Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خلافت کا قیام مسلم دنیا کو تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات سے آزاد کردے گا

 

خبر:

 

آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے، حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر پیٹرولیم ڈیویلیمپینٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں 13.91 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ اس اقدام سے لاگت کو بڑھانے والی افراط زر مزید بڑھنے کی توقع ہے، جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ ہفتہ وار حساس قیمت انڈیکس (SPI)میں 7 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سال بہ سال 15.16 فیصد اضافہ ہوا، جو بنیادی طور پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سےہوا ہے۔ [بزنس ریکارڈر]

 

تبصرہ:

 

          یکم جولائی 2025 کو پیٹرول کی قیمت 266.79 روپےفی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل  272.98 روپے فی لیٹر تھی ۔ رواں مالی سال 26-2025 میں پیٹرولیم ڈیویلپمینٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے ہے لیکن آئی ایم ایف نے 1311 ارب روپے پی ڈی ایل کی وصولی کا تخمینہ لگایا ہے۔ جب امریکہ نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا تو پاکستان میں پیٹرول  258.17 روپےفی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) 275.70 روپےفی لیٹر  تھا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی اس قیمت میں پی ڈی ایل کا حصہ پیٹرول کے لیے 84.40 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 76.21 روپے فی لیٹر تھا۔

 

          امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے اور اس کے بعد آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئیں اور برینٹ کروڈ 73.19 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 115 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ اس وقت یہ قیمت 110 امریکی ڈالر فی بیرل ہے۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ فراہم کردیا۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 410 روپے فی لیٹرہے۔

 

          28 فروری 2026 کو جب امریکہ ایران جنگ شروع ہوئی تو  پیٹرول کے لیے 84.25 روپےفی لیٹر اور ڈیزل کے لیے 76.21 روپے فی لیٹر پی ڈی ایل کا حصہ مقرر تھا ۔لیکن اب یعنی 18 مئی 2026 کو پیٹرول پر 117.41 روپےفی لیٹر، اور ڈیزل پر 52.00 روپےفی لیٹر پی ڈی ایل مقرر کیا گیا ہے۔  پٹرولیم مصنوعات پر صرف پی ڈی ایل ہی واحدٹیکس نہیں ہے، پیٹرول پر 144.26 روپے جبکہ ڈیزل پر 95.35 روپے کُل ٹیکس ہے۔

 

ایک ایسے وقت میں جب تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس ختم یا کم نہیں کیا۔ اس کے بجائے، اس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبے کو پورا کرنے کے لیے پی ڈی ایل میں اضافہ کیا، تاکہ1468 ارب روپے جمع کرنے کا بجٹ ہدف حاصل کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف اور حکومت نے پاکستان کے عوام پر کوئی رحم نہیں کیا، جو کئی سال سے مہنگائی سے پس رہے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے ایسے لوگ جو ملک چھوڑنے کی استطاعت رکھتے ہیں، انہوں نے ملک چھوڑ دیا ہے ۔

 

حکومت یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ بین الاقوامی میدان میں ملک کا قد کئی گنا بڑھ گیا ہے، جبکہ حکومت ثالث بن کر اپنے آقا، امریکہ کو امریکہ ایران جنگ کی رسوائی سے بچا رہی ہے۔ تاہم، جب پاکستانی عوام کو کوئی ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو قد میں اس نام نہاد اضافہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف امریکی معاشی استعمار کا آلہ کار ہے۔ حکمرانوں نے اپنے آقا امریکہ سے اتنا بھی نہیں کہا کہ وہ انہیں آئی ایم ایف سے رعایتیں اس بنیاد پر دلادے کہ وہ اس وقت امریکہ کی انتہائی اہم خدمت کررہے ہیں جب  کوئی دوسری حکومت ایسا گھناؤنا کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت امریکہ کی غلام ہے۔ غلام صرف اپنے آقا کے حکم کی پابندی کرتا ہے، اور کبھی بھی اپنی خدمات کے بدلے کوئی معاوضہ مانگنے کی جرات نہیں کرتا۔

 

          پی ڈی ایل ایک سرمایہ دارانہ، رجعت پسند، ہر ایک پر لاگو ہونے والا ٹیکس ہے، ایسا ٹیکس جو امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتا ہے۔ لہٰذا، حل پیٹرولیم مصنوعات پر پی ڈی ایل یا دیگر ٹیکسوں کو ختم یا کم کرنا نہیں ہے۔ اس کے بجائے، ہمیں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے لیے مکمل طور پر ایک متبادل انقلابی تصور کی ضرورت ہے۔ آج جب ایران میں پابندیوں اور محاصروں کے باوجود پیٹرول کی قیمت صرف 8.12روپے ہے، تو کیوں نہ انقلابی تصور اختیار کرتے ہوئے مسلم سرزمینوں کو تقسیم کرنے والی قوم پرست سرحدوں کو مٹادیا جائے ، اور مراکش سے انڈونیشیا تک مسلم زمینوں کو ایک واحد شرعی سیاسی وجود، خلافت کے طور پر یکجا کردیا جائے۔اس طرح پوری مسلم دنیا کو تیل انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔

 

          اس انقلابی تصور میں تیل کے متعلق شرعی حکم کا نفاذ بھی شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلإِ وَالنَّارِ »"مسلمان تین چیزوں میں شراکتدار ہیں: پانی، چراہ گاہیں ، اورآگ۔ " اور انس ؓ نے ابن عباسؓ سے روایت کی، انہوں نے اس حدیث میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا: «وَثَمَنُهُ حَرَامٌ» "اور اس کی قیمت لینا حرام ہے۔" اور یہ بھی کہ ابو ہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا يُمْنَعُ الْمَاءُ، وَالنَّارُ، وَالْكَلَأُ»"پانی، چراگاہ اور آگ کو الگ(لوگوں سے دور) نہ کرو۔" آگ ایندھن ( وقود) کے معنی سے ہے جس میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں جو گاڑیوں اور جنریٹروں کو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ تیل کی ملکیت میں تمام مسلمانوں کی شراکت (شراکة) اس لیے ہے کہ یہ معاشرے کے لیے درکار اجتماعی افادیت (مرافق الجماعة)میں سے ایک ہے ۔یہ معاشرے کے لیے ناگزیر ہے کہ اگر یہ دستیاب نہ ہو تو معاشرے کو اسے ڈھونڈنے کے لیے منتشر ہونا پڑے گا۔ لہٰذا، خلافت میں، تیل نہ تو نجی ملکیت میں ہے، جہاں پرائیویٹ کمپنیاں اس کی فروخت کے ذریعے منافع کمائیں ، اور نہ ہی یہ ریاست کی ملکیت ہے، جہاں ریاست اپنی مرضی کے مطابق اس پر ٹیکس لگائے۔اس کے بجائے خلافت میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات عوامی ملکیت ہیں، جہاں مسلم معاشرہ براہ راست اس کا استعمال کر کے فائدہ اٹھاتا ہے ، یا اس کی قیمت (ثمن) سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ لہٰذا، خلیفہ کم قیمتوں پر تیل اور پیٹرولیم فراہم کر سکتا ہے، جبکہ اس سے حاصل ہونے والا کوئی بھی منافع بیت المال (سرکاری خزانے) میں جمع کرایا جا تا ہے اور اسے صرف معاشرے کی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے۔

 

          مسلم دنیا کو تیل کے بے پناہ ذخائر سے نوازا گیا ہے۔ خام تیل کی عالمی پیداوار میں مسلم ممالک کا حصہ تقریباً 35 سے 43فیصد ہے اور دنیا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا تقریباً 65فیصد مسلم علاقوں میں ہے۔ خلافت کے تحت ایک امت بننے سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کو معاشی استعمار سے نجات ملے گی۔ ہمیں خود کو صرف امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کی دعا تک محدود نہیں رکھنا چاہیے تاکہ تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تک واپس آ جائے اور مہنگائی میں کچھ کمی ہوجائے، بلکہ ہم سب کو حزب التحریر کے ساتھ مل کر شرعی حکمرانی، خلافت راشدہ کو قائم کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے، تاکہ ہمارے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ وحی کے مطابق چل سکیں۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے ولایہ پاکستان سے شہزاد شیخ نے تحریر کیا

 

 

Last modified onبدھ, 20 مئی 2026 19:29

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.