بسم الله الرحمن الرحيم
ہندوستان کی اصلاح جمہوریت کے ’طاغوت‘ میں شرکت سے نہیں، اسلام کی دعوت سے ممکن ہے
یکم اکتوبر 2026 کو الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ "ہندوؤں کی ایک مذہبی یاترا کے لیے سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے تحت انہدامی کارروائی کے دوران ہندوستان کی 600 سال پرانی اجین مسجد کا مینار گر گیا، جس سے وہاں موجود مسلمانوں میں مایوسی پھیل گئی۔"
https://www.aljazeera.com/video/newsfeed/2026/10/1/01-10-clip-shahi-mosque-demolition-minaret-in
ہندوؤں کی ایک بڑی مذہبی یاترا کی تیاریوں سے منسلک سڑک کشادہ کرنے کے منصوبے کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے تین راتوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور پہرے کے بعد حکام نے بلڈوزروں کے ساتھ مسجد کا محاصرہ کر لیا۔ پولیس نے مزاحمت کرنے والے مسلمانوں کے خلاف آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا۔ مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ خود مسجد کے کچھ حصوں کو گرانا شروع کریں، جبکہ حکام نے مینار کو گرایا لیکن اس کا الزام خراب مشینری پر ڈال دیا۔
مزید برآں اجین میں شاہی مسجد کا جزوی انہدام ہندوستان کو 'ہندو رنگ میں رنگنے' کی ایک منظم مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت مساجد اور ہندوستان کی تاریخ کے سنہری دور یعنی اسلامی حکمرانی کی دیگر علامات کو مٹایا جا رہا ہے۔
اے ہندوستان کے مسلمانو اور ان کے علماء!
جمہوریت کے 'طاغوت' میں شرکت ہمارے دین اور اس کی علامات کا کبھی تحفظ نہیں کر سکتی۔ جمہوریت 'اکثریت پسندی' کو جنم دیتی ہے، جو ہندو اکثریت کے باطل عقیدے کو زندگی کے دیگر تمام طریقوں پر بالادستی عطا کرتی ہے۔ حالانکہ یہ وہی ہندو عقیدہ تھا جس نے ہزاروں سال تک لوگوں پر ظلم ڈھایا، یہاں تک کہ انہیں اسلام کے نظامِ حکمرانی نے اس ظلم سے نجات دلائی۔ ہندوستان کی عوام نے صدیوں تک اسلام کے زیرِ سایہ ترقی کی اور یہ خطہ علم و تحقیق، زراعت، صنعت اور تجارت کا عالمی مرکز بن گیا۔ اس طرح مسلم حکمرانوں نے اپنی سرپرستی میں رہنے والے غیر مسلموں کی وفاداری حاصل کی، جس نے بڑی تعداد میں ان کے اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار کی۔ اس وقت تک کہ جب تک مکار برطانوی قابضین نے اس استعماری دور کی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی کے تحت مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا نہیں دی، ہندو بھی اسلامی حکمرانی کی بحالی کی کوششوں میں مسلمانوں کی حمایت کرتے تھے۔ آج مودی حکومت حکمرانی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اپنی نمایاں ناکامیوں کو چھپانے کے لیے 'ہندوتوا اکثریت پسندی' کا سہارا لے رہی ہے۔ اس پالیسی نے بھارت کے عوام کو ہولناک غربت سے دوچار کر دیا ہے اور امریکی مفادات کے حصول کی خاطر ملک کو چین کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔
اے بھارت کے مسلمانو اور ان کے علماء!
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
"پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے۔" [سورۃ البقرہ: 256]۔
لہٰذا، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جمہوریت کے 'طاغوت' میں شرکت کے گناہ سے باز آئیں اور بھارت کی سمت درست کرنے کے لیے اسلام کی دعوت پہنچانے کے شرعی فریضے کو سرانجام دیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ دینِ اسلام کے بارے میں اپنی فکری و عملی تربیت کریں، اس کے قائل کرنے والے عقیدے سے لے کر حکمرانی اور معیشت سے متعلق شرعی احکام تک۔ انہیں بھارت کی عوام کی اجتماعی فکری تربیت میں مصروف عمل ہونا چاہیے، یہاں تک کہ جہاں مناسب ہو غیر مسلموں تک بھی یہ دعوت پہنچائیں تاکہ اللہ کے حکم سے جلد قائم ہونے والی 'خلافتِ راشدہ' کے ذریعے بھارت میں اسلام کی راہ دوبارہ ہموار کرنے کے لیے ایک عوامی پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکے۔
پس بھارت کے مسلمان 'حزب التحریر' کے نوجوانوں کا ساتھ دیں، جو اسلام کی دعوت کے علمبردار اور طاغوت کے منکر ہیں۔
Latest from
- مسلمانوں کی افواج کو 'فتنہ' کی طویل جنگوں میں جھونکنے کے امریکی منصوبے کو روکیں
- الرایہ اخبار: شمارہ 620 کی نمایاں سرخیاں
- متفرقات الرایہ – شمارہ 619
- الراية-سیسی کنانہ کی فوج کو استعماری کفار کے لیے تو فیاضی سے پیش کر رہا ہے، مگر مسلمانوں کے معاملے مین بخل کر رہا ہے!
- الراية-اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی اہم ترین بحثیں