Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

روس طویل جنگ کے بعد: ایک نڈھال ریاست یا پہلے سے زیادہ خطرناک؟

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

روس اور یوکرائن کی جنگ نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک بنیادی سوال کو دوبارہ جنم دیا ہے کہ کیا ایک طویل فوجی مقابلے کے بعد روس ایک ایسی نڈھال ریاست بن چکا ہے جس کی صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں، یا وہ عالمی نظام کی پابندیوں کو توڑنے کے بعد اب پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو گیا ہے؟

 

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ روس اس جنگ سے بھاری نقصانات کے بوجھ تلے دب کر نکل رہا ہے اور وہ ایک ایسی ساختی تھکن کا شکار ہے جو بین الاقوامی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو محدود کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس، دوسرے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ نے روس کو ایک ایسی قوت کے طور پر دوبارہ ڈھالا ہے جو پہلے سے زیادہ مضبوط اور خطرناک ہے، جو عالمی نظام کے اصولوں کی کم پابند ہے، اور مہم جوئی و حالات کو بگاڑنے کے لیے زیادہ تیار ہے۔ اس بحث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ روسی طاقت کے ذرائع میں آنے والی گہری تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے اور بین الاقوامی کشمکش کے ترازو میں اس کے نقصانات اور فوائد کا موازنہ کیا جائے۔

 

پہلا: روس نے آج تک کیا کھویا؟

 

·          فوجی اِستحصال: بھاری جانی اور مالی نقصانات، روایتی فوجی ذخائر کا بڑے پیمانے پر استعمال، اور ان دفاعی صنعتوں پر بڑھتا ہوا انحصار جو سخت معاشی پابندیوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔

 

·          عمومی معاشی دباؤ: یہ ان بے مثال پابندیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے بینکنگ سسٹم اور توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے بڑی مغربی سرمایہ کاری باہر نکل گئی اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔

 

·          سیاسی ساکھ میں نسبتی کمی: یہ مشرقی یورپ میں اس کے اثر و رسوخ کے سکڑنے، نیٹو (NATO) کے پھیلاؤ، اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات کے سیاسی کشش اور "نرم طاقت" (soft power) سے نکل کر تقریباً مکمل طور پر "سخت طاقت" (hard power) پر منحصر ہو جانے کا نتیجہ ہے۔

 

دوسرا: ان سب کے باوجود روس مہم جوئی کے لیے زیادہ تیار کیوں نظر آتا ہے؟

 

اِستحصال اور تھکن کے باوجود، روس کے پاس ایسے عوامل موجود ہیں جو اسے خطرہ مول لینے کے لیے ایک تیار کھلاڑی بناتے ہیں، اور اس کی کئی وجوہات ہیں:

 

·          اخلاقی اور قانونی پابندیوں سے آزادی: روس اب لبرل نظام کی کم پرواہ کرتا ہے اور بین الاقوامی احتساب کے منطق کو کم مانتا ہے، جیسا کہ شام اور یوکرائنی علاقوں میں اس کی کارروائیوں سے ظاہر ہوا۔ اس چیز نے اسے اپنی فوجی طاقت بڑھانے اور سائبر جنگ کو تیز کرنے کی ترغیب دی ہے۔

 

·          طویل جنگی تجربے کا حصول: اس جنگ نے روس کے فوجی نظریے کی تشکیلِ نو میں مدد دی ہے، اور اسے وہ میدانی تجربہ فراہم کیا ہے جس کی بہت سی یورپی افواج میں کمی ہے۔

 

·          قیادت کی تلاش سے نظام کو نقصان پہنچانے کی طرف منتقلی: اب روس عالمی نظام کی قیادت کا خواہشمند نہیں رہا، بلکہ وہ اسے جڑ سے کمزور کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کی بنیاد یہ یقین ہے کہ موجودہ نظام اب غلبہ حاصل کرنے کی کم صلاحیت رکھتا ہے اور اسے آسانی سے الجھایا جا سکتا ہے، اور روس یک قطبی دنیا سے کثیر قطبی دنیا یا یہاں تک کہ افراتفری کی طرف منتقلی کے لیے خود کو ڈھالنے کے لیے تیار ہے۔

 

·          متبادل میدانوں میں پھیلاؤ: روس کا خطرہ یورپ کے ساتھ بالواسطہ کشیدگی بڑھانے اور افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور قطب شمالی جیسے متبادل میدانوں میں سرگرم ہونے کی اس کی صلاحیت میں نظر آتا ہے۔

 

تیسرا: روس، ایک زخمی مگر ضدی طاقت کے طور پر:

 

آج کا روس نہ تو ماضی کا قصہ بن چکا سوویت یونین ہے اور نہ ہی کوئی زمین بوس ہو چکی ریاست۔ یہ ایک زخمی لیکن ضدی قوت ہے۔ اس نے اپنی کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا ایک حصہ کھو دیا ہے، لیکن اس نے خطرہ مول لینے کی زیادہ ہمت حاصل کر لی ہے۔ اور ایسی دنیا میں جو "منظم افراتفری" کی طرف بڑھ رہی ہے، شاید سب سے خطرناک طاقتیں وہ نہیں ہوتیں جو سب سے زیادہ مضبوط ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جن کے پاس کھونے کے لیے اب کچھ باقی نہ رہا ہو۔

 

اس لیے روس کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ ایک ایسی طاقت کے طور پر دیکھنا چاہیے جو اپنے زوال کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے پاس اسلحہ اور ڈیٹرنس (دشمن کو روکنے کی قوت) موجود ہے، اور وہ علاقائی اور بین الاقوامی سرپرستوں کی رضامندی سے اپنے کمزور اثر و رسوخ والے علاقوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ پابندیوں کی وجہ سے اسے معاشی اور تکنیکی کمزوری اور انسانی ترقی میں تنزلی کا سامنا ہے، لیکن روسی ذہنیت اب بھی خطرے کا ایک بڑا سبب ہے، خواہ اس کے افق محدود ہی کیوں نہ ہوں۔

 

آج کا روس ایک پریشان کن کھلاڑی اور محض ایک سٹریٹیجک  شراکت دار ہے، کوئی سٹریٹیجک لیڈر نہیں۔ اس کی طاقت دوسروں کو مکمل فتح حاصل کرنے سے روکنے کی صلاحیت میں ہے، نہ کہ اپنی فتح مسلط کرنے میں، جبکہ اس کی کمزوری ایک ایسے عالمی منصوبے کی عدم موجودگی ہے جو ٹکراؤ کی منطق سے بالاتر ہو۔

 

چوتھا: کثیر قطبی دنیا میں روس کا مقام:

 

آنے والے بڑے بحرانوں کے بعد کی دنیا میں، روس شاید وہ طاقت نہ ہو جو مستقبل کی قیادت کرے، لیکن وہ بلاشبہ ان قوتوں میں سے ایک ہو گی جو کسی بھی آنے والے بین الاقوامی تصفیے میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

 

اگر بین الاقوامی نظام یک قطبی سے کثیر قطبی، یا یہاں تک کہ ایک افراتفری کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے، تو طاقت کے توازن پر مبنی کثیر قطبیت (نہ کہ کسی ایک مرکز کے غلبے پر) سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے روسی نقطہ نظر کے عین مطابق ہے۔

 

کثیر قطبی نظام مغرب کی روس کو تنہا کرنے یا اس پر دم گھونٹ دینے والی پابندیاں لگانے کی صلاحیت کو کم کر دے گا، اور ایٹمی ہتھیار بین الاقوامی مقام کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکزی آلے کے طور پر واپس آ جائیں گے ۔ اسی طرح روس چین، ایران، بھارت اور افریقی ممالک کے ساتھ محض مفادات پر مبنی اتحادوں کے ذریعے کام کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ اور ایسے نظام میں، ان قوتوں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے جو ثالثی کرنے یا کام روکنے (تعطیل) کی صلاحیت رکھتی ہوں، اور روس ان دونوں کاموں میں ماہر ہے۔

 

اس لیے ایک کثیر قطبی نظام میں، روس سب سے طاقتور قطب تو نہیں ہے، لیکن یہ ایک ایسا ضروری قطب ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی کامیابی بین الاقوامی نظام کی قیادت کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے خلاف کسی دشمن اور مستحکم نظام کو بننے سے روکنے میں، اور ایک ایسی دنیا میں مقام، اثر و رسوخ اور رکاوٹ ڈالنے کے لیے مقابلہ کرنے میں ہے جو نامکمل کثیر قطبی نظام یا منظم افراتفری کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 

پانچواں: روسی فکر میں اسلامی ریاست کا خوف و خدشہ:

 

روس کا اصل خوف کسی روایتی فوجی طاقت سے نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی اصولی اسلامی ریاست کے قیام کے امکان سے ہے جو سرحدوں سے بالاتر ہو۔ روس کے اندر 20 سے 25 ملین مسلمان آباد ہیں (چیچنیا، داغستان، انگوشتیا، تاتارستان وغیرہ میں)، اور ایسی ریاست کا قیام ان اسلامی تحریکوں کو ایک علامتی جواز فراہم کر سکتا ہے جو اس ابھرتی ہوئی سیاسی اکائی میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

 

اسی طرح روس ایک ایسی ریاست کے پڑوس سے بھی ڈرتا ہے جو "قومی ریاست" (nation-state) کی ان سرحدوں کو تسلیم نہیں کرتی جیسا کہ وہ سمجھتا ہے، کیونکہ وہ اسے محض ایک نیا سیاسی وجود نہیں دیکھتا، بلکہ اسے جواز کا ایک متبادل ماڈل سمجھتا ہے جو اس کی قومی سرحدوں میں داخل ہونے اور اس کے کمزور اندرونی ماحول میں شناخت اور وفاداری کے سوالات کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

اسی بنا پر، روس جدید قومی نظام سے باہر سے جواز حاصل کرنے والی ریاست کے قیام کا خطرہ مول لینے کے بجائے، ان آمرانہ نظاموں کی حمایت کرنے کو ترجیح دیتا ہے جنہیں قابو میں رکھا جا سکے۔ ماسکو کے خدشات اس بات سے اتنے نہیں ہیں کہ یہ ریاست باہر کیا کرے گی، بلکہ وہ اس کے قیام کے اندرونی اثرات سے زیادہ ڈرتا ہے۔

 

اس لیے اس کی اصل جنگ مذہب کے طور پر اسلام سے نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے سیاسی نظام کی پیدائش کے امکان سے ہے جسے وہ اپنے قابو میں نہ رکھ سکے یا اسے کنٹرول نہ کر سکے۔ اور ایک ایسی دنیا میں جہاں سرحدیں مٹ رہی ہیں، یہ امکان روسی ذہن میں سب سے بڑا تزویراتی ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔

 

اور اسی تناظر میں روس کے مختلف علاقوں میں حزب التحریر کے نوجوانوں کے خلاف گرفتاریوں کی وسیع مہم کو سمجھا جا سکتا ہے، جس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ یہاں مقابلہ محض سیکیورٹی کا نہیں بلکہ نظریاتی ہے، جس کا ہدف ایک ایسی ریاست کا تصور ہے جو "امت" کا تصور رکھتی ہے، جو موجودہ سرحدوں یا بین الاقوامی قانون پر یقین نہیں رکھتی، اور اسلامی عظمت کو اسی طرح بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے جیسا کہ وہ پہلے تھی، یا جیسا کہ ہمارے رسول کریم ﷺ نے اس کی بشارت دی تھی۔

Last modified onہفتہ, 21 فروری 2026 01:29

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.