الأربعاء، 14 ذو القعدة 1440| 2019/07/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    18 من محرم 1437هـ شمارہ نمبر: 1437AH/061
عیسوی تاریخ     منگل, 20 ستمبر 2016 م

پریس ریلیز

 

یمن کے بچوں کے لئے کون ہے؟

 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کی حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن کی کُل آبادی میں سے تقریباً1کروڑ 10لاکھ لوگ غذاکی شدید قلت کا شکار ہیں۔اس تعداد میں وہ 48لاکھ لوگ شامل ہیں جو  ہنگامی حالات کا شکار ہیں جبکہ 13لاکھ بچے قلتِ خوراک کا شکار ہیں جن میں سے پانچ سال سے کم عمر ہر تیسرا بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے ۔وہی مزید 8لاکھ50ہزار بچے  قحط جیسے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔بمباری،ادویات یا ایندھن کی قلت کی وجہ سے 600ہسپتال اوربنیادی صحت کے مراکز بند پڑھے ہیں جس کے سبب 70لاکھ بچے حفظان صحت کی سہولتوں سے محروم  ہیں۔

 

ایک طرف سعودی قیادت میں عرب اتحادکے جیٹ طیارے اوردوسری طرف حوثی قبائل اور صدر علی عبداللہ صالح کے دیگر حامیوں کی توپوں کی مسلسل اور قصداًبمباری ،جس کی مجرمانہ حقیقت غزہ اور جنوبی لبنان کے لوگوں پر یہودی وجودکی ہونے والی ننگی جارحیت کے ہم پلہ ہے، نے یمن کے بچوں کے لیے ایک انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے۔ڈیڑھ سال سے یمن میں  بڑھتی ہوئی جنگ نے یہاں کے لوگوں کے لیے کرب و ابتلا اور قیامت خیز حالات پیدا کر دیے ہیں خصوصاًبچوں پر  اس کے شدید اثرات  اور بھی زیادہ ہیں ۔مجلس عظمٰی برائے ممتاواطفال یمن (ذچہ و بچہ) کی رپورٹ کے مطابق مارچ2016تک 1600بچوں کی ہلاکت اور2258کے زخمی ہونے کی مصد قہ خبر یں مصول ہوئی ہیں۔ان زخمیوں میں 1650بچے اور بچیاں ایسی ہیں جو  اس جنگ کی وجہ سے اب معذورہیں۔اور مزید یہ کہ 10ہزار بچے بنیادی حفظانِ صحت کی سہولتوں کی یکسر عدم موجودگی کی وجہ سے بیماری اور وباؤں کے سبب اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔

 

ایک طرف جہاں اگر سعودی عرب  علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے ہمراہ  جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں تو دوسری طرف حوثی قبائل بشمول صالح کے حمایتی بھی قبیح جرائم میں ملوث ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ کیا کہ اس مصلح تصادم میں جہاں بین الاقوامی اور علاقائی دونوں طرح کے فریق موجود ہیں، بازاروں اور خورد و نوش کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کو قصداً ہوائی حملوں میں ہدف بناکر،شہروں اور قصبوں کا محاصرہ کر کے ان کوخوراک اور ادویات کی رسد سے محروم کرکے قحط سالی جیسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں جو کہ پوری ایک نسل کو موت کے دہانے تک پہنچا نے کے ذمہ دار ہیں بلکہ یہ دراصل عمداًبچوں کو بھوکا مارنے کی کوشش ہے۔

 

تعلیمی تسلسل بھی اس جنگ کے اثر ات سے بچ نہیں سکااور عملا ً2015سے مکمل طور پر تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔اوسطاً ہر ہفتہ2سکول نشانہ بن رہے  ہیں جس کی وجہ سے سکول جانے والی عمر کے بچوں میں سے تقریباًآدھے بچے سکول نہیں جا رہے۔سینکڑوں سکول مکمل یا جزوی تباہ ہو چکے ہیں اور رہے سہے باقی پناہ گزینوں کے لیے عارضی اقامت گاہ کا کام کر رہے ہیں۔اس سبب آج 30لاکھ بچے تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں اور سکول سے بچوں کے انخلا کا تناسب 49فیصدتک پہنچ چکا ہے۔

 

بظاہر اس جنگ کے ہاتھوں یمن میں بچوں کے حقوق کی پامالی پر اقوامِ متحدہ نالاں اور متنبہ کرتی نظر آتی ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی اقوام متحدہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کو اپنی سالانہ مصلح تصادم کی رپورٹ میں blacklisted ممالک کی فہرست سے نکال دیتا ہے۔اقوام متحدہ کی ایسی ہی منافقانہ روش  کے سبب اس کودنیا کی طاقتور ریاستوں کے اثر و رسوخ کے مقابلہ میں بودی اورایک  جانب دارتنظیم سمجھا جاتا ہے جو کے ایک مکروہ اورشرانگیزعالمی منصوبہ کے سہولت کارکا کردار ادا کر رہا ہے۔

 

لیکن اس تمام تر صورتحال کی قیمت یمن کے بچے چکا رہے ہیں۔ان بچوں کی زندگیاں اور خوابوں پران کے اپنے ہم وطنوں  یعنی حوثی قبائل اور انتہائی بر ے پڑوسی یعنی سعودی عرب کے حکمران نے ڈاکہ ڈالا ہے۔ سعودی عرب اور ان کے حلیفوں کے میزائلوں اور حوثی قبائل اور ان کے حمایتیوں کی بارودی سرنگوں کے سبب یمنی بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں، اس پربے شرم خاموشی اختیارکرنے والا عالمی اور عرب ذرائع ابلاغ (میڈیا)اور نام نہاد عالمی سماج کی منافقت، آنے والے وقتوں میں سب کے ضمیر پر بوجھ اور ملامت کا باعث رہے گا۔

 

خوشحال یمن عرب دنیامیں موریطانیہ کے بعد غریب ترین ملک بن گیا ہے جہاں بھوک کے شکار بچوں کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے۔

ہم یہاں حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے شعبہ خواتین کی جانب سے تمام مسلمانوں سے پُرزور مطالبہ کرتیں ہیں کہ یمن کے بچوں کی خاطر مداخلت کریں اور ان مجرمانہ ہاتھوں کو، جو کہ ان کے قتل کے درپے ہے،  روکیں اور اٹھیں اور اپنے اوپر سے اس کفر نظام اور اس کے کارندوں کو جنہوں نے اس خطےاور اس کے لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے کواتار پھینکیں ۔یمن میں اور اس کے بچوں کے لئے خوشیاں دوبارہ لوٹ آئیں گی جب صرف ربانی نظام عدل ، خلافت علیٰ منہج النبوۃکی حکمرانی لوٹے گی جو تمام امت ،سمیت اس کے بچوں، عورتوں،مردوں اور بزرگوں کی حفاظت کرے گی اور ہر اس ہاتھ کا محاصبہ کرے گی جن کے ہاتھ ان کے خون سے رنگے اور قتل وغارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں چاہے یہ مجرم کعبہ کے غلاف سے چمٹے ہوئے ہوں۔

شعبہ خواتین

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک