Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا ہم ایک تاریخی دور کے اختتام پر کھڑے ہیں

یا یہ ایک طویل انہدام کا آغاز ہے؟

 

 

مجلہ الوعی، شمارہ نمبر 474-475-476

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

عظیم تاریخی  انقلابات کبھی بھی کسی سرکاری اعلامیے یا کسی ایک فیصلہ کن لمحے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ یہ اکثر ایسے بحرانوں کے تسلسل کے ذریعے سامنے آتے ہیں جنہیں حل کرنے کے بجائے صرف "مینج" کیا جاتا ہے، اور سمجھنے کے بجائے صرف دبانے یا قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

اور جب مہنگائی (افراطِ زر) کا طوفان ملکوں کے ذمے واجب الادا قرضوں کے دباؤ کے ساتھ مل جائے، اور معاشی خسارے کے ساتھ ساتھ سیاسی جمود اور سماجی انتشار پیدا ہو جائے، تو اس وقت دنیا جس صورتحال کا سامنا کر رہی ہوتی ہے وہ عام معاشی اتار چڑھاؤ کی منطق سے کہیں آگے کی چیز ہوتی ہے، اور خود بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کے کھوکھلے ہونے کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔

 

آج فیصلہ سازی کے مراکز، منڈیوں اور جیو پولیٹیکل  تنازعات سے ملنے والے اشارے کسی اصلاحی مرحلے کی طرف اشارہ نہیں کر رہے، بلکہ ایک ایسے نظام سے جو توازن برقرار رکھنے کی (کم از کم نسبتی حد تک) صلاحیت رکھتا تھا، ایک ایسی حقیقت کی طرف  منتقلی کا شارہ کر رہے ہیں جہاں منصوبہ بندی کے بجائے "بحران کے انتظام" کو ترجیح دی جا رہی ہے، جہاں اصول و قوانین کی جگہ استثنائی صورتوں نے لے لی ہے، اور اداروں کے بجائے ہنگامی ردِ عمل پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں استحکام کی باتیں کرنا ایک طرح کا فریب ہے، اور زوال یا انہدام ایک اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں بلکہ دبے پاؤں آنے والا خدشہ بن جاتا ہے۔

 

اسی لیے موجودہ حالات کی نوعیت کے بارے میں یہ سوال مایوسی کے تحت نہیں، بلکہ ایک ضروری سیاسی انتباہ اور انسانیت کے وقار کے مطابق ایک نئی صبح کی امید اور دور اندیشی کے طور پر اٹھایا گیا ہے۔

 

کیا دنیا ایک ایسے تاریخی دور کے خاتمے کا مشاہدہ کر رہی  ہے جس نے اپنے تمام وسائل اور قانونی جواز کھو دیے ہیں، یا وہ واقعی ایک طویل انہدام کے راستے پر چل پڑی ہے جس کی قیمت کا تعین اس میں شامل کھلاڑیوں کی اعلان کردہ نیتوں سے نہیں بلکہ اس زوال کی گہرائی کو سمجھنے کی ان کی صلاحیت سے ہوگا؟ اس سوال کو نظر انداز کرنے سے جواب موخر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جواب بعد میں زیادہ تلخ حقائق کی صورت میں زبردستی مسلط ہوتا ہے جسے قابو کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

 

ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں اسے ایک تاریخی دورکے اختتام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ محض سیاسی یا معاشی کارکردگی کا کوئی عارضی بحران نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے ماڈل  کے مکمل اختتام کا اظہار ہے جس نے دہائیوں تک دنیا پر راج کیا ہے۔ کیونکہ نظام صرف فوجی شکست سے ہی نہیں گرا کرتے، بلکہ وہ تب بھی گر جاتے ہیں جب وہ اس حقیقت کی وضاحت کرنے سے قاصر ہو جائیں جو انہوں نے خود پیدا کی ہے، یا جب وہ ان بحرانوں کا خاطر خواہ حل پیش نہ کر سکیں جو ان کے وجود کا بنیادی حصہ بن چکے ہوں۔

 

اس دور کے خاتمے کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک اس لبرل عالمی نظام کے جواز کا ختم ہونا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا۔ اس نظام سے، جو اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں پر مبنی ہے، یہ توقع تھی کہ وہ تنازعات اور ترقی کے انتظام کے لیے منصفانہ طریقہ کار فراہم کرے گا۔ مگر حالیہ دہائیوں نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ یہ عالمی نظم و نسق کے ایک فریم ورک سے تبدیل ہوتا ہوا اب یہ طاقت کے توازن کے مطابق چلنے والا ایک آلہ بن گیا ہے۔ جہاں اصولوں کا اطلاق صرف کمزوروں پر ہوتا ہے اور بڑی طاقتوں کے مفادات سے ٹکرانے کی صورت میں ان اصولوں کو معطل کر دیا جاتا ہے۔

 

چنانچہ وہ جنگیں جو کسی بین الاقوامی مینڈیٹ کے بغیر شروع ہوئیں، اور وہ پابندیاں جو کسی قانونی تقاضے کے بغیر عائد کی گئیں، اس بات کا اظہارہے کہ یہ نظام اب اپنا جواز  کھو چکا ،بلکہ جو کچھ بچا کھچا جواز رہ گیا ہے اسے بھی تیزی سے ختم کر رہا ہے۔ سیاسی طور پر، اس دور کا خاتمہ خود قومی ریاست(Nation State) کے بحران کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ ریاست جسے استحکام اور سماجی انصاف کی ضامن کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، اب اپنے شہریوں کو اندرونی ٹوٹ پھوٹ، عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ، یا یہاں تک کہ اپنی سرحدوں سے باہر لیے گئے فیصلوں سے بچانے میں بھی بے بس ہو چکی ہے۔

 

آج بڑی طاقتیں بھی خود کو عالمی سپلائی چینز  یا ایسی مالیاتی منڈیوں کا یرغمال سمجھتی ہیں جو انہیں چند ہی دنوں میں سزا دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی خودمختاری اب سماجی ذمہ داری کے ساتھ میل نہیں کھا رہی، اور یہ اصول حکمرانی میں ایک خطرناک بگاڑ ہے۔

 

بڑی طاقتوں کی سطح پر، کشمکش کا، ایک منظم مسابقت سے نکل کر اصولوں پر کھلی محاذ آرائی میں تبدیل ہونا اس دورکے خاتمے کی ایک اضافی علامت ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ اور چین کے درمیان کشمکش اب صرف تجارتی یا تکنیکی اثر و رسوخ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ خود اُن قواعد کی تعریف کے گرد گھوم رہی ہے کہ: انہیں کون وضع کرے گا؟ اور انہیں توڑنے کا حق کس کے پاس ہے؟ اس نوعیت کی کشمکش کسی مستحکم نظام کا خاصہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ایسے عبوری مرحلے کی نشان دہی کرتی ہے جس میں نئے توازن کے خدوخال ابھی واضح نہیں ہوئے ہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ طویل مدتی معاشی استحکام سے وابستہ وہم کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ کیونکہ وہ ماڈل جو قرضوں، زر کی مقدار میں اضافے (کرنسی پھیلانے) اور مالیاتی ہتھکنڈوں کے ذریعے بحرانوں کو مؤخر کرنے پر مبنی تھا، اب اپنی آخری حدود کو چھو چکا ہے۔ آج مہنگائی (افراطِ زر) ماضی کی طرح کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ بحرانوں کا بوجھ معاشروں پر منتقل کرنے کا ایک غیر اعلانیہ سیاسی حربہ بن چکا ہے۔ اور جب مانیٹری (زری) پالیسیاں معاشی انصاف کے حصول کے بجائے عوامی غصے کو قابو کرنے کا ذریعہ بن جائیں، تو یہ کسی تکنیکی نہیں بلکہ ایک تاریخی بند گلی یا سنگین بحران کی علامت ہے۔

 

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں رونما ہو رہی ہیں جب سیاسی اشرافیہ مستقبل کے بارے میں کوئی بھی قائل کرنے والا بیانیہ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ماضی کے عروج کے ادوار میں، اشرافیہ ترقی، خوشحالی یا امن کے وعدے کرنے کی پوزیشن میں ہوتی تھی۔ لیکن آج زیادہ تر سیاسی گفتگو نقصانات کے انتظام، صبر کی تلقین اور بدترین حالات سے ڈرانے کے گرد گھومتی ہے۔ اور جب اشرافیہ وعدے کرنے سے عاجز آ جائے اور صرف خوف دلانے پر اکتفا کرے، تو وہ درحقیقت اس بات کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے کہ جس مرحلے کی وہ نمائندگی کرتی ہے، وہ اپنے خاتمے کے قریب ہے۔

 

لہٰذا، ہم جس مرحلےسے گزر رہے ہیں اسے ایک تاریخی دور کا اختتام قرار دینا مایوسی پر مبنی نہیں، بلکہ یہ اس فرسودہ ڈھانچے(Structural Erosion)   کے ایک طویل سفر کا سیاسی مطالعہ ہے۔ ہم ایک ایسے نظام کے سامنے کھڑے ہیں جو اب انہی پرانے قواعد کے تحت خود کو دوبارہ غالب کرنے سے قاصر ہے، اور جو جبری یا غیر معمولی ہتھکنڈوں کے بغیر اپنے تضادات کو سنبھالنے کی سکت کھو چکا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو ادوار کے اختتام کی پہچان ہے: یہ کوئی اچانک یا زوردار دھماکے سے گرنے کا واقع نہیں ہوتا، بلکہ یہ اسی پرانے طریقے سے جاری رہنے کی صلاحیت کے چھن جانے کا نام ہے۔

 

طویل المیعاد انہدام  وہ شکل ہے جو یہ اختتامی مراحل اس وقت اختیار کرتے ہیں جب غالب قوتیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں یا اس تبدیلی کے عمل کو سنبھالنے میں ناکام رہیں۔ جدید دور میں انہدام کسی ایک ہمہ گیر گراوٹ کی صورت میں نہیں آتا، بلکہ یہ بتدریج ہونے والی بوسیدگی کے ایک طویل سلسلے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں ڈھانچے ظاہری طور پر تو کام کرتے رہتے ہیں لیکن وہ پیداوار، نظم و ضبط اور جواز کی اپنی حقیقی صلاحیت کھو چکے ہوتے ہیں۔

 

 

اس طویل انہدام کی کیفیت کی کئی علامات ہیں:

 

پہلی علامت: استثنائی صورتوں کا مستقل قواعد میں بدل جانا ہے، اور پے در پے آنے والے بحرانوں کو کسی حتمی حل کی امید کے بغیر ہی چلایا جانا۔اس صورتحال میں مہنگائی ایک نئی حقیقت بن جاتی ہے، قرضے ناگزیر ضرورت، اور جنگیں محض "خطرات کے انتظام" کا نام پاتی ہیں۔ اس تناظر میں، بگاڑ کو ایسی خرابی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا جسے درست کرنا ضروری ہو، بلکہ اسے ایک ایسی دائمی الجھن  سمجھ لیا جاتا ہے جسے جھیلنا لازم ہو۔ یہ نظام کے انہدام کے خطرناک ترین مراحل ہوتے ہیں کیونکہ یہ سیاست کو اس کے تعمیری اور اصلاحی مقصد سے محروم کر دیتے ہیں اور اسے محض نقصانات کو سنبھالنے تک محدود کر دیتے ہیں۔

 

دوسری علامت: حقیقی سیاسی  مفہوم کا خاتمہ۔ چنانچہ جمہوریت کسی سماجی جوہر کے بغیر محض ایک ضابطہ بن کر رہ گئی ہے، خود مختاری  بغیر کسی عملی قوت کے محض ایک بیانیہ بن گئی ہے، اور ترقی صرف ایسے اعداد و شمار کا نام رہ گئی ہے جن کا لوگوں کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ جب معانی ختم ہو جائیں تو عوامی غصہ بڑھنے لگتا ہے، یہ غصہ کسی متبادل منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ نظام کے خلاف ایک مبہم نفرت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہاں سے پاپولزم (عوامی مقبولیت پسندی) جنم لیتی ہے، جو کسی حل کے طور پر نہیں بلکہ اشرافیہ اور اداروں پر اعتماد کے خاتمے کے ایک ضمنی نتیجے کے طور پر ابھرتی ہے۔

 

تیسری علامت: معیشت کی عسکری کاری اور منڈیوں کی سیاست زدگی۔ آج جنگیں صرف دوسرے ذرائع سے سیاست کا تسلسل نہیں رہیں، بلکہ اب خود منڈیاں ہی میدانِ جنگ بن چکی ہیں: پابندیاں، کرنسیوں کی جنگیں، سیاست زدہ سپلائی چینز ، اور ٹیکنالوجی کا بطور ہتھیار استعمال۔ معیشت اور سیکیورٹی کا یہ باہمی ملاپ اس مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں عالمی نظام "تقسیم کرواورکنٹرول کرو" کا طریقہ کار کھو چکا ہے، اور اب یہ کشمکش ہمہ گیر ہو چکی ہے، لیکن یہ فیصلہ کن ہونے کے بجائے کم شدت والی اور طویل المدتی ہو گئی ہے۔

 

تاہم تاریخ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلے انہدام کی طرف نہیں بڑھتی۔ طویل المیعاد انہدام ہمیشہ ایک نئے مبداء (Ideology) کی ضرورت پیدا کرتا ہے جو تعلقات کو نئے سرے سے منظم کر سکے، چاہے وہ لازمی طور پر زیادہ منصفانہ  نہ ہو۔ یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ: کیا کوئی نیا مبداء سامنے آئے گا؟ بلکہ یہ ہے کہ: وہ مبداء کیا ہوگا؟ اور کس کے ہاتھوں آئے گا؟

 

یہاں ہمارے سامنے تین امکانات ہیں:

 

پہلا امکان: ایک  سخت کثیر القطبی نظام کا ظہور ہو جو کسی ایک طاقت کے غلبے پر نہیں، بلکہ بڑی علاقائی طاقتوں کے توازنِ قوت پر مبنی ہو۔ اس صورت میں بین الاقوامی تعلقات عالمی اقدار کے بجائے باہمی مفادات اور کم از کم استحکام کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ امکان مکمل افراتفری کو تو روک سکتا ہے، لیکن یہ اپنے اندر اثر و رسوخ کے علاقوں کو مخصوص کرنے اور کئی منجمد تنازعات کے خطرات رکھتا ہے، اور دنیا کو بغیر کسی بڑے تنازع کے مستقل تناؤ کی حالت میں رکھتا ہے۔

 

دوسرا امکان: بے لگام عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کی جگہ معاشی خودمختاری کے اصول کا ابھرنا۔ یعنی ریاستوں کا اپنی پیداوار، خوراک اور توانائی کے تحفظ کی طرف لوٹنا، اور عالمی منڈیوں پر اپنے انحصار کو کم کرنا۔ یہ امکان ریاستوں کا اندرونی توازن تو بحال کر سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ایک متحدہ عالمی منڈی کے مفروضے کو ختم کر دیتا ہے، اور وسائل پر شدید مقابلے کے دروازے کھول دیتا ہے جب تک کہ اسے نئے تعاون پر مبنی فریم ورک کے تحت منظم نہ کیا جائے۔

 

در حقیقیت، پہلا اور دوسرا امکان اسی صورتحال سے مشابہت رکھتے ہیں جس میں ہم جی رہے ہیں، اور یہ دونوں سرمایہ دارانہ نظام  کو نئی شکلوں میں دوبارہ پیش کرنے کی ایک کوشش ہو سکتے ہیں۔

 

تیسرا امکان: ایک متبادل انسانی ترقیاتی آیڈیالوجی کا ظہور ہو جو معیشت کو صرف اعداد و شمار کے بجائے دوبارہ انسانیت سے جوڑ دے۔ مروجہ ماڈلز کی تباہی کے میدان میں صرف اسلامی آیڈیالوجی ہی ابھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کے لیے ایک بنیادی شرط ہے: کہ اسے محض ایک علامتی نعرے یا کشمکش کے ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ طرزِ زندگی، طرزِ حکمرانی اور عدل کے نظام کے طور پر اپنایا اور نافذ کیا جائے۔ یہاں میں اسے خاص طور پر موجودہ عالمی نظام کی بڑی ناکامیوں کے تناظر میں زیرِ بحث لاؤں گا۔

 

اسلامی آیڈیالوجی معیشت کو زندگی کے بارے میں بنیادی نقطہ نظر سے الگ نہیں کرتی، بلکہ اسے ایسے شرعی احکام کے تحت منظم کرتی ہے جو انسان اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا لحاظ رکھتے ہیں، اور دولت کو جمع کرنے کے اندھے قانون پر نہیں چھوڑتے۔ یہ نظام سود، ذخیرہ اندوزی اور سرمایہ داری کے ان تمام ہتھکنڈوں کو حرام قرار دیتا ہے جنہوں نے آج ریاستوں اور معاشروں کا دم گھونٹ رکھا ہے، اور یہ طبقاتی فرق کو کم کرنے اور غربت کو اس کی جڑوں سے ختم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

 

اپنے سیاسی جوہر میں، یہ نظام کسی ایسی حکمرانی کی بنیاد نہیں رکھتا جو آمریت یا عوامی افراتفری (پاپولزم) کو قبول کرے، بلکہ یہ حاکم کی جوابدہی، انصاف کی مرکزیت اور مفادِ عامہ کی ترجیح کے اصولوں پر قائم ہوتاہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کی آج دنیا میں کمی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ ایک ربانی نظام ہے جسے ربِ کائنات نے بنیادی طور پر انسانیت کی فلاح و سعادت کے لیے وضع کیا ہے۔ اسی لیے اسلامی آیڈیالوجی ہی جدید دنیا کے بحران کا سب سے بہتر حل ہے۔

 

حاصلِ کلام یہ کہ دنیا اس وقت نہ تو کسی حتمی تباہی کی  حالت میں ہے اور نہ ہی کسی واضح اور قریبی نجات کی دہلیز پر کھڑی ہے، بلکہ یہ ایک ایسے تاریخی خلا کے دور سے گزر رہی ہے جس میں زوال کی رفتار متبادل کے بننے کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ ایسے لمحات میں بحران نظریات کی کمی کا نہیں ہوتا، بلکہ ان لوگوں کی کمی کا ہوتا ہے جو نظریات کو ایک عملی منصوبے میں، اقدار کو اداروں میں، اور انصاف کو زندگی کے عملی نمونے میں بدلنے کی جرات رکھتے ہوں۔

 

اسلامی آیڈیالوجی، اپنی تمام سطحوں پر اس نادر توازن کے ساتھ، آج صرف دنیا کے سوالوں کا کوئی بنا بنایا جواب پیش نہیں کر رہی، بلکہ ایک ایسا تہذیبی افق دکھا رہی ہے جو ابھی موخر ہے اور اپنے تاریخی حالات کا منتظر ہے۔ محض نظریے کا درست ہونا کافی نہیں ہوتا، اور نہ ہی مجرد انصاف خود بخود نافذ ہو جاتا ہے جب تک کہ اسے کوئی ایسا عملی نمونہ نہ ملے جو اس دور کی پیچیدگیوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے ڈٹ کے کھڑا ہو سکے۔

 

یہاں حزب التحریر اپنے منصوبے اور اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ڈھانچے کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ ہم بلادِ اسلام پر مسلط اس کفر کے ماحول میں ہر مسلمان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم جماعت کے ساتھ مل کر اپنی جدوجہد تیز کریں، جس نے اپنی روشن فکر اور انتھک محنت سے ریاستِ اسلام (خلافت) کے قیام کے لیے ہر چیز تیار کر لی ہے۔ یہ جماعت امت کے فرزندوں کا ہاتھ تھام کر انہیں اس قابل بنا رہی ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد یعنی "اسلامی زندگی کے از سر نو آغاز"  کو اپنا ایک ناگزیر اور زندگی و موت کا مسئلہ بنا لیں، اور اس کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کریں۔ تاکہ وہ دارالاسلام قائم کریں، مسلم ممالک کو متحد کریں، اور ایک امت اور ایک خلیفہ کے تصور کے ساتھ آگے بڑھیں۔ اور وہ سچے ایمان، بصیرت اور شعور کے ساتھ اپنے رسول ﷺ کے اس قول کو دہرائیں:

 

« يَا عَمّ، وَاَللّهِ لَوْ وَضَعُوا الشّمْسَ فِي يَمِينِي، وَالْقَمَرَ فِي يَسَارِي عَلَى أَنْ أَتْرُكَ هَذَا الْأَمْرَ حَتّى يُظْهِرَهُ اللّهُ أَوْ أَهْلِكَ فِيهِ مَا تَرَكْتُهُ»

"اے چچا! اللہ کی قسم، اگر وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں، تو میں اسے ہرگز نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ اسے غالب کر دے یا میں اسی راہ میں ہلاک ہو جاؤں" (سیرت ابنِ ھشام)

 

Last modified onمنگل, 24 مارچ 2026 10:26

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.