Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

گمشدہ شعور کی بحالی !

(ترجمہ)

تحریر : ڈاکٹر اشرف أبو عطیہ

 

فلسطینی مسئلے سے نمٹنے میں بنیادی مسئلہ ذرائع کی کمی یا اسباب کی کمزوری میں نہیں بلکہ اس فکری فریم ورک میں ہے جس نے گزشتہ صدی کے دوران میں امتِ مسلمہ کے بیٹوں اور بیٹیوں کے ذہنوں میں سیاسی امور کو ڈھالا ہے۔

 

وطن پرستی (الوطنیہ) کبھی بھی امت کی آزادی (تحریر) کا مقصد نہیں رہی تھی۔ بلکہ اپنی نوعیت اور تاریخی کردار کے اعتبار سے، وطن پرستی کا تصور انسانی شعور کو ایسے انداز میں ڈھالنے کا ایک طریقۂ کار رہا تھا جو استعماری طاقتوں کے مسلط کردہ محکوم قومی ریاستوں کے ڈھانچے کے مطابق ہو۔ اسی لئے، مسئلہ فلسطین کو ایک ”وطن کا مسئلہ“ بنانے کا عمل صرف اسے اس کے فطری حوالہ، یعنی امتِ مسلمہ کے حوالے سے، امت کے شعور سے، اور اس کے عقائد سے نکال کر ایک محدود سیاسی فریم ورک میں شامل کرنے کی جانب ایک قدم تھا، جو اپنی ابتدا ہی سے فلسطین میں آبادی پر قابو پانے اور قومیت کی بنیاد پر سرحدوں کی تقسیم کو منظم کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

 

وطن پرستی اپنی اساس میں ہی ایک ایسا مباحثہ ہے جو بذات خود فلسفیانہ یا حکمت عملی کے مواد سے خالی ہے۔ وطن پرستی محض وابستگی ہونے کا ایک کھوکھلا فریم ورک ہے، جس کے پاس ان بڑے سوالات کا کوئی جواب موجود نہیں، جیساکہ معیشت، سیاست، دین، یا سماج وغیرہ۔ یوں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اپنی اس مطابقت پذیری کے ساتھ وطن پرست قومی شناخت کوئی ایسا ٹھوس تصور فراہم نہیں کر سکتی جو سیاسی بقا کے مقصد کا تعین کر سکے یا عوامی آگہی کے فریم ورک میں مسئلہ فلسطین کے درست مقام کو واضح کرتا ہو، اور یہ وطن پرست قومی شناخت اپنے اندر تمام ہی افکار کو قبول کر لیتی ہے چاہے وہ سیکولر ہوں یا مذہبی، جمہوری ہوں یا آمرانہ، لبرل ہوں یا سوشلسٹ۔ یہی وہ فکری خلا ہے جس نے مسئلہ فلسطین کو ایک قابل مذاکرات انتظامی معاملے کی حد تک رہنے کی اجازت دے رکھی ہے، کہ جس کا فیصلہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعے طے کیا جائے، بجائے اس کے کہ یہ ایک مرکزی بنیادی، تہذیبی مسئلہ ہو جو کہ امت کے وجود کے خمیر سے راسخ اور اس کی معنویت سے جڑا ہو۔

 

اس سے بھی بدتر یہ کہ وطن پرستانہ سوچ نہ صرف آزادی (تحریر) کے لئے کوئی تصور پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ اس نے شکست کے تصور کو مضبوط کرنے میں بھی سرگرم و فعال کردار ادا کیا ہے۔ وطن پرستانہ سوچ نے سیاسی قومی سرحدوں کے فریم ورک کے مطابق فلسطین کی تعریفِ نو کی، نہ کہ اس کی شناخت اور نظریاتی اہمیت کے مطابق؛ اس سوچ نے فلسطین کو تہذیبی اہمیت کے میدان سے گھٹا کر ایک قومی سطح کے لوگوں کا مسئلہ بنا دیا، جو بین الاقوامی نظام سے تسلیم کئے جانے کا انتظار کر رہے ہوں۔ تاہم، چونکہ یہ بین الاقوامی نظام خود ہی استعماری اجارہ داری کا ایک نتیجہ ہے، اور اسی لئے وطن پرست ذہنیت نے اپنے آپ کو ایک ایسے فریم ورک میں پایا جو اسے آزادی دینے کے بجائے محدود کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ حقیقت ممکنات کا معیار بن گئی اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کو خواہشات کی حد مقرر کر دیا، اور مذاکرات سیاست کا اختتام بن کر رہ گئے، نہ کہ وہ سیاست کا ذریعہ ہوتے۔

 

وطن پرستی پر مبنی مباحثہ جات کی ترکیب ہی اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ بنیادی سوالات کو غیر اہم سوالات سے بدل دیا جائے۔ یہ مباحثہ جات اس اہم سوال کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ فلسطین کے مسئلہ کی حقیقی نوعیت کیا ہے اور اس کی بجائے اس سوال پر توجہ مرکوز کر دیتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر قابل قبول حل کی شکل کیا ہو گی۔ وطن پرست مباحثہ جات اس سوال کو گول کر دیتے ہیں کہ امت کن سے مل کر بنتی ہے اور اس کے بجائے اس پر توجہ دیتے ہیں کہ حکومت کون تشکیل دیتے ہیں۔ وطن پرستی پر مبنی مباحثہ اس اہم سوال کو ترک کر دیتا ہے کہ شرعی فریضہ کیا ہے اور اس کے بجائے اس پر توجہ دیتا ہے کہ کیا ممکن ہو سکتا ہے۔ یوں اس طرح، عمومی شعور ایک عقیدے اور مشن رکھنے والے شخص سے بدل کر ایک ایسے فرد کا ہو جاتا ہے جو محض انتظامی امور تک ہی محدود رہتا ہے: یعنی شکست کے حالات کو بہتر بنایا جائے، نہ کہ اس کا پانسہ ہی پلٹ دیا جائے۔ لہٰذا، وطن پرست سوچ نے اس کے سوا کچھ نہیں دیا مگر صرف ایک جذباتی مباحثہ ہی پیدا کیا ہے جو بغیر کسی واضح صلاحیت یافکری و تہذیبی منصوبہ پیش کرنے کے، دہائیوں سے ایک ہی نعرہ دہرا رہاہے۔ وطن پرستی کی یہ سوچ بیرونی طاقتوں اور بین الاقوامی جواز پر ایک مرض زدہ انحصار ہے، ایک ایسا انحصار جو بین الاقوامی طاقتوں کی خواہشات پر ہے، اور اس بالواسطہ قبولیت پر کہ تاریخ تو لکھی جا چکی ہے اور موجودہ حقیقت ایسا مقدر ہے جو ناقابل تغیر ہے۔

 

وطن پرستی کا بحران صرف سیاسی حد تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ اہم بنیادی اصولوں کے علوم تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو سائیکس-پیکو کی کھینچی گئی قومی سرحدوں کے اندر دوبارہ سے پیدا ہوتا ہے، اور استعماری طاقتوں کے تیار کردہ فریم ورک سے تجاوز نہیں کرتا۔ اس کی بجائے، وطن پرستی کا یہ ماڈل استعماری طاقتوں کے فریم ورک کے عین مطابق کام کرتا ہے، اسے مضبوط کرتا ہے اور امت میں تقسیم کو قانونی حیثیت دئیے ہوئے ہے۔ قومی ریاست کا فریم ورک اپنی اساس میں ہی تنگ نظری پر مبنی ہوتا ہے، اور اسی لئے یہ فریم ورک ایک واحد امت کو نقشوں کی حد تک کم تر کر دیتا ہے، ان کی شناخت کو قومیت تک، اور ان تنازعات کو مذاکراتی دستاویزات تک محدود کر دیتا ہے۔ یوں اس طرح وطن پرستی کی سوچ، عمومی شعور کو یہ سمجھنے سے روکتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کی اصل نوعیت محض جغرافیائی سرحدوں پر اختلاف نہیں بلکہ دو تہذیبوں کے مابین تصادم ہے۔

 

اس کے برعکس، امت کے عقیدے پر مبنی نظریہ مسئلہ فلسطین کو محض ایک وطن پرستی کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتا۔ بلکہ عقیدہ پر مبنی نظریہ مسئلہ فلسطین کو امت کے شعور، عقیدے اور شناخت کا بنیادی جزو سمجھتا ہے۔ عقیدہ پر مبنی نظریہ مسئلہ فلسطین کو ”متنازعہ علاقہ“ قرار دینے تک محدود کرنے کے تصور کو رد کرتے ہوئے، فلسطین کےمنفرد مقام کو مذہبی اور تاریخی طور پر امت کی یادداشت میں اُجاگر کرتا ہے۔ عقیدہ پر مبنی امت کا یہ نظریہ مسئلہ فلسطین کو اس کے حقیقی سیاق و سباق کے حوالے سے پیش کرتا ہے : یعنی ایک واحد متحد، اسلامی تہذیب اور ایک ایسی قابض –استعماری قوت کے مابین ٹکراؤ، جو امت کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس سے اس کی شناخت چھین لینا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، اسلامی عقیدہ پر مبنی فریم ورک ایسا کوئی حل پیش نہیں کرتا جو دوسروں کو قابل قبول ہو۔ بلکہ یہ عقیدہ امت کے کردار اور عملی اثرورسوخ کے احیاء اور امت کی اسلامی تہذیب کے منصوبے کی بحالی کا خواہاں ہے۔

 

اس نقطۂ نظر سے، آزادی (تحریر) محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک فکری عمل ہوتا ہے۔ آزادی کے منصوبے کسی ایسے فکری فریم ورک سے نہیں اُبھرسکتے جو تقسیم کو منظم کرنے کے لئے بنایا گیا ہو، اور نہ ہی کوئی تہذیبی منصوبہ اس ذہنیت سے جنم  لے سکتا ہےجو فکری آئیڈیالوجی کی بجائے وطن پرستی اور قومی سرحدوں کو فوقیت دیتا ہو، حق کی بجائے سمجھوتہ پسندی کو ترجیح دیتا ہو، اور شرعی فرائض کی بجائے عملی مفادات کو فوقیت دیتا ہو۔ فلسطین کی آزادی (تحریر) اس امر پر منحصر ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصل پہچان کو بحال کیا جائے، یعنی اس علاقے کی آزادی استعمار کے مسلط کردہ تصوری فریم ورک سے امت کے فکری شعور کو آزاد کرنے پر منحصر ہے۔ تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ فلسطین کی آزادی (تحریر) ہمیشہ سے پوری امت کا مقصدرہی ہے، نہ کہ صرف کسی ایک ملک کا۔ بیت المقدس کے اولین فاتح عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ تھے، جو جزیرۂ نما عرب سے آئے تھے، اور پھر فلسطین کوآزاد کرانے والے اس کی سرحدوں کے باہر سے آئے تھے، یعنی دونوں مواقع پر جغرافیائی لحاظ سے بھی اور قومی لحاظ سے بھی : صلاح الدینؒ، قطزؒ، اور بیبرسؒ، اور ان کے بعد سلطنت عثمانیہ نے فلسطین کو چار صدیوں تک حفاظت میں رکھا تھا۔ یہ واحد حقیقت ہی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ فلسطین امت کے صرف ایک گروہ کی کوششوں سے آزاد نہیں ہو جائےگا، بلکہ پوری امت کا احیاء ہونے سے ہی آزاد ہوگا۔

 

امت کے عقیدہ کےتناظر میں، فلسطین صرف کسی قوم پرستی پر مبنی ایک متعین کردہ وطن نہیں ہے بلکہ عقیدہ کی علامت ہے، امت کی شناخت اور اس کے مقصد کا جزوِ لازم ہے، اور امت کے شعور کا بنیادی جزو ہے۔ یوں اس معنی میں، فلسطین پوری امت کا مسئلہ ہے، نہ کہ محض قومی طور پر متعارف کردہ کسی قوم کا مسئلہ۔ فلسطین عقیدے کا مسئلہ ہے، محض کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی بھی منصوبہ جو اس فریم ورک کے باہر کام کرے گا،وہ اپنی تنظیم، اپنے اٹھائے گئے جھنڈوں، یا اپنے لگائے گئے نعروں کے باوجود، شکست کے گرداب میں ہی پھنسارہے گا۔

 

الرایہ میگزین،

شمارہ 578، دسمبر 2025ء

Last modified onجمعہ, 02 جنوری 2026 18:44

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.