المكتب الإعــلامي
ولایہ افغانستان
| ہجری تاریخ | 5 من ربيع الاول 1448هـ | شمارہ نمبر: Afg.1448/03 |
| عیسوی تاریخ | منگل, 18 اگست 2026 م |
پریس ریلیز
امریکی سفارت خانے جاسوسی اور اشتعال انگیزی کے مراکز ہیں، اور افغانستان میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا مطالبہ امتِ مُسلمہ کی قربانیوں کے ساتھ خیانت اور شُہدا کے خون کی توہین ہے
کابل میں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افغان وزیر خارجہ نے امریکہ کو اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے اور افغانستان کے بنیادی ڈھانچے اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے کہا، "ہم جنگ کے باب کو ختم سمجھتے ہیں، اور اب سے ہم باہمی احترام پر مبنی تعلقات اور مثبت تعامل کا ایک نیا باب چاہتے ہیں۔"
اسلامی اُمت کے خلاف وحشیانہ جنگ چھیڑنے والے ملک کے ساتھ "جنگ کا باب ختم ہونے" کی بات کرنا ایک بلاشبہ حقیقت سے نظریں چرانا اور ایک اسٹریٹجک غلطی ہے۔ امریکہ کُفر کا سرغنہ اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اگرچہ امریکہ اس وقت افغانستان میں براہِ راست فوجی جنگ میں ملوث نہیں ہے، لیکن اُمتِ مُسلمہ کی موجودہ حالت یہ بات واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اس وقت بھی امریکہ متعدد محاذوں پر مسلمانوں سے نبرد آزما ہے اور ان تنازعات میں پیش پیش ہے۔ امریکہ یمن کی جنگ اور سوڈان کے خونریز بحران میں کردار ادا کر رہا ہے؛ امریکہ فلسطین اور لبنان کے عوام کی نسل کشی کے لیے یہودی وجود کو لامحدود فوجی اور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس نے ایران کے خلاف دباؤ اور پابندیوں کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا ہے۔ ان تمام پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ، امریکہ مسلمانوں کے خلاف ہندوستان کی غاصبانہ اور جابرانہ پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو ہوا دیتا ہے، اور افغانستان پر سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کا دباؤ ڈالتا ہے۔
اسلام میں الولاء اور ولبراء (وفاداری اور بیزاری) کا معیار استعماری سرحدوں یا قوم پرستانہ نظریات سے طے نہیں ہوتا۔ امریکہ سے دشمنی کی بنیاد کُفر اور اسلام کے درمیان بنیادی تصادم میں پیوست ہے۔ قومی مفادات کے بہانے مسلم ممالک میں اس استعماری طاقت کے جرائم کو نظر انداز کرنا اسلامی عقیدے کے ارکان سے انحراف اور اسلام کے متفقہ سیاسی نقطہ نظر کی نفی ہے۔ مزید برآں، افغانستان کے خلاف امریکہ کی دشمنی کبھی ختم نہیں ہوئی۔ امریکی فوجی موجودگی کا نہ ہونا جنگ کے خاتمے یا امن کے قیام کی علامت نہیں ہے، بلکہ امریکہ نے اپنا طریقہ کار براہِ راست فوجی جنگ سے بدل کر معاشی، سیاسی اور انٹیلی جنس دباؤ میں منتقل کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد اور ضبط کرنا، معاشی پابندیاں عائد کرنا، افغانستان کی فضائی حدود کی خودمختاری کی خلاف ورزی، اور اسلامی اقدار کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا مہم مسلسل جاری ہے۔ لہٰذا، شریعتِ اسلامیہ کی رو سے، ایک ایسے دشمن ملک کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی، سیاسی یا معاشی تعلقات قائم کرنا باطل اور حرام ہے جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہوں۔
دوسری طرف، امریکہ اور اس کی کمپنیوں کو افغانستان سے معدنیات نکالنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کرنے کی دعوت دینا دوہرا تباہ کن اقدام ہے۔
پہلا یہ کہ مغربی سرمایہ دارانہ ممالک نے ہمیشہ کمزور اقوام کو اپنا شکار سمجھا ہے۔ اس جارحانہ پالیسی کا واضح مظاہرہ یوکرین کے بارے میں حالیہ معاہدوں میں ہوا، جہاں امریکی امداد کو معدنیات، تیل اور گیس کے وسائل کے کنٹرول اور انتظام سے مشروط کیا گیا تھا—جوکہ استعماری طرز پر اثاثوں پر قبضے کی ایک شکل ہے۔
دوسرا یہ کہ مسلم ممالک کے معدنیات اور قدرتی وسائل تمام اُمتِ مُسلمہ کی ملکیت (ملکیتِ عامہ) ہیں، جنہیں مسلمانوں کے فائدے، قوت اور دین کی سربلندی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ چونکہ حکمتِ عملی کے حامل (اسٹریٹجک) معدنیات میزائل سازی، ریڈار سسٹمز، اور دفاعی و فوجی ٹیکنالوجی میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان اہم وسائل کو سپرد کرنا امریکہ کی استعماری طاقت کی معاونت کے مترادف ہے، جو مسلمانوں کو کمزور کرتا ہے اور ایک ایسے دشمن کی تلوار کو تیز کرتا ہے جو انہی وسائل سے میزائل اور بم بنا کر غزہ، لبنان اور دیگر مظلوم مسلم سرزمینوں کے عوام پر برساتا ہے۔
سابق افغان وزیر خارجہ نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ صدر ٹرمپ کی معاہدے کرنے کی صلاحیت، پریگمیٹزم اور فیصلہ کن صلاحیت ان کی انتظامیہ کے ساتھ مثبت تعامل کو آسان بناتی ہے!" امریکی سیاست دانوں بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ تصور اسلامی نقطہ نظر کے بالکل برعکس ہے۔ ٹرمپ کا نقطہ نظر خالصتاً استعماری اور سامراجی ہے؛ وہ اب بھی بگرام ایئر بیس پر کنٹرول کے خواہش مند ہیں، فلسطین پر مکمل قبضے کی حمایت کرتے ہیں، اور اب بے باکی سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے کا حصہ قرار دینے کی بات کرتے ہیں۔
کیا آپ ایسے شخص کے ساتھ قریبی تعلقات پر زور دے رہے ہیں جو پوری طاقت سے اسلام کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ اس کے خلاف اپنی دشمنی کا برملا اظہار بھی کرتا ہے؟ 20 جنوری 2017 کو اپنی پہلی حلف برداری کی تقریر کے دوران، ٹرمپ نے واضح طور پر کہا تھا، "ہم پرانے اتحادوں کو مضبوط کریں گے اور نئے اتحاد بنائیں گے، اور مہذب دنیا کو انتہا پسندانہ اسلامی دہشت گردی کے خلاف متحد کریں گے، جسے ہم زمین کے صفحے سے مکمل طور پر مٹا دیں گے۔"
لہٰذا، مغربی استعماری طاقتوں سے امیدیں وابستہ کرنے اور ان کے ساتھ سودے بازی کرنے کے بجائے، مسلمانوں- جوکہ حقیقی سچے دوست ہیں، کی طرف اخوت کا ہاتھ بڑھائیں، جو آپ کو حقیقی عزت کے سرچشمے کی طرف بلا رہے ہیں: یعنی نبوی منہج پر دوسری خلافتِ راشدہ کا قیام۔ یہ سچی دعوت، مغربی بے اصول عمل پسندانہ نقطہ نظر (Pragmatism) کے برعکس، کوئی تجارتی یا معاشی سودا نہیں ہے؛ بلکہ یہ اللہ ﷻ کے ساتھ ایک عظیم عہد ہے۔ اس دعوت کی نُصرت اور حمایت آپ کو دنیا میں عزت، قوت اور امامت و قیادت کی طرف لے جائے گی، بالکل اسی طرح جیسے اسلام نے بکھرے ہوئے اور ناخواندہ عربوں کو تاریخ کے گمنام گوشوں سے اٹھا کر دنیا کی قیادت اور غلبے کے مقام پر سرفراز کیا تھا۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ
عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً﴾
"اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو صاف حجت (دلیل) دے دو؟"
[سورۃ النساء:144]
ولایہ افغانستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ افغانستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: www.ht-afghanistan.org |
E-Mail: info@ht-afghanistan.org |