الثلاثاء، 09 جمادى الأولى 1448| 2026/10/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الرایہ کے متفرقات – شمارہ 621

 

صفحہ اول کی پیشانی

 

اسلام نے حکمرانوں پر فوجوں کو متحرک کرنا، دشمنوں سے جہاد کرنا اور مظلوموں و کمزوروں کی نصرت کرنا فرض قرار دیا ہے؛ چنانچہ جب حکمران ہم میں سے تھے تو ہم نے شہروں کے شہر فتح کیے، دشمنوں کو مار بھگایا اور اللہ کی شریعت نافذ کی۔ پس خلفائے راشدین یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم جیسے حکمران اب کہاں ہیں؟ اور ان خلفاء جیسے رہنما کہاں گئے جنہوں نے دنیا کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کا پرچم بلند کیا، جیسے ہارون، معتصم اور سلیمان قانونی وغیرہ۔۔۔؟ آج کے مسلم حکمرانوں کا ان کے سامنے کیا مقابلہ اور وہ کہاں ٹھہرتے ہیں؟!

 

===

صفحہ اول کے لیے

 

غدار نظاموں سے کسی خیر کی امید نہیں

مراکشی-اماراتی مشترکہ فوجی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی کارروائی 5 اور 6 اکتوبر 2026ء کو منعقد ہوئی، جس کے اختتامی اجلاس کی صدارت شاہی مسلح افواج کے انسپکٹر جنرل اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے مشترکہ طور پر کی۔ دونوں عہدیداروں نے دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون کی سطح کو سراہا، بالخصوص صلاحیتوں کو نکھارنے، دفاعی صنعت، فوجی تربیت اور باہمی تجربات و مہارت کے تبادلے کے شعبوں میں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

 

الرایہ: ایسے نظاموں سے اب کوئی بعید نہیں رہا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں، چنانچہ وہ امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ صف آرا ہوتے ہیں، اس وجود کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے (نارملائزیشن) پر فخر کرتے ہوئے اسے سفارتی تعاون کی سطح کو بلند کرنا قرار دیتے ہیں، اور امریکہ اور یہودی وجود کے رہنماؤں کے ساتھ باہمی دوروں اور بغل گیر ہونے کا تبادلہ کرتے ہیں؛ ایسے نظاموں سے یہ بات ہرگز حیران کن نہیں رہی کہ وہ امت کے خلاف ایک کھلا اور واضح اتحاد قائم کریں، جو اسلامی تہذیبی منصوبے کو اپنا حریف گردانتا ہے اور نام نہاد 'ابراہیمی معاہدات' کو سیاسی عمل اور علاقائی اتحاد کا فریم ورک بناتا ہے۔ لیکن مکہ معاہدے کے بعد شروع ہونے والے اس سلسلے میں سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کفر کی چھتری تلے قائم سیاسی اتحاد اب فوجی اتحادوں اور مسلح علاقائی بلاکس میں تبدیل ہو رہے ہیں، جو امتِ مسلمہ پر جاری صلیبی جنگ میں آلہ کار (پراکسی) کا کردار ادا کرتے ہیں، اس طرح کہ یہ پڑوسی ممالک اور ان کی افواج کو نچوڑ کر ہتھیاروں کی دوڑ میں دھکیل دیتے ہیں اور کافر استعمار کو ہماری گردنوں پر مسلط کر دیتے ہیں؛ جبکہ وہ اپنی طاقت امریکی سرپرستی اور یہود کے منصوبے کی خدمت سے حاصل کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعے فوجی و تکنیکی برتری کا وہ ماڈل تیار کیا جا سکے جو خطے کے باقی ایجنٹوں کو بھی للچائے اور انہیں کھلم کھلا تعلقات قائم کرنے والے قافلے میں شمولیت کا اعلان کرنے کی طرف گھسیٹ لائے۔ اور ایک طرف امریکہ کے مہروں (سعودی عرب، ترکی اور پاکستان) اور دوسری طرف برطانیہ کے مہروں (متحدہ عرب امارات اور مراکش) کے مابین یہ عسکری اتحاد ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب امریکہ اس اسٹریٹجک تھکن کے دائرے سے نکلنے کے لیے وقت کی تلاش میں ہے جو اس کی عسکری صلاحیتوں کو نچوڑ رہی ہے، جہاں وہ ایران اور اس کے بازوؤں کے ساتھ معرکہ سر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یورپ روسی ہائبرڈ جنگ کے سلسلے کو روکنے کی تگ و دو میں ہے، جبکہ چین کی عسکری، تکنیکی اور معاشی پیش قدمی کے سامنے یہ دونوں ایک ہی جگہ پر درجا درجا چکر کاٹ رہے ہیں۔ جہاں تک ان غدارانہ راستوں کے سب سے بڑے ہدف کا تعلق ہے تو وہ خود مسلمان ہیں، جنہیں فرقہ وارانہ اور مسلکی جنگوں اور کمزور کر دینے والی دیگر تمام لڑائیوں کا ایندھن بنانا مقصود ہے، جن میں ان وحشی سرمایہ دار ریاستوں کے طاغوت سرمایہ کاری کر رہے ہیں؛ اور یمن، سوڈان، شاخِ افریقہ اور ساحلِ افریقہ کے متعدد ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کا بہترین ثبوت ہے، اور ان تار تار ہوئے ممالک کے درمیان قدرِ مشترک یہی ہے کہ انہیں انہی کھلاڑیوں، یعنی تقریباً انہی علاقائی ایجنٹوں کے ہاتھوں باہم کھینچا تانی کا نشانہ بنا کر ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے۔

 

چنانچہ یہ مشکوک عسکری اتحاد امت کی پیٹھ میں گھونپا گیا ایک زہر آلود خنجر ہی ہیں، جسے ان نظاموں نے تھام رکھا ہے جنہوں نے غداری کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اور امت کے دشمنوں کی صفوں میں جا گھسے ہیں؛ اور کوئی بھی عقل مند شخص اس بات کی توقع نہیں کر سکتا کہ یہ اسلام اور اہلِ اسلام کے لیے کوئی خیر لائیں گے جب تک کہ ان کے حکمرانوں کے چہرے وائٹ ہاؤس کی طرف مڑے رہیں گے اور وہ یہود کی دوستی اور وفاداری پر اتراتے رہیں گے۔ لہٰذا اصل تقاضا یہ ہے کہ امت ان غداروں سے براءت و لاتعلقی کا اعلان کرے اور ان کا تختہ الٹ دے، اور ایک ایسے خلیفۂ راشد کی بیعت کرے جو کتاب اللہ اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق اس پر حکمرانی کرے، اور وہ ایسے لشکر تیار کرے جو تمام ظالموں اور غداروں سے پورا پورا بدلہ لیں، اس مجرمانہ بین الاقوامی نظام کا تختہ الٹ دیں، اور دنیا کو ایک ایسے ربانی نظام کے مطابق ازسرنو ترتیب دیں جس سے آسمان والے بھی راضی ہوں اور زمین والے بھی۔ ہر وہ شخص جو کافر استعماری مغرب کی رکاب میں چلا، پس اس نے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، سیاسی یا عسکری طور پر ان سے غداری کی، یا فلسطین کے دفاع کے دعوے کی آڑ میں ان کے خون کی تجارت کی، اسے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ضرور یاد رکھنا چاہیے: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ» "قیامت کے دن ہر دھوکے باز اور غدار کا ایک جھنڈا ہوگا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا"۔

 

===

 

اہم سرخی کے تحت

 

اے اہلِ یمن! ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے ہم سب مل کر اللہ کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے جدوجہد کریں اور یوں ہم یمن میں برطانوی اور امریکی کشمکش کو علاقائی اور مقامی مہروں کے ذریعے بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ وہاں کے عوام اس کشمکش کا ایندھن بنے ہوئے ہیں اور دہائیوں سے اس تنازع کی دوہری تلخیاں جھیل رہے ہیں۔ جبکہ ان مہروں کو عوام کی اتنی پروا نہیں جتنی اپنے ذاتی مفادات کی فکر ہے۔ اسی لیے یمن کی نجات ان ہی مہروں سے چھٹکارا پانے میں مضمر ہے جو باہم برسرِ پیکار استعماری ریاستوں کو برقرار رہنے اور اپنا اثر و رسوخ پھیلانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اور یہ مقصد نبوت کے نقشِ قدم پر اس خلافتِ راشدہ کے قیام کے بغیر ممکن نہیں جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ "تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (حکمرانی) عطا کرے گا" (سورۃ النور:آیت 55)۔ اور جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی" (اسے احمد، طیالسی اور بزار نے روایت کیا ہے)۔

 

اس لیے ہم اہلِ یمن کو—جن کی تعریف رسول اللہ ﷺ نے یہ فرما کر کی تھی کہ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ هَا هُنَا» "ایمان تو یہاں ہے، یعنی یمن والوں میں" (اسے بخاری نے روایت کیا ہے)، اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا: «الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» "فقہ یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے" (اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)— ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ حزب التحریر کی نصرت کریں تاکہ ہم سب مل کر اللہ قوی و عزیز کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کریں، اور یوں ہم دونوں جہانوں میں سرخرو ہو جائیں، اور یہی تو عظیم کامیابی ہے۔

حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سوال کے جواب سے اقتباس۔

 

===

 

حزب التحریر / ولایہ ترکی  کی کانفرنس: "غزہ نسل کشی، سازشوں کے جال اور غداری کے شکنجے میں"

طوفان الاقصیٰ معرکے کی تیسری سالگرہ کے موقع پر حزب التحریر / ولایہ ترکی نے اتوار، 4 اکتوبر 2026ء کو استنبول کے علاقے اسنیورت میں واقع نینے خاتون کلچرل سینٹر میں "غزہ نسل کشی، سازشوں کے جال اور غداری کے شکنجے میں" کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے پرجوش ماحول میں شرکت کی۔

کانفرنس کا آغاز آیاتِ قرآنی کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد ایک ویڈیو دکھائی گئی جس میں غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بربریت کو اجاگر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں حزب التحریر / ولایہ ترکی کے میڈیا دفتر کے رکن محمد امین یلدرم نے کانفرنس کا افتتاحی خطاب کیا، جس میں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ: "فلسطین تینوں مذاہب کے درمیان کوئی مشترکہ مقدس سرزمین نہیں ہے، جیسا کہ بعض گمراہ کن آوازیں پروپیگنڈا کر رہی ہیں، اور نہ ہی یہ کوئی ایسی جگہ ہے جہاں مسلمانوں اور غاصب یہود کو نام نہاد 'دو ریاستی حل' کے جھوٹے اور من گھڑت فریب کی بنیاد پر باہم پرامن بقائے باہمی کے تحت رہنا چاہیے؛ بلکہ یہ وہ بابرکت سرزمین ہے جس نے واقعہ اسراء و معراج دیکھا، اور جو ہمارے قبلۂ اول یعنی مسجد اقصیٰ کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ لہٰذا اس کا دفاع کرنا اور اسے آزاد کرانا امتِ مسلمہ پر ایک شرعی فرض ہے"۔

 

اس کے بعد فلسطین یکجہتی ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد میشنش نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "لوگ غزہ کے معاملے میں اپنے دور کے فرعون اور شر کے مجسمے ٹرمپ کے پیش کردہ نام نہاد 'امن منصوبے' سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ جبکہ نام نہاد جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں مطلوبہ سطح پر امدادی سامان داخل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ آج کے دن غزہ کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایک مضبوط سہارا ہے جس کی وہ پشت پناہی حاصل کر سکے"۔

 

پھر صحافی اور کالم نگار احمد فارول نے اپنا خطاب پیش کیا، اور صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح اور پھر بعد کے ایک مرحلے میں اس پر دوبارہ قبضے کے تقابل کے بعد انہوں نے حتمی اور بنیادی حل پر زور دیتے ہوئے کہا: "آج ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں وہ ہمیں ہرگز مایوسی کی طرف نہ دھکیلے۔ بحیثیتِ امتِ مسلمہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ کے نظام کی طرف لوٹنے اور خلافت کے قیام کے لیے پرعزم ہو کر جدوجہد کریں۔ تب ان شاء اللہ امریکہ اور یہودی وجود مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں گے"۔

 

اس کے بعد سماجی کارکن اور مصنف اردال الی بیوک نے خطاب کیا، اور ان رکاوٹوں کی چشم کشا مثالیں پیش کیں جو مسلم ممالک کے حکمرانوں نے غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے قافلوں کے راستے میں کھڑی کیں۔

 

جہاں تک کانفرنس کے اختتامی خطاب کا تعلق ہے تو وہ شرعی علوم کے محقق اور مصنف ڈاکٹر عبد الرحیم شن نے پیش کیا، جنہوں نے ان مجاہدین کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے طوفان الاقصیٰ معرکہ برپا کیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور مسلمانوں کو نئے سرے سے مسئلہ فلسطین کی یاد دلائی۔ انہوں نے اپنے اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ جب امت کی افواج خلافت کے پرچم تلے متحد ہو جائیں گی تو وہ یہودی وجود کو شکستِ فاش دیں گی اور ارضِ مبارک سے اس کا وجود مٹا دیں گی؛ اور اسی تناظر میں انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ آزادی اور فتح کی امید کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

 

===

 

آئیے! بیت المقدس کو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کا دارالحکومت قرار دیں

معرکۂ طوفان الاقصیٰ کو تین سال گزر چکے ہیں، اور غزہ دسیوں ہزار شہداء اور لاکھوں زخمیوں کی قربانی دے چکا ہے، جبکہ بھوک، پیاس، شدید سردی، چلچلاتی دھوپ، فقر اور ناداری غزہ کا روزمرہ منظر بن چکی ہے؛ گویا یہ اس وجود کے رعب کی تصویر کو لرزا دینے کی سزا ہو، اور اس ہیبت کو بحال کرنے کی ایک ناکام کوشش ہو جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی؛ اور پھر امتِ واحدہ کی اس کیفیت کو دفن کرنے کی ناپاک کوشش ہو جو غزہ کا درد محسوس کرتی ہے اور یہ یاد رکھتی ہے کہ وہ ایک ہی امت ہے۔ دشمن یہی کچھ چاہتے ہیں، مگر ان کے ارادے خاک میں مل گئے، کیونکہ وقت کا پہیہ اب پیچھے نہیں مڑے گا اور یہ صورتحال ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔

 

رہ گئی امت، تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے حافظے کو جلا بخشے، اپنے اندر جہاد کے جذبے کو بیدار کرے، اور یہ یاد رکھے کہ اللہ ایمان والوں کا دفاع فرماتا ہے اور وہی ان کا مددگار ہے؛ اس پر لازم ہے کہ وہ طوفان الاقصیٰ کے معرکے کو ایک عظیم تر طوفان کی چنگاری بنا دے، جو نہ صرف اہلِ غزہ کی مدد کرے اور نہ صرف مسجد اقصیٰ اور سرزمینِ مبارک کو آزاد کرائے، اور نہ صرف ان نظاموں کا صفایا کر کے امت کو دوبارہ ایک ایسی امت بنا دے جس کی قیادت ابوبکر یا عمر جیسا ایک ہی شخص کر رہا ہو اور پھر وہ وہیں رک جائے؛ بلکہ وہ ایک فتح سے دوسری فتح کی طرف بڑھتی چلی جائے، یہاں تک کہ اللہ اس کے ہاتھوں کفر کی ان طاقتوں کو پاش پاش کر دے جو اب کمزور ہو چکی ہیں، اور وہ پوری دنیا میں زمین کی مسافتیں سمیٹتے ہوئے اللہ کی راہ میں جہاد کرتی اور خطوں کو فتح کرتی ہوئی آگے بڑھے، تاآنکہ اس امت کی قلمرو وہاں تک پہنچ جائے جس کی خوشخبری رسول اللہ ﷺ نے دی تھی:«إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَسَيَبْلُغُ مُلْكُ أُمَّتِي مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا» "بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، اس کے مشرقوں کو بھی اور اس کے مغربوں کو بھی، اور یقیناً میری امت کی بادشاہت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی تھی"۔

 

ہاں! پس امت کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھے، نہ مایوس ہو اور نہ کمزوری دکھائے، یہاں تک کہ وہ غزہ اور اہلِ غزہ کی نصرت کرے اور ان کی مدد سے پیچھے بیٹھ رہنے کا گناہ اپنے سر سے اتارے، اور مسجد اقصیٰ کو آزاد کرائے جو فاتح و نجات دہندہ نمازیوں کی نماز کے لیے تڑپ رہی ہے، اور قدس میں عمر اور صلاح الدین کی صدائیں اور بلال کی اذان کی گونج دوبارہ لوٹا لائے، اور بیت المقدس کو نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کا دارالحکومت قرار دے۔

 

===

 

یمن کے اقتدار پر باہم دست و گریبان فریق اس کی حکمرانی کے اہل نہیں

یمن کے اقتدار پر لڑنے والے دونوں ہی فریق اس کی حکمرانی کے اہل نہیں ہیں؛ وہ دونوں ہی خون خرابے میں ملوث ہو چکے ہیں اور انہوں نے انسانی جان کی بے حرمتی کی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:«لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ» "کسی مومن کو ناحق قتل کرنے کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک پوری دنیا کا مٹ جانا زیادہ ہلکی بات ہے"۔ اور یہ دونوں فریق انہی لوگوں کا چربہ ہیں جو تقسیم کے چھ عشروں کے دوران یکے بعد دیگرے یمن پر حکومت کرتے رہے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اہلِ یمن کی ترقی و بیداری کے لیے کوئی شرعی منصوبہ موجود ہی نہیں ہے۔

 

جو شخص لوگوں پر حکمرانی کا خواہاں ہو تو اس کا راستہ بالکل واضح اور متعین ہے، جو اللہ کی کتاب میں اس طرح درج ہے کہ مٹایا نہیں جا سکتا اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں اس طرح مذکور ہے کہ بھلایا نہیں جا سکتا؛ اور وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کرے، انسانوں کے بنائے ہوئے خود ساختہ نظاموں کو مسترد کر دے، اور کافر استعمار کے ہاتھ کاٹ ڈالے، تاکہ یمن جزیرہ نمائے عرب کے اتحاد کا مرکز و نقطۂ آغاز بن جائے اور اس کے بعد باقی اسلامی ممالک اس کے ساتھ مل جائیں، اور اسلام پوری دنیا کے لیے نور اور ہدایت کا پیغام بن کر ابھرے، اور یوں اسلام کی حکمرانی کے سائے میں سب کو امن و سکون حاصل ہو جائے۔ اور اس طرح اہلِ یمن نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کی ریاست کے قیام کا شرف حاصل کر لیں جس کا وعدہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم سے فرمایا ہے اور جس کی خوشخبری اس کے رسول ﷺ نے ہمیں دی ہے۔

 

آپ ﷺ نے فرمایا:«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی"۔ یہی وہ بنیادی و حتمی حل ہے جو حزب التحریر میں بحیثیتِ فریضہ اہلِ ایمان کے سامنے پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے؛ ہم یہ بات کسی خیالی پلاؤ کے طور پر نہیں کہہ رہے بلکہ اس حال میں کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اس کے لیے ضروری وسائل اور مردانِ کار تیار کر رکھے ہیں: ﴿هَذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ "یہ تمام انسانوں کے لیے ایک کھلا پیغام ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے خبردار کیے جائیں اور تاکہ وہ جان لیں کہ وہی ایک اکیلا معبود ہے اور تاکہ عقل و دانش والے نصیحت حاصل کریں" (سورۃ ابراہیم:آیت 52)۔

 

===

 

صرف خلافت ہی وہ واحد طاقت ہے جو ڈالر کی اجارہ داری کا خاتمہ کرے گی

سوڈان میں مقامی کرنسی نے رسد کی کمی کے مقابلے میں طلب میں اضافے کے نتیجے میں غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں تنزلی کا سفر ایک بار پھر شروع کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر بنیادی اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ کاروباری افراد نے 'سوڈان ٹریبیون' کو بتایا کہ سوڈانی پاؤنڈ نے غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں دوبارہ گراوٹ کا سفر شروع کر دیا ہے، جہاں ایک ڈالر کا لین دین 8,800 پاؤنڈ پر ہوا ('سوڈان ٹریبیون'، 07/10/2026ء)۔

 

الرایہ: اسلام نے لین دین اور تبادلے کے ذریعے کے طور پر جس کرنسی کو بنیاد بنایا ہے وہ سونا ہے، کیونکہ یہ تحفظ اور استحکام کی خصوصیت رکھتا ہے اور کسی بھی کرنسی کے سامنے متزلزل نہیں ہوتا، خواہ اس کرنسی کو آج کے ڈالر کی طرح فوجی طاقت کی پشت پناہی ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ اور سوڈانی پاؤنڈ کا یہ بکھراؤ ایک متوقع نتیجہ ہے، کیونکہ سونے اور چاندی کے بجائے اس کا ناطہ ڈالر سے جوڑا گیا ہے؛ اور جب تک امریکہ دنیا کی پہلی بڑی طاقت بنا رہے گا اور جب تک ہمارے حکمران اس کے سامنے سرنگوں رہیں گے، تب تک ڈالر دیگر تمام کرنسیوں کو اسی طرح عدم استحکام کا شکار کرتا رہے گا۔

 

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں شدید گراوٹ کا شکار ہے، وہیں دوسری طرف 'سوڈانی منرل ریسورسز کمپنی' انتہائی اشتعال انگیز انداز میں سامنے آ کر جنوری سے ستمبر 2026ء کے عرصے کے دوران سونے کی پیداوار، آمدنی اور برآمدی محصولات میں ریکارڈ اضافے کا اعلان کرتی ہے، جو کمپنی کے قیام کے بعد سے اس کی بلند ترین کارکردگی کی سطح ہے۔ چنانچہ اس کی آمدنی 1 کھرب 886 ارب (1 ٹریلین اور 886 ارب) پاؤنڈ تک پہنچ گئی، جبکہ سونے کی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقم 2.292 ارب ڈالر رہی۔

ان اعداد و شمار کی صحت سے قطع نظر، سونا ایک عوامی ملکیت ہے، نہ کہ سوڈانی کمپنی یا کسی اور ادارے کی نجی ملکیت؛ اور اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کی آمدنی عوام تک پہنچے نہ کہ معاشی قزاقوں کے کھاتوں میں جائے۔ لیکن جو نظام سونے اور چاندی کو ریاست کی کرنسی کی بنیاد بناتا ہے اور اس دولت کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کی ریاست ہی ہے جو عوامی املاک کی آمدنی کو رعایا کی ضروریات کے لیے بروئے کار لاتی ہے؛ کیونکہ وہی اسلام کے اس حکم کی تعمیل میں عوام کے مفادات کی واحد امین ہے کہ: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ» "بے شک امام (حکمران) تو محض ایک ڈھال ہے"۔ پس خلافت ہی وہ واحد نظام ہے جو ریاست کی کرنسی کو کبھی نہ گرنے والی ناقابلِ تسخیر کرنسی بنا سکتا ہے۔

 

 

 

Last modified onمنگل, 20 اکتوبر 2026 14:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک