Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

"امن کونسل" کا پہلا اجلاس؛ ٹرمپ کی صدارت اور 45 سے زائد ممالک کی شرکت

 

تحریر: استاد احمد الخطوانی

(ترجمہ)

 

امریکی صدر ٹرمپ نے 19 فروری 2026 کو 'امن کونسل' کے پہلے اجلاس کی صدارت کی، جس میں 45 سے زائد ممالک کے وفود اور متعدد عالمی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء میں ارجنٹائن کے صدر جیویر ملی، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف شامل تھے۔ اس کے علاوہ کئی وزرائے اعظم نے بھی شرکت کی جن میں مصر کے مصطفیٰ مدبولی، پاکستان کے شہباز شریف اور ہنگری کے وکٹر اوربان نمایاں تھے۔ اجلاس میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، ترکی کے ہاکان فیدان اور یہودی وجود کے وزیر خارجہ جدعون ساعر سمیت کئی وزرائے خارجہ نے بھی شمولیت اختیار کی۔

 

یورپی ممالک میں سے اٹلی، رومانیہ، یونان اور قبرص نے اس اجلاس میں حصہ لیا، جبکہ ایشیائی ممالک میں سے جنوبی کوریا اور جاپان نے بطور مبصر شرکت کی۔ اس کونسل میں یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ واضح تھا کہ اس بین الاقوامی شرکت اور اسے وسعت دینے کی کوشش کا مقصد محض دکھاوا تھا، نہ کہ کسی حل میں عملی طور پر شریک ہونا۔

 

ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں فخریہ انداز میں اس شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "یہ ایک عظیم دن ہے، امن کونسل کے اجلاسوں میں بڑی تعداد میں رہنما شریک ہیں، امن کا حصول بہت مشکل ہے لیکن ہم اسے حاصل کر لیں گے۔" اس نے خیالی امن کے بارے میں کھوکھلے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے مزید کہا: "امن کے قیام سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہے، اور جنگوں کی قیمت امن قائم کرنے کی لاگت سے کئی گنا زیادہ ہے"۔

 

اس نے دعویٰ کیا کہ "دنیا کے بیشتر رہنماؤں نے امن کونسل میں شمولیت پر اتفاق کیا ہے"، اور اپنی اس کونسل میں بعض دیگر رہنماؤں کی شرکت کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "اور کچھ ایسے رہنما بھی ہیں جنہیں ہم شامل نہیں کرنا چاہتے"۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ کونسل "امن کی خاطر" قائم کی گئی ہے اور وہ اس کونسل میں مل کر غزہ، مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لوگوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے دعوے کے مطابق ان کی یہ کونسل صرف غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔

 

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ "غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے" اور اپنی یہ بات دہرائی کہ حماس "اپنے وعدے کے مطابق ہتھیار ڈال دے گی، ورنہ اسے سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا"۔ اس نے یہودی وجود پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ "حماس کے خاتمے کے لیے غزہ میں فوجی بھیجنا ضروری ہے"۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ "کئی ممالک نے غزہ کے امدادی پیکج کے لیے 7 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا ہے" اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بھاری امداد کا اعلان کیا، جس میں اکیلے امریکہ کی جانب سے دس ارب ڈالر شامل ہیں۔

 

مزید برآں، ٹرمپ نے ایران کو بھی امن کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

 

دوسری جانب، بین الاقوامی استحکام فورس (International Stability Force) کے کمانڈر جاسپر جیفرز نے کہا کہ پانچ ممالک نے غزہ میں داخلی سلامتی فورس میں اپنی افواج کی تعیناتی کے عزم کا اظہار کیا ہے، اور وہ ممالک یہ ہیں: انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مصر اور اردن نے غزہ میں تعینات ہونے والی پولیس کی تربیت کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جیفرز نے بتایا کہ بین الاقوامی استحکام فورس جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اپنی افواج کی تعیناتی اور وہاں پولیس کی تربیت سے کام کا آغاز کرے گی، جس کے بعد بتدریج پورے علاقے تک اسے وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے ذکر کیا کہ طویل المدتی منصوبے کے تحت 20 ہزار بین الاقوامی سیکورٹی اہلکار استعمال کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ 12 ہزار پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی۔

 

لیکن دنیا کے ممالک کے لیے 'امن کونسل' کا سب سے خطرناک پہلو اس کے وژن کا غزہ کی جغرافیائی حدود سے باہر تک پھیلاؤ ہے، اور اس کے دائرہ کار کو اس طرح وسعت دینا ہے کہ یہ غزہ تک محدود رہنے کے بجائے دنیا کے دیگر تنازعات اور لڑائیوں میں بھی لاگو ہونے کے لیے تیار رہے۔ یہ کونسل تمام بین الاقوامی علاقائی بلاکس کی نمائندگی کا خیال رکھتی ہے، اس کی ایک انتظامی فوج ہے، اس کے لیے ایک رسمی جمہوری ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، یہ تمام ممالک اور گروہوں کو رکنیت دیتی ہے اور اسے ارکان کی جانب سے مستقل فنڈنگ حاصل ہے۔ اسے موجودہ بین الاقوامی ادارے (اقوامِ متحدہ) کے متبادل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے منشور کی شقیں اور ان کی تحریر کا انداز بھی  عمومی رکھا گیا ہے جو صرف غزہ کے جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ اس سے ماورا ہے تاکہ تمام خطوں کے دیگر تنازعات پر بھی لاگو ہو سکے۔

 

ٹرمپ نے خود کو کونسل کا مستقل صدر بنا لیا ہے، چنانچہ فیصلوں کی منظوری کا تنہا حق صرف اسی کے پاس ہے، اور ممبران کو شرکت کی دعوت دینے کا اختیار بھی صرف وہی رکھتا ہے۔ اس نے موجودہ بین الاقوامی ادارے اور امریکہ کے علاوہ دیگر بڑی عالمی طاقتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے۔ یہ ایک ایسی کونسل ہے جسے اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے متبادل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا ڈھانچہ نیا، ووٹنگ کا نظام نیا اور یہ موجودہ عالمی نظام کے بالکل متوازی ایک راستہ ہے۔

 

اس کونسل کے قیام کے ساتھ ساتھ امریکہ کا 66 بین الاقوامی تنظیموں سے دستبردار ہونا اور اقوامِ متحدہ کو دی جانے والی اپنی مقررہ امداد کو چوتھائی سے بھی کم کر دینا شامل ہے، جبکہ دوسری طرف وہ اس نئی کونسل پر دس ارب ڈالر نچھاور کر رہا ہے اور اپنے پیروکار ممالک کو بھی مزید دس ارب ڈالر دینے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی کتنی شدید خواہش ہے کہ وہ موجودہ عالمی نظام کو ختم کر کے ایک نیا یک قطبی (unipolar) نظام تشکیل دے، جس میں حکم بھی اسی کا چلے، وہ اس کا واحد مستقل رکن ہو اور بین الاقوامی سطح پر 'ویٹو' کا حق رکھنے والا واحد ملک بھی وہی ہو۔

 

آج امریکہ، اپنے صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کے نقطہ نظر سے، خود کو اکیلا وہ طاقت سمجھتا ہے جو عالمی معاملات کو تن تنہا اور بہترین طریقے سے چلانے کی اہل ہے، اور وہ فیصلے کرنے میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ وہ بین الاقوامی تعددیت (pluralism) کو قبول نہیں کرتا اور اسے یہ گوارا نہیں کہ کوئی دوسری بین الاقوامی طاقت عالمی نظام کی سیادت و قیادت میں اس کا مقابلہ کرے۔

 

Last modified onجمعرات, 26 فروری 2026 00:18

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.