Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    27 من شـعبان 1442هـ شمارہ نمبر: 64 / 1442
عیسوی تاریخ     جمعہ, 09 اپریل 2021 م

پریس ریلیز

آئی ایم ایف سے ہونے والی نئی ڈیل صرف عوام کے دشمن ہی کر سکتے ہیں، وزیر خزانہ کی تبدیلی سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ، ایسے سرنڈر کو روکنے کیلئے سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑنا ہو گا

 

تبدیلی سرکار، باجوہ۔عمران حکومت، نے آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کرادی ہے کہ اگلے مالی سال کے وفاقی حکومت کے بجٹ میں 1272 ارب روپے مزید ٹیکس وصول کیے جائیں گے۔ اس سال ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کے ہدف 4691 ارب روپے کو اگلے مالی سال میں بڑھا کر 5963 ارب روپے کردیا جائے گا۔  آئی ایم ایف کی شرائط کی تکمیل میں بجلی کے ایک یونٹ کی قیمت میں3 روپے 57 پیسے اضافے کے بعد موجودہ مالیاتی سال کے آخری تین مہینوں میں ہی مزید پانچ روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا۔  آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے معاہدے کی شرط کے طور پر سٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل پیش کر دیا ہے۔  اور یہ کہ پاکستان  گیس کی قیمت میں ردوبدل کرے گا اور کسی کو ٹیکس میں چھوٹ نہیں دی جائے گی۔  معاہدے کے مطابق اس سال ملک کا ترقیاتی بجٹ کم کیا جائے گا، اور کورونا کے بحران پر کئے جانے والے خرچوں کی آڈٹ رپورٹ آئی ایم ایف کو پیش کی جائے گی۔ اگلے مالی سال میں صرف جنرل سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی مد میں مزید پانچ سو ارب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بٹورے جائیں گے۔ معاہدے کے مطابق پٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس کو اپنی آخری قانونی حد تیس روپے فی لیٹر تک رکھا جائے گا اور اس سال کے  450 ارب کے ہدف سے 60 ارب زیادہ جمع کئے جائیں گے جبکہ اگلے سال اس میں مزید 97 ارب کا اضافہ کیا جائے گا۔  مجموعی طور پر 11 پچھلے اور 11 نئے اہداف کو معاہدے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

 

ہم پوچھتے ہیں کہ کوئی بھی ذی شعور شخص جو پاکستان کے عوام اور ملک کا بھلا سوچتا ہو، بھلا اس طرح کا معاہدہ کیسے کر سکتا ہے؟ پاکستان کے عوام پر ایسے لگان تو صرف امریکی وائسرائے ہی لگا سکتا ہے، کوئی ملک اور عوام کا وفادار نہیں!!! یہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کی معیشت کو ڈبونے کا نسخہ ہے جو زرداری اور نواز حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل ہے اور جو آئی ایم ایف کے نامزد وزیرخزانہ حفیظ شیخ نے باجوہ۔عمران حکومت کی سرپرستی میں آئی ایم ایف سے طے کیا ہے۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت جو پہلے ہی اپنے موجودحجم کی نسبت سے4691 ارب روپے کے ٹیکس ادا نہیں کر پا رہی  وہ کس طرح اگلے مالی سال میں 5963 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا   کرسکے گی جبکہ معیشت کی حجم میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وبا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور دنیا کے مختلف ممالک اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے مختلف مراعات کا اعلان کررہے ہیں پاکستان کے حکمرانوں کو پاکستان اور اس کے عوام کی معیشت میں بہتری اور تر قی سے زیادہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور بین الاقوامی و مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے دیے گئے قرضوں کی سود سمیت واپسی اور بیرونی سرمایہ کاری پر زبردست منافع کو یقینی بنانے کی سب سے زیادہ فکر لاحق ہے۔  یہی وجہ ہے کہ عمران خان اس بات کا اعلان بہت فخر سے کررہے ہیں کہ ان کی حکومت نے 30 مہینوں میں 35 ہزار ارب روپے کا قرض واپس کیا ہے۔

 

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ جمہوریت پارلیمانی ہو یا صدارتی، یا چاہے فوجی آمریت ہو، پاکستان کی معیشت کی شہ رگ آئی ایم ایف  کے قبضے میں ہی رہتی ہے۔ لہٰذا اس نظام میں آنے والی ہر حکومت چاہے وہ سیکولر ہو یا مذہبی، کسی صورت بھی پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات نہیں دلاسکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے مسلمان چہروں کی تبدیلی کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو جاری و ساری رکھنے کے عمل کو مسترد  کردیں اور نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے قیام کی جدوجہدکا حصہ بن جائیں۔ صرف خلافت کے قیام کے بعد ہی ہمیں ہر سال ہزاروں ارب روپے سود کی ادائیگی میں نہیں دینے پڑیں گے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس طرح یہ رقم ریاست اور عوام کی ضروریات اور فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔ خلافت کے قیام کے بعد ہر مہینے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور ان کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ اسلام نے انہیں عوامی ملکیت قرار دیا ہے جو کسی صورت نجی ملکیت میں نہیں جاسکتیں، اور اس طرح یہ سہولیات معیشت کو مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور پیداواری لاگت کنٹرول میں رہنے کی وجہ سے معیشت تیزی سے ترقی کرتی ہے۔ خلافت کے قیام کے بعد انکم ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس ختم کردیے جائیں گے کیونکہ ان ٹیکسوں کی شریعت اجازت نہیں دیتی، اس طرح لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا اور طلب بڑھنے سے معیشت مزید تیزی سے ترقی کرے گی۔  ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے دیے ہوئے معاشی، مالیاتی اور محصولاتی نظام پر  بھروسہ کرنا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔

وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗؕ

" اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اسےگمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کی کفایت کرے گا"(طلاق،65:3)۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
http://www.hizb-ut-tahrir.info
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.