Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خلافت معاشرے کو درپیش چیلنجز سے کیسے نمٹتی ہے؟

 

تحریر: استاد ابراہیم مشرف

(ترجمہ)

 

نظامِ خلافت کی حقیقت اور وہ بنیاد جس پر یہ قائم ہے، یہ واضح کرتی ہے کہ یہ معاشرے کو درپیش نمایاں چیلنجز کا حل کیسے نکالتی ہے۔  خلافت تمام مسلمانوں کی دنیاوی امور میں ایک عمومی ریاست ہے تاکہ اسلامی شریعت کے احکام کو نافذ کیا جائے اور اسلام کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچایا جائے۔ یہ اسلام میں نظامِ حکومت ہے، اور دنیا کا کوئی بھی نظام اس کے مشابہ نہیں ہے کیونکہ اس کی بنیاد وحی الٰہی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ تَكْثُرُ»"بنی اسرائیل کی سیاست (قیادت) ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب ایک نبی کی وفات ہوتی تو دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، البتہ خلفاء ہوں گے اور بڑی تعداد میں ہوں گے۔" صحابہؓ نے عرض کی: (ایسی صورت میں) آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ»"ایک کے بعد ایک (جس سے پہلے بیعت کی جائے) کی بیعت کو پورا کرو اور انہیں ان کا حق ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا جن کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی۔" (رواہ مسلم)۔

 

پس خلافت مسلمانوں کا وہ سیاسی وجود ہے جو انہیں ایک ریاست میں اکٹھا کرتا ہے، اور اسلام کے ذریعے حکمرانی اس کے سائے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے حزب التحریر کے تیار کردہ دستور کے مسودے کی پہلی دفعہ کہتی ہے: (اسلامی عقیدہ ریاست کی بنیاد ہے، اس طرح کہ ریاست کے وجود، اس کے ڈھانچے، اس کے احتساب یا اس سے متعلق کسی بھی چیز میں کوئی ایسی چیز پیدا نہیں ہو سکتی جس کی بنیاد اسلامی عقیدہ نہ ہو...)۔ اور یہ سیکولرازم اور سول اسٹیٹ  کی عین ضد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت کی ریاست کے لیے مسائل کا حل آسان اور سہل ہوتا ہے۔

 

دنیا اور خصوصاً سوڈان کو درپیش چیلنجز بہت زیادہ ہیں، جن میں ایک ہی ریاست کے اندر مختلف نسلوں، ثقافتوں اور مذاہب کا پایا جانا بھی شامل ہے، اور اسلام نے اپنے نظاموں کے ذریعے ان کا علاج انسانی مسائل کے طور پر کیا ہے۔ حزب التحریر کے تیار کردہ دستور کے مسودے کی دفعہ 5 میں آیا ہے: (وہ تمام افراد جو اسلامی شہریت رکھتے ہوں، انہیں شرعی حقوق و فرائض حاصل ہوں گے)۔ اور دفعہ 6 میں آیا ہے: (ریاست کے لیے جائز نہیں کہ وہ حکمرانی کرتے ہوئے، عدالتی فیصلہ کرتے ہوئے، امور کی دیکھ بھال کرتے ہوئےیا اس جیسے کسی بھی معاملے میں  رعایا کے افراد کے درمیان کوئی امتیاز برتے، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ نسل، مذہب، رنگ یا اس کے علاوہ کسی بھی فرق کے بغیر سب کو ایک نظر سے دیکھے)۔ پس اسلام رعایا کی دیکھ بھال میں افراد کو ریاست کی شہریت کی نظر سے دیکھتا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی (غیر مسلم شہری)۔ دیکھ بھال میں کسی قسم کا امتیاز جائز نہیں ہے، کیونکہ حکمرانی، عدلیہ اور امور کی دیکھ بھال کے دلائل عام ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:

 

﴿وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾

"اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔" (سورہ النساء:آیت 58

 

سوڈان میں استعمار کے پیدا کردہ چیلنجز میں سے، مثال کے طور پر، 'حواکیر' کا مسئلہ ہے۔ اسلامی زندگی کے سائے میں 'حواکیر' یعنی قبائلی علاقوں کے نام سے کوئی شرعی وجود نہیں ہے۔ زمین اللہ کی ہے جس میں اس نے انسان کو اپنا خلیفہ (نائب) بنایا ہے، جہاں تک فرد کا تعلق ہے تو وہ رہائش یا زراعت کے لیے زمین کی انفرادی ملکیت ان شرعی اسباب کے ذریعے حاصل کرتا ہے جو اسلام نے متعین کیے ہیں۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی شخص کو قبیلے، علاقے یا کسی دوسری بنیاد پر زمین کی ملکیت سے روکے، اس حدیث کی وجہ سے: «مَنْ أَحْيَا أَرْضاً مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ» (جس نے کسی بنجر زمین کو آباد کیا، وہ اسی کی ہے)۔ جہاں تک چراگاہوں، جنگلات اور جھاڑیوں کا تعلق ہے، تو وہ عوامی ملکیت (ملکیتِ عامہ) ہیں جن سے تمام لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ثَلاثٌ لاَ يُمْنَعْنَ: المَاءُ وَالكَلأُ وَالنَّارُ» (تین چیزیں ایسی ہیں جن سے روکا نہیں جائے گا: پانی، چراگاہ اور آگ)۔ رہا قبیلہ، تو اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پہچان کے لیے بنایا ہے نہ کہ فضیلت اور فخر جتانے کے لیے، لہذا ہمیں اسے اس دائرے سے نکال کر لوگوں کے درمیان بغض اور لڑائی جھگڑے کے دائرے میں نہیں لانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا﴾

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔" (سورہ الحجرات:آیت 13

 

چنانچہ اسلامی زندگی میں 'حواکیر' کا نظام اور قبائلی بنیادوں پر مقامی انتظامیہ کا کوئی وجود نہیں ہے۔

 

ان چیلنجز میں سے جو مغربی ثقافت کے اثرات کا نتیجہ ہیں، وہ اقتدار اور حکمرانی کو ایک 'کیک' کے طور پر دیکھنا ہے، اسی لیے اقتدار اور دولت کے گرد سیاسی کشمکش برپا ہے۔ حکمرانی کو مالِ غنیمت اور بانٹے جانے والے حصوں کے طور پر دیکھنا ملک کی سیاسی زندگی کو فاسد کر دیتا ہے، اور سیاست دانوں کو استعمار کے قدم جمانے کے لیے ایک سواری بنا دیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں حکمرانی ایک رعایت (دیکھ بھال)، ذمہ داری اور امانت ہے، نہ کہ کوئی کیک یا مالِ غنیمت۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: «الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» (امام ایک نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جوابدہ ہے)۔ پس ریاستِ خلافت 'مرکز اور حاشیہ' (سٹیٹس اور پیریفری) کی کشمکش، دیہی علاقوں کی بغاوتوں، کوٹہ سسٹم یا علاقائیت کو نہیں جانتی، بلکہ وہ صرف اہلیت اور قابلیت کو جانتی ہے۔

 

اقتدار کو 'کیک' سمجھنے کے تصور نے سوڈان میں ریاست کے خلاف ملیشیا بنانے کا منظرنامہ تیار کیا، جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہیں، اور افسوس کے ساتھ ریاست نے اس میں مدد کی بلکہ خود انہیں پیدا کیا؛ کیونکہ وہ صرف اسی سے مذاکرات کرتی ہے اور اسی کو حقوق دیتی ہے جس کے پاس طاقت ہو، چنانچہ پہلی بغاوت 1955 میں ہوئی، اور اب تک ملیشیاؤں کی نسل بڑھتی جا رہی ہے یہاں تک کہ فوج کے ساتھ ساتھ 100 سے زیادہ مسلح گروہ بن چکے ہیں! جبکہ ریاست میں فوج اور عسکری قوت ایک ہی ہونی چاہیے۔ اسی لیے حزب التحریر نے دستور کے مسودے میں دفعہ (66) رکھی ہے: (پوری فوج کو ایک ہی فوج بنایا جائے گا جسے خاص چھاؤنیوں میں رکھا جائے گا، تاہم ان میں سے کچھ چھاؤنیوں کو مختلف صوبوں (ولایات) میں رکھنا واجب ہے۔ کچھ کو اسٹریٹجک مقامات پر رکھا جائے گا، اور ان میں سے کچھ کو مستقل طور پر نقل مکانی کرنے والی چھاؤنیاں بنایا جائے گا جو 'اسٹرائیکنگ فورس' (قوات ضاربہ) ہوں گی۔ ان چھاؤنیوں کو متعدد گروپوں میں منظم کیا جائے گا جن میں سے ہر گروپ کو 'فوج' کا نام دے کر ایک نمبر دیا جائے گا، مثلاً پہلی فوج، تیسری فوج، یا کسی صوبے یا گورنری (عمالہ) کے نام سے پکارا جائے گا)۔

 

چیلنجز میں سے ایک سیاسی جتھہ بندی (پارٹی بازی) کو برا سمجھنا بھی ہے، اور یہ کہ اسلام میں سیاسی جماعتیں نہیں ہوتیں۔ یہ نظریہ استعمار کا پیدا کردہ ہے، اور یہ ایک خطرناک اور خبیث امر ہے جسے کفر کے قائدین دو وجوہات کی بنا پر راسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

 

اول: مسلمانوں کو عملی زندگی میں اسلام کے قیام کے لیے جماعتی جدوجہد سے دور رکھنا، جبکہ اسلام کے قیام کا کام صرف ایک منظم گروہ کے طور پر ہی ممکن ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔

 

دوم: دین کو سیاست اور عوامی امور کی دیکھ بھال سے دور رکھنا، تاکہ یہ صرف ایک مذہبی (پادریانہ) دین بن کر رہ جائے جو صرف عبادات تک محدود ہو، جبکہ سیاست اور حکمرانی کے امور انسانوں کی قانون سازی کے لیے چھوڑ دیے جائیں جیسا کہ ان جیسے حکمرانوں اور سیاست دانوں کا حال ہے جنہوں نے عصبیت اور اس گندی جمہوریت کو پروان چڑھایا جس نے معیشت، اخلاقیات اور زندگی کے تمام نظاموں میں افراتفری اور فساد پیدا کیا ہے۔

 

حالانکہ نشاۃِ ثانیہ (ترقی) صرف ایک مبدئی (آئیدیالوجکل) فکر پر مبنی جماعت سے ہی ممکن ہے، اسی لیے خلافت کا قیام صرف اسلامی عقیدے کی بنیاد پر قائم سیاسی جماعت کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے، اور ریاست کی حفاظت بھی ایک سیاسی جماعت کے وجود کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

"اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔" (سورہ آل عمران:آیت 104

 

اسی لیے ہم نے دفعہ 21 میں کہا ہے: (مسلمانوں کو حکمرانوں کے محاسبے یا امت کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعتیں قائم کرنے کا حق حاصل ہے، اس شرط پر کہ ان کی بنیاد اسلامی عقیدہ ہو، اور وہ جن احکام کو اپنائیں وہ شرعی احکام ہوں۔ سیاسی جماعت بنانے کے لیے کسی اجازت نامے (لائسنس) کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ہر اس جماعت پر پابندی ہوگی جو اسلام کے علاوہ کسی اور بنیاد پر قائم ہو)۔

 

بیشک امتِ مسلمہ ایک عظیم امت ہے، جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے تاکہ وہ اسلامی نظام اور اس کے احکام کے ذریعے ان کی سیاست (قیادت) کرے، اسی لیے اسلام میں سیاست اللہ کی عبادت اور اطاعت ہے، اور یہیں سے خلافتِ راشدہ کا قیام، جس کا وعدہ کیا گیا ہے، ہمارے لیے زندگی اور موت والا مسئلہ (قضیہ مصیریہ) ہے اور ہمارا مقصد اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز اور دعوت و جہاد کے ذریعے اسلام کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچانا ہے۔ اور یقیناً آنے والا کل اپنے دیکھنے والے کے لیے قریب ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

 

 

سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

Last modified onجمعہ, 31 جولائی 2026 17:42

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.