Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

چین ... فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر غائب بھی اور حاضر بھی

 

 

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ)

 

جب 15 جون 2026 سے تین روز کے لیے جی 7 کے رہنما فرانس میں اکٹھے ہوئے، تو میز کے گرد چین کی کوئی نشست تو موجود نہ تھی، مگر ہال کے ہر کونے، بحث کے ہر نکتے اور ان بیشتر خدشات میں چین ہی موجود تھا جو مغربی رہنما اپنے ساتھ اس اجلاس میں لائے تھے۔

 

اس مرتبہ تصویر نمایاں طور پر مختلف نظر آئی۔ جی 7 گروپ، جو گزشتہ صدی کی ستر کی دہائی میں قائم ہوا اور بنیادی طور پر بڑی صنعتی معیشتوں کے کلب اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ کے طور پر وجود میں آیا تھا، اس نے خود کو ایک ایسی ریاست پر بحث کرتے ہوئے پایا جو اس کی رکن تو نہیں، مگر اب وہ اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا، اور اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ اسے محض ایک روایتی حریف کے خانے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

 

اس تبدیلی کی سب سے واضح علامت شاید وہ ورچوئل اجلاس تھا جو فرانسیسی صدر میکرون نے سربراہی اجلاس کے انعقاد سے چند روز قبل 11 جون 2026 کو طلب کیا تھا۔ اس اجلاس میں امریکہ، چین، یورپ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں، بالخصوص آئی ایم ایف سمیت کئی  ممالک نے شرکت کی۔ یہ محض ایک روایتی یا پروٹوکول کے تحت ہونے والی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا سیاسی اور معاشی اعتراف تھا کہ عالمی نظام اب اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں چین کے بغیر اس کی خرابیوں کو درست کرنا ممکن نہیں رہا۔ میکرون نے کسی ایسے "چینی مسئلے" کی بات نہیں کی جسے روکنا یا قابو کرنا ضروری ہو، بلکہ انہوں نے ان "عالمی عدم توازن" کا ذکر کیا جن کے لیے یورپ، امریکہ اور چین کے درمیان فوری ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ہم آہنگی کی عدم موجودگی "سخت معاشی اور مالیاتی تبدیلیوں" کا باعث بن سکتی ہے جو عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہوں گی۔ اس خطاب کے جوہر میں ایک ایسا واضح اعتراف چھپا ہے کہ پسپائی اختیار کرتا ہوا مغرب اب تنہا عالمی معیشت کو چلانے کے قابل نہیں رہا۔

 

جی 7 کئی دہائیوں سے معاشی کھیل کے اصول وضع کرنے اور پھر دوسروں سے ان پر عمل درآمد کروانے کی عادی رہی ہے۔ لیکن آج، اس کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک چین کو انہی توازنات کی دوبارہ تشکیل میں شرکت کی دعوت دے رہا ہے جو کبھی مغرب نے خود قائم کیے تھے۔ ان دو تصویروں کے درمیان عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کی کہانی سمٹی ہوئی ہے۔ چین، جو چار دہائیوں پہلے عالمی معیشت کے حاشیے پر محض ایک ترقی پزیر معیشت تھا، آج "دنیا کی فیکٹری"، بین الاقوامی سپلائی  کا مرکزی محور، درجنوں ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایک ایسی ٹیکنالوجیکل قوت بن چکا ہے جو ان شعبوں میں مغرب کا مقابلہ کر رہا ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف مغرب کی اجارہ داری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے لیے اب مسئلہ صرف چینی معیشت کا حجم نہیں، بلکہ اس کی رفتار اور سمت ہے۔

 

وہ یورپی جنہوں نے دہائیوں تک چین کو ایک بڑی مارکیٹ اور سستی لیبر کے ذریعے خوش آمدید کہا تھا، اب یہ جان چکے ہیں کہ جس دیو قامت ملک کو انہوں نے عالمی سرمایہ دارانہ معیشت میں ضم کرنے میں مدد دی تھی، وہ اب ایک اسٹریٹجک حریف میں بدل چکا ہے جو ان کی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل برتری کے لیے خطرہ ہے۔ اسی پس منظر میں چینی الیکٹرک گاڑیوں، ماحول دوست صنعتوں، الیکٹرانک چپس اور ایشیا سے آنے والی سپلائی چینز پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے بارے میں بڑھتے ہوئے یورپی لب و لہجے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن مغرب کو چینی برآمدات سے زیادہ جس چیز نے پریشان کر رکھا ہے وہ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔ فرانس کے شہر ایوی اان (Evian) میں جی 7 رہنماؤں کے اکٹھے ہونے سے چند روز قبل کینیڈا کے "میگز انسٹی ٹیوٹ" (Meigs Institute) کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بیجنگ جی 7 ممالک کے ماحول میں مختلف معاشی، تعلیمی، ٹیکنالوجیکل اور ثقافتی ذرائع سے سرایت کرنے کی طویل مدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جسے رپورٹ "منظم، ہم آہنگ ہونے والی اور گہری جڑوں والی" قرار دیتی ہے۔ فرانس نے "فرانس 24" چینل کے ذریعے اس رپورٹ کے مندرجات کی میڈیا کوریج کے ذریعے اس بارے میں خبردار بھی کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق، چین مغرب کے ساتھ براہ راست تصادم پر نہیں، بلکہ اس کے معاشی، علمی اور تجارتی ڈھانچے میں بتدریج سرایت کرنے پر انحصار کرتا ہے، تاکہ وہ ایک ایسا پائیدار اثر و رسوخ قائم کر سکے جسے بعد میں روکنا مشکل ہو۔

 

اس حکمت عملی میں اہم انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں اپنی موجودگی کو وسعت دینا، اور تجارتی روابط و سپلائی چینز کو مزید گہرا کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باہمی انحصار کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ مغربی ممالک کے لیے بھاری قیمت چکائے بغیر اپنی معیشتوں کو چینی معیشت سے الگ کرنا مشکل ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں، جب جی 7 چین کو ایک بیرونی کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی تھی، چین خاموشی سے اسی معاشی دائرے کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے پر کام کر رہا تھا جس کی نمائندگی یہ گروپ کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چین کی یہ توسیع ایک ایسے مرحلے پر ہو رہی ہے جب بین الاقوامی نظام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی مغربی صلاحیت میں نسبتاً کمی دیکھی جا رہی ہے۔

 

یوکرین کی جنگ نے مغرب کی سیاسی اور معاشی توانائی کا ایک اہم حصہ نچوڑ لیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و اس کے علاقائی بازوؤں کے ساتھ جاری کھلی جنگ نے امریکہ کے اثر و رسوخ اور بیک وقت متعدد بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ وہ کچھ عرصہ پہلے تک اپنے بیڑوں، طیاروں اور جنگی جہازوں کی نقل و حرکت میں مصروف تھا۔ اسی طرح مغربی کیمپ کے اندرونی اختلافات پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئے ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کی جانب سے ایک ایسا نقشہ شائع کرنے کے بعد جس میں کینیڈا اور گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ دکھایا گیا تھا، اور پھر جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد، جس نے نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کی دراڑوں کو مزید گہرا کر دیا۔

 

اس کے برعکس، چین ایک مختلف انداز اور رفتار سے اپنا اثر و رسوخ تعمیر کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ بیرونی جنگیں نہیں لڑتا، اور نہ ہی اس سطح پر فوجی اڈے قائم کرتا ہے جیسے امریکہ کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے آج وہ ایک ایسی پوزیشن میں نظر آتا ہے جو اسے ان معاملات میں ایک کلیدی کھلاڑی بننے کی اجازت دیتا ہے جو کبھی مغربی طاقتوں کی اجارہ داری تھے۔ اس سلسلے میں ایران کا معاملہ ایک واضح مثال بن کر ابھرتا ہے۔ چین نہ صرف ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، بلکہ وہ خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے، اور مختلف بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ اس کے رابطے کے ذرائع بھی کھلے ہیں۔ یہ منفرد مقام اسے سفارتی کردار ادا کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت فراہم کرتا ہے جو خطے کے بحرانوں کے پیچیدہ ہونے اور روایتی مغربی ہتھیاروں کی تاثیر کم ہونے کے ساتھ ساتھ مزید اہم ہو سکتے ہیں۔

 

یہ بعید نہیں کہ مستقبل میں بڑی طاقتیں خود کو ایران کے حوالے سے کسی بھی نئے سیکورٹی یا معاشی انتظامات، بالخصوص ایٹمی معاملے سے متعلق معاملات میں چینی ثالثی یا اس کی شرکت کی ضرورت مند پائیں۔ شاید سب سے نمایاں تضاد یہ ہے کہ عالمی معاشی توازن میں بگاڑ کا وہ مسئلہ جسے جی 7 اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھنے پر اصرار کرتی ہے، فرانس سربراہی اجلاس کے اختتام پر ختم نہیں ہوگا، بلکہ اسے سال کے آخر میں امریکہ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں منتقل کر دیا جائے گا، جہاں اس بار چین میز کے گرد موجود ہوگا، باہر نہیں ہو گا۔ صرف یہی حقیقت بین الاقوامی نظام میں آنے والی تبدیلی کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ مغربی طاقتیں جو دہائیوں سے اپنے اداروں اور اتحادوں کے اندر سے عالمی معیشت کو چلانے کی عادی تھیں، آج یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ عالمی معیشت میں توازن بحال کرنے یا اس کے بڑے بگاڑ کو درست کرنے کی کوئی بھی کوشش چین کی شرکت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جی 7 اجلاس، جو چین کی غیر موجودگی میں اس پر بحث کرتا ہے، اور جی 20 اجلاس کے درمیان، جو اس کی موجودگی میں انہی مسائل پر بحث کرے گا، ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی تصویر واضح ہوتی ہے: ایک ایسی دنیا جہاں چین اب محض ایک ابھرتی ہوئی طاقت نہیں رہا جو "سورج کے نیچے" اپنے لیے جگہ تلاش کر رہی ہے، بلکہ وہ ایک ایسی بین الاقوامی قوت بن چکا ہے جس کی معاشی اور سیاسی مساوات کے گرد اب سورج خود گردش کر رہا ہے۔ اس لحاظ سے، جی 7 سربراہی اجلاس میں حقیقی غائب چین نہیں تھا، بلکہ وہ دور تھا جب مغرب تنہا دنیا کو چلانے کے قابل تھا۔

 

مغربی یک قطبی غلبے کے عہد کے خاتمے اور ایک کثیر قطبی بین الاقوامی نظام کی تشکیل کے درمیان، امتِ مسلمہ ایک نادر تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ مسئلہ چین کے عروج یا مغرب کے زوال کا اتنا نہیں ہے جتنا کہ ان تبدیلیوں سے ملنے والے اس موقع کا ہے کہ نوآبادیاتی وابستگی اور تسلط کی میراث سے آزاد ہو کر ایک آزاد اسلامی تہذیبی منصوبے کی تعمیر کی طرف قدم بڑھایا جائے، جو مغرب سے اپنا ناطہ توڑ لے، اور اپنی طاقت انسانی و معاشی وسائل، اپنے قانونی نظام، اپنے عقیدے کے تصورات اور اپنی تہذیبی اقدار سے حاصل کرے۔ اگر عظیم قومیں تبدیلی کے بڑے لمحات کو پہچاننے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سے پہچانی جاتی ہیں، تو موجودہ لمحہ ان لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے جو تاریخ کے دروازے بار بار نہیں کھولتے۔

 

﴿وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ﴾

 

"اور یہ  دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔" (سورۃ آل عمران : آیت  140)

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 14:04

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.