بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
19/10/2026
بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) بھی سودی سرمایہ دارانہ قرضوں کی طرح نقصان دہ ہے
پروتھوم آلو (Prothom Alo) نے 14 اکتوبر 2025ء کو رپورٹ کیا کہ امریکی محکمۂ خزانہ کے حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کے وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا: ”ہم قرضوں سے دور ہونا چاہتے ہیں اور براہِ راست سرمایہ کاری اور مشترکہ سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔“
https://en.prothomalo.com/business/local/efpu38cl6l
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیرِ خزانہ امریکی محکمۂ خزانہ کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے حد سے زیادہ پُرجوش ہیں، کیونکہ ان کے بیان میں درستگی، یکسانیت اور گہری بصیرت کا فقدان ہے۔
سودی سرمایہ دارانہ قرضوں سے چھٹکارا کسی ایسی ریاست کے لیے ممکن نہیں جو کفر کے نظام کو نافذ کرتی ہو۔ قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا رہتا ہے، خواہ بنگلہ دیش ہو یا خود امریکہ۔ سود (ربا) کے نقصانات سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سود کو ختم کیا جائے اور بدعنوان حکام کی لوٹی ہوئی دولت ضبط کرکے قرضوں کی باقی ماندہ اصل رقم ادا کی جائے۔
مزید یہ کہ جہاں سود مالی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہے، وہیں بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری (Foreign Direct Investment — FDI) امریکی کارخانوں اور کمپنیوں کو غلبہ حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرکے معاشی خودمختاری کو نقصان پہنچاتی ہے۔
کوئی ایسی ریاست جو خودمختاری کا دعویٰ کرتی ہو یا حقیقتاً خودمختاری حاصل کرنا چاہتی ہو، اس قسم کے بیرونی غلبے کو قبول نہیں کرسکتی۔ بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری عوامی ملکیت میں شامل سہولیات، مثلاً توانائی اور معدنی وسائل، پر امت کے شرعی حقوق سے دست بردار ہونے کے مترادف ہے۔ یہ اہم تزویراتی صنعتوں (Strategic Industries) میں ریاست کے کردار کو کمزور کرتی ہے اور مقامی نجی کمپنیوں کو بند ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ مسلمانوں کو ایک مضبوط مشینری کی صنعت قائم کرنے سے روکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ غیر ملکی مشینری، گاڑیوں اور الیکٹرانکس پر انحصار کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔
چنانچہ وزیرِ خزانہ امریکی کمپنیوں کے غلبے میں اضافہ کرکے مسلمانوں کی مشکلات کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ سود کی تباہ کن ادائیگیوں کا بوجھ پہلے ہی موجود ہے۔
اے بنگلہ دیش کے مسلمانو!
اگرچہ آپ کے بہادر نوجوان مردوں اور عورتوں نے فوج کو شیخ حسینہ کی روانگی کا انتظام کرنے پر مجبور کردیا، لیکن استعماریت پر مبنی انحصار کا نظام اب بھی برقرار ہے۔ فوج کو اس بات پر مجبور کرو کہ وہ استعماریت سے آزادی کو یقینی بنائے اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے اپنی نصرت (فوجی مدد) فراہم کرے۔
حزب التحریر (آزادی کی جماعت) تمہیں اس راستے کی طرف بلاتی ہے جو تمہیں زندگی عطا کرتا ہے، یعنی دینِ اسلام۔ پس اس دعوت کو قبول کرو!
پاکستان کے حکمران اسلام کے خلاف روس کی جنگ میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں
پاکستان میں روسی سفارت خانے نے 13 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اعلان کیا کہ: ’’روس کے وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن نقوی کے ساتھ مذاکرات کیے۔۔۔ ان مذاکرات میں بین الاقوامی منظم جرائم، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کارروائی پر توجہ مرکوز کی گئی۔‘‘
https://x.com/RusEmbPakistan/status/2110052941709426950
پاکستان کے حکمران اسلام کے خلاف اپنی جنگ میں کفار سے اتحاد کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے نام پر روسی ریاست نے وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں کے مسلمانوں کے اسلام کے خلاف جنگ برپا کر رکھی ہے۔ روسی حکمران طبقے نے مغربی ترکستان کی مسلم سرزمین پر قبضہ کرنے کے بعد ان وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں کو تشکیل دیا، جس میں سمرقند اور بخارا جیسے تاریخی اسلامی شہر بھی شامل تھے۔ پیوٹن کی حکومت کے دور میں ان مسلمانوں پر شدید مظالم ڈھائے گئے، انہیں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا، طویل عرصے تک قید رکھا گیا اور ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جن کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ان کا رب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہے۔
روس کا ساتھ دے کر پاکستان کے حکمرانوں نے واضح کر دیا ہے کہ ناکام سرمایہ دارانہ نظام اور دوبارہ ابھرتے ہوئے اسلام کے درمیان تہذیبی کشمکش میں وہ کس طرف کھڑے ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف نام نہاد استعماری بیانیے کو قبول کرکے، انہوں نے اسلام کو ایک طرزِ زندگی اور نظامِ حکمرانی کے طور پر ختم کرنے کی مہم میں کفار کا ساتھ دیا ہے۔ چنانچہ وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں کے حوالے سے ان کا محدود تصور صرف جغرافیائی و معاشی مفادات (Geoeconomics) تک محدود ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی دولت سے روس اور امریکہ کے اپنا حصہ وصول کر لینے کے بعد جو بچا کھچا مال رہ جائے، مسلمان اسی پر اکتفا کریں۔
اے پاکستان اور وسطی ایشیا کے مسلمانو! دینِ اسلام نے برصغیر اور مغربی ترکستان کو اسلامی علوم کے روشن مراکز اور غیر معمولی سائنسی ترقی کے گہوارے بنایا تھا۔ تمہیں اپنے دین سے دور کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اسلام کی دعوت پر ثابت قدم رہو اور دین کو اقتدار و غلبہ (تمکین) عطا کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾ ’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘ (سورۃ الصف: 8)۔
تبدیلی سرمایہ داریت اور استعماری نظام کے خاتمے اور اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ سے ہی ممکن ہے
ڈان اخبار نے 12 اکتوبر کو خبر دی کہ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پیر کے روز کہا کہ صوبے میں نیا انتظامی نظام ’’پولیس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے مزید تعاون اور تنخواہوں میں اضافے کا وعدہ بھی کیا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بے چینی برقرار ہے، حالاں کہ اس کا حل مزید طاقت کا استعمال نہیں ہے۔ مزید برآں، پاکستان میں بے چینی صرف ایک صوبے تک محدود نہیں ہے۔ سرمایہ داریت اور معاشی استعماری نظام کے نتیجے میں مسلمان معاشی بدحالی کے بوجھ تلے کچلے جا رہے ہیں۔ غزہ کو نظر انداز کیے جانے پر مسلمان غصے میں ہیں، جبکہ ٹرمپ کی ایران اور یمن میں اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے لڑنے کے امکان نے انہیں مایوس اور پریشان کر دیا ہے۔
پاکستان میں بے چینی کی ایک بنیادی وجہ ہے، اور وہ یے موجودہ نظام کی ناکامی۔ یہ نظام اس لیے ناکام ہوا ہے کہ یہ سرمایہ داریت نافذ کرتا ہے، جو ملک کی زیادہ تر دولت چند لوگوں کے ہاتھوں میں مرتکز کر دیتی ہے۔ سرمایہ داریت جہاں بھی نافذ ہوتی ہے، یہی کرتی ہے۔ یہ نظام امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد کی وجہ سے بھی ناکام ہوا ہے، جس کے تحت دولت، مسلح افواج اور فیصلہ سازی کا اختیار امریکی استعماری نظام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پوری مسلم دنیا اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
طاقت کا استعمال صرف بے چینی میں اضافہ کرے گا، کیونکہ اس سے نظام تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ بے چینی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پاکستان کے مسلمان سرمایہ داریت اور استعماری نظام کے خاتمے اور اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد نہیں کرتے۔ سرمایہ داریت اور استعماری نظام کے قوانین محدود انسانی عقل کی پیداوار ہیں اور لوگوں کی خواہشات اور نفسانی میلانات کے تابع ہیں۔
لہٰذا، پاکستان میں تبدیلی محض ظاہری تبدیلی نہیں ہو سکتی، جس میں مصنوعی طور پر بنائے گئے انسانی نظام کے لیے نئے چہرے اور نیا ظاہری روپ اختیار کر لیا جائے۔ پاکستان میں تبدیلی بنیادی اور انقلابی ہونی چاہیے، جس میں کفر کے قوانین کا خاتمہ اور اسلام کا نفاذ کیا جائے۔ اللہ ﷻ نے انسانیت کو پیدا کیا اور اس کے مسائل کو بہترین طریقے سے حل کرنے کے لیے وحی نازل فرمائی۔ اللہ ﷻ نے فرمایا: ﴿أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانے گا جس نے پیدا کیا ہے، حالاں کہ وہ نہایت باریک بین اور ہر چیز سے باخبر ہے؟‘‘ [سورۃ الملک: آیت 14]
ایران کے ساتھ تعطل سے نکلنے کے لیے امریکہ فرقہ واریت اور قوم پرستی کی بنیاد پر تصادم میں طاقتور ترین مسلم افواج کو جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے
11 اکتوبر 2026ء کو مصر کے سرکاری ادارے، اسٹیٹ انفارمیشن سروس (SIS) نے اعلان کیا: ’’آر 4 گروپ کے ممالک (عرب جمہوریہ مصر، مملکت سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جمہوریہ ترکیہ) مملکت سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے جاری دشمنانہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘
https://sis.gov.eg/en/media-center/news/joint-statement-by-the-r4-group/
امریکہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کو ایران اور یمن میں اس کے حوثی حلیفوں کے ساتھ اپنے تصادم میں گھسیٹ رہا ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اپنے تعطل کو ایک ایسی طویل جنگ میں تبدیل کر دے جس میں مسلم دنیا کی طاقتور ترین افواج ایک دوسرے کے خلاف لڑتے لڑتے کمزور ہو جائیں۔
مکار امریکہ نے سب سے پہلے سعودی عرب کو فرقہ واریت اور قوم پرستی کی بنیاد پر حوثیوں کے خلاف لڑنے پر اکسایا۔ پھر جب سعودی عرب نے خود کو حوثیوں کے دردناک حملوں کے سامنے بے بس پایا تو امریکہ نے بڑی چالاکی سے اسے تنہا چھوڑ دیا، جبکہ عمان میں حوثیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا تاکہ امریکی اثاثوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
یہ مسلم حکمرانوں کی کھلی غداری ہے کہ وہ مسلمانوں کی افواج کو ایک دوسرے کے خلاف متحرک کریں، تاکہ امریکی صلیبی اور یہودی مسلمانوں کی لاشوں پر اپنی حکمرانی قائم کر سکیں۔ قوم پرستی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان لڑائی اللہ ﷻ کی شریعت کے مطابق حرام ہے۔ شرعی فریضہ یہ ہے کہ مسلم ریاستیں وحدت کی شکل اختیار کریں اور ایک امام کی قیادت میں ایک ریاست قائم کریں، جو تمام مسلمانوں پر اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق حکومت کرے۔
تب ہی پاکستان اور ایران کے میزائل اور ترکیہ اور ایران کے ڈرون یہودیوں کے آئرن ڈوم کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ترکیہ پاکستان کی فضائیہ کی میزبانی کر سکتا ہے اور یہودیوں کی فضائیہ کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ فضائی حملہ کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ترکیہ، پاکستان، ایران، سعودی عرب اور مصر کی بحریہ آبناؤں کا کنٹرول کسی بھی باقی ماندہ مغربی کنٹرول سے چھین سکتے ہیں۔ اس طرح توانائی اور تجارت کے کنٹرول کے ذریعے تمام بڑی استعماری طاقتوں پر برتری حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد مصر پاکستان، ایران، ترکیہ اور سعودی عرب کی مسلح افواج کی میزبانی کر سکتا ہے اور رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے یہودی وجود پر بڑے پیمانے پر زمینی حملہ ممکن ہو گا اور فلسطین کو بحر سے نہر تک آزاد کیا جا سکتا ہے۔
تو پھر، طاقتور ترین مسلم افواج میں سے کون سی فوج سب سے پہلے فرقہ واریت اور قوم پرستی کو ترک کرے گی اور دین کو قائم کر کے کافروں پر اس کا غلبہ قائم کرے گی؟
چین کی معاشی استعماریت بھی امریکہ کی معاشی استعماریت جتنی ہی نقصان دہ ہے
9 اکتوبر 2026ء کو پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات نے چائنا ڈیلی (China Daily) میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا: ’’پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے احترام اور اس مشترکہ یقین پر استوار ہیں جو کہ ترقی اور تعاون، امن اور خوشحالی کی بنیاد ہیں۔‘‘
https://www.chinadaily.com.cn/a/202610/09/WS6ac83991e4b06d4aa0561c5f.html
چینی کمیونسٹ پارٹی (Chinese Communist Party — CCP) کی قیادت میں ہونے کے باوجود، چین دیگر ریاستوں کے ساتھ اپنے خارجہ تعلقات، بشمول معاشی معاملات، میں پوری طرح سرمایہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔ چنانچہ امریکہ کی طرح چین بھی بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے نام پر اپنے ہدف بننے والی ریاستوں کے مالیاتی نظام، توانائی، معدنیات، زراعت، صنعت، ٹیلی مواصلات اور منڈیوں پر معاشی استعماریت مسلط کرتا ہے۔
مالیات کے شعبے میں، چین سودی قرضے فراہم کرتا ہے، جو قرضوں کے ایک نہ ختم ہونے والے جال کو جنم دیتے ہیں۔ ان قرضوں پر عائد بھاری شرحِ سود اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ حکومتوں کے لیے ان کی ادائیگی اپنی مالی استطاعت کے اندر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 2022ء ہی میں پاکستان پر چینی قرضوں کا حجم 26.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا، جو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک پر چین کے واجب الادا قرضوں سے زیادہ تھا۔ یوں چینی بینک منافع کماتے ہیں، جبکہ مسلمانوں کی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے تباہ ہوتی رہتی ہے۔
زراعت، صنعت، توانائی، معدنیات اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں، درجنوں چینی کمپنیاں پاکستان کی معیشت کے بنیادی ستونوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکی ہیں، جس سے مقامی کمپنیوں کے زوال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کمپنیاں تزویراتی اہمیت کی حامل صنعتوں (Strategic Industries) کے حساس شعبوں میں بھی کام کر رہی ہیں، جس سے ریاست کی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے۔
منڈیوں کے معاملے میں، چین بین الاقوامی معیشت پر غلبہ قائم رکھنے کی پالیسی اختیار کرتا ہے، جس کے تحت وہ مشینری سازی کی صنعت میں اپنی بالادستی برقرار رکھتا ہے۔ نتیجتاً، استعماری تسلط کا شکار ریاستوں کی منڈیاں چینی کارخانوں میں تیار ہونے والی اعلیٰ قدر کی مصنوعات، مثلاً لیپ ٹاپ اور گاڑیوں، کی محتاج بن جاتی ہیں۔
اے پاکستان کے مسلمانو!
پاکستان کے حکمران امریکی معاشی استعماریت کے ساتھ چینی معاشی استعماریت کو بھی فروغ دے کر تمہاری معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹاؤ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت نافذ کرو۔ خلافت سود (ربا) کا خاتمہ کرے گی، قرضوں کے اصل واجب الادا سرمائے کی ادائیگی کے لیے بدعنوان حکمرانوں کے اثاثے ضبط کرے گی، اور مشینری سازی کی صنعت قائم کرے گی، تاکہ استعماریت مسلط کرنے والی صنعتی طاقتوں کا تیزی سے مقابلہ کیا جا سکے اور ان کی بالادستی کا خاتمہ ہو۔
مسلمانوں کے تمام لشکروں کو فوری طور پر یہودی وجود کے خلاف متحرک کیا جائے، نہ کہ دوسرے مسلمانوں کے خلاف
9 اکتوبر 2026ء کو پاکستان کے وزیرِ اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ میں کہا: ”حوثی ملیشیا کو فوری طور پر ان حملوں کو روکنا چاہیے۔ ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔“
https://x.com/CMShehbaz/status/2108403169772405147
پاکستان، حجاز اور یمن کے حکمران، نیز حوثی ملیشیاؤں کی قیادت، اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی شریعت کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے، بلکہ انسانی ساختہ قوانین کے طاغوت (سرکش اقتدار) کے آگے سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوتے تو اکتوبر 2023ء میں غزہ کے مسلمانوں کے خلاف یہودی وجود کی نسل کشی شروع ہوتے ہی اس کے خلاف قتال کا آغاز کر دیتے۔
اس کے برعکس، گزشتہ تین طویل برسوں سے وہ سب دنیوی مفادات کے لیے مسلسل مسلمانوں کا خون بہاتے رہے ہیں، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قِتَالُ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ» ”مومن سے لڑنا کفر ہے اور اسے گالی دینا فسق ہے۔“
اب بھی، اگر ان حکمران گروہوں میں سے کوئی ایک اپنے زیرِ اقتدار علاقوں میں واپس آ کر مسلمانوں کو قتل کرنے کے اس کبیرہ گناہ سے باز آ جائے اور یہودی وجود کے خلاف جہاد کی شرعی ذمہ داری کی تیاری شروع کر دے، تو چند ہی گھنٹوں میں پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ فتنہ و انتشار اور الجھن کی جگہ وضاحت، ایمان، جہاد اور شہادت کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔
ایسا باعزت قدم لازماً ایک واحد خلیفہ کی تقرری کی راہ ہموار کرے گا، جو امت مسلمہ کے لشکروں کی قیادت کرتے ہوئے مسلم سرزمین پر موجود امریکی فوجی ڈھانچے کے خلاف فیصلہ کن معرکے کی قیادت کرے گا، جس میں امریکی فوج کا پیش قدمی کے لیے استعمال ہونے والا فوجی اڈہ، یعنی یہودی وجود، بھی شامل ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کے لشکروں کو ان حکمران گروہوں کو معزول کر دینا چاہیے جو اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی شریعت سے منہ موڑتے ہیں، ہمارے جنگجوؤں کو دن رات مسلمانوں کا خون بہانے کا حکم دیتے ہیں اور ہماری افواج کو ان کافروں کے خلاف لڑنے سے روکتے ہیں جو مسلمانوں کو قید کرتے، ان کی عصمت دری کرتے، انہیں بھوکا رکھتے اور قتل کرتے ہیں۔
انہیں حزب التحریر کو نصرت (عسكری مدد) فراہم کرنی چاہیے تاکہ منہجِ نبوت پر خلافتِ راشدہ قائم ہو اور ظالموں کے خلاف جہاد دوبارہ شروع ہو سکے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ہاتھوں پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ
7 اکتوبر 2026ء کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے کہا: ”آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔۔۔ حکام سرکاری مالیات کو مستحکم کرنے، توانائی کے شعبے کو مالی طور پر قابلِ عمل بنانے اور پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں، سب کو شامل کرنے والی معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کو تیز کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔“
تبصرہ:
عالمی مالیاتی فنڈ نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے عالمی جنوب (Global South) کے بیشتر ممالک میں غربت کو یقینی بنایا ہے، حالانکہ یہ ممالک وافر قدرتی وسائل اور نوجوان آبادی کی بڑی تعداد کے مالک ہیں۔
جہاں تک ”سرکاری مالیات کو مستحکم کرنے“ کا تعلق ہے، تو اس کا اصل مقصد قرضوں کی ادائیگی، بالخصوص ان پر سود کی ادائیگی، کو یقینی بنانا ہے، جبکہ اسلام نے سود (ربا) کو سختی سے حرام قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں میں شامل تمام موجودہ مسلم ریاستیں سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، اور ان ادائیگیوں کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔
جہاں تک ”توانائی کے شعبے کو مالی طور پر قابلِ عمل بنانے“ کا تعلق ہے، تو اس کا مقصد توانائی کے وسائل کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا اور پھر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ یہ کمپنیاں عوام کی کمر پر سوار ہو کر بھاری منافع کمائیں۔ اسلام توانائی کی پیداوار اور تقسیم کی نجی ملکیت کو ممنوع قرار دیتا ہے، کیونکہ شریعت کی رو سے توانائی عوامی ملکیت ہے۔ توانائی کے وسائل سے حاصل ہونے والا منافع نجی کمپنیوں کی جیبیں بھرنے کے بجائے معاشرے کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ ہونا چاہیے۔
اسی طرح ”نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی“ کا مطلب عوامی ملکیت اور ریاستی ملکیت کے اثاثوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنا ہے۔ ان میں وہ امریکی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو پاکستان کے گرد اس طرح منڈلا رہی ہیں جیسے کسی مرتے ہوئے جانور کے گرد گدھ منڈلاتے ہیں۔ اسلام میں کمپنیوں کی شراکت سے متعلق شرعی احکام نجی اداروں کے لیے سرمائے کے لامحدود ارتکاز کو روکتے ہیں، جس سے ریاست کے لیے سرمایہ طلب صنعتوں کی ملکیت اور ان کے قیام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ان صنعتوں میں تزویراتی اہمیت کی حامل صنعتیں، مشین سازی کی صنعت اور بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار (Large Scale Manufacturing — LSM) کے متعدد شعبے شامل ہیں۔
اے پاکستان کے مسلمانو اور نوجوانو!
”امت مسلمہ کی بہار“ قریب آ رہی ہے۔ پوری مسلم دنیا، بشمول پاکستان، میں غصے، مزاحمت اور احتجاج کی لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ تبدیلی کے لیے موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاحات کا مطالبہ کرنے کی غلطی نہ کرنا، کیونکہ اس نظام کی اصلاح یا درستگی ممکن نہیں۔ اس کے بجائے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرو، کیونکہ استعماری تسلط سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے۔
ٹرمپ زمین میں فساد پھیلانے والا ہے، امن کا علمبردار نہیں!
9 اکتوبر 2026ء کو پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایکس (X) پر لکھا: ”صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو آگے بڑھانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔۔۔ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔“
https://x.com/CMShehbaz/status/2108475276879610257
تو کیا اب شہباز شریف، ٹرمپ کے اتحادیوں مودی اور نیتن یاہو کو بھی امن انعامات کے لیے نامزد کریں گے؟
شہباز شریف کی جانب سے ٹرمپ کی یہ مضحکہ خیز تعریفیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے انہیں بیرونی حمایت کی ضرورت ہے، کیونکہ انہیں مسلمانوں کی طرف سے اندرونِ ملک عوامی حمایت حاصل نہیں۔ آج مسلم حکمرانوں کی یہی حالت ہے کہ استعماری طاقتوں کے آلۂ کار ہونے اور مسلمانوں کے معاملات میں دین کے حوالے سے سنگین غفلت برتنے کے باعث ان کی حقیقت بے نقاب ہو چکی ہے۔
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ﴾ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں“ [سورۃ البقرۃ: 11]۔ بلاشبہ، ٹرمپ نے پوری مسلم دنیا میں فساد برپا کیا ہے، مسلمانوں کا پاکیزہ خون بہایا ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
اپنی پہلی صدارتی مدت اور موجودہ دوسری مدت، دونوں میں ٹرمپ کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے رہے ہیں، خواہ معاملہ یمن کا ہو، ایران کا یا افغانستان کا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ غزہ میں نسل کشی کے ارتکاب میں نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کرتا ہے، اور پھر لبنان اور شام تک جنگ پھیلانے میں بھی اس کا ساتھ دیتا ہے۔
ٹرمپ مقبوضہ کشمیر پر مودی کے قبضے کی بھی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مئی 2025ء میں اپنے نائب صدر، وزیرِ خارجہ اور اپنے ”پسندیدہ فیلڈ مارشل“ عاصم منیر کی کوششوں کے ذریعے مودی کو شکست سے بچاتا ہے۔ اب ٹرمپ، اردوان، محمد بن سلمان اور عاصم منیر کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے درمیان جنگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی بالادستی برقرار رکھی جا سکے۔
اے پاکستان کے مسلمانو!
حکمرانوں کی فطرت تم سے مختلف ہے۔ تم اپنے دین سے وابستہ ہو، جبکہ وہ کفر کے قوانین کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ تم کافروں کی شکست کی دعا کرتے ہو، جبکہ وہ کافروں سے اتحاد قائم کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی مسلح افواج کو متحرک کرکے ان حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹاؤ اور ان کی جگہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی کتاب کے مطابق حکمرانی قائم کرو۔
Latest from
- ولایہ پاکستان:مسلمانوں کی افواج کو فتنہ کی طویل جنگوں میں جھونکنے کے امریکی منصوبے کو روکیں!!
- جزب التحریر ولايۃ ترکیہ:آذربائیجان کے اسکولوں میں خمار پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے!
- الرایہ اخبار: شمارہ 621 کی نمایاں سرخیاں
- الرایہ کے متفرقات – شمارہ 621
- بحرانوں کی بھول بھلیوں میں تیونس: خرابی کہاں ہے؟