الجمعة، 17 ذو الحجة 1441| 2020/08/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

جنیوا - 2  کانفرنس میں صرف اہل یمن  ہی نقصان اٹھانے والے ہیں

   اقوام متحدہ  کے دوسرے نمائندے برائے یمن اسما عیل ولد الشیخ احمد  کی نگرانی میں  یمن کے حوالے سے جنیوا- 2 کانفرنس  کی پہلی نشست کا انعقاد  بروز منگل 15 دسمبر2015 کو ہوا ۔  نو مہینے کی خونریز جنگ کے بعد  فریقین آج  سوئزرلینڈ میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے جس میں دسیوں ہزار  بے گناہ لوگوں  مارے گئے ہیں ۔  یمن میں دونوں  متحارب فریق  اپنے اور اپنے آقا کے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ،اور   بلا آخر یہ  اس بات کو تسلیم کر لیں گے جو استعماری ممالک کے اتفاق کے بعد   ان کے سامنے مذاکرات کی میز پر رکھا جائے گا ، اورپھر یہ اہل یمن کو   اس کے بدبودار نتائج کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کام کریں گے۔

اقوام متحدہ اور جنیوا شہر کب مسلمانوں کے لیے نجات دہندہ ثابت ہوئے ہیں؟! وہ لوگ کہاں ہیں  جو یمن کی سرپرستی کو ختم کرنے کی بات کرتے تھے،   انہوں نے تو اقوام متحدہ کو پکار پکار کر اپنے گلے بیٹھا لیے، اور یمن میں جاری جنگ اور تنازعمیں مداخلت   کے لیے خطوط لکھتے لکھتے ان کے قلم سوکھ گئے ؟! جنیوا جانے کا مطلب یمن کی سرپرستی  کو ختم کرنا نہیں،  بلکہ جنیوا جانے کا مطلب  اس کو برقرار رکھنا ، اس کو قبول کرنا اور اس کو خوش آمدید کہنا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں :

﴿يا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ *  كَبُرَ مَقْتًاً عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ

" اے ایمان والو  تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ تم جو کرتے نہیں  اس کا کہنا   اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسندہے"(الصف:3-2)۔

   یمن میں جاری جنگ کے دونوں فریقوں نے مصافحہ کیا ،  یاد گار تصویر بنوائی ،   اپنے ہاتھوں مارے گئے لوگوں کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی،  گویا کہ ایک طویل عرصے تک  بہنے والا خون ان کے ہاتھوں نہیں بہایا گیا۔  جنیوا- 2  مذاکرات  اسی طرح شر وع ہو گئے جس طرح اقوام متحدہ کے پہلے نمائندے جمال بن  عمر کی سرپرستی میں  صنعاء کے موون پیک ہوٹل میں   حوثیوں  کی شراکت سے شروع ہوئے تھے جب وہ اسلحہ کے زور پر اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے صعدہ سے صنعا پہنچے تھے؛ جس سے یمن میں اقوام متحدہ  کا مشکوک کردار بے نقاب ہو تا ہے  جو کہ امریکہ کی خدمت کے لیے حوثیوں کو اقتدار تک پہنچانے  کے لیے ہے۔ اور یہ اس وقت ہورہا ہےجب ایک  طرف توامریکہ  نے دنیا بھر میں ان لوگوں کے خلاف جنگ برپا کر رکھی ہے جنہوں نے اقتدار تک پہنچنے کے لئے غیر جمہوری طریقہ اپنا یا،اور جواپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے  اسلحے کا استعمال کرتے ہیں۔  مگر امریکہ  نے حوثیوں کی تمام سرگرمیوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، بلکہ   حوثیوں کے اقتدار میں شامل ہونے پر امریکہ نے  یمن میں اپنے سفیر  متھیو ٹولر کی زبانی اس کو خوش آئند کہا تھا۔   انہوں نے یمن میں اپنے ملک کے سفارت خانے میں18 ستمبر 2014 کو پریس کانفرنس  میں کہا تھا کہ ، " ہم ان گرپوں میں فرق کرتے ہیں جنہوں نے سیاسی عمل میں حصہ لیا ،  حوثی تحریک  نے  قومی بات چیت کانفرنس میں حصہ لیا  جس سے بہت مثبت نتائج بر آمد ہوئے،  ان کا سیاسی موقف اور  خواہشات ہیں جو کہ جائز ہیں۔۔۔ اسی لیے ہم الحوثی اور اس کی تحریک  کی حمایت کرتے ہیں  کہ وہ  بھی وہی اقدامات کریں جو  دیگرسیاسی جماعتیں اور پارٹیاں کر رہی ہیں"۔   پھر امریکہ نے جمال بن عمر اور اسماعیل ولد شیخ کے ذریعے  یمن میں برطانوی اثرو رسوخ کو زائل کرنے اور اس کی جگہ  اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے  حوثیوں کی مدد کی۔ یمن میں  انگریز سفیر  جین میریاٹ  نے حمید الاحمر سے کہا کہ ،" حوثین صنعاء پہنچ کر ہی رکیں گے، اور ان کا اپنا ایک  ایجنڈا ہے"۔

  یمن میں امریکی اقدامات  کو سمجھنے والوں نے  صالح اور اس کی پارٹی کو  حوثیوں کے دشمن سے  اس کا  حلیف اور مدد گار بنا دیا تاکہ  جنگ کے بعد  ان کے ساتھ  اقتدار میں ان کا بھی حصہہو اور  منصور ھادی کو ملنے والا حصہ اس کے علاوہ ہو گا؛  جس کا یہ مطلب ہے کہ یمن میں خانہ جنگی ختم نہیں ہوئی بلکہ  کچھ عرصے کے لیے رک گئی ہے۔

جنیوا کے بند دروازوں کے پیچھے یہی کچھ ہو رہا ہے،اور ہم  یمن  کا محاصرہ ختم کیے جانے پر بات نہیں کرتے ہیں؛ کیونکہ اگر وہ  اس میں سنجیدہ ہو تے تو اس کا سبب ہی نہ بنتے، اور  اسی طرح قرارداد  2216 اور دیگر ان جیسی  اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کردیتے ہیں  جو 2012 سے جو کچھ یمن میں ہورہا ہے  اس کے حوالے سے ہیں۔

   اس میں کوئی شک نہیں کہ حزب التحریر  ہی وہ  قائد ہے جو اپنوں سے جھوٹ نہیں بولتا- وہ تمام مسلمانوں کو بالعموم اور ایمان اور حکمت کی سرزمین یمن کے باشندوں کو بالخصوص یہ بتاتی رہے گی کہ :  یمن میں رسی کشی  سیاسی غلبہ کے لیے نئے اور پرانے استعمار کے درمیان ہے۔ یہ پرانے استعمار اور شمال اور جنوب میں  سیاسی بالادستی والے  برطانیہ اور نئے استعمار  اور برطانیہ کی جگہ اپنی بالادستی قائم  کرنے کی کوشش کرنے والے امریکہ کے درمیان ہے۔   یہ  انہی کے درمیان تنازعہ ہے۔ وہ اس کے ٹکڑے کرنے کے لئے کام کررہے ہیں اور اس کو علاقائی تنازع کا حصہ بنا رہے ہیں جس میں یمن کے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے  کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا

" اے ایمان والو مومنوں کو چھوڑ کر   کافروں کو دوست مت بناو۔ کیا تم  اللہ کے سامنے اپنے ہی خلاف واضح  حجت قائم کرنا چاہتے ہو"(النساء:144)

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں  :

﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

" اللہ ہر گز مومنوں پر کافروں کو غلبہ نہیں دے گا"(النساء:141)

  یمن کے ایمان اور حکمت والے لوگوں نے  اپنے خون کو بہایا اور جنگجووں کے نزدیک اس خون کی کوئی حرمت نہیں تھی؛ کیونکہ جو لوگ  مفاد اور انانیت کے لیے کام کرتے ہیں وہ اس کے حصول کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں،  وہ مسلمانوں کا خون بھی بہا سکتے ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ»

" دنیا کا ختم ہو نا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان آدمی کے قتل   سے معمولی ہے"( اس کو ترمذی نے عبد اللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے)۔

       کیا اہل یمن اسی طرح کھیل کامیدان ہی بنے رہیں گے  جہاں بین الاقوامی کھلاڑی کھلتے رہیں گے  اور جیسے چاہیں ان کے ساتھ کھیلیں؟  یا پھر یہ اٹھ کھڑے ہوں گے  اور اپنی بات کریں گے، ان لوگوں کو مسترد کر دیں گے جو غیروں کے مفادات کے لیے  ان کو ہانکتے ہیں، اور ان لوگوں میں شامل ہو کر جدو جہد کریں گے جو نبوت کے طرز پر دوسری خلافت راشدہ کے قیام کی جدو جہد کر رہے ہیں،  تاکہ اللہ حق کو حق دکھائے اور باطل کو ملیامیٹ کر دے، اور استعماری مغربی ممالک کو لگام ڈالی جائے اور  ایمان اور حکمت کی سرزمین سے ان کے راج کا خاتمہ کیا جائے؟

ہجری تاریخ :11 من ربيع الاول 1437هـ
عیسوی تاریخ : منگل, 22 دسمبر 2015م

حزب التحرير
یمن

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک