بسم الله الرحمن الرحيم
مغربی کنارے پر یہودیوں کا اپنی گرفت مضبوط کرنا جبری بے دخلی کی ایک منظم پالیسی ہے
تحریر: استاد عبد اللہ النبالی
(ترجمہ)
اب مغربی کنارے کی زمینوں کی پامالی چھپ کر نہیں ہوتی، بلکہ اب یہ سب دنیا کی آنکھوں کے سامنے سرِ عام لوٹا جا رہا ہے، اور اس پر اس امت کی گہری اور مجرمانہ خاموشی ہے جسے لوگوں پر گواہ ہونا تھا، نہ کہ اپنے ہی ذبح ہونے پر خاموش تماشائی۔
آج یہودی وجود مغربی کنارے کے باسیوں پر گھیرا مزید تنگ کر رہا ہے۔ ان کے گھر مسمار کیے جا رہے ہیں، ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کی شناخت مٹائی جا رہی ہے اور ان کے شہروں اور دیہاتوں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کا دم گھٹ جائے۔
یہ منظر کوئی حیران کن یا اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اہل فلسطین کو ان کی سرزمین سے اکھاڑ پھینکنے، اس جگہ کی روح سلب کرنے اور تاریخ کو ملبے کے ڈھیر میں بدلنے کے ایک طویل سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔
اسی لیے آج یہودی وجود جو کچھ کر رہی ہے وہ محض کوئی وقتی سکیورٹی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ مغربی کنارے کے لوگوں کو بے دخل کرنے کے منصوبے کے ایک باقاعدہ (قانونی اور انتظامی) مرحلے میں منتقلی ہے۔
یہودی وجود کی مختصر وزارتی کونسل (کابینہ) کی جانب سے ان فیصلوں کی منظوری ، جن میں مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانا، فلسطینی جائیدادوں کی یہودیوں کو فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرنا، فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے اندر بھی گھروں کو گرانے کی اجازت دینا، اور الخلیل، حرمِ ابراہیمی کے گردونواح اور بیت لحم میں تعمیر و ترقی اور منصوبہ بندی کے اختیارات یہودی وجود کو منتقل کرنا شامل ہے ، اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ نام نہاد خود مختاری کے بچے کھچے نشانات کو بھی مٹا دیا جائے، اور فلسطینی اتھارٹی کو اقتدارِ اعلیٰ سے محروم محض ایک انتظامی ڈھال بنا دیا جائے تاکہ ایک نیا آبادیاتی نقشہ مسلط کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
یہ فیصلے صرف زمین کو نشانہ نہیں بناتے، بلکہ اس زمین کے مالک کو بھی نشانہ بناتے ہیں تاکہ اس کے لیے حالات اتنے تنگ کر دیے جائیں کہ وہ خود دھیرے دھیرے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائے۔ کیونکہ جب اس کا گھر مسمار کر دیا جاتا ہے، زمین ضبط کر لی جاتی ہے، تعمیر و ترقی کے راستے مسدود کر دیے جاتے ہیں اور پھر اس کا معاشی محاصرہ کر لیا جاتا ہے، تو وہاں رہنا اس کے لیے زندگی کا ایک بہت بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔ یہاں ہجرت یا بے دخلی کی صورت براہِ راست نکال باہر کرنے کے بجائے "بتدریج دم گھونٹنے" کی پالیسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
الخلیل میں، جہاں مسجدِ ابراہیمی واقع ہے، یہودی وجود تعمیر و ترقی اور نئی بستیوں کے ذریعے اپنا کنٹرول مضبوط کر رہا ہے، اور یہ کوئی محض انتظامی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حاکمانہ قدم ہے جو اس جگہ پر قبضے اور اس سے جڑی جدوجہد کی اصل روح کو نشانہ بناتا ہے۔
بیت لحم کا حال یہ ہے کہ اسے بستیوں اور ناکوں کے ذریعے محاصرے میں لے لیا گیا ہے، اور اسے اس کے اصل جغرافیائی اور سماجی ماحول سے کاٹنے کی پالیسی مکمل کی جا رہی ہے تاکہ وہ ایک ایسا کٹا ہوا علاقہ بن جائے جہاں زندگی کی فطری رمق باقی نہ رہے۔
اور مغربی کنارے کی ڈھلوانوں پر واقع دیہاتوں میں یہودی وجود راستے بند کر رہی ہے اور لوگوں کے دلوں پر پہرے بٹھا رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ یہاں کے لوگ ظلم و جبر کے اتنے ہی عادی ہو جائیں جتنا وہ سانس لینے کے عادی ہیں۔
یہودی وجود جو کچھ کر رہا ہے وہ محض انتظامی فیصلے یا سکیورٹی انتظامات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہر چیز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا ایک جامع منصوبہ ہے: زمین کو چھیننا، یادداشتوں کو مٹانا، حق کو غصب کرنا اور امیدوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو اہلِ فلسطین سے یہ کہنا چاہتا ہے کہ: یا تو تم یہاں سے چلے جاؤ، یا پھر اپنی ہی زمین پر اجنبی بن کر زندگی گزارو، جہاں نہ تمہارا کوئی سایہ ہو، نہ چھت اور نہ ہی کوئی روشن مستقبل۔
اس خطرناک منصوبے کے مقابلے میں، اہلِ فلسطین کو صرف غاصبانہ قبضے کا ہی سامنا نہیں ہے، بلکہ اندرونی طور پر ان پر ایک ایسی اتھارٹی کے ذریعے بھی عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے جو مسئلہ فلسطین کو محض ایک تجارتی منصوبہ سمجھتی ہے تاکہ اپنے کارندوں کے بینک اکاؤنٹس بھر سکے۔ گزشتہ دو برسوں میں غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ اور مغربی کنارے پر بڑھتی ہوئی سختیوں کے باوجود، یہ اتھارٹی حقیقی خودمختاری یا تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت سے محرومی کے عالم میں لوگوں سے مال بٹورنے اور ٹیکس وصول کرنے میں لگی ہوئی ہے، اور بستیوں کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کا سوچے بغیر فلسطینیوں کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنا رہی ہے۔
اس لحاظ سے، اہلِ فلسطین پر دباؤ دوہرا ہو چکا ہے۔ ایک طرف غاصب قبضہ ہے جو ان کی زمین اور مقدسات کو لوٹ رہا ہے، اور دوسری طرف وہ اتھارٹی ہے جو کسٹم، ٹیکسوں، رشوتوں اور بھتہ خوری کے ذریعے ان کے مال لوٹ رہی ہے۔ اس طرح اب پوری صورتحال واضح ہو جاتی ہے کہ ہم آبادی کو منظم طریقے سے نکال باہر کرنے کی ایک ایسی پالیسی کے سامنے کھڑے ہیں جو صرف ٹینکوں کے زور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور معیشت کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد مغربی کنارے کا انتظام چلانا نہیں بلکہ اس کی انسانی شناخت کو بدلنا اور اسے اس کے اصل باشندوں سے خالی کرانا ہے، تاکہ انہیں ہجرت پر مجبور کیا جائے یا وہ بغیر کسی مستقبل کے گھٹن زدہ چھوٹی چھوٹی بستیوں (کینٹنز) میں سمٹ کر رہ جائیں۔
آخر میں، یہودی وجود مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا ہے وہ کوئی مقامی یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسلمانوں کی زمینوں، اور بالخصوص اس مبارک سرزمین پر قبضے اور توسیع پسندی کے ایک طویل منصوبے کی کڑی ہے جو مسلمانوں کا قبلہِ اول اور ان کے نبی ﷺ کی جائے معراج ہے۔ اس منصوبے کا مقابلہ محض جذباتی تقریروں سے نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے اس منصوبے کی حقیقت کا گہرا فہم اور امت کے شعور کی ایسی ازسرِ نو تعمیر ضروری ہے کہ وہ یہ جان لے کہ یہ معرکہ یہاں وہاں کے کسی ایک گھر یا سڑک کا نہیں ہے، بلکہ یہ اس زمین کا معرکہ ہے جس کی مٹی صحابہ کرامؓ کے خون سے سیراب ہوئی اور جو قرآن کریم میں اللہ کی ایک آیت کے طور پر درج ہے۔ چنانچہ جب امت اس حقیقت کو پا لے گی تو نہ کوئی قبضہ باقی رہے گا اور نہ کوئی غاصب بستی، اور تب یہ زمین آزاد ہو گی اور دارالاسلام کا مرکز و مقام بنے گی۔




