Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    10 من رمــضان المبارك 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/33
عیسوی تاریخ     جمعہ, 27 فروری 2026 م

 

پریس ریلیز

 

«يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهَ اللَّهَ! أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ بَعْدَ أَنْ هَدَاكُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ وَأَكْرَمَكُمْ بِهِ، وَقَطَعَ بِهِ عَنْكُمْ أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَلَّفَ بِهِ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ؟»«دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ»

 

“اے مسلمانوں کی جماعتو! اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو! تم جاہلیت کی پکار بلند کر رہے ہو، جبکہ میں (محمدﷺ) تمہارے درمیان موجود ہوں؟ حالانکہ اللہ نے تمہیں اسلام کے ذریعے ہدایت بخشی، اس کے ذریعے تمہیں عزت یاب کیا، تم سے جاہلیت کی کثافتیں ختم کیں، جاہلیت کو تم سے دور کر دیا اور تمہارے دلوں کو جوڑ دیا؟" "پس چھوڑ دو اسے، یہ بدبودار چیز ہے۔" (ابن ہشام، ابن کثیر، طبری)

 

یہ وہ الفاظ ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمائے جب ایک یہودی شخص 'شاس بن قیس' دو انصاری مسلم گروہوں، اوس اور خزرج، کے درمیان قبائلی تعصب کی آگ بھڑکا کر اُن کو جنگ کے دہانے پر لے آیا تھا۔ یہ حالات اور یہ نصیحت ہماری آج کی صورتحال پر پوری طرح مُنطبق ہوتی ہے۔ 26 اور 27 فروری کی درمیانی رات کو افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ پاکستانی ایئر فورس کے ان حملوں کے جواب میں کیا گیا، جس میں پاکستان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے تنصیبات پر حملہ کیا ہے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں عورتیں اور بچے بھی جاں بحق ہوئے۔ پاکستان، افغانستان پر TTP کو پناہ دینے اور دراندازی کا الزام لگاتا ہے، جبکہ افغانستان اس کی تردید کرتا ہے۔ موجودہ جھڑپوں میں دونوں جانب سے سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کرنے کے فخریہ دعوے کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ دونوں فلسطین پر قابض یہودی وجود کے خلاف جہاد کر رہے ہوں! جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کے طویل قتل عام، جو تاحال جاری ہے، کے دوران دونوں فوجیں بیرکوں میں آرام کر رہی تھی، اور کسی فوجی قیادت کو غیرت آئی اور نہ ہی شرم، لیکن مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے دونوں بہادر بنے ہوئے ہیں!

 

مسلمان مسلمان کی جنگ مذاق نہیں۔ یہ اس دین کے سنجیدہ ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ ہر مسلمان کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا، فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا، فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا»

"پس بے شک تمہاری جانیں، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اِس دن کی حرمت، اس مہینے میں، اور اس شہر میں ہے۔" (بخاری)

 

اور فرمایا:

 

«إِذَا التَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هٰذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:«إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ»

"جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔" میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! قاتل تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن مقتول کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا۔" (متفَق علیہ)۔

 

اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قران مجید میں فرمایا:

﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

 

"اور جو کوئی جان بوجھ کر ایک مومن کو قتل کرے، اس کا بدلہ جہنم ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضب فرمائے گا، اور اسے لعنت کرے گا، اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر دیا گیا ہے۔" (سورۃ النساء:93)

 

یہ اسلام میں مسلم مسلم جنگ کے بارے میں عمومی اصول ہے۔ پس دو مسلم گروہوں کے درمیان لڑائی کو ہر صورت روکنا چاہئے، خاص طور پر جب یہ لڑائی قومی عصبیت کی خاطر ہو تو یہ تو اور بھی لازم ہے۔ یہی آج کی صورتحال کا تقاضا ہے، جس کی طرف تمام اہلِ اثر، اہلِ قوت اور امت کو اپنی توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔

 

یہ حقیقت انتہائی افسوس ناک ہے کہ دونوں گروہ قومی اور جغرافیائی تعصب کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں، جبکہ عصبیت دینِ اسلام کی قوت و وحدت کی ضد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ»

"جو شخص کسی اندھے (عصبیت کے) جھنڈے یا مقصد کے تحت لڑے، اور عصبیت کی دعوت دے یا عصبیت کی وجہ سے غضبناک ہو، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔" ( مسند احمد، ابنِ ماجہ)

 

موجودہ صورتحال میں کوئی بھی گروہ حق (دینِ اسلام) کے احکامات پر کاربند نہیں۔ پاکستان کی مسلم افواج کے خلاف گوریلا حملے شرعاً جائز نہیں، نہ ہی گوریلا جدوجہد کے ذریعے مسلم قوت کو کمزور کرنا جائز ہے۔ اسی طرح امریکی ایماء پر، افغان طالبان حکومت پر پریشر ڈالنے کے لیے افغان مہاجرین کو بے دخل کرنا، بارڈرز بند کرنا، اور قبائلی علاقے میں موجود شورش کو درجنوں آپریشنوں کے ذریعے نمٹانے کی کوشش اور اس دوران ہزاروں بے گناہوں کی جان لینا بھی شرعاً حرام ہے۔ ان دونوں گروہوں کو اسلام کی طرف لوٹانا واجب ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں کے لیے تباہی اور کفار کے لیے راحت کا باعث ہے۔ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لیے پَر تول رہا ہے، اور غزہ کی مزاحمت کو ختم کرنے کے خطرناک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اور جب پاکستان اور افغان افواج کو ایرانی افواج اور غزہ کے مجاہدین کی مدد کے لیے حرکت میں آنا چاہیے تھا، اس وقت یہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہیں اور ایک دوسرے کی جان لینے پر فخر کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ بے شک اس مسئلے کا حل پاک افغان بارڈر میں نہیں، بلکہ اسلام آباد اور کابل میں ہے، جنہیں ایک خلافت کے نیچے متحد کرکے ایک ریاست میں بدلا جائے۔ یہ وہ خلافت ہوگی، جو قومی عصبیتوں کو اسی طرح دفن کر دے گی، جس طرح رسول اللہ ﷺ نے عرب قوتوں، اور بعد میں راشدی خلفاء نے عرب و عجم کی اقوام سے اسے باہر نکال کر انھیں ایک امت بنایا۔ وگرنہ پچھلے 25 سال سے یہ مسئلہ اسی طرح موجود ہے اور آگے بھی دہائیوں تک ایسے ہی رہے گا۔ حزب التحریر روزِ اول سے آپ کو اس اصل حل کی طرف بلا رہی ہے۔ اور یہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.