Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

’’امریکہ ایران کی جنگ سے حاصل ہونے والے چار اہم سبق ‘‘!

 

(ترجمہ)

 

تحریر : محمد سلجوق – ولایہ باکستان

 

 

ایرانسے برسرپیکار امریکہ اور یہود کی مشترکہ فوجیمہم کی شکست نے دنیا بھر کی افواج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ایک ایسافیصلہ کن موڑ ہے جس نے ملٹری منصوبہ سازوں کو اسبابِ جنگ، جارحیت کے سدِ باب اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے مسلمہ اصولوں پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مسلمانوں کی افواج کے فوجی کمانڈروں اور عسکری اداروں کو بھی امریکہ-ایران جنگ کے ایک”غیر متوقع“ نتیجے کا سامنا ہے، کیونکہ اس جنگ سے قبل کیے جانے والے تجزیوں اور اندازوں میں ایرانی حکومت کی شکست کو ایک طے شدہ امر کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ ماضی میں امریکی اور صیہونی اشتعال انگیزیوں کے خلاف ایرانی حکومت کے محض علامتی ردِعمل نے بھی مسلم افواج کے اندر اس تاثر کو تقویت دے رکھی تھی کہ امریکہیایہودی وجود کے ساتھ کسی بھی تصادم میں شکست ہونا ناگزیر ہے۔

 

اس حقیقت کے باوجود کہ مسلمانوں میں موجودہ دور کے عسکری ماحول کا ایک بڑا حصہ عملیت پسندی اور جنگ و حکمرانی سے متعلق مغربی نظریات کے باعث بدقسمتی سے مسخ ہو چکا ہے، لیکن امریکہ-ایران جنگ کے نتیجے کو مسلم افواج کے اندر سنجیدہ طریقے سے ازسرِنو غوروفکر کا باعث بننا چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے موجودہ تصورات اور مروجہ فریم ورک کو مسترد کرکے ان کی جگہ جہاد کی شرعی ذمہ داری اور نظامِ خلافت پر غور کریں، جو اس ذمہ داری کو نافذ کرتا ہے۔ مسلم دنیا اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے موڑ پر کھڑی ہے، کیونکہ امریکہ اور مغرب شدید زوال کا شکار ہیں اور ایک ایسا نظریاتی اور سیاسی خلا موجود ہے جو پُر ہونے کے لئے بالکل تیار ہے۔ اب صرف ایک چیلنج باقی رہ گیا ہے، اور وہ مسلم افواج کے مخلص فوجی کمانڈروں، بالخصوص ان کمانڈروں کا فیصلہ ہے جو طاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں، کہ وہ اسلام کی حمایت میں امت کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے اپنی طاقت اور اثرورسوخ کا استعمال کریں۔

 

اس آرٹیکل میں امریکہ-ایران جنگ سے حاصل ہونے والے چار اہم اسباق پیش کئے گئے ہیں، جن پر مسلم افواج کو غور کرنا چاہیے۔

 

پہلا سبق: امریکہ ناقابلِ شکست نہیں ہے:

دہائیوں سے مسلم دنیا کے ایجنٹ حکمرانوں کی جانب سے امریکی فوجی طاقت کو تقریباً ناقابلِ تسخیر بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ البتہ، افغانستان اور عراق کی جنگوں نے پہلے ہی یہ دکھا دیا تھا کہ کسی حریف کی روایتی افواج کو نقصان پہنچا دینا ہی مطلوبہ سیاسی نتائج کا ضامن نہیں بن جاتا۔ ان ممالک پر امریکی قبضے کے بعد سامنے آنے والی مزاحمت، جنگوں کے نتائج کی تشکیل میں سیاسی عزم و ارادے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ اگرچہ ایران پر کبھی قبضہ تو نہیں ہوا، لیکن حالیہ جنگ نے مزاحمت پر ڈٹے رہنے کے عزم کی قدرکو مزید تقویت دی اور ارادوں کو مزید مضبوط کیا ہے حالانکہ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کا بھی صفایا کر دیا گیا ہے۔

 

ایران نے تنِ تنہا مشرقِ وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے قائم امریکی سکیورٹی کے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ ایسی کامیابی ہے جسے خطے کے مسلم فوجی کمانڈر ناقابلِ حصول سمجھتے رہے ہیں۔ ایران نے اس جنگ میں ایسے وقت قدم رکھا جبکہ اس کے پاس کوئی مؤثر فضائیہ بھی موجود نہ تھی۔ اس کے باوجود، اس نے پورے خطے میں قائم امریکہ اور یہودی وجود کے اڈوں کو کامیا بی سے نشانہ بنانے کے لئے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں، ڈرونز، مختلف لانچرز اور غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی پر انحصار کیا۔ حالانکہ یہ وہ امریکی اڈے تھے جنہیں ایک زمانے میں محفوظ عقبی محاذ تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب وہ خود کھلے عام فرنٹ لائن ہدف ثابت ہوئے۔

 

وال سٹریٹ جرنل، فائنانشل ٹائمز اور نیویارک ٹائمز جیسے جریدوں کی رپورٹس میں امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے خلیجی انفراسٹرکچر کی نازک صورتِ حال، نقصان کے تخمینوں، اور اس کی کمزوریوں کے وسیع تر سطح پر ازسرِ نو جائزے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال نے واشنگٹن کو ہنگامی منصوبہ بندی پر مجبور کیا ہے تاکہ فوجی اثاثوں کو مزید پھیلا دیا جائے، اردن اور یہودی وجود جیسے متبادل مراکز پر انحصار بڑھایا جائے، اور خلیج میں فوجی سرگرمیوں کے ارتکاز کو کم کیا جائے۔ چنانچہ ان تنصیبات کی کمزوری نے امریکہ کو اپنی فوجی قوت کو بکھیر دینے، دفاعی تعیناتیوں میں اضافہ کرنے اور فوجی کارروائیوں میں محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

 

امریکہ – ایران جنگ سے حاصل ہونے والا بڑا سبق یہ ہے کہ مسلم دنیا میں امریکی عسکری موجودگی صرف ایجنٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ یہ عسکری اڈے اور ان کی میزبانی کرنے والے حکمران ہمارے اپنے آنگن میں سانپ کی مانند ہیں، اور مسلمانوں کی سلامتی کے لئے ان سانپوں کا سر کچلنا نہایت ضروری ہے۔ یہی وہ اڈے ہیں جہاں سے مسلم سرزمینوں پر حملے کیے جاتے ہیں یا ان حملوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ اڈے نہایت بودے اور کمزور ہیں اور جیسا کہ ایرانی حکمتِ عملی نے ثابت کر دکھایا ہے، کہ انہیں آسانی سے ختم یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ محض ہماری مسلح افواج کے چند بااختیار اور جری جوانوں کے فیصلے کا مرہونِ منت ہے کہ وہ دشمن کی برتری کے باطل بُت پر یقین کرنے سے انکار کر دیں اور جرأت مندی و دانشمندی سے ان پر کاری ضرب لگائیں۔

 

دوسرا سبق: امریکی طاقت محض مقامی ایجنٹ حکمرانوں اورفوجی کمانڈروں پر منحصر ہے:

امریکہ مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں کلومیٹر دور رہ کر اپنی فوجی طاقت کی بڑھکیں ظاہر کرتا ہے۔ وہ صرف طیارہ بردار بحری بیڑوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کے سہارے اپنی اس فوجی موجودگی کو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اور اس کے لئے امریکہ کو ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، انٹیلی جنس مراکز، فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت، ایندھن کی فراہمی، مواصلاتی نیٹ ورکس اور سیاسی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، جو خطے کی مقامی کٹھ پتلی حکومتیں اسے فراہم کر رہی ہوتی ہیں۔

 

خطے کی مقامی حکومتوں پر یہ انحصار صرف موجودہ ایران تنازع کے معاملے تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ افغانستان میں امریکہ کی جنگی مہم کے معاملے میں پاکستان کی طرف سے لاجسٹک، انٹیلی جنس اور نقل و حمل کے حوالے سے فراہم کیا جانے والا تعاون کلیدی نوعیت کا حامل تھا۔ اسی طرح عراق پر حملہ کرنے اور اس کے بعد عراق پر قبضے کا انحصار بھی بڑی حد تک خلیجی ممالک میں موجود فوجی اڈوں اور خطے کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی پر تھا۔ 2003ء میں ترکیہ نے امریکہ کو شمالی سمت سے عراق پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، اور یوں اس واقعے نے یہ واضح کیا کہ محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام کی حامل کسی ایک ریاست کا فیصلہ بھی امریکی جنگی منصوبہ بندی کو خاصا پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اور پھر عراق پر امریکہ کے حملہ کے بعد اسی خطے کے حکمرانوں، یعنی ایران نے عراق کے اندر اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تاکہ امریکہ کو ملک کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکے۔

 

امریکہ-ایران جنگ نے ایک بار پھر اس بنیادی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔ قطر، بحرین، کویت، اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی تنصیبات واشنگٹن کو حساس دفاعی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تنصیبات اپنے میزبان ممالک کو کسی ممکنہ جوابی کارروائی کے خطرے سے بھی دوچار کرتی ہیں۔ لہٰذا خلیجی حکومتوں کو ایک دوہری مشکل کا سامنا ہے: یعنی وہ ایک طرف تو امریکی تحفظ پر انحصار کئے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہیں یہ خوف بھی لاحق ہے کہ امریکی فوجی کارروائیاں ان کے علاقوں کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے کشیدگی کو مزید بڑھانے کے معاملے میں بار بار ہچکچاہٹ، جس میں مایوسانہ اپیلوں کے بعد مجوزہ حملوں کو منسوخ کرنا بھی شامل ہے، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ کے آزادانہ اقدام کی صلاحیت اپنے علاقائی ایجنٹوں کے مفادات اور خدشات کے باعث محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

 

سبق بالکل واضح ہے: اس خطے میں امریکی تسلط کا تمام تر انحصار صرف علاقائی حکومتوں کی رضامندی پر ہے۔ ایران، پاکستان اور دیگر علاقائی مسلم ممالک کے مخلص عسکری کمانڈروں کو باہم ہاتھ ملانا چاہیے اور خطے سے امریکی موجودگی کا خاتمہ کرنا چاہیے، جو ایرانی حملوں کے بعد پہلے ہی اپنی کمزور ترین سطح پر آ چکی ہے۔ مصنوعی قومی ریاستوں (nation-states) کے بجائے خلافت پر مبنی ایک نئے علاقائی سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لئے مسلم افواج کے مابین زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک کو پاکستان کے ساتھ کسی دفاعی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں خلافت کی صورت میں ایک اجتماعی سکیورٹی فریم ورک کی ضرورت ہے جو ہماری طاقت کو متحد کرے گی تاکہ یہودی وجود کے خلاف متحرک ہوا جا سکے اور اس ناسور وجود کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جا سکے۔

 

تیسرا سبق: جغرافیائی محل وقوع کا مفاد اور برتری:

ایران کا سب سے بڑا اسٹریٹجک اثاثہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ اور یہی حقیقت وسیع تر مسلم دنیا کے لئے بھی سچ ثابت ہوتی ہے۔ ایران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے کنارے واقع ہے، جہاں سے عموماً روزانہ کی بنیاد پر دنیا بھر میں ہونے والی تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی تجارت  کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

 

بحری آمدورفت کو خطرے سے دوچار کر کے اور توانائی کی ترسیل میں خلل پیدا کرکے ایران نے ایک علاقائی عسکری تنازعہ کو عالمی اقتصادی مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں فوراً ہی نمایاں کمی واقع ہوئی، بحری جہازوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پڑے، اور کشیدگی میں اضافے یا سفارتی پیش رفت کی خبروں پر تیل کی منڈیوں نے بارہا ردِعمل ظاہر کیا۔ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کا محور بنیادی طور پر بحری آمد و رفت کے انتظامات پر ہی رہا، جبکہ صدر ٹرمپ نے ممکنہ مذاکرات کو اس آبی گزرگاہ کے دوبارہ کھولنے سے مشروط کیا ہے۔

 

چنانچہ ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک علاقائی طاقت کس طرح کسی انتہائی اہم بحری گزرگاہ کو استعمال کرکے امریکہ پر ایسے اخراجات اور دباؤ مسلط کر سکتی ہے جو واضح میدانِ جنگ سے کہیں آگے تک اور فوری اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اہم جغرافیائی محل وقوع کا حامل ہونا ایک ایسی طاقت اور برتری ہے جسے ہمارے دشمنوں کو زیر کرنے اور قابو میں لانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وسیع تر مسلم دنیا کے پاس بھی کئی اہم جغرافیائی گزرگاہیں موجود ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، باب المندب، نہرِ سویز، آبنائے ترکی اور ایشیا، یورپ اور افریقہ کو ملانے والے اہم زمینی و توانائی کے راستے شامل ہیں۔یوں ایک مخلص اور باشعور اسلامی قیادت اپنے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بے شمار سفارتی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے، لیکن موجودہ حکمرانوں میں ایسا کرنے کے لئے نہ تو مطلوبہ عزم ہے اور نہ ہی دور اندیشی۔

 

چوتھا سبق: اسلامی تاریخ سے حاصل ہونے والے اسباق:

اسلامی تاریخ ایسے ملٹری کمانڈروں کی شاندار مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ایمان، شجاعت، بھرپور تیاری اور سیاسی مقصد کو ایک ساتھ یکجا کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں اپنی پیش رفت، مستعدی اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی کو ڈھالنے کی صلاحیت کی بنا پر معروف تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ یہ بات اچھی طرح سمجھتے تھے کہ مستحکم اور پائیدار عسکری کامیابی کے لئے امت کی سیاسی وحدت کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔ سیف الدین قطز ؒ نے عین جالوت کے مقام پر منگولوں کی بظاہر ناقابلِ تسخیر پیش قدمی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جبکہ سلطان محمد فاتحؒ نے قسطنطنیہ کی فتح سے قبل اپنے عظیم عزم کو انجینئرنگ، لاجسٹکس، انٹیلی جنس اور باریک بین حد تک بھرپور تیاریوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

 

ان تاریخی کارناموں کو محض افسانوی قصوں اور نعروں تک ہی محدود نہیں کیا جانا چاہیے، جیسا کہ اس وقت مسلم دنیا کی عسکری تعلیم و تربیت کی پالیسیوں میں کیا جا رہا ہے۔ یہ عظیم الشان سالار اس لئے کامیابی سے ہمکنار ہوئے کیونکہ ان کے پختہ ایمان کو تنظیم، صبر، قیادت کی وحدت، دشمن کے احوال سے آگاہی، اور سب سے بڑھ کر اللہ عزوجل کی ذات اور اس کی نصرۃ پر کامل توکل کی حمایت حاصل تھی۔ چنانچہ آج کے مخلص مسلم عسکری کمانڈروں کو بھی چاہیے کہ وہ اسلام کے ان ہیروز کے نقشِ قدم پر چلیں اور اپنے اسلاف کی طرح تاریخ کا دھارا موڑ دیں۔

 

امریکہ اور اس کا چیلا، یہودی وجود، مل کر بھی ایران کو زیر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور بدلے میں انہیں فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر ہمارے دشمن مسلم دنیا کے ایک طاقتور خطے کو قابو میں نہیں رکھ سکتے تو وہ پاکستان، ترکی، خلیجی ریاستوں، مصر اور دیگر مسلمان ممالک کی متحدہ افواج کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟

 

حاصلِ کلام :

امریکہ-ایران جنگ نے امریکی تسلط کے کھوکھلے پن، اس کی کمزوریوں اور اس کے تکبر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اب عرب و عجم کی سرزمینوں—خواہ وہ مصر، سوڈان، شام، تیونس، ترکی، ایران ہو یا پاکستان—کے فیصلہ سازوں کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ایک قسم کی غلامی کے بدلے دوسری قسم کی غلامی کو اختیار کریں۔ بلکہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ خلافت کی صورت میں ایک خود مختار علاقائی نظام قائم کریں اور اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ ہمارے دشمن اپنی تاریخ کی کمزور ترین سطح پر ہیں۔ مخلص مسلم عسکری کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ عالمی طاقتوں کی محدود صلاحیتوں کا ادراک کریں اور مسلمانوں کی حقیقی طاقت اور ان کے بے پناہ وسائل پر یقین رکھیں۔ انہیں قومی ریاست (nation-state) کے اس مہلک نظریے کو مزید اپنائے رکھنے سے انکار کر دینا چاہیے جو مسلم دنیا میں تباہی وبربادی اور تقسیم کے سوا اور کچھ نہیں لایا ہے۔ مسلم عسکری فکر کو چاہیے کہ وہ اسلام اور جہاد کے نظام کو اپنائے اور جنگ و سیاست کے فاسد مغربی نظریات کو مسترد کر دے۔ یہی وہ وقت ہے کہ مغرب زدہ علاقائی سکیورٹی، معاشی اور سیاسی نظام کو حتمی اور فیصلہ کن طور پر الٹا دیا جائے اور خلافت کے سایہ تلے فتوحات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے۔

 

اے مسلم افواج کے افسران! خلافتِ راشدہ کے قیام کے لئے فوری طور پر اپنی نصرۃ (فوجی مدد) فراہم کرو، جو پوری اسلامی امت، اس کے بے پناہ وسائل اور طاقتور افواج کو ایک واحد خلیفہ کی قیادت تلے ایک مضبوط و طاقتور ریاست کی صورت میں متحد کرے گی۔ وہ خلیفہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا اور کفار کو شکست دے گا۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَٰرَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (10) تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾

اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت بتلاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچا لے؟ (10) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو [سورۃ الصف؛ 61: 10-11]

 

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے تحریر کیا گیا

 

محمد سلجوق - ولایہ پاکستان

 

 

Last modified onہفتہ, 15 اگست 2026 04:45

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.