الثلاثاء، 27 محرّم 1439| 2017/10/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

روزہ مسلمان کی ڈھال ہےاور خلافت امت کی ڈھال ہے

اے پاکستان کے مخلص اور اچھے لوگو!

رسول اللہ ﷺ کے دور کے بعدکئی صدیوں تک اسلام کی حکمرانی رہی اور اس دور میں خلافت دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی ڈھال تھی۔  رمضان کے مہینے میں  اسلامی خلافت  فوجوں کو حرکت میں لاتی تھی اورخلافت نے اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمنوں کے خلاف اہم کامیابیاں اسی مہینے میں حاصل کیں۔ رمضان 13 ہجری میں خلافت نے اُس وقت کی سپر پاور، سلطنت فارس ،کو البویب میں شکست دی اوراُس کو ہلا کر رکھ دیا جس کے بعداس کی تباہی و بربادی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ رمضان 92 ہجری میں خلافت نے اندلس(اسپین) کو فتح کیا اور آنے والی کئی صدیوں تک کے لیے یورپ پر اسلام کی حکمرانی کے دروازے کھل گئے۔ رمضان 92 ہجری میں ہی محمد بن قاسم نے برِصغیر پاک و ہند کو اسلام کے لیے کھولا اور آنے والی کئی صدیوں تک ہندو مشرکین پر اسلام کی بالادستی کی بنیاد ڈال دی۔ رمضان 223 ہجری میں خلافت نے عموریہ کو فتح کیا جس پر طاقتور رومی سلطنت فخرکرتی تھی۔ رمضان 658 ہجری میں خلافت نے عین جالوت کے مقام پر وحشی تاتاریوں کو شکستِ فاش دی جبکہ اس جنگ سےکچھ عرصہ پہلے تک تاتاریوں نے مسلمانوں اور ان کی سلطنت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔  یقیناً جب امت کے پاس اُس کی ڈھال، خلافت، موجود تھی تو رمضان مسلمانوں اور ان کی افواج کے لیے کامیابیوں اور فتوحات کا مہینہ ہوتا تھا۔ 

 

لیکن اب 1438 ہجری کا رمضان ، جب ہمارے پاس ہماری ڈھال ،خلافت، نہیں ہے تو ہماری افواج کو مسجد الاقصی کو  یہودی وجود سے آزادی دلانے اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو مشرکین کے ہاتھوں شہید، زخمی اور اندھا ہونے سے بچانے سے روکا جاتا ہے۔ جب کبھی امریکی فوجی حکام "ڈو مور" کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ حکمران بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہماری افواج کو اُن مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بھیج دیتے ہیں جو  قابض کفارکے خلاف لڑرہے ہوں ۔  اور یہ حکمران امریکی مطالبے مانتے جاتے ہیں  حالانکہ یہ افغانستان پر امریکی قبضہ ہی ہے جس نے بھارتی "را" کے لیے افغانستان کے دروازے کھول دیے ہیں  اور وہاں سے بیٹھ کر "را" ہمارے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور اہم شہروں پر حملہ کرتی ہے۔

 

مزید برآں، یہ حکمران ہمارے تحفظ کے لیے ہماری افواج کو حرکت میں لانے کی بجائے کفار کو سہولتوں پر سہولتیں فراہم کرکےان کے قبضے کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رمضان جیسے عرب حکمران "نارملائزیشن " کے نام پر یہودی وجود کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اُسی طرح پاکستان کے حکمران ہندو ریاست کے سامنے جھکے پڑے ہیں۔ واشنگٹن میں بیٹھے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے حکمران دن رات  بھارت کے مقابلے میں ہمارے معاشی، فوجی، سیاسی اور ثقافتی مفادات سے دستبردار ہو رہے ہیں اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بجائے مسلمانوں کو "تحمل" کی پالیسی کے فوائد بتا رہے ہیں۔ یقیناً باجوہ-نواز حکومت ہماری سلامتی کے امور کے لیے قبر کھود رہی ہے اور ہندوؤں کے "اکھنڈ بھارت" کے خواب کو حقیقت بنانے  میں معاونت کررہی ہے بالکل ویسے ہی جیسے عرب حکمران "عظیم اسرائیل" کے لیے بنیادیں ڈال رہے ہیں۔

 

تو اس بات کے باوجود کہ پاکستان کے پاس زمین، وسائل اور ایسی افواج ہیں جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا سامنا کرسکتی ہیں، پاکستان کا عالمی اور علاقائی  امور پر اثر اس کی اصل طاقت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ریاستِ خلافت کے بغیر موجودہ حکمران ہمارے سروں پر ڈھال کی طرح نہیں ہیں بلکہ یہ وہ زنجیریں ہیں جنہوں نے ہمیں جکڑ رکھا ہے اور وہ تلواریں ہیں جو ہماری ہی گردنوں کو نشانہ بنا رہی ہیں تا کہ ہم اپنے دشمنوں کے سامنے کمزور ہو جائیں۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

رسول اللہ ﷺ نے روزے کو ہمارے لیے ڈھال قرار دیا ہے جو ہمیں انفرادی سطح پر جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ

"جیسے لڑائی میں تمہاری ڈھال (حفاظت کے لیے) ہے ویسے ہی روزہ بھی آگ کے خلاف ڈھال ہے" (ابن ماجہ)۔

 

لہٰذا، اس رمضان ہم اخلاص کے ساتھ روزے کی فرضیت کو ادا کریں گے ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اجر، اس کی مغفرت ، اس کے رحم کو حاصل کرنے اور اس کے غضب سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن رسول اللہ ﷺ نے خلافت کو بھی ڈھال سے تشبیہ دی ہے ، انفرادی  سطح پر نہیں  بلکہ اجتماعی طور پر امت کے لیے ڈھال ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ

"بے شک خلیفہ ہی ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہوتا ہے"(مسلم)۔

 

لہٰذا اس رمضان ہم خود سے یہ سوال کریں کہ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہم کیا کوشش کررہے ہی جس فرض کو چھوڑنا صرف ایک حکم شرعی کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں  بلکہ سینکڑوں احکام شرعیہ کی ادائیگی میں کوتاہی ہے؟ یقیناً صرف خلافت ہی ہمارے دین کو ایک ریاست کی صورت میں نافذ کرنے کا اسلامی طریقہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہماری حکمرانی، معیشت، تعلیم، عدلیہ، داخلہ پالیسی اور خارجہ پالیسی قرآن و سنت کے مطابق ہوں۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

  اس رمضان اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے معافی کی طلب کرنےکے لیے روزے، نمازیں اور آنسو بہانا کافی نہیں  جبکہ ہماری ڈھال  خلافت ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ امریکی راج کے خاتمے اور اکھنڈ بھارت کے منصوبے کی ناکامی کے لیے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کام کریں اور اس رمضان نبوت کے طریقے پر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے ہم اپنی آواز حزب التحریر کی آواز کے ساتھ ملائیں۔

اگر ہم اس فرض کی ادائیگی کے لیے کام نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے حکمرانوں کے گناہوں کو قبول کرلیا ہے جو اب ہم سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔اگر ہم نے یہی روِش اختیار کئے رکھی تو  اس دنیا میں ہماری صورتحال مزید خراب ہوجائے گی اور ہم آخرت میں سزا کے حقدار ٹھہریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ حَتَّى يَرَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ يُنْكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَذَّبَ اللَّهُ الْخَاصَّةَ وَالْعَامَّةَ

"اللہ عام لوگوں کو چند خاص لوگوں کے باعث سزا نہیں دے گا سوائے اس کے کہ وہ منکر کو دیکھیں اور وہ اسے روکنے کے قابل ہوں لیکن اسے نہ روکیں ۔  اگر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ خاص لوگوں اور عام لوگوں دونوں کو سزا دے گا" (احمد)۔

 

افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران!

اس رمضان باجوہ-نواز حکومت امریکی راج کو مستحکم کرنے اور اکھنڈ بھارت کی بنیادیں ڈالنے میں سرگرم ہے۔  ایسے وقت میں  ایک عام شہری کے لیے ان جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنا کافی ہے لیکن آپ کے لیے یہ کافی نہیں ہے کیونکہ آپ فوجی  کمانڈرز ہیں اور آپ کے پاس جابروں کو پکڑنے،   انہیں اکھاڑ پھینکنے اور انکی غدّاری کا خاتمہ کرنے کی مادی طاقت موجود ہے بالکل ویسے ہی جیسے آپ سے پہلے انصار رضی اللہ عنہم  کےکمانڈرز تھے ۔

 

ہماری افواج ایک طاقتور شیر ہیں  جنہیں ایک عرصے سے زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا  ہے جبکہ ان کے پنجے کا ایک حملہ ہی دشمنوں کو  بھاگنے پر مجبور کردے گا۔ ہماری افواج کو ان زنجیروں سے آزاد کراؤ اور نبوت کے طریقے پر خلافت کے فوری  قیام کے لیے حزب التحریر کو اس کےامیر، مشہور فقیہ اور سیاستدان  شیخ عطاءبن خلیل ابو الرشتہ کی قیادت میں نصرۃ فراہم کرکے امت کی ڈھال کو بحال کرو۔ اس مبارک مہینے میں اس عظیم بابرکت مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھو، ایمان والوں کے زخموں کو بھردو اور رمضان کو ایک بار پھر کفار کے خلاف کامیابیوں کا مہینہ بنادو۔

 

إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلاَ غَالِبَ لَكُمْ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِى يَنصُرُكُم مِّنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

"اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگرو ہ تمہیں چھوڑ دے تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے۔ ایمان والوں کو صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے"(آل عمران:160)

 

ہجری تاریخ :22 من شـعبان 1438هـ
عیسوی تاریخ : جمعہ, 19 مئی 2017م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک