Logo
Print this page

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    26 من ذي القعدة 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/33
عیسوی تاریخ     جمعرات, 14 مئی 2026 م

 

پریس ریلیز

 

دعوت و جہاد ہی خلافت کی خارجہ پالیسی اور خلیفہ کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ جہاد ہی ہے جس نے افواج پاکستان کو ہندو ریاست کے خلاف اور پاسداران انقلاب کو امریکہ و یہود کے خلاف عزت بخشی ہے، اور اسی میں امت کی توقیر ہے!

 

 

سات اور آٹھ مئی کے درمیانی رات سے شروع ہونے والے ہندو ریاست کے آپریشن سندور کے جواب میں پاکستانی افواج کے آپریشن بُنیانِ المرصوص، جس میں ہندو ریاست کے متعدد جہاز گرائے گئے، ان کے دفاعی نظام کو مفلوج کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کے اوپر عملاً نو فلائی زون مسلط کر دیا گیا، اور پاکستان نے ہندو ریاست کو دھول چٹا دی، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مصالحت، نارملائزیشن اور امن کا ڈھونگ رچانا کفار کو مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی کی ہمت دیتا ہے اور جہاد سے ہی دشمن کے ہوش ٹھکانے لگتے ہیں۔

 

یہی سب ہم نے ایران کے امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ جنگ میں دیکھا، جب ایرانی افواج نے مشرق وسطی میں امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا، یہودی وجود پر میزائلوں کی بارش کر دی اور امریکی بحری بیڑوں کو ہدف بنایا، جس کے بعد امریکی فرعون ٹرمپ کے ہوش ٹھکانے لگ گئے اور وہ مسلسل سیز فائر کو طول دینے پر مجبور ہوا۔ تو کہاں ہیں آج وہ امن کا راگ الاپنے والے سب، جو حقیقت پسندی کے نام پر کفار کی غلامی کا درس دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں؟

 

بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق بیان فرمایا:«إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ»"جب تم بیعِ عینہ (سودی لین دین) کرنے لگو، گائے کی دمیں پکڑ لو، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ، اور جہاد کو چھوڑ دو، تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جسے وہ اس وقت تک نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ۔" (سنن ابی داؤد)

 

اور بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا یہ فرمان حق ہے:

 

﴿وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾

"اور بے شک عزت تو اللہ، اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم اور مومنین ہی کے لیے ہے۔" (سورۃ المنافقون: 8)

 

اور فرمایا:

 

﴿إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾

"اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔" (سورۃ محمد: 7)

 

مسلمانوں کی پوری تاریخ جہاد کی عظمت سے عبارت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا بذات خود 27 غزوات میں شرکت اور کئی درجن سرایا روانہ کرنے نے مسلمانوں کی راہ ہمیشہ کیلئے متعین کر دی، جس میں خلفاء راشدین نے کبھی تعطل نہیں آنے دیا۔ یہاں تک کہ امیہ اور عباسی خلفاء اور ان کے جنگی کمانڈروں نے جہاد کے علم کے ساتھ دنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرایا، اور جب عباسی دور کے آخر میں جہاد میں کوتاہی برتی گئی، تو منگول مسلمانوں پر مسلط ہو گئے۔ جس کے بعد دوبارہ جہاد کا آغاز ہوا، اور عثمانیوں نے صلیبی یورپ کو تلوار کی نوک پر رکھ کر عزت کمائی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے عائد اس فریضے کو پورا کیا۔ تاہم 1924 میں خلافت کے انہدام کے بعد جہاد کے فریضے کو صرف جغرافیائی حدود کے اندر سرحدوں کے دفاع تک محدود کر دیا گیا، جس کا عملی مطلب بین الاقوامی نظام کے طاغوت کی اطاعت کرنا ہے۔ امریکہ تو جب چاہے وینزویلا، ایران، شام، سوڈان، افغانستان یا یمن پر حملہ آور ہو، اور یہودی وجود جب چاہے لبنان، شام، ایران یا یمن پر جارحیت کا ارتکاب کرے، لیکن ہم رب کائنات کے احکامات کو پس پشت ڈال کر غزہ، یمن یا ایران کے دفاع کے لیے آگے نہ بڑھیں اور صرف سرحدوں کے دفاع تک اپنے آپ کو محدود کریں۔ آخر کیوں؟ جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے، اور جو مسلم افواج پر واجب ہے کہ:

 

﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾

"اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔" (سورۃ الأنفال: 72)

 

اور فرمایا:

 

﴿وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾

"اور انہیں جہاں پاؤ قتل کرو، اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔" (سورۃ البقرہ: 191)

 

قومی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے جہاد کے فریضے کو پورا کرنے کی ادھوری کوششوں کے باعث امت کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ ان قومی دائروں نے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے تتر بتر کر دیا ہے، اور کفار کو موقع مل گیا ہے کہ وہ ایک ایک کر کے ہمیں نشانہ بناتے رہیں۔

 

اے افواج پاکستان! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمہیں محض انگریزوں کی کھینچی ہوئی لکیر کے اندر رہنے والے مسلمانوں کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں بنایا، بلکہ تمام مسلمانوں کی حفاظت کے لیے جہاد کا فریضہ تم پر لازم کیا ہے، جیسا کہ پوری تاریخ میں مسلم کمانڈروں کی مثالوں سے واضح ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بدر یا خندق کے بعد جہاد کو چند مہینوں کے لیے بھی معطل نہیں کیا، بلکہ اسلام کے آفاقی پیغام کو مشرق و مغرب تک پہنچایا۔ آج غزہ کے مسلمان تمہاری راہ تَک رہے ہیں، کشمیر کے لوگ آج بھی ہندو بالادستی کے جبر کے نیچے ہیں۔ پس جہاد کے اگلے میدانوں کا رخ کرو۔ تمہارے پیش رو مسلمان کمانڈر ایک کے بعد ایک علاقہ فتح کرتے تھے، انہیں اسلام کی حاکمیت کے نیچے لے کر آتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھوڑے سمندروں میں ڈال دیے تھے لیکن وہ چین سے نہیں بیٹھے۔ تو بھلا کیا چیز آپ کو مسلمانوں کی سسکتی آہوں کو سننے سے روکے ہوئے ہے، جبکہ تم انھیں چھڑانے کی صلاحیت کے حامل ہو!؟

 

قومی ریاست کے ڈھانچوں کے نیچے اللہ کے احکامات کی مکمل اطاعت ناممکن ہے۔ پس آگے بڑھو اور حزب التحریر کو خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ دو۔ یہ تمہارا خلیفہ ہوگا جو جہاد میں تمہاری قیادت کرے گا، تمہیں غازی یا شہید جیسے اعزاز کمانے کا عظیم موقع فراہم کرے گا، انڈونیشیا سے مراکش تک تمام ممالک کو ایک خلافت تلے جمع کرے گا، یہودی وجود کا خاتمہ کرے گا اور امریکہ کو اس پورے خطے سے نکال باہر پھینکے گا۔ یہ ہے وہ اصل کامیابی جس کے لیے کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے۔

 

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.