الجمعة، 07 ذو القعدة 1439| 2018/07/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز 29 جون 2018  

 

 

۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لیے ہمیں جمہوری نظام سے باہر رہ کر جدوجہدکرنے کی ضرورت ہے

- سرمایہ دارانہ معیشت پاکستان کو قرضوں میں ڈبو رہی ہے

- منشور جاری کرنے میں تاخیر نظریاتی و فکری دیوالیہ پن کاثبوت ہے

تفصیلات: 

 

یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لیے ہمیں جمہوری نظام

سے باہر رہ کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے

24 جون 2018 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے اپنی جماعت کے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز اپنے آبائی شہر میانوالی میں ایک جلسہ عام سے کی۔پی ٹی آئی اقتدار میں آ بھی گئی تو  کسی نئے پاکستان یا  حقیقی تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہے۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ انہیں اقتدار میں آنے کے لیے ایلکٹ ایبلز کی ضرورت ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوریت اور موجودہ نظام پرکرپٹ اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس نظام میں حکمران اشرافیہ کا کردار ہی یہی ہے کہ وہ موجودہ نظام کا تحفظ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے  کہ یہ نظام ایسی شرائط رکھتا ہے جس کے وجہ سے اس میں حصہ لینا انتہائی مہنگا عمل  ہوجاتا ہے اور اس طرح جو اس کو ختم کرنا چاہتاہو وہ اس نظام میں حصہ ہی نہیں لے سکتا۔ یا دوسری صورت یہ اختیار کی جاتی ہے کہ وہ لوگ جو اس نظام کو چیلنج کرتے ہیں  کہ ان سے موجودہ نظام کی شرائط اور ضوابط تسلیم کروانے کے بعد انہیں بھی اس نظام میں ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔  لیکن جب ایک بار اس نظام کی شرائط کے مطابق  کردار ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں تو آپ اس نظام اور ساتھ ہی اس  مسئلہ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔

 

سیاسی نظام مشروعیت کی بنیاد پر چلتا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی نظام لوگوں کی حمایت کے بغیرنہیں چل سکتا۔ لہٰذا سیاسی نظام اور حکمران اشرافیہ جو ان لوگوں پر حکمرانی کرتے ہیں،اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کی حمایت حاصل کی جائے۔ 2013 میں عمران خان نے  ان لوگوں کو متاثر کیا تھا جوعام طور پر سیاست سے دور  اور  موجودہ نظام سے نفرت کرتے ہیں۔عمران خان ان لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے تھے کہ وہ تبدیلی کا محرک ہیں۔ کئی لوگوں نے ان کی اس بات پر معصومیت میں یقین کرلیا کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں۔  لیکن درحقیقت عمران خان اس نظام کو لوگوں کی قبولیت بخش رہے تھے جو اپنی موت آپ مررہا تھا۔  اس نظام کو قبولیت ان نوجوانوں سے ملی جو نظام سے نفرت کرتے تھے کہ انہوں نے  موجودہ حکمران اشرافیہ کے خلاف اپنی نفرت کی شدت میں کمی کرکے عمران خان کی حوصلہ افزائی پر  اس میں شمولت اختیار کرلی ۔  نظام کو قبولیت مل گئی اور عمران خان کو اس نظام میں اثرورسوخ اور حصہ مل گیا۔ اب یہ نظام ایلکٹ ایبلز عمران خان کی جھولی میں ڈال اس کااحسان لوٹا رہا ہے جس کی اسے اقتدار میں آنے کے لیے ضرورت ہے۔  ہمیں اس صورتحال سے سبق لینا چاہیے۔ ہمارے سیاسی مستقبل کے متعلق ہماری رائے کے گہرے اثرات اور نتائج  ہوں گے۔ تبدیلی کے لیے ہمارا اپنا ذاتی اخلاص کافی نہیں ہے،  بلکہ جب ہم اپنے سیاسی مستقبل کافیصلہ کریں تو ہمارے لیے آگاہی بھی ضروری ہے۔   ورنہ ہمارے اخلاص کو موجودہ نظام  استعمال کرے گا اور حکمران اشرافیہ اپنے دور کو طول دینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ 

 

اگر چہ کئی لوگ پی ٹی آئی کی حمایت سے دستبردار ہوگئے ہیں جب سے انہوں نے یہ دیکھا کہ تبدیلی لانے کا دعوی کرنے والی جماعت ایک اسٹیٹسکو کی جماعت میں تبدیل ہو گئی ہے اور اب اس میں اور پاکستان مسلم لیگ-ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ اس تلخ تجربے  اور انتہائی قیمتی سبق کو ہم نے ضائع نہیں کرنا ہے۔ موجودہ نظام کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ اس نظام کی اصلاح نہیں کی جاسکتی، اسے دوبارہ کھڑا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔   جمہوریت پاکستان کے لیے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بلکہ یہ کسی بھی مسلمان ملک کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے اور اس کی وجہ بالکل سادہ ہے : جمہوریت ہمارا نظام نہیں ہے۔ یہ ایک استعماری نظام ہے جسے مغربی استعماریوں نے ہمارے علاقوں میں متعارف کرایا تھا۔ جمہوریت کی جو صورتحال اس وقت مغرب میں ہے وہ ان لوگوں کے لیے آنکھیں کھولنے کا باعث ہونی چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام اس قدر اچھا ہے کہ اسے اختیار کیا جانا چاہیے۔ تبدیلی کا طریقہ کار یہ ہے کہ نئے نظام کے لیے موجودہ نظام سے باہر رہ کر کوشش اور جدوجہد کی جائے۔  ہم مسلمان خوش قسمت ہیں کہ ہمارا اپنا ایک منفرد نظام حکمرانی ہے،نظام خلافت، جس کی تاریخ  خوشحالی ،تحفظ اور عالمی سطح پرمسلمانوں کی بالادستی کی گواہ ہے۔ پاکستان میں خلافت سیاسی و فکری جدوجہد  اور افواج پاکستان  کے نصرۃ کے ذریعے موجودہ نظام کواکھاڑ کر قائم کی جائے گی۔    

 

سرمایہ دارانہ معیشت پاکستان کو قرضوں میں ڈبو رہی ہے 

24 جون 2018 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے میانوالی سے عام انتخابات کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے  سابق پاکستان مسلم لیگ-ن کے پانچ سالہ دور حکومت کو ملک کے معاشی دیوالیہ کا باعث قرار دیا ۔ انہوں نے کہا "ملک چلانے کے لیے کوئی پیسہ نہیں ہے جبکہ قرضے بڑھتے جارہے ہیں ۔۔۔۔2013 سے 2018 کے درمیان پاکستان کے بیرونی قرضے 13 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 27 ہزار ارب روپے ہوگئے ہیں"۔

 

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے۔  لیکن اس کی ذمہ داری  صرف پاکستان مسلم لیگ-ن کی پچھلی حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ پاکستان کے قیام کے و قت سے  ہر آنے والی سیاسی و فوجی حکومت نے ان قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ پاکستان اسلام کے نام پربنایا گیا تھا لیکن یہاں پر سرمایہ دارانہ نظام نافذ کیا گیا۔  قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال کوئی منفرد نہیں ہے  کیونکہ ہر سرمایہ  دارملک اسی صورتحال سے دوچار ہے۔ جو ممالک سب سے زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں ان کاشمار بڑی معیشتوں میں ہوتا ہے۔ جی-7 ممالک دنیا کی سب سے بڑی اور دولت مند معیشتیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سب سے زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے بھی دبی ہیں۔ جاپان، اٹلی، امریکہ، کینیڈا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی  کے قرضوں کا ان کی کُل ملکی پیداوار سے تناسب بلترتیب 234.7، 132.5، 105.4، 98.8، 96.5، 92.9 اور68 فیصد ہے۔ 

 

سرمایہ دارانہ معیشت میں قرضوںمیں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ریاست اور عوام کو دولت سے محروم کرتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت توانائی اور معدنی وسائل کو نجی ملکیت میں دے دیتا ہے جو کہ  بہت بڑی تعداد میں دولت پیدا کرنے کے انجن ہیں جبکہ اسلام انہیں عوامی ملکیت قرار دیتا ہے۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ کمپنی کا ڈھانچہ، جوائنٹ اسٹاک شئیر  کمپنیز، نجی سرمایہ داروں کو یہ مو قع فراہم کرتا ہے کہ وہ بہت زیادہ سرمایہ جمع کرسکیں تا کہ ان شعبوں میں صنعتیں چلاسکیں جہاں بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ٹیلی کمیونیکیشن، بھاری صنعتیں، ریلویز، ایوی ایشن اور شیپنگ وغیرہ۔  اس طرح سرمایہ دارانہ نظام میں ریاست اور عوام بہت بڑی دولت سے محروم ہو جاتے ہیں اور پھر ریاست قرضے لینے اور بھاری ٹیکس عائد کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ 

 

صرف اسلامی معاشی نظام ہی  قرضوں کی دلدل سے بچ نکلنے کا باعث بنے گا۔ اسلام نے تیل، گیس اور معدنی  وسائل کو عوامی ملکیت قرار دیا ہے جس کا نظام ریاست عوام کے نمائندے کے طور پر سنبھالتی ہے۔کمپنی ڈھانچے کے حوالے سے  اسلام کےمنفرد قوانین  جوائنٹ اسٹاک شئیر کمپنی کی اجازت نہیں  دیتے اور اس طرح ان شعبوں میں جہاں بہت زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے وہاں ریاست کا بہت زیادہ کردار ہوتا ہے۔ لہٰذا اسلام   عوامی بہبود اور ریاستی ضروریات کے لیے بہت زیادہ دولت کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ،

 وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً

"اور جس کسی نے میرے ذکر (قرآن) سے منہ موڑا  تو اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی"(طہ:124)۔ 

 

لہٰذا اگر کوئی سیاست دان یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکال لے گا  اور اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کو ترک کرنے کا اعلان نہیں کرتا تو اس کا دعوی جھوٹا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے سیاست دانوں کا احتساب کرنا چاہیے اور ان سے موجودہ کفر نظام کو مسترد کرنے کامطالبہ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ان سے نبوت کے طریقے پر خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

 

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُواْ ٱلتَّوْرَاةَ وَٱلإِنْجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيهِمْ مِّن رَّبِّهِمْ لأَكَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم

"اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں (قرآن) ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے"(المائدہ:66)۔

 

منشور جاری کرنے میں تاخیر نظریاتی و فکری دیوالیہ پن کاثبوت ہے

ڈان اخبار نے 26 جون 2018 کو یہ خبر شائع کی کہ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں اب صرف ایک ماہ کاعرصہ رہ گیا ہے لیکن مرکزی سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے بھی اب تک اپنا منشور جاری نہیں کیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان میں قوم کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔  انتخابی عمل میں جماعت کا منشور ایک اہم ترین عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس دستاویز کے ذریعے جماعت اہم مسائل پر اپنا نقطہ نظر بیان کرتی ہے۔

 

موجودہ حکمران اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں آئیڈیالوجیکل (نظریاتی) دیوالیہ پن کا شکار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی جامع متبادل نقطہ نظر دینے سے قاصر ہیں۔ اس خلا میں استعماری  طاقتیں تمام اہم معاملات پر پالیسیاں تشکیل دینے میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہماری معاشی پالیسیاں  آئی ایم ایف اور عالمی بینک  کی ہدایات پر بنتی ہیں تا کہ ملک کی دولت کولوٹنے کا عمل جاری رہے۔ ہماری خارجہ پالیسی امریکی پینٹاگون اور دفتر خارجہ کی ہدایات پر بنتی ہے تا کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی کو بر قرار رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔ ہماری تعلیمی پالیسی سیکولر یونیسکو کی ہدایات کے مطابق بنتی ہے تا کہ مسلم نوجوانوں کے اذہان کو مغربی افکار  سے آلودہ بلکہ زہر آلود کردیاجائے۔ اور اگر یہ سیاسی جماعتی  منشور جاری بھی کرتی ہیں  تو بھی ایک رواج  اور روایت کو پورا کرنے کے لیے کرتی ہیں اسی لیے ان جماعتوں کے اراکین تک کو  منشور کے اہم نکات کا علم نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اس نظام میں سیاسی جماعتوں نے لوگوں کو بار بار مایوس کیا ہے کیونکہ  ان کے پاس کوئی واضح نقطہ نظر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ 

 

اسلام میں سیاست  امت کے اندرونی اور بیرونی امور کی اسلام کی بنیاد پر  دیکھ بھال کانام ہے۔ایک ماہ قبل 25 مئی کو حزب التحریر ولایہ پاکستان نے پاکستان کے لیے اپنے منشور کا تیسرا ایڈیشن برائے سال  1439 ہجری بمطابق 2018 عیسوی جاری کیا جس کا عنوان ہے:"پاکستان، خلافت اور مسلم دنیا کی وحدت"۔   اس منشور میں حزب نے پاکستان کے مسلمانوں کے سامنے اسلامی ریاست  کے ڈھانچے اور خدوخال کو بیان کیا ہے   تا کہ وہ جان سکیں کہ نبوت کے طریقے پر قائم خلافت میں پاکستان کس طرح کا ہوگا۔  اس منشور کے ذریعے  اسلام پر مبنی سیاسی،معاشی اور معاشرتی نظام اور تعلیمی، خارجہ اور میڈیا پالیسی کو بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس منشور کا مطالع کریں تا کہ وہ ایک بار پھر سیکولر جماعتوں کے ہاتھوں دھوکہ نہ کھائیں  اور وہ  اپنی کوششوں کو پاکستان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی وحی کی بنیاد پر حکمرانی کے قیام کی جدوجہد  پر مرکوزکردیں۔  

Last modified onجمعہ, 29 جون 2018 02:49

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک