بسم الله الرحمن الرحيم
یورپی سربراہی کانفرنساور نیٹو کے بکھرنے کے آثار
تحریر: استاد اسعد منصور
(ترجمہ)
یورپی رہنماؤں نے 4 مئی 2026 کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں "یورپی سیاسی برادری" کی سربراہی کانفرنس منعقد کی۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی شعبے میں یورپ کی خود مختاری اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
یہ یورپی سیاسی برادری ایک ایسا سیاسی فورم ہے جس کا اجلاس یورپی رہنما سال میں دو بار منعقد کرتے ہیں۔ اس فورم کی بنیاد 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون کی تجویز پر رکھی گئی تھی۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس کا قیام روس کا مقابلہ کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے، لیکن اب یہ ٹرمپ کے زیرِ اثر امریکہ کی پالیسیوں کا مخالف بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ فورم یورپی پالیسیوں، اہم عالمی مسائل پر یورپ کے موقف، اور یورپ کی رائے اور سیاسی عمل کو متحد کرنے کی کوششوں پر بحث کرتا ہے۔ کیونکہ یورپ اپنی "یورپی یونین" کے ذریعے ایک ایسا واحد سیاسی بلاک بننے میں ناکام رہا ہے جس کی سیاسی رائے ایک ہو اور جو متحد ہو کر سیاسی فیصلے کر سکے۔
لہذا، یہ فرانس کی طرف سے ایک پیوند کاری کی کوشش ہے، جسے وہ پورے یورپ کے ذریعے کامیاب بنانا چاہتا ہے۔ دراصل فرانس، یورپ کی فکری اور سیاسی قیادت حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہے، جبکہ معاشی میدان میں اسے جرمنی کا سامنا ہے جس کا یورپی یونین میں خاصا اثر و رسوخ ہے۔ بہت سے سیاسی اقدامات کا آغاز فرانس سے ہی ہوتا ہے، جن میں سب سے اہم یورپی اتحاد کا تصور اور اس کا ارتقا ہے، یعنی کوئلے اور فولاد کے اتحاد سے لے کر یورپی مشترکہ منڈی اور پھر موجودہ یورپی یونین تک کا سفر۔ ان پہلوؤں سے فرانس سب سے زیادہ متحرک ہے اور وہ جرمنی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اگر وہ جرمنی کو کسی آئیڈیا پر راضی کر لے تو اس پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
حالیہ سربراہی کانفرنس آرمینیا میں منعقد کی گئی جو کہ روس کا اثر و رسوخ والا علاقہ ہے، جبکہ امریکہ اسے اپنے زیرِ اثر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وہاں اس اجلاس کا انعقاد خاص اہمیت کا حامل ہے اور یہ محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اس کانفرنس میں اس کا واضح اظہار ان الفاظ میں کیا: "یورپی یونین آرمینیا کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش مند ہے، جس کی آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے اور جس نے 2017 میں یونین کے ساتھ جامع شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبکہ گزشتہ سال اس نے اس بلاک کی رکنیت کے لیے باقاعدہ درخواست دینے کے ارادے کا اظہار بھی کیا ہے"۔
یوں یورپی یونین آرمینیا کو اپنے ساتھ ملا کر روس اور امریکہ کے مقابلے میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، یہ بعید از قیاس ہے کہ روس خاموش رہے گا، چنانچہ پیوٹن نے جواباً کہا ہے: "یورپی یونین اور یوریشین اکنامک یونین کی رکنیت کو یکجا کرنا بس ناممکن ہے"۔
آرمینیا "یوریشین اکنامک یونین" کا رکن ہے جس کی قیادت روس کر رہا ہے جب سے اس نے 2014میں اسے قائم کیا تھا اور روس اس سے بنیادی طور پر فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ اپنی زیادہ تر صنعتی مصنوعات ان صارف رکن ممالک میں فروخت کرتا ہے جو صنعتی طور پر ترقی یافتہ نہیں ہیں، جیسے بیلاروس، قازقستان، کرغیزستان اور آرمینیا۔ روس کے ساتھ ساتھ ان رکن ممالک کی آبادی تقریباً 18کروڑ ہے اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) 5ٹریلین (50کھرب) امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ یونین اشیاء اور خدمات کی نقل و حمل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور میکرو اکنامک، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت، توانائی، خارجہ تجارت، سرمایہ کاری، کسٹمز، تکنیکی ضابطہ کاری، مسابقت اور اینٹی ٹرسٹ (اجارہ داری کے خاتمے) کے شعبوں میں مشترکہ پالیسیاں فراہم کرتی ہے۔
روس کے لیے یہ مارکیٹ مذکورہ بالا شعبوں میں بہت سی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آرمینیا کی خود سے علیحدگی کی کسی بھی کوشش میں رکاوٹ ڈالتا ہے، کیونکہ آرمینیا تقریباً مکمل طور پر روسی اشیاء پر انحصار کرتا ہے اور روس اسے روزگار فراہم کرتا ہے، تقریباً 70 ہزار آرمینیائی باشندے روس میں کام کر رہے ہیں، جبکہ 2022 میں ان کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تھی۔ اس کے علاوہ، تقریباً 20 لاکھ آرمینیائی باشندے روسی فیڈریشن میں آباد ہیں، جو کہ آرمینیا کی کل آبادی کا دو تہائی بنتا ہے۔
آرمینیا اب روس سے پیچھا چھڑانے کے لیے کوشاں ہے، اسی لیے وہ یورپی یونین اور امریکہ کے قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف یورپی یونین اس صورتحال کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک اور پہلو، جو کہ سب سے زیادہ اہم ہے، یہ ہے کہ یورپی یونین امریکہ سے آزاد ایک سیاسی اور فوجی قوت بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین، جنہوں نے اس سربراہی اجلاس میں شرکت کی، نے کہا: "ہمیں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنا دفاع خود کرنے کے قابل ہو سکیں، اور یورپی یونین کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری کی ضرورت ہے"۔ فرانسیسی صدر میکرون نے بھی کہا کہ "یورپی اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں، وہ دفاع اور سلامتی پر اپنے اخراجات بڑھا رہے ہیں، اور اپنے مشترکہ حل خود تیار کر رہے ہیں"۔
یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب امریکہ نے جرمنی میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں تقریباً 5 ہزار کی کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جرمن چانسلر میرٹز کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی طریقہ کار پر تنقید کے بعد سامنے آیا، جس نے ٹرمپ کو سیخ پا کر دیا اور انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ میرٹز نے 27 اپریل 2026 کو کہا تھا: "ایرانی قیادت، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب، ایک پوری قوم کی تذلیل کر رہی ہے،" اور ان کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا جس کے صدر ٹرمپ پر انہوں نے تنقید کی کہ انہوں نے "یورپیوں سے مشاورت نہیں کی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ "ایرانی جنگ میں امریکہ کی واپسی کی حکمت عملی (ایگزٹ سٹریٹیجی) کو سمجھنے سے قاصر ہیں"۔ واضح رہے کہ میرٹز پہلے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کی پالیسی کے حامی تھے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے اور وہ خالصتاً یورپی پالیسی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک) کے دونوں کناروں پر موجود قوتوں کے درمیان دراڑیں پڑ چکی ہیں، جو کہ دفاعی اتحاد 'نیٹو' (شمالی اوقیانوس کا معاہدہ) میں یکجا ہیں۔ اس کے اہم ارکان، یعنی امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان تلخ کلامی اور الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ 8اپریل 2026کو نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر کہا: "جب ہمیں نیٹو کی ضرورت تھی، تب وہ کہیں موجود نہ تھا، اور اگر ہمیں دوبارہ اس کی ضرورت پڑی تو یہ پھر بھی موجود نہیں ہوگا۔ گرین لینڈ کو یاد رکھیں، برف کا وہ بڑا ٹکڑا جس کا انتظام بہت برے طریقے سے چلایا جا رہا ہے"۔ ان کے اس اشارے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب بھی گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے خواہشمند ہیں، جس سے یورپی ممالک غصے میں ہیں، وہ ایران کے ساتھ جنگ میں ٹرمپ کی شکست کی تمنا کر رہے ہیں تاکہ وہ واپس آ کر اس جزیرے کا مطالبہ نہ کر سکے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ آبنائے ہرمز پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے میں ان کی مدد کریں، لیکن یورپی ممالک نے انکار کر دیا کیونکہ اس جنگ کے بارے میں ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔
نیٹو کا ایک اور رکن کینیڈا، جو کہ امریکہ کے نشانے پر ہے، اب یورپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے اس کے وزیراعظم مارک کارنی نے سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور یورپیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمارا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسی دنیا کے سامنے جھکنے پر مجبور ہیں جو زیادہ مفاد پرست، تنہائی پسند اور وحشی ہو چکی ہے"۔ ان کا اشارہ امریکہ کی طرف تھا جس نے کینیڈا کا گھیرا تنگ کر رکھا ہے اور اسے اپنی 51ویں ریاست بنانے کے لیے اس کے الحاق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کارنی نے امریکہ کے اس مطالبے کو ایک وحشی دنیا کے سامنے جھکنے سے تعبیر کیا، یعنی اس امریکہ کی غلامی جو دنیا کی قیادت کر رہا ہے اور اپنے مفاد کے سوا کچھ نہیں جانتا۔ انہوں نے مزید کہا: "اس طرح کے اجتماعات ہمیں ایک متبادل راستہ فراہم کرتے ہیں"۔ یعنی وہ اپنے لیے یورپ کی صورت میں ایک ایسی جگہ اور پناہ گاہ ڈھونڈ رہے ہیں جہاں وہ خود کو بچا سکیں۔ وہ کینیڈا کے تحفظ کے لیے دفاعی شعبے میں یورپ کے ساتھ ہم آہنگی چاہتے ہیں، یاد رہے کہ کینیڈا اب بھی علامتی طور پر برطانوی تاج کے ماتحت ہے۔ 1867 میں کینیڈا کے قیام کے وقت سے ہی یورپی ممالک نے اسے امریکہ کے ہڑپ کیے جانے سے بچائے رکھا، برطانیہ اور فرانس نے اسے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ کے ساتھ اس کے الحاق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اب کینیڈا ایک بار پھر یورپ کی پناہ لینے کی طرف لوٹ رہا ہے۔
اس طرح ہم نیٹو اتحاد میں ایک حقیقی دراڑ دیکھ رہے ہیں، جسے سوویت یونین کے زوال کے بعد باقی نہیں رہنا چاہیے تھا۔ نیٹو 1949 میں سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جس کے جواب میں سوویت یونین نے 1955 میں وارسا معاہدہ (وارسا پیکٹ) تشکیل دیا تھا۔ امریکہ نے نیٹو کو صرف یورپ پر اپنی برتری اور غلبہ برقرار رکھنے کے لیے قائم رکھا۔ اب اگر وہ اپنا یہ مقصد حاصل نہیں کر پاتا تو وہ اس اتحاد کو جاری نہیں رکھنا چاہتا! اسی لیے وہ اپنے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتا ہے، چنانچہ اس نے دیگر رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 5 فیصد تک اضافہ کریں۔ وہ یورپ میں اپنی افواج کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درحقیقت امریکہ وہاں یورپ کے دفاع کے لیے نہیں بلکہ اس پر اپنا تسلط جمانے کے لیے موجود ہے۔
نیٹو کا بکھرنا اور پھر اس کا خاتمہ دنیا کو انسانیت کی بدبختی کے ایک بڑے سبب سے نجات دلائے گا، اور وہ سبب ہے ایسے بین الاقوامی اتحادوں کا وجود جو بڑی جنگوں کا باعث بنتے ہیں اور جن کی وجہ سے کئی ممالک بیک وقت کسی دوسرے ملک پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے اس صلیبی اتحاد 'نیٹو' نے افغانستان پر مجرمانہ جارحیت کی، اسے تباہ و برباد کیا اور 2001 سے لے کر 20 سال تک وہاں کے لوگوں کا قتل عام کیا اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا، یہاں تک کہ 2021 میں یہ اتحاد اپنے متکبر قائد امریکہ سمیت ذلیل و خوار ہو کر وہاں سے نکلا۔
Latest from
- الرایۃ کے متفرقات - شمارہ نمبر 600
- یمنی بندرگاہیں: بااثر افراد کی بدعنوانی اور ایجنٹوں کی کشمکش سے نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ تک
- بے تحاشہ مہنگائی کی لہریں اور حکومتی پالیسیوں کا بانجھ پن
- شام کے معاشی بحران کا صحیح حل، موجودہ صورتحال کا تجزیاتی جائزہ اور اسلامی متبادل
- اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ کا مسئلہ: ایک بیماری کی علامتیں اور ایک ہی علاج