۔ امریکہ، یورپ، روس ہم سے کبھی بھی خوش نہیں ہونگے جب تک ہم ان کے مذہب میں شامل نہ ہوجائیں۔  لہٰذا ان کو خوش کرنا بند کریں!

 

3- ترکی کبھی بھی استعماری طاقتوں کے تحت ایک مضبوط ملک نہیں بن سکتا۔اس کے بالکل برعکس یہ صرف انہیں اپنا  مکمل کنٹرول حوالے کر دےگا اور خودان کے دیئے ہوئے نیچ کاموں کو  پورا کرنے میں گھل جائے گا۔ لہٰذا ان استعماری طاقتوں سے تعلقات ختم کریں جو ترکی کے اوپر کسی سر کاٹنے والی مشین کی طرح کھڑے ہیں۔

 

4- یہ اچھی طرح سمجھ  لینا چاہئے کہ صرف نبوت کےطریقہ  پر خلافت راشدہ  کا دوبارہ قیام ہی امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے۔تو ہم صرف اپنے دین کی وجہ سے ہی عظیم اور طاقتور بنیں گے ، اپنے رب کی مدد سے مضبوط ہوں گے ، اس دنیا اور بعد میں آنے والی آخرت کی زندگی میں خوش اور امن میں ہوں گے۔

 

﴿وَلَيَنصُرَنَّاللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيز

" اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ بڑی قوت والا (سب پر)  غالب ہے"

(سورة الحج: 40 )

 

ولایہ ترکی میں حزب اتحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ ترکی
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
www.turkiyevilayeti.com
E-Mail: [email protected]

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک