بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کا 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب مسلمانوں کے لیے چار اہم اسباق کی تصدیق کرتا ہے
تحریر:استاد مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
(ترجمہ)
24 فروری 2026 کو ٹرمپ نے اپنا 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کیا، جو امریکی تاریخ کا طویل ترین خطاب تھا۔ ٹرمپ کا یہ خطاب مسلمانوں کے لیے اہم اسباق کو نمایاں کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے وقت میں دنیا کی صفِ اول کی ریاست، امریکہ، کے سربراہ کی تقریر ہے جب خود امریکہ اور پوری دنیا شدید انتشار و بے چینی کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے خطاب سے مسلمانوں کے لیے مندرجہ ذیل چار اہم اسباق کی تصدیق ہوتی ہے:
پہلا سبق: سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) امریکی عوام کے لیے ناکام ہو چکا ہے۔ اس کے پاس مسلم دنیا کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ایک زوال پذیر معیشت کے وقت میں ٹرمپ نے اپنے خطاب کا آغاز معیشت، افراطِ زر اور بے روزگاری کے بارے میں گمراہ کن دعووں سے کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "میری انتظامیہ نے بنیادی افراطِ زر (core inflation) کو کم کر دیا ہے"۔ تاہم، افراطِ زر کی پیمائش کے لیے فیڈرل ریزرو کا پسندیدہ پیمانہ - کور پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (PCE) انفلیشن، جس میں خوراک اور توانائی کی اتار چڑھاؤ والی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں - دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ "آج ہمارے ملک کی تاریخ میں کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ امریکی برسرِ روزگار ہیں"۔ حالانکہ بے روزگاری کی شرح میں درحقیقت اضافہ ہوا ہے، اور 2025 دہائیوں کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا، جبکہ کام کرنے والے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ محض آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔ مجموعی طور پر معیشت کے حوالے سے، فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں، اوپر کے 1 فیصد امیر ترین گھرانے امریکہ کی کل دولت کے 31.7 فیصد کے مالک تھے، جو کہ 1989 میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے گھریلو دولت کا ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔ مجموعی طور پر، 2025 کی تیسری سہ ماہی میں امیر ترین 1 فیصد افراد کے پاس تقریباً 55 ٹریلین ڈالر کے اثاثے تھے—جو کہ نچلے درجے کے 90 فیصد امریکیوں کی مجموعی دولت کے تقریباً برابر ہیں۔
امریکی اشرافیہ کے ہاتھوں میں دولت کے اس بے پناہ ارتکاز کا ٹرمپ کے پاس کوئی حل نہیں ہے، جس نے اکثر لوگوں کو معاشی تنگی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام کی خدمت کے بجائے، سرمایہ دارانہ نظام محض دولت مند اشرافیہ کی خدمت کرتا ہے۔ مسلمان گواہ رہیں کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام اپنی قائد ریاست کے عوام کے لیے ہی ناکام ہو چکا ہے، تو مسلمانوں کے لیے اپنی سرزمینوں پر اسی سرمایہ دارانہ نظام کو نافذ کرنے میں بھلا کیا امید ہو سکتی ہے؟ اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کے کفر کو آخر کیوں نافذ کریں، جبکہ اسلام نے خلافت کی سرپرستی میں اپنے شرعی قوانین کے ذریعے صدیوں تک خوشحالی فراہم کی تھی؟
دوسرا سبق: "امریکہ فرسٹ" (پہلے امریکہ) کی پالیسی باقی دنیا کو جرمانہ کرنے اور لوٹنے کی پالیسی ہے۔ ٹرمپ نے کھلم کھلا اعلان کیا، "میرا ماننا ہے کہ غیر ملکی ممالک کی طرف سے ادا کیے جانے والے ٹیرف (محصولات)، ماضی کی طرح، بڑی حد تک انکم ٹیکس کے موجودہ نظام کی جگہ لے لیں گے، جس سے ان لوگوں پر سے مالی بوجھ کم ہو جائے گا جن سے میں محبت کرتا ہوں۔" اور ٹرمپ نے مزید کہا، "کھربوں کھرب ڈالر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں آتے رہیں گے کیونکہ آخر کار ہمیں ایک ایسا صدر مل گیا ہے جو 'امریکہ فرسٹ' کو ترجیح دیتا ہے۔" اس طرح، ٹرمپ دیگر بڑی طاقتوں بشمول یورپی طاقتوں کو جرمانے کر رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ کے خلاف شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ یہ مغرب کے ایجنٹوں کے زیرِ اثر مسلم ممالک کی ٹرمپ کی جانب سے لوٹ مار کے علاوہ ہے، جیسا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے معاملات سے واضح تھا، جن کے حکمرانوں نے امریکی معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے امت کی دولت بے دریغ خرچ کی۔
مسلمان جان لیں کہ وہ نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کے اثرات سے دوچار ہیں بلکہ وہ معاشی استعمار کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ یہ معاشی استعمار ہی ہے جو مغربی مالیاتی اداروں کو سود کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کی سرزمینوں کو قرضوں میں ڈبو دیتا ہے۔ مسلمانوں کے 'رویبدہ' (نااہل )حکمران ، سرمایہ کاری کے نام پر امت کی دولت سے امریکی معیشت کو بھر دیتے ہیں جو امریکی کمپنیوں کے لیے مسلمانوں کے خام مال کا استحصال کرنے اور ان کی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنے کے دروازے کھولتا ہے۔
تیسرا سبق: امریکہ ایک گہرے اندرونی تصادم کی وجہ سے مفلوج ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے خطاب نے پھر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان شدید تصادم کی وجہ سے امریکہ کی 'ڈیپ اسٹیٹ' میں موجود گہری دراڑوں کی تصدیق کی۔ یہ دراڑیں پہلی بار ٹرمپ کی پہلی مدت میں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، بائیڈن کی مدت کے دوران بھی برقرار رہیں، اور ٹرمپ کی دوسری مدت میں مزید گہری اور وسیع ہو گئی ہیں۔ ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر حملہ کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے ایک اور 'ڈیموکریٹ شٹ ڈاؤن' نافذ کر دیا ہے، جس میں سے پہلے نے ہمیں جی ڈی پی کے 2 پوائنٹس کا نقصان پہنچایا... ڈیموکریٹس کی وجہ سے ہمارے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔" جہاں تک 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کا تعلق ہے، ٹرمپ کی پارٹی کو سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔ اس لیے، ٹرمپ نے سیاۃ فام لوگوں کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچانے کے اپنے منصوبے کا ذکر کیا، جن پر ڈیموکریٹس کا انحصار ہے۔ اس نے کہا، "ہمارے انتخابات میں دھاندلی عام ہے۔ یہ بہت زیادہ ہے۔ یہ بہت سادہ ہے، تمام ووٹرز کو ووٹر آئی ڈی دکھانی چاہیے۔" ٹرمپ کا 'سیف گارڈ امریکن ووٹر ایلیجیبلٹی (SAVE) ایکٹ' ووٹر آئی ڈی کی سخت قانون سازی کو یقینی بناتا ہے، جس نے سفید فاموں کے مقابلے میں رنگین فام لوگوں کو زیادہ متاثر کیا ہے، حالانکہ غیر شہریوں کو ووٹ دینے سے روکنے کے لیے پہلے سے ہی انتظامات موجود ہیں۔
مسلمانوں کے لیے سبق یہ ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ گہرائی میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اس تقسیم نے مسلم دنیا پر غلبہ پانے کی اس کی صلاحیتوں کو کم کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ امریکہ کے اندرونی سیاسی تصادم کے ساتھ ساتھ ایک معاشی بحران بھی ہے اور وہ تھکن بھی جو اس کی فوج کو مسلم دنیا میں اپنی مہم جوئیوں کے بعد لاحق ہے۔ لہٰذا، اگر اہل قوت خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے اپنے شرعی فرض کو پورا کریں، تو امریکی تسلط سے نکلنے کا موقع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
چوتھا سبق: مسلم دنیا کے لیے امریکی پالیسی ذلت اور نقصان ہے۔ پھر ٹرمپ نے دنیا کی صورتحال پر بات کی، جس میں مسلم ممالک نمایاں طور پر شامل تھے۔ ٹرمپ نے کہا، "پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جاتی۔ اگر میں مداخلت نہ کرتا تو وزیراعظم پاکستان کے بقول ساڑھے تین کروڑ لوگ مارے جاتے۔ کوسوو اور سربیا، اسرائیل اور ایران، مصر اور ایتھوپیا، آرمینیا اور آذربائیجان، کانگو اور روانڈا اور ظاہر ہے غزہ کی جنگ، جو اب بہت نچلے درجے پر جاری ہے"۔ اس نے ایران کے بارے میں مزید کہا، "وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے وہ خفیہ الفاظ نہیں سنے: کہ ہم کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے... ایک بات یقینی ہے، میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے دنیا کے نمبر ون ملک کو، جو کہ وہ اب تک ہیں، کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا"۔
مسلمان اپنے اوپر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے تباہ کن اثرات اور امریکی استعمار سے چھٹکارا پانے کی فوری ضرورت سے آگاہ رہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ جنگ کے حوالے سے، ٹرمپ نے پاکستان کو لڑائی روکنے کا حکم ایٹمی جنگ ٹالنے کے لیے نہیں، بلکہ بھارت کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے دیا تھا۔ اس طرح، پاکستان کے حکمرانوں نے پاک فوج کو مقبوضہ کشمیر آزاد کرانے کے سنہرے موقع سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا۔ جہاں تک غزہ کی جنگ کا تعلق ہے، ٹرمپ نے غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب کے دوران، اور پھر لبنان، شام، قطر اور ایران پر حملوں کے دوران یہودی وجود کی بھرپور حمایت کی۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے، ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے پاس جوہری ہتھیاروں کے قبضے کو قبول نہیں کرتا۔ اگرچہ ٹرمپ نے براہِ راست ایران کے بارے میں بات کی، لیکن یہ ظاہر ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بھی اس کے نشانے پر ہیں، کیونکہ اس نے بار بار پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور جوہری تجربات کا ذکر کیا ہے۔
اے مسلمانو، اور ان کے اہل قوت و تحفظ!
ٹرمپ کا خطاب سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی، استعمار کی ناانصافی، اندرونی تصادم جو امریکہ کی فیصلہ سازی کو مفلوج کر دیتا ہے، اور امریکی خارجہ پالیسی کے مہلک خطرات کی تصدیق کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں ٹرمپ کے ایجنٹوں کے حق میں اس طرح کے اسباق رائیگاں ہیں۔ وہ غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں اور آقا کے بغیر کسی دنیا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ جہاں تک اہل قوت کے مخلص افراد کا تعلق ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں وہ تبدیلی لانے کا موقع عطا فرمایا ہے جس کے لیے مسلمان دعائیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا، مسلمانوں کی افواج میں موجود مخلص افراد خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں۔ کفر کی ناکامی اور کفار کے درمیان تقسیم کے اس ماحول میں، خلافت دینِ حق، اسلام کے غلبے کو یقینی بنائے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،
﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعا﴾
"وہ لوگ جو مومنوں کے بجائے کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس یقیناً تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے" (سورۃ النساء:آیت 139)