Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ایپسٹین آئی لینڈ (جزیرہ) محض ایک عارضی اسکینڈل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نظریاتی حقیقت ہے

 

 

تحریر: استاد احمد زکریا الضلع

 

 

(ترجمہ)

 

 

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مغرب جرائم کا ارتکاب کرتا ہے، بلکہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ لوگ یوں حیران ہوتے ہیں جیسے مغرب کبھی مجرم رہا ہی نہ ہو، اور جیسے اس کی تاریخ قتل و غارت، لوٹ مار، قبضے اور سیاسی و انسانی استحصال کا ایک مسلسل سلسلہ نہ رہی ہو۔ عراق سے افغانستان تک اور شام سے غزہ تک، لاکھوں لوگ قتل ہوئے، بے گھر ہوئے اور ذہنی و جسمانی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے، مگر اس "آزاد" دنیا کے احساسات کو ٹھیس تک نہ پہنچی۔ لیکن جب ایک چھوٹے سے جزیرے کا بھانڈا پھوٹتا ہے جہاں بااثر لوگ چھپ کر اپنے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے، تو میڈیا میں ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ جرم اس سرمایہ دارانہ نظام کے لیے کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی جڑوں میں پیوست ہے۔ ایپسٹین آئی لینڈ کوئی استثنیٰ نہیں بلکہ اس دنیا کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جس پر وحشی مغرب کی حکمرانی ہے۔

 

 

اصل غلطی نہ تو اس جگہ میں ہے، نہ اکیلے ایپسٹین کی ذات میں اور نہ ہی خود اس جرم میں۔ اصل غلطی اور خرابی اس نظریے اور اس بین الاقوامی نظام میں ہے جو انسان کو محض استحصال کی ایک جنس  سمجھتا ہے۔ اس نظام میں بچے کو لذت کے لیے، عورت کو اشتہار کے لیے، قوموں کو لوٹ مار کے لیے اور ریاستوں کو قبضے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اور جب زندگی اس ذہنیت کے ساتھ چلائی جائے تو ایپسٹین آئی لینڈ کا وجود ایک فطری بلکہ ناگزیر امر بن جاتا ہے۔ مسئلہ صرف ایپسٹین کا نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کا ہے جو اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔ صرف ایپسٹین پر توجہ مرکوز کرنا ایک سوچی سمجھی دھوکہ دہی ہے، کیونکہ وہ محض ایک ظاہری چہرہ، ایک دلال یا اثر و رسوخ کے ایک طویل سلسلے کی ایک کڑی کے سوا کچھ نہ تھا۔

 

 

جو لوگ اس کے ساتھ تھے وہ سیاسی اشرافیہ، کاروباری شخصیات، میڈیا کے لوگ، بااثر افراد، حفاظتی نیٹ ورکس، سپاہی، گارڈز اور لاجسٹکس فراہم کرنے والے تھے۔ یہ لوگ اس گندے نظام سے باہر نہیں ہیں، بلکہ وہ خود یہ نظام ہیں۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے جنگوں کی قیادت کی، بمباری کا جواز پیش کیا، قبضے کی راہ ہموار کی اور جمہوریت کے نام پر قتل و غارت کو قانونی شکل دی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ایک طرف انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور دوسری طرف مشرق وسطیٰ کے بچوں کو ملبے کے نیچے دفن کر رہے تھے۔ اب کون سا عقل مند انسان یہ تصور کر سکتا ہے کہ جس نے اجتماعی قتل عام  کی قیادت کی ہو، وہ کسی تنہا جزیرے پر کسی بچے کی پامالی اور زیادتی سے باز رہے گا؟!

 

 

مغرب بچوں کے حقوق، خواتین کے حقوق، میڈیا کی اخلاقیات اور انسانی آزادی کی باتیں تو کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ بتاتی ہے کہ یہ اقدار نہیں بلکہ سیاسی اوزار ہیں۔ یہ میڈیا کا محض ایک شور و غوغا ہے اور ایسے نعرے ہیں جن پر شہد کی تہہ چڑھی ہوئی ہے لیکن ان کے اندر قاتل زہر بھرا ہوا ہے۔ یہ اقدار عوام کو دھوکہ دینے کے لیے پیش کی جاتی ہیں، اور جب یہ ان کے مفادات کے تابع ہوں تو انہیں استعمال کیا جاتا ہے لیکن جب ان کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنیں تو انہیں پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔ اگر بچوں کے حقوق ان کے نزدیک ایک حقیقی قدر ہوتے تو غزہ کے اسکولوں کو یوں آگ نہ لگائی جاتی، اور اگر خواتین کے حقوق ایک اخلاقی اصول ہوتے تو عراق کی جیلوں میں عورتوں کی آبرو ریزی نہ کی جاتی، اور اگر انسانی وقار ان کے نزدیک مقدس ہوتا تو گوانتنامو اور ابو غریب جیسے قید خانے قائم نہ کیے جاتے۔ لیکن آج کی واضح حقیقت یہ ہے کہ جب دولت، سیاست، میڈیا اور اثر و رسوخ ایک جگہ جمع ہو جائیں تو اس کا نتیجہ ایسی "استثنائی قوت"  کی صورت میں نکلتا ہے جو قانون سے بھی بالاتر ہوتی ہے۔ جب یہ تمام عناصر مل جاتے ہیں تو خاموشی خرید لی جاتی ہے، الزامات کا رخ (اپنے مخالفین کی طرف) موڑ دیا جاتا ہے، مجرم کا داغ دھو کر اسے صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے اور بے گناہ کو شیطان بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح قانون اور اخلاقیات کی حدود کو پار کرنا نہ صرف ممکن بلکہ نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ اس معاملے کے وقت  کے بارے میں مختلف نظریات اور ان انکشافات کو بین الاقوامی یا علاقائی واقعات سے جوڑنا، یہ سب ثانوی تفصیلات ہیں۔ اصل اور اہم ترین بات یہ ہے کہ خود مغربی عوام کے سامنے، دین کو زندگی سے الگ کرنے (سیکولرزم) کے نظریے پر یقین رکھنے والوں کے سامنے، اور مغربی تہذیب کی چکا چوند سے دھوکہ کھائے ہوئے ہمارے اپنے لوگوں کے سامنے سے بھی وہ آخری پردہ  گر چکا ہے جو اس کی حقیقت چھپائے ہوئے تھا۔

 

 

اب ایک ایسے نظام کی حقیقت بے نقاب ہو گئی ہے جسے اقدار نہیں بلکہ مفادات چلاتے ہیں، جسے اخلاقیات نہیں بلکہ طاقت قابو میں رکھتی ہے، اور جو انسان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اسے محض ایک سرمائے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ جرائم کسی انفرادی کجی یا انحراف کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ اس نظریے کا نتیجہ ہیں جو دین کو زندگی سے جدا کرتا ہے، وحی کو سیاست سے الگ کرتا ہے، خالق کی شریعت کو حکمرانی سے بے دخل کرتا ہے اور انسان کو خود اپنے لیے قانون ساز بنا دیتا ہے۔ اور انسان جب خود اپنے لیے قانون بناتا ہے تو وہ اپنی خواہشات کے پیمانے پر قانون سازی کرتا ہے۔ وہ اس چیز کو حلال قرار دیتا ہے جو اسے فائدہ پہنچائے اور اسے حرام کر دیتا ہے جو اس کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔ تو پھر ہم ایسے نظام سے انسان کی حفاظت کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟

 

 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایپسٹین آئی لینڈ محض ایک اسکینڈل نہیں بلکہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ یہ نظام اخلاقی طور پر ناکام، انسانیت کے درجے سے گرا ہوا، اقدار کے لحاظ سے دیوالیہ، تاریخی طور پر مجرم اور انسانیت کی بقا کے لیے خطرناک ہے۔ جو شخص آج بھی یہ حقیقت نہیں دیکھ پا رہا، وہ یا تو پروپیگنڈے کی تیز آواز سے اندھا ہو چکا ہے، یا اس جرم سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے، یا پھر وہ سچائی کا سامنا کرنے سے ڈرتا ہے۔ اسی لیے یہ نظام، یہ فاسد حکمران ڈھانچہ اور فطری طور پر منحرف یہ تہذیب، اپنے اندر سے ٹھیک نہیں کی جا سکتی، بلکہ اسے اس کی جڑوں سے بدلنا ہوگا۔ یہ ایک ایسی بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلی ہونی چاہیے جو فساد کی اصل جڑ کو کاٹ دے، انحراف کی بنیاد کو اکھاڑ پھینکے اور اس کے باقی رہنے یا اس کی مرمت کی کوئی گنجائش نہ چھوڑے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطل کی اصلاح باطل سے نہیں ہو سکتی اور نہ ہی فساد کا علاج فساد کے اوزاروں سے کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس کا علاج حق کے ذریعے ہوگا اور ظلم کا خاتمہ عدل سے کیا جائے گا تاکہ جاہلیت کو دور کیا جا سکے اور اسلام کی حکمرانی قائم ہو۔

 

 

اور یہاں امتِ مسلمہ اپنے اس حقیقی اور تاریخی کردار کی طرف متوجہ ہوتی ہے جس سے وہ ایک طویل عرصے سے پیچھے ہٹی ہوئی تھی، اور وہ کردار پوری دنیا تک تبدیلی کا پیغام پہنچانا ہے۔ اسے محض چند اخلاقی نعروں کے طور پر نہیں بلکہ زندگی، سیاست، معیشت، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات کے ایک مکمل نظام کے طور پر پیش کرنا ہے۔ کیونکہ مسلمان محض ایک الگ تھلگ مذہبی گروہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اس عالمگیر پیغام کے علمبردار ہیں جسے لے کر سید البشر محمد ﷺ تشریف لائے تاکہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں، بندوں کی بندگی سے نکال کر رب العباد کی بندگی کی طرف لے جائیں، مذاہب کے جور و ستم سے نکال کر اسلام کے عدل کی طرف اور دنیا کی تنگی سے نکال کر دنیا و آخرت کی وسعت کی طرف لے جائیں۔

 

 

اور یہ تبدیلی کسی جزوی اصلاح، سیاسی پیوند کاری یا فاسد نظاموں کے ساتھ سمجھوتوں کے ذریعے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ایک ایسے منظم، فکری، سیاسی اور اصولی کام کے ذریعے ممکن ہے جو اسلام کو زندگی کے واحد مرجع (حوالے) کے طور پر اس کا مقام واپس دلائے، امت کو دنیا میں اس کا قائدانہ کردار لوٹائے اور مادہ پرستی، ہوس اور اثر و رسوخ پر مبنی اس تہذیب کے سائے میں چھینی گئی انسانی عظمت و وقار کو دوبارہ بحال کرے۔ اور یہی شعور کی جنگ، تقدیر کی جنگ اور اس فاسد عالمی نظام کے خلاف امت کی جنگ ہے جو نہ تو اب اصلاح کے قابل ہے اور نہ ہی باقی رہنے کا حق رکھتا ہے۔

 

 

Last modified onہفتہ, 21 فروری 2026 01:13

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.