بسم الله الرحمن الرحيم
ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے اثرات: کیا یہ ڈالر کی بالادستی کو بحال کرنا ہے یا امریکہ کے لئے اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے؟!
تحریر : أستاذ مناجي محمد
امریکی ڈالر کو بلاشبہ امریکہ کا سب سے مؤثر اسٹریٹجک ہتھیار کہا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے اس نے عالمی معیشت کی کرنسی کے طور پر اپنے ڈالر کو مسلط کر کے اپنی عالمی بالادستی کو وسعت دے رکھی ہے۔ پیٹرو ڈالر (petrodollar) پالیسی نے ڈالر کو تیل کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے امریکی ڈالر کو عالمی کرنسی کے طور پر مستحکم اور مضبوط بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا کیونکہ تیل پیداوار اور کھپت دونوں طرح کی معاشی سرگرمیوں کے لئے ایک محرک اور رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہے۔ پیٹرو ڈالر کی اس پالیسی کے ذریعے امریکی ڈالر کو عالمی کرنسی کے طور پر مستحکم بنانے کا یہ منصوبہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور قدر کو ڈالر میں مقرر کر کے حاصل کیا گیا۔ 1974-1975ء کے دوران نکسن اور فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ہونے والے معاہدے پیٹرو ڈالر پالیسی کا سنگِ بنیاد ثابت ہوئے۔ اس معاہدے کا خلاصہ یہ تھا کہ خلیجی تیل کی زیادہ تر فروخت ڈالر میں کی جائے گی، اور اس کے بدلے امریکہ خلیجی ریاستوں اور ان کے حکمرانوں کو فوجی تحفظ فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی عالمی طلب کو یقینی بنایا گیا اور اسے نہ صرف ایک عالمی کرنسی کے طور پر بلکہ قومی خزانے اور مرکزی بینکوں کے لئے بھی ایک ریزرو کرنسی کی حیثیت دے دی گئی۔ جہاں تک خلیجی ریاستوں اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کا تعلق ہے، ان کے تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کی آڑ میں مسلسل اسلحہ کے سودوں اور امریکی خسارے کی مالی معاونت میں استعمال ہوتے رہے۔ اور یوں اس طرح امریکہ نے اپنے ڈالر کے ذریعے عالمی معیشت پر اپنی بالادستی کو مزید مضبوط کر لیا۔
اور آج ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی کے بحران اور تیسری دنیا کے ممالک میں شمار کی جانے والی ایک ایسی ریاست، جس کی طاقت کو درمیانے درجہ کا سمجھا جاتا ہے، اس کے مقابلے میں ٹرمپ کی اسٹریٹجک اور عسکری مشکلات نے کئی سلگتے ہوئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ ہی ایران کی جنگ کے حوالے سے امریکہ کی سربراہی میں چلنے والے انٹرنیشنل آرڈر اور امریکی بالادستی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں مختلف تجزیے بھی سامنے آ رہے ہیں۔
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کی پیش رفت، آبنائے ہرمز کی بندش، اور اس کے نتیجے میں توانائی، خام مال اور کھادوں کی سطح پر پیدا ہونے والے بحران نے بین الاقوامی منظرنامے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی اہم سوالات بھی ابھر کر صفحۂ اول پر آ گئے ہیں کہ اس جنگ کے حوالے سے جیو اسٹریٹجک توازن، امریکی عالمی نظام، بین الاقوامی مؤقف، اور عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اور ان سب کے نتیجے میں دورِ حاظر کی سرکردہ طاقت امریکہ، جو کہ عالمی نظام کی قیادت کرتا ہے اور اسے مرتب بھی کرتا ہے، اس پر کیا اثر پڑے گا۔
تاہم آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں توانائی، خام مال اور کھادوں کا بحران پیدا ہو جانے کے باعث معاشی عنصر غالب آ گیا، اور اس بحران کے فوری اور تباہ کن اثرات عالمی معیشت اور بین الاقوامی منظرنامے پر چھا گئے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے طویل المدتی اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک اثرات کی اہمیت ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔
اور پھر اب امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف تجزیے سامنے آ گئے ہیں۔ ان میں سے بعض تجزیے خالصتاً معاشی نوعیت کے تھے، جو خاص طور پر اس جنگ کے اثرات کے اقتصادی اور مالیاتی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے۔ ان تجزیہ جات میں بڑی معیشتوں، خصوصاً خود امریکہ، یورپ اور چین، جو کہ بڑی عالمی معیشتوں کے طور پر جانی جاتی ہیں، ان پر آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی بحران اور اس سے آنے والے معاشی جھٹکوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، ان تجزیوں میں ایک منطقی اور تکنیکی نوعیت کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا، جو جیو اسٹریٹجک میدان کی پیچیدگیوں سے ہٹ کر تھا، اور اس تجزیہ میں اس جنگ اور ٹرمپ کی ان مشکلات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جو ٹرمپ کی جانب سے ایران میں وینزویلا جیسا منظرنامہ دہرانے، جنگ کو فیصلہ کن طور پر جیتنے، اور ایرانی مسئلے کو ختم کرنے میں ناکامی کے باعث پیدا ہوئیں۔ امریکی توقعات کے برعکس، اس جنگ نے ایسے رخ اختیار کر لئے جو ٹرمپ انتظامیہ کے مقاصدکے خلاف تھے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ جنگ ایک اسٹریٹجک تنزلی کے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ تاہم، زیادہ تر یہ تجزیے جنگ کے ابتدائی معاشی اعشاریوں پر انحصار کر رہےتھے، جیسے ڈالر انڈیکس میں اضافہ اور امریکی آئل اینڈ گیس پروڈیوسرز کے لئے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ۔ اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ اس جنگ اور توانائی بحران کا اصل فائدہ امریکہ اور اس کے بحال شدہ ڈالر کو ہوا، جبکہ یورپ اور چین مختلف سطح تک متاثر ہوئے۔ اور پیٹرو ڈالر کے تناظر میں ایک سادہ منطقی و تکنیکی نتیجہ یہ نکالا گیا کہ توانائی کا بحران اور اس کے معاشی اثرات ڈالر کو مستحکم کرنےکے لئے اور اس کی بالادستی کی بحالی کے لئے معاون ثابت ہو رہے ہیں، اور اس کے ساتھ لامحالہ طور پر امریکی بالادستی بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ لیکن یہ جنگ جو کہ اب دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اس جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی جیو اسٹریٹجک اور اسٹریٹجک پیچیدگیاں اور کوتاہیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ صورتِ حال کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔ نئے سرے سے یہ جائزہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ نئے ابھرتے اور بدلتے ہوئے حالات، طویل المدتی جیو اسٹریٹجک پہلو، اور حتیٰ کہ قلیل المدتی معاشی اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے، جو امریکی معیشت، ریاست اور امریکی معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بلکہ امریکہ کی معیشت، ریاست اور معاشرے پر قلیل المدتی اقتصادی نتائج کی حقیقی نوعیت کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک بحران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی فوجی اور اسٹریٹجک ناکامی، اور ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کی جانب سے اس جنگ کو سنبھالنے میں پیدا ہونے والی الجھن اور مشکل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
ایران کے خلاف ٹرمپ کی مہم کی فوجی ناکامی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک بحران ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوا، جس نے اس امریکی عسکری طاقت کی اوقات کو آزمایا جس پر امریکہ کو خود بہت ناز تھا۔ خلیج میں موجود امریکی اڈے غیرمحفوظ نشانہ بن کر رہ گئے، اور سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بات سامنے آئی کہ ایرانی حملوں کے باعث کئی اڈوں کو خالی کرنا پڑا۔ اس جنگ نے امریکہ کو درپیش اسٹریٹجک جمود اور ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ کی حکمتِ عملی کے اندھے پن کو بھی بے نقاب کیا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کوئی غیر متوقع یا غیر معمولی اسٹریٹجک واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایسا ہونا تو عین ممکن تھا اور یہ ایک متوقع حقیقت تھی۔ تاہم، ٹرمپ کے غیر متوازن اور غیر یقینی طرزِ عمل نے اسے اس مشکل میں دھکیل دیا، اور آج وہ چین اور یورپ کی منتیں کر رہا ہے کہ وہ اس آبنائے کو دوبارہ کھلوانے کے لئے ایک اتحاد تشکیل دے دیں۔ جب ٹرمپ خلیجی ریاستوں کو اس بات پر آمادہ کرنے میں ناکام ہو گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مسودۂ قرارداد پیش کریں، تو بحرین نے ایک تجویز پیش کی، جس میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے تحفظ کے لئے طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ تاہم روس، چین اور فرانس نے کھل کر اس کی مخالفت کی۔ اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک سفارتکار اور اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ روس، چین اور فرانس نے عملی طور پر عرب ممالک کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد سلامتی کونسل سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت حاصل کرنا تھا تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ ان ممالک نے کسی بھی ایسے مسودے کی مخالفت کی جس میں طاقت کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ اور روس نے اس قرارداد کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ درحقیقت ٹرمپ کی اسٹریٹجک پالیسی کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی جنگ کا مقصد اب آبنائے ہرمز کو کھولنا بن گیا ہے، حالانکہ اس جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ گزرگاہ کھلی ہوئی تھی !
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اس حالیہ جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش، اور اس کے بعد امریکہ کے لئے پیدا ہونے والی اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک مشکلات کی اس صورتحال کے ساتھ ایک حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے، جو 1950ء کی دہائی میں نہرِ سویز کی جنگ کے دوران پیدا ہونے بحران کی صورتحال میں برطانیہ کو درپیش رہی تھی۔ امریکی جریدے، دی نیو یارکر (The New Yorker) کے 30 مارچ، 2026ء کے شمارے کے لئے لکھتے ہوئے خارجہ امور کے صحافی، اشان تھرور (Ishaan Tharoor) نے اپنے ایک مضمون، بعنوان ’’Trump, Iran, and the Shadow of Suez‘‘ یعنی ’’ٹرمپ، ایران، اور سویز کا سایہ‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’جیسے جیسے ایران آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط کر کے عالمی معیشت کو دباؤ میں لے رہا ہے، تو ٹرمپ کو ایک ایسے بحران کا سامنا کر پڑ رہا ہے جو تاریخ کی نمایاں ترین اسٹریٹجک ناکامیوں میں سے ایک کی یاد دلاتا ہے‘‘۔ یوں اس طرح یہ صحافی، اشان تھرور اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود کرنے کا فیصلہ جدید تاریخ کی ایک بڑی اسٹریٹجک ناکامی، یعنی نہرِ سویز کی جنگ میں برطانیہ کی ناکامی سے مشابہت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں بالآخر برطانیہ کی عالمی اجارہ داری اور اثر رسوخ ختم ہو گیا تھا۔ اور اب ٹرمپ اپنے حالات اور اپنے ملک کی مخصوص صورتحال کے مطابق اسے ڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے اسی تاریخی اسٹریٹجک ناکامی کو ایک امریکی شکل میں دہرا رہا ہے۔
برطانیہ نے نہرِ سویز کی جنگ اس لئے چھیڑی تھی تاکہ وہ اپنے استعماری اثر و رسوخ کو دوبارہ قائم کر سکے اور نہرِ سویز کو ایک بار پھر اپنے دائرۂ اثر میں لے آئے۔ اور یاد رہے کہ اس دور میں برطانیہ کی سلطنت زوال پذیر تھی، اس کی استعماری طاقت مٹتی چلی جا رہی تھی، اس کی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، اور اس کے علاوہ برطانیہ کو نئے حریفوں کے ساتھ شدید جیواسٹریٹجک کشمکش کا سامنا بھی تھا، لیکن ان حالات کے باوجود برطانیہ نے یہ جنگ چھیڑ دی۔ اور برطانیہ اس جنگ میں الجھ کر رہ گیا، نہرِ سویز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا تو درکنار،اس کے پاس جو کچھ بھی عالمی جیو اسٹریٹجک اثر و رسوخ باقی رہ گیا تھا، برطانیہ اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔ برطانیہ کو بڑی طاقتوں کے اس دائرے سے باہر کر دیا گیا جو عالمی منظرنامے پر اثر انداز ہوتی تھیں، اور عالمی سیاست کے مباحثے صرف امریکہ اور سوویت یونین تک محدود ہو کر رہ گئے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویت یونین اور امریکہ کے ساتھ ساتھ، برطانیہ کو اب بھی ایک تیسری سپر پاور سمجھا جاتا تھا۔ ایک برطانوی مورخ اور کتاب Blood and Sand: Suez, Hungary, and Eisenhower’s Campaign for Peace,، ’’ریت و خون : نہرسویز، ہنگری، اور آئزن ہاور کی امن کے لئے مہم‘‘ کی مصنفہ، الیکس وان تونزیل مین (Alex von Tunzelmann) کے مطابق: ’’نہر سویز کے واقعے کے بعد، برطانیہ کا تیسری سپر پاور ہونے کا وہ درجہ‘‘ ختم ہو کر رہ گیا، اور ہمیں ایک 'دو قطبی دنیا' (Binary/Bipolar World) کے بارے میں سننے کو ملنے لگا۔ یہ بات تو بہرحال بالکل واضح ہو گئی کہ برطانیہ اب کھل کر امریکہ کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے قابل نہیں رہا‘‘۔
تاہم، مماثلت کی اس تمام صورتحال میں امریکہ کے لئے آج سب سے مایوس کن بات یہ ہے کہ ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکہ کے زوال کے ان آخری مراحل کو عیاں کر دیا ہے جن تک امریکہ آج پہنچ چکا ہے۔ آج امریکہ محض زوال کا ہی شکار نہیں ہے، بلکہ ایک مکمل اور ہمہ گیر بگاڑ سے گزر رہا ہے اور اس بگاڑ کی سب سے شدید اور خطرناک شکل امریکہ کی داخلی سطح پر نظر آتی ہے، جہاں امریکی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی ساخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اور مختلف طبقات میں بٹ کر منقسم مفادات اور اپنے اپنے مقاصد کے تضاد کا شکار ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ دارانہ درندگی اور جارحانہ رویوں کی ایک انتہائی شکل کو جنم دیا ہے، اور ہر طرح کی سیاسی سطح پر عمودی اور افقی تقسیم پیدا کر دی ہے، چاہے وہ جماعتوں کی سطح پر ہو، ریاست کی، اداروں کی، ایجنسیوں کی یا انتظامیہ کی سطح پر ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی، ثقافتی اور تہذیبی ٹوٹ پھوٹ اور زوال بھی سامنے آیا ہے، اور ایک ایسا تباہ کن مالی بحران پیدا ہوا ہے جس کی مثال سلطنتوں کی تاریخ میں نہیں ملتی، گویا امریکی ریاست اور معاشرہ قرضوں کے سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ ان سب میں سب سے خطرناک پہلو سیکولر سرمایہ دارانہ ثقافتی نظام کا زوال اور اس کا تہذیبی بگاڑ کی انتہا کو پہنچ جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام اپنے زوال کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور بات ریاست کے سربراہ اور قیادت کی کرپشن تک جا پہنچی ہے۔ ٹرمپ کی صدارت اس زوال کی کھلی اور شرمناک علامت بن گئی ہے، جبکہ ایپسٹین آئی لینڈ کا اسکینڈل اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت کی اخلاقی گراوٹ اور بدکرداری کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ان میں رچ بس کر ایک عمومی اور ہمہ گیر کیفیت بن گئی ہے، اور ٹرمپ اس زوال یافتہ قیادت کی ایک نمایاں مثال ہے۔ لیڈرشپ کی اس گراوٹ کا سب سے نمایاں انجام وہ اسٹریٹجک بحران ہے جس کا امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیسا کہ سیاسیات کے ماہر اسٹیفن ایم والٹ (Stephen M. Walt) نے 3 فروری، 2026ء کو فارن پالیسی میگزین میں ایک مضمون میں لکھا، جس کا عنوان تھا، ’’The Predatory Hegemon: How Trump Wields American Power‘‘ یعنی ’’شکاری بالادستی: ٹرمپ امریکی طاقت کو کیسے استعمال کرتا ہے‘‘، مصنف لکھتا ہےکہ: ’’شکاری بالادستی اپنے اندر ہی اپنی تباہی کے بیج رکھتی ہے‘‘، اور انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ’’مزید غریب، کم محفوظ اور کم بااثر ہوتا چلا جائے گا، جتنا کہ آج موجودہ امریکیوں کی پوری زندگی میں کبھی نہیں رہا۔ مستقبل کے امریکی لیڈران ایک کمزور پوزیشن سے کام کریں گے اور واشنگٹن کی ساکھ کو ایک ذاتی مفاد پرست مگر غیر جانبدار پارٹنر کے طور پر بحال کرنے کے لئے سخت جدوجہد کرنا پڑے گی۔ شکاری بالادستی ایک ناکام حکمت عملی ہے، اور جتنا جلدی ٹرمپ انتظامیہ اسے چھوڑ دے، تو اتنا ہی ان کے لئے بہتر ہو گا‘‘۔
ایران کے خلاف جنگ اس خام مادی اور فوجی طاقت کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی جسے امریکہ دشمنوں اور حریفوں کو زیر کرنے اور اپنی ختم ہوتی ہوئی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لئے بطورِ حربہ اور دھمکی استعمال کرتا تھا۔ اس جنگ کے اثرات نے امریکہ کو اسٹریٹجک طور پر اپنے ان حریفوں اور دشمنوں کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے جوپہلے ہی اس تاک میں لگے بیٹھے تھے، اور اب امریکہ ان کے لئے ایک آسان اور قابلِ حصول ہدف بن چکا ہے۔
جہاں تک کچھ وقتی معاشی فوائد کی بات ہے، جو اس جنگ کے ضمنی اثرات ہیں اور اس کے اسٹریٹجک مقاصد میں شامل نہیں ہیں، تو یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ وقتی فوائد اسٹریٹجک نقصانات کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ، ان وقتی معاشی فوائد کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معاشی اثر بہت محدود ہے جبکہ اسٹریٹجک اثر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
بہرحال، ان تجزیوں کا نتیجہ یہ تھا کہ جنگ کے اثرات، توانائی کے بحران اور معاشی جھٹکے کے دوران ڈالر کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہےجس کے نتیجے میں اس کی قدر بڑھ گئی، اور خلیج کی توانائی کے بحران کے متبادل کے طور پر امریکی توانائی کے ذرائع کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ ان کے پاس ذخائر بھی ہیں اور مقامی پیداوار بھی موجود ہے۔ اس صورتحال نے پیٹرو ڈالر نظام کو مضبوط کیا اور وہ مالیاتی نظام مزید مستحکم ہوا جس کے ذریعے امریکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی میدان میں حاوی رہا ہے۔ یہ تجزیہ منطقی ہے، لیکن مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے اور خاص طور پر دورِ حاظر کے عالمی منظرنامے کی صورتحال کی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس مسئلہ کو پیٹروڈالر کے تناظر میں صرف توانائی اور ڈالر کے درمیان ایک سادہ میکانکی تعلق کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس گتھی کو سلجھانے کے لئے مختلف باہم جڑے ہوئے عناصر کو الگ الگ کر کے دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ توانائی کے بحران اور اس معاشی جھٹکے سے بنیادی فائدہ اٹھانے والے وہ ممالک تھے جو اس جنگ کے جغرافیائی دائرے سے باہر بیٹھے ہیں اور خود تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک ہیں، جن میں سب سے پہلے امریکہ کا انرجی سیکٹر آتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکی توانائی کمپنیوں اور اسلحہ ساز اداروں کے حصص کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔ تاہم یہ فوائد صرف توانائی اور اسلحہ کے شعبوں تک ہی محدود رہے اور مجموعی طور پر پوری امریکی معیشت تک نہیں پھیلے۔ امریکی توانائی کمپنیوں اور اسلحہ کی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اس طرح کا اضافہ ہونا امریکی معیشت کی تاریخ میں بار بار دہرائی جانے والی ایک کیفیت ہے، جو جنگوں کے دوران توانائی اور اسلحہ کی منڈیوں میں تیزی کی صورت میں دیکھنے میں آتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب معیشت کی مجموعی بہتری نہیں ہوتا۔ بلکہ سکے کا دوسرا رُخ دیکھنے پر یہ کیفیت شدید تضادات کو ظاہر کرتی ہے اور اس کا منفی اثر امریکی معیشت کے اہم شعبوں، ریاست، ریاست کے قرضوں پر اور افراطِ زر پر اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے اور روزمرہ کے اخراجات پر پڑتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ پر منفی اثر ڈالتا ہے اور شپنگ کے اخراجات کو بڑھا دیتا ہے، پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور صارفین کے لئے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہی صورتحال یوکرین جنگ کے دوران پیش آئی اور روسی انرجی مارکیٹ جمود کا شکار ہو گئی، اور بڑی امریکی انرجی کمپنیوں نے بھرپور منافع کمایا۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد 2022ء کی تیسری سہ ماہی میں ہی امریکی انرجی کمپنیوں، ایگزون موبل (ExxonMobil) اور شیوران (Chevron) کا منافع 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ اس کے نتیجے میں ایندھن، توانائی، شپنگ، پیداوار اور صارفین کے لئے روزمرہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ مزید یہ کہ ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز گزرگاہ کے بندہو جانے سے کھاد، کیمیکلز اور خام مال کا بحران پیدا ہوا، جو کہ امریکہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے کیونکہ خلیجی ممالک ان اشیاء کے بڑے پروڈیوسرز ہیں۔ اس سپلائی چین کی رکاوٹ نے ٹیکنالوجی اور زرعی شعبوں میں بھی پیداوار کو متاثر کیا، جو کہ امریکی معیشت کے دو اہم اور اسٹریٹجک شعبے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی معیشت، ریاست اور معاشرے پر اس جنگ کے اثرات یک طرفہ نہیں ہیں۔
بہرحال مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جنگ کے دوران جنگی صنعت کے فروغ اور نجی اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع میں بیش بہا اضافہ ہو گیا ہو۔ بلکہ، اس میں توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر ان صنعتوں کی لاگت کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں براہِ راست فریق ہے اور اپنے ہی اسلحے، آلات اور گولہ بارود کا اولین صارف بھی ہے۔ امریکہ، جو پہلے ہی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، اپنی ہی عسکری مصنوعات کا گاہک بن کر امریکی قرضوں کے سنگین مسئلے کو مزید بڑھا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس سادہ لوح تصور کے کم فہم ہونے کو ظاہر کرتی ہے جس میں آئل، گیس اور اسلحہ کی آمدنی کو امریکی معیشت، امریکی ڈالر اور امریکی بالادستی کے ساتھ براہِ راست منسلک کیا گیا ہے۔
درحقیقت، ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے اثرات اور امریکہ کو درپیش موجودہ اسٹریٹجک اور عسکری مشکلات کو ڈالر کے بطور عالمی کرنسی جاری رہنے کے لئے ایک بڑے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ امریکہ نے ڈالر کو ایک ہتھیار کے طور پر حد سے زیادہ استعمال کیا، حتیٰ کہ اپنے اتحادیوں کے خلاف بھی، اور چین اور روس کے خلاف اپنی سرد جنگ میں پیٹرو ڈالر کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا، جس کے نتیجے میں اس سے علیحدگی کے رجحانات مضبوط ہوئے۔ پیٹرو ڈالر نظام کے زوال پر کی گئی گہری تحقیقات میں سے ایک، ڈچ بینک (Deutsche Bank) کی سٹریٹجسٹ ماہر ملیکا سچدیوا (Malika Sachdeva) کی ایک تحقیق ہے، جس کا عنوان ہے What Iran means for the petrodollar, a perfect storm for the petrodollar یعنی ’’ایران کی نظر میں پیٹرو ڈالر کے کیا معنی ہیں: پیٹرو ڈالر کی مکمل تباہی‘‘، یہ مضمون نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو 24 مارچ 2026ء کو شائع ہوا اور فیصلہ ساز حلقوں میں خاصا مقبول ہوا۔ اس مضمون میں مصنفہ نے نشاندہی کی ہے کہ پیٹرو ڈالر کا نظام پہلے ہی زوال پذیر تھا، جس کی وجہ آئل مارکیٹ کے مرکز کا ایشیا کی طرف منتقل ہونا ہے۔ مزید یہ کہ ایران اور روس کا وہ آئل، جو پابندیوں کا شکار ہے، ڈالر کے دائرے سے باہر فروخت ہو رہا ہے اور عالمی کھپت کا تقریباً 14 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح سعودی حکومت بھی چین کے ساتھ تیل کی تجارت کو ڈالر کے علاوہ کرنسی میں طے کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ تحقیقی مطالعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آئی ایم ایف (IMF) کے مطابق، عالمی مرکزی بینکوں کے فارن ایکسچینج ریزرو میں ڈالر کا حصہ 2015ء میں 65% سے کم ہو کر 2025 میں 56.9% رہ گیا ہے۔ امریکی انویسٹمنٹ بنک، گولڈمین سیک (Goldman Sachs) کے سابق ماہرِ معاشیات اور برطانیہ کے سابق وزیر مالیات، جم او نیل (Jim O'Neill) کے مطابق، ڈالر کی تنزلی کی وجہ خلیجی ریاستوں کی جانب سے چین اور بھارت کے ساتھ ڈالر کے فریم ورک سے باہر رہ کر آئل کی تجارت کرنا ہے۔ یہ رجحان امریکہ کو درپیش اسٹریٹجک اور عسکری مشکلات کی وجہ سے مزید تیز ہو رہا ہے، اور خلیج میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد پیٹرو ڈالر کے بدلے تحفظ (Petrodollar-for-protection) کے معاہدے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں خلیجی حکومتوں کا امریکی فوجی تحفظ کے سائے تلے ہونے پر اعتماد مزید کمزور ہوا ہے۔
گلوبل نیوز ایجنسی رائٹرز (Reuters) کے مطابق عالمی معیشت میں ایک تبدیلی متوقع ہے، جس کے تحت پیٹرو ڈالر پر سخت انحصار کم ہو کر دیگر کرنسیوں کے ذخائر کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ رجحان پیٹرو ڈالر نظام کو مزید کمزور کرے گا اور عالمی معیشت میں ڈالر کی بالادستی کو متاثر کرے گا۔ یہ صورتحال اس وجہ سے مزید سنگین ہو رہی ہے کہ قومی ذخائر میں امریکی ٹریژری بانڈز (US Treasury bonds) کی ملکیت میں تیزی سے اور مسلسل کمی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال تیزی سے بڑھتی ہوئی ایک تنزلی ہے، جو 2010ء میں 50 فیصد سے کم ہو کر 2026ء میں 32 فیصد رہ گئی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ اور اس کی اسٹریٹجک مشکلات بھی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل پیٹرو ڈالر نظام کے زوال اور بانڈز پر انحصار میں کمی کو مزید تیز کریں گے، جس کے اثرات امریکی مالیاتی نظام، اس کی عالمی حیثیت اور بین الاقوامی سطح پر امریکی بالادستی پر پڑیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے اثرات امریکہ کے لئے ایک تاریخی اسٹریٹجک بحران کی حیثیت رکھتے ہیں، اور یہ ایک اہم تاریخی موڑ ہے جو امریکی بالادستی کے زوال اور اُس عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جس کی بنیاد امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد رکھی تھی۔ ٹرمپ، جو کہ خود ایپسٹین (Epstein) کے گھٹیا تہذیبی نظام کی پیداوار ہے، اور پھر بحرانوں میں گھری ہوئی ٹرمپ کی انتظامیہ ہے جو تلوے چاٹتے ہوئے خوشامدی اور ناکام لوگوں کا ٹولہ ہیں، اور یہ لوگ قیادت کے سنگین بحران اور ایک کرپٹ لیڈر کی ایک منہ بولتی اور حیرت انگیز مثال ہیں۔ ٹرمپ اسٹریٹجک سطح پر نہ تو کچھ نیا بنا رہا ہے اور نہ ہی کسی نئی چیز کی بنیاد رکھ رہاہے۔ٹرمپ کا 'فاکس نیوز' سے تعلق رکھنے والا کٹھ پتلی کارندہ، پیٹ ہيگستھ (Hegseth)، جو فحش کلبوں اور شراب نوشی کی لت میں مبتلا ہے اور جسے ٹرمپ نے سیکرٹری آف ڈیفنس مقرر کیا ہوا ہے، وہ ملٹری کے نااہل ہونے کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ ٹرمپ تو امریکہ کے لئے گورکن ثابت ہو رہا ہے نہ کہ اس امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے والا۔
تاہم مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ چپ چاپ بیٹھ کر امریکہ کے زوال اور دفن ہونے کا انتظار کیا جائے، بلکہ اس کے بجائے ایک تہذیبی اور سیاسی متبادل کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کو اس اندھی جہالت کی تاریکی سے جلد از جلد نجات دلائی جائے جو یورپی اور امریکی مغرب نے دنیا کے لیے بدبختی اور خودکشی کی صورت میں پیدا کی ہے۔ اور یہ اہم ترین کام یقیناً چین کے تو بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی مغربی جاہلیت ہی کے 'چینی ورژن' کا تسلسل ہے، بلکہ چین تو مغرب سے بھی زیادہ مکار اور عیار ہے۔ اس کے برعکس، نجات تو صرف رب العالمین اللہ ﷻ کے عطا کردہ دین 'اسلام' اور اسلام کے منفرد تہذیبی منصوبے اور اس کی منفرد اور ممتاز نظام 'خلافتِ راشدہ' میں پنہاں ہے۔ تو پھر آخر اسلام کے بیٹے اور بیٹیاں ہر قسم اور رنگ کے کفر کو مٹانے اور اسلام کی عمارت اور نظام کو قائم کرنے میں جلدی کیوں نہیں کرتے؛ ایسی خلافت جو منہجِ نبوت پر قائم ہو اور تمام انسانوں میں عدل اور رحمت کو عام کر دے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوراً مُّبِيناً، فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطاً مُّسْتَقِيماً﴾
”اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی ہے، اور ہم نے تمہاری طرف ایک روشن نور نازل کیا ہے۔ پس جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس سے مضبوطی سے وابستہ رہے، وہ انہیں اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے گا‘‘۔ ]سورۃ النساء؛ 4:174[
أستاذ مناجي محمد کی جانب سے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے لکھا گیا