بسم الله الرحمن الرحيم
الرایۃ کے متفرقات - شمارہ نمبر 600
پہلے صفحے کی سرخی
نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کا قیام ایک ایسی ضرورت ہے جسے موجودہ حالات فرض کرتے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے شریعت تسلیم کرتی ہے۔ یہ امت کے ہاتھوں میں ایک منصوبہ اور ایک امانت ہے، لہٰذا امت پر لازم ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے اور اس امانت کو ادا کرنے کے لیے تگ و دو کرے تاکہ یہ وہ مقصدِ حیات بن جائے جس کے لیے وہ جیتی ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ ان تمام زہریلے تصورات کو خود سے دور کر دے جو استعماری کافر مغرب نے اس کے اندر بوئے ہیں اور اسے یہ وہم دلایا ہے کہ اسی میں اس کی چھٹکارا اور نجات ہے۔
===
پہلے صفحے کے لیے
عشرہ ذوالحجہ اور دعوت کا کام
امام بخاری، ابو داؤد، ترمذی اور دیگر محدثین نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ» "اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں (ذوالحجہ کے پہلے عشرے) میں کیے گئے نیک اعمال سے بڑھ کر کسی اور دن کا عمل زیادہ محبوب نہیں ہے۔" صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ» "اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور ان میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لایا (یعنی شہید ہو گیا)۔"
طبرانی کی 'الکبیر' میں ایک روایت ہے کہ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ يُتَقَرَّبُ إِلَى اللَّهِ فِيهَا بِعَمَلٍ أَفْضَلَ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ الْعَشْرِ» "اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لیے ان دس دنوں کے اعمال سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے۔" دارمی کی روایت میں ہے: «مَا مِنْ عَمَلٍ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلاَ أَعْظَمَ أَجْراً مِنْ خَيْرٍ تَعْمَلُهُ فِي عَشْرِ الأَضْحَى» "اللہ عزوجل کے نزدیک عیدِ قربان کے ان دس دنوں میں کیے گئے نیک عمل سے زیادہ پاکیزہ اور اجر کے لحاظ سے عظیم کوئی عمل نہیں ہے۔" طیالسی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا جب آپ ﷺ کے سامنے ان دس دنوں کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَمَلُ فِيهِ مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» "اللہ عزوجل کو ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں کیے گئے عمل سے زیادہ محبوب کسی اور دن کا عمل نہیں ہے۔"
ذوالحجہ کے ان دس دنوں میں ایک مسلمان بہت سے نیک اعمال انجام دے سکتا ہے اور ان میں اپنا اجر کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ ان اعمال میں روزہ رکھنا، قیام اللیل (نفل نمازیں)، تلاوتِ قرآن، دعا، صدقہ و خیرات، اللہ کا کثرت سے ذکر، حسنِ اخلاق، صلہ رحمی، قربانی کرنا، استغفار، توبہ نصوح، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال، ضرورت مندوں کی مدد، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکمرانی قائم کرنے کی دعوت دینا ہے، کیونکہ یہ اللہ کے قریب کرنے والے عظیم ترین اعمال میں سے ہے کیونکہ اس میں پورے دین کا قیام پوشیدہ ہے۔ ان ایام میں بھلائی کا دروازہ پوری طرح کھلا ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ نیک عمل جس کا فائدہ دوسروں تک پہنچے وہ اللہ کے ہاں اس نیک عمل سے بہتر ہے جس کا فائدہ صرف اس کے کرنے والے تک محدود رہے، اگرچہ ہر نیکی میں خیر ہے۔ تو پھر اس نیک کام کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی خیر پوری امت بلکہ پوری دنیا تک پہنچے؟ یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کرنا۔ یقیناً اس میں تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔
===
جس کے پاس قطب نما ہو، وہ راستہ نہیں بھٹکتا
افریقہ، جس نے اسلام کے دور میں اپنے لیے ایک خاص خوشحال نمونہ وضع کرنا سیکھ لیا تھا، اس بات کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ محض ایک میدانِ عمل (جہاں دوسرے اثر انداز ہوتے ہیں) کی حیثیت سے نکل کر خود ایک مؤثر کھلاڑی کا کردار ادا کرے۔ تاریخ بنے بنائے حل تو فراہم نہیں کرتی، لیکن یہ ایک قطب نما ضرور مہیا کرتی ہے، اور جس کے پاس قطب نما ہو وہ راستہ نہیں بھٹکتا۔
مجموعی طور پر افریقہ، اور خاص طور پر اس میں موجود اسلامی علاقے یہ جانتے ہیں کہ قطب نما کا رخ ایک ایسے اصولی نظام (آیڈیالوجیکل نظام) کی طرف ہے جو اس براعظم کے لیے عزت، عدل اور آزادی کو یقینی بنائے جس نے ماضی میں بھی دکھ جھیلے اور اب بھی جھیل رہا ہے۔ یہ مقصد صرف اسلام کا مبدأ (آیڈیالوجی) ہی حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ وہی واحد نظام ہے جو عوام کے معاملات کی اصل نگہبانی کے معنی کو سمجھتا ہے، حقداروں کو ان کے حقوق واپس دلاتا ہے اور ہر قسم کے استعمار (کالونائزیشن) کو، خواہ وہ کسی بھی شکل میں اور کسی بھی نام سے ہو، نکال باہر کرتا ہے۔
یہ استعمار جس نے ان قوموں کو غلام بنایا، انہیں اپنے مفادات کے لیے بطور غلام ہانکا اور ان کے ممالک کے وسائل کو لوٹا، اسلام اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس نے غلاموں کو نجات دلائی، اسلام کے سائے میں اپنی تمام رعایا کو آزادی فراہم کی اور ان کے لیے علمی، تجارتی اور انسانی ترقی و خوشحالی کے دروازے کھولے۔
آج فیصلہ اس براعظم کے بیٹوں کے ہاتھ میں ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ وہ کٹھ پتلی (ایجنٹ) حکمرانوں سے چھٹکارا پانے، استعمار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ امتِ مسلمہ اپنے نوجوانوں اور اپنے وسائل کے ساتھ ان کی پشت پناہ اور مددگار ہے، کیونکہ اسلام کا مقدمہ ایک ہی ہے، اور ہم سب ایک ہی خلافت، ایک ہی ریاست اور ایک ہی زبان کے زیرِ سایہ ہیں۔
لہٰذا، اسلامی زندگی کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ چلنے کے اس موقع کو غنیمت جانیں، اور نسلی، قومی اور لسانی عصبیتوں کو یکسر مسترد کر دیں، اور آئیے ہم اسلام کے اس جامع مرکز (بوتقہ) کی طرف لوٹ جائیں جو اس امت کو متحد کرنے والا واحد راستہ ہے۔
===
حزب التحریر / ولایہ پاکستان مہم: "ان کے اغوا کی 14 ویں برسی پر.... نوید بٹ کو رہا کرو!"
حزب التحریر ولایہ پاکستان نے سوشل میڈیا، بالخصوص ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ہفتہ، 29 ذی القعدہ 1447 ہجری، مطابق 16 مئی 2026 کو ایک مہم شروع کی جس کا عنوان ہے: "ان کے اغوا کی 14 ویں برسی پر.... نوید بٹ کو رہا کرو!"۔ یہ مہم ظالم پاکستانی نظام پر دباؤ ڈالنے کے لیے شروع کی گئی ہے جس کے خفیہ اداروں نے 14 سال قبل حزب التحریر ولایہ پاکستان کے ترجمان انجینئر نوید بٹ کو ان کے بچوں اور پڑوسیوں کے سامنے سے اغوا کیا تھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے حق بلند کیا اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنا شرعی فریضہ ادا کریں، اور ایک ایسے خلیفہ راشد کا تقرر کریں جو ان پر کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکمرانی کرے۔ تاکہ امتِ مسلمہ دوبارہ ویسی ہی بہترین امت بن جائے جو لوگوں (کی ہدایت و نفع) کے لیے نکالی گئی ہے، جیسا کہ اس کے پروردگار تبارک و تعالیٰ نے اس کے لیے چاہا ہے۔ ظلم اب اپنی تمام حدیں پار کر چکا ہے.. بھائی نوید بٹ کی رہائی کے مطالبے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
===
حزب التحریر / ولایہ سوڈان کے وفد کی قبیلہ ہوسا کے امیرِ عام سے ملاقات
منگل، 12 مئی 2026 کو حزب التحریر ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے قبیلہ ہوسا کے امیرِ عام استاد تیجانی موسیٰ سے کسلا شہر میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت حزب التحریر ولایہ سوڈان کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین استاد ناصر رضا محمد عثمان کر رہے تھے، جن کے ہمراہ حزب التحریر ولایہ سوڈان کے مجلس کے رکن استاد محمد مختار اور حزب التحریر کے رکن استاد محمد سراج بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وفد نے حزب التحریر اور اس کے مقصد کا تعارف کروایا کہ اس کا نصب العین نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کا دوبارہ آغاز کرنا ہے، جو امت کو ایک ریاست میں متحد کر دے، اور اس استعماری منصوبے کا مقابلہ کرے جو اسلامی عقیدے کے رشتے اور اسلامی اخوت کے بجائے نسلی اور قبائلی عصبیتوں کو ابھار کر سائیکس-پیکو کے ذریعے پہلے سے تقسیم شدہ (علاقوں) کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے۔ استاد تیجانی نے وفد کی باتوں کی تائید کی اور قبائلی عصبیت کو ترک کرنے اور امت کو اسلام کے منصوبے پر متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
===
امت کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ انتظار کے دائرے سے باہر نکل آئے
اب وقت آ گیا ہے کہ امت انتظار کے دائرے سے باہر نکل آئے، اور یہ جان لے کہ اس کی نجات باہر سے نہیں آئے گی، اور نہ ہی اسے حالات کے رحم و کرم پر رہ کر حاصل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس کا چشمہ امت کے اپنے اندر سے پھوٹے گا۔ یعنی اس کے عقیدے سے، اپنے دین کے احکامات کے شعور سے، اور ایک ایسے منصوبے کے گرد اکٹھے ہونے کی اس کی صلاحیت سے جو صحیح معنوں میں اس کی ترجمانی کرے۔ آج امت میں ایسے مرد اور عورتیں موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو سچ کر دکھایا ہے، وہ اس غم کو اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہیں اور اس ہمہ گیر وجود (خلافت) کی دوبارہ تعمیر کے لیے کوشاں ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ زمین پر اللہ کی خلافت کا قیام ایک ربانی وعدہ اور نبوی بشارت ہے، اور اس کی تکمیل کے لیے انتھک محنت، طویل جدوجہد اور صبرِ جمیل کی ضرورت ہے۔
امت اور بالخصوص اس کے مخلص اہلِ قوت و اقتدار کو اس بات کا پختہ یقین کر لینا چاہیے کہ زخموں پر مرہم رکھنا اور تہذیبی معرکے کو امت کے حق میں فیصلہ کن بنانا بالکل ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اس بات کو تسلیم کر لیں کہ اصل مسئلہ محض جغرافیے کا نہیں بلکہ عقیدے کا ہے۔ جس کے بعد انسانی وقار، خون کی حرمت اور نصرت و مدد کے وجوب کا اصل مفہوم سامنے آتا ہے۔ جب یہ مفاہیم بحال ہوں گے اور ذہنوں میں ان کی تصویر واضح ہو جائے گی، تو سوال "وہاں کیا ہو رہا ہے؟" سے بدل کر "مجھے یہاں کیا کرنا چاہیے؟" میں تبدیل ہو جائے گا۔ کیا دل اب بھی بار بار دہرائے جانے والے وہموں سے وابستہ رہیں گے، یا وہ حقیقی تبدیلی کی طرف دھکیلنے والی ایک قوت میں بدل جائیں گے؟ اور کیا درد صرف سنائی جانے والی ایک خبر بن کر رہ جائے گا، یا وہ ایک ایسا شرارہ بنے گا جو پوری امت کو بیدار کر دے گا؟۔
یہ لمحہ عارضی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہے۔ یا تو اسی دائرے میں گھومتے رہنا ہے، یا ایک ایسے نئے راستے کا آغاز کرنا ہے جو امت کو اس کی وحدت، انسان کو اس کا وقار اور عملی زندگی میں (دین کے) پیغام کو اس کا اصل مفہوم لوٹا دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾
"اور اللہ یقیناً اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا، بے شک اللہ بڑی قوت والا اور نہایت غالب ہے" (سورۃ الحج:آیت 40)۔
===
قدس کو کب پتا چلے گا کہ اس کے وارث واپس آ گئے ہیں اور انہوں نے اس کا مہر ادا کر دیا ہے؟
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پوری تاریخ میں قدس امت کے جذبات اور جدوجہد کا مرکز رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں یہ محض خبروں کے بلیٹن میں ایک عارضی خبر بن کر رہ گیا ہے، یہاں تک کہ یہ دکھ بھرا سوال پیدا ہو گیا ہے: کیا مسلمانوں کے دلوں میں قدس کا مقام بدل گیا ہے، یا پورا قبلہ نما ہی گھوم گیا ہے؟۔
جب خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 637ء میں یہاں داخل ہوئے، تو وہ ایک ایسے عہد نامے کے ساتھ آئے جس نے مقدس مقامات کی حفاظت کی۔ اور جب 1099ء میں صلیبیوں نے اس پر قبضہ کیا، تو یہ اس وقت تک امت کے وجدان میں بسا رہا جب تک اسے سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں دوبارہ حاصل نہیں کر لیا گیا۔
آج ہر مسلمان ایک مشکل سوال کے سامنے کھڑا ہے: امت کا سب سے مقدس مسئلہ کیسے ایک ثانوی حیثیت اختیار کر گیا؟ اور تیز رفتار خبروں کے اس دور میں قدس کا رخ کیسے ایک دور دراز کے شور میں بدل گیا؟۔
تاریخ گواہ ہے کہ مقدس شہروں کی حفاظت تبھی ہوتی ہے جب امت کے پاس طاقت، اتحاد اور ارادہ ہو۔ اور جب یہ تینوں چیزیں یکجا ہوئیں، تو قدس دوبارہ امت کی آغوش میں آ گیا۔ اسی لیے یہ سوال ہر مسلمان کے ذہن پر دستک دیتا ہے: کیا قدس کبھی پہلے کی طرح واپس آئے گا؟ ہاں، یہ تب واپس آئے گا جب امت اس کی طرف عملی قدم بڑھائے گی، صرف تبھی وہ لشکر اسی راستے پر چلیں گے جس پر فاروقِ اعظم اور صلاح الدین چلے تھے۔ بے شک مقبوضہ قدس مسلمانوں کا قبلہ نما اور ان کی اس دوسری خلافتِ راشدہ کا دارالخلافہ ہے جس کی رسول اللہ ﷺ نے بشارت دی تھی، اسی لیے آج تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ حزب التحریر کے ساتھ مل کر خلافت کے قیام کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کام کریں، جو ایک ایسا واضح منصوبہ رکھتی ہے جو خلافت کو قائم کرنے اور فلسطین کی طرف لشکروں کو حرکت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ صرف تب ہی قدس کو معلوم ہوگا کہ اس کے وارث لوٹ آئے ہیں اور انہوں نے اس کا مہر ادا کر دیا ہے۔
===
مسلمان کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اور اس کی راہ میں ہونی چاہیے
ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی اطاعت اور اس کی راہ میں ہونی چاہیے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرے اور اس کی ممانعتوں سے بچے، اور انسانوں اور باطل افکار کی پیروی سے ہوشیار رہے جو اسے گمراہ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ سب گمراہی ہے۔
اور گمراہی طاغوت کا راستہ ہے، جبکہ ہدایت ایمان کا راستہ ہے۔ پس معاملے کا محور یہ نہیں ہے کہ کس پر طاغوت کا نام صادق آتا ہے اور کس پر نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اپنی زندگی میں کس راستے پر چل رہا ہے؟ اور کیا اس کی اطاعت اللہ کے لیے ہے یا باطل اور ان سرکش و جابر لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے حد سے تجاوز کیا؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
"اور اگر آپ زمین میں موجود لوگوں کی اکثریت کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ صرف وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ محض اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں" (سورۃ الانعام: 116)
پس مومن اپنی زندگی اللہ کی راہ میں اور اس کی روشنی میں گزارتا ہے جو اس کے رسول ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، اور وہ اس راستے سے ہٹنے پر راضی نہیں ہوتا، اور اللہ عزیز سے مدد مانگتا ہے کہ وہ اسے صراطِ مستقیم کی ہدایت دے اور اس پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔ مومن ہر قسم کے طاغوت سے بچتا ہے، بلکہ اس کے مقابلے میں ایسا موقف اختیار کرتا ہے جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ راضی ہو۔ چنانچہ وہ طاغوتوں سے اپنی دشمنی کا اعلان کرتا ہے اور انہیں مٹانے اور اللہ کے دین کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ زمین ایک بار پھر ہدایت کے نور سے منور ہو جائے اور اس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹ جائیں:
فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ
"پس یہی اللہ تمہارا ربِ برحق ہے، تو پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ گیا؟ پھر تم کدھر پھرائے جا رہے ہو؟" (سورۃ یونس:آیت 32)۔
===
عظیم افکار عملی موقف میں ڈھلتے ہیں
آج کے نوجوان جنہیں ہم گم گشتہ اور پسپائی کا شکار دیکھتے ہیں، وہ عاجز نہیں ہیں، بلکہ انہیں وہ فکر نہیں دی گئی جو انہیں صحیح سمت میں حرکت دے سکے۔ جب انہیں وہ واضح فکر پیش کی جائے جو ان کے عقیدے سے جڑی ہو اور ان کے حالات سے مطابقت رکھتی ہو، تو وہ تبدیلی کی راہ میں بوجھ بننے کے بجائے اس کا حقیقی ایندھن بن جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ "حالات کب بدلیں گے؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "ہمیں کب یہ احساس ہوگا کہ انہیں بدلنا ہماری ذمہ داری ہے"۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اس بات کو ماننے سے انکار کر دیں کہ موجودہ حالات ہی حق کی تعریف کریں گے۔ مسئلہ صرف حالات کے بگاڑ کو سمجھنا نہیں ہے، بلکہ ان کے مقابلے میں اپنا مقام متعین کرنا ہے: کیا ہم اس بگاڑ میں ضم ہو کر اسے دوبارہ پروان چڑھائیں گے، یا حق کے پیمانے پر اس سے بلند ہو کر اسے تبدیل کریں گے؟
وہ شعور جو ترجیحات کی دوبارہ ترتیب نہ کرے اور ایک واضح موقف پیدا نہ کرے، وہ محض ایک بے جان معلومات ہے جو کوئی حرکت پیدا نہیں کر سکتی۔ شعور کی کوئی قیمت نہیں اگر وہ صرف ذہن میں ایک خیال بن کر رہے، یہ ایک مؤثر قوت میں تبھی تبدیل ہوتا ہے جب اس کا حامل اسے اٹھائے اور اسے لے کر عملی زندگی کے میدان میں نکلے۔ عظیم افکار کتابوں میں محفوظ نہیں کیے جاتے، بلکہ وہ سینوں میں بسائے جاتے ہیں، موقف میں ڈھالے جاتے ہیں اور ایک ایسی منظم جدوجہد میں بدل جاتے ہیں جس کا مقصد حالات سے سمجھوتہ کرنا نہیں بلکہ تبدیلی لانا ہوتا ہے۔
اسی لیے، آج ذمہ داری صرف فہم تک محدود نہیں ہے بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ کہ انسان اس راستے کو تلاش کرے جو اس شعور کو ایک زندہ منصوبے میں بدل دے، اور اس عمل کی تلاش کرے جو اسے محض سوچ بچار کے دائرے سے نکال کر اثر اندازی کے میدان میں لے آئے۔ محض خرابی کو دیکھنا یا انحراف کو سمجھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ آپ ایک واضح بنیاد، متعین فکر اور ثابت قدم منہج پر خود اس تبدیلی کے عمل کا حصہ بنیں۔ تاریخ کبھی منتشر افراد کے ذریعے نہیں بدلی، بلکہ ایک ایسے باشعور گروہ (تکتل) کے ذریعے بدلی ہے جو ایک فکر کو تھامے ہوئے ہو اور اس پر ثابت قدمی سے چلے یہاں تک کہ اسے ایک حقیقت کے طور پر نافذ کر دے۔
پس نقطہ آغاز یہاں سے ہونا چاہیے: کہ ہم موجودہ حالات کو اپنا حوالہ (مرجع) ماننے سے انکار کر دیں، اور اپنی نظر کو اس بنیاد پر دوبارہ استوار کریں جسے ہم حق مانتے ہیں، پھر اسے لے کر چلنے کی ذمہ داری قبول کریں، خواہ راستہ کتنا ہی طویل کیوں نہ نظر آئے۔
===
جہاد ہی کے ذریعے امت اپنے دشمنوں پر غالب آتی ہے اور اسے اس کی عزت واپس ملتی ہے
اے پاکستان کے سپاہیو! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو صرف ان سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جو انگریزوں نے کھینچی تھیں، بلکہ تاریخ کے عظیم مسلم جرنیلوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تمام مسلمانوں کی حفاظت کے لیے جہاد کرنا آپ پر فرض قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر یا خندق کے بعد چند ماہ کے لیے بھی جہاد کو نہیں روکا، بلکہ اسلام کا پیغام مشرق و مغرب تک پہنچایا۔ اور آج جہاں غزہ کے مسلمان آپ کے منتظر ہیں، وہیں اہلِ کشمیر اب بھی ہندو ریاست کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، پس آپ جہاد کے میدانوں کا رخ کریں۔ آپ کے اسلاف اور مسلم فاتحین نے ایک کے بعد ایک علاقہ فتح کیا اور اسے اسلام کی حکمرانی کے تابع کیا، یہاں تک کہ وہ سمندروں تک جا پہنچے اور کبھی نہ رکے، تو پھر وہ کیا چیز ہے جو آپ کو ان مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے سے روکتی ہے جبکہ آپ انہیں بچانے کی پوری قدرت رکھتے ہیں؟۔
بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کی مکمل اطاعت اس قوم پرست ریاستی نظام کے اندر رہ کر ممکن نہیں ہے، لہٰذا آگے بڑھیں اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں۔ آپ کا خلیفہ ہی جہاد میں آپ کی قیادت کرے گا، اور آپ کو غازی یا شہید کا مرتبہ پانے کا اعزاز بخشے گا، وہ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک تمام مسلم ممالک کو ایک ہی خلافت کے سائے تلے متحد کر دے گا، یہودی وجود کا خاتمہ کرے گا اور امریکہ کو ہمارے پورے خطے سے نکال باہر کرے گا۔ اور یہی وہ عظیم کامیابی ہے جس کے لیے کوشش کرنے والوں کو کوشش کرنی چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے" (سورۃ الانفال: 24)۔
===
یمن بحرانوں کے بھنور اور حقیقی تبدیلی کی جدوجہد کے درمیان
آج یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض کوئی عارضی بحران یا اتفاقی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ملک کی دولت اور اس کے سٹریٹجک محلِ وقوع پر جاری شدید بین الاقوامی کشمکش کا براہِ راست عکس ہے۔ یمن اپنی قدرتی دولت اور انتہائی اہم جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے استعماری طاقتوں کے مقابلے کا ایک کھلا میدان بن چکا ہے، جو اسے صرف وسائل کے ایک ذخیرے اور اپنے مفادات کی راہداری کے طور پر دیکھتے ہیں، چاہے اس کی قیمت پوری قوم کو بھوکا مار کر ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔
یہ کشمکش انتہائی تباہ کن نتائج لائی ہے اور اس نے ایک دم گھونٹ دینے والی معاشی صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں ملک کے وسائل معطل، پیداوار کا پہیہ جام اور معاشی بحران اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ یمن کا انسان زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے سے بھی قاصر ہے۔ آج کی یہ غربت اور کسمپرسی ان پالیسیوں کا قدرتی نتیجہ ہے جو پسِ پردہ چلائی جا رہی ہیں اور مختلف مہروں کے ذریعے زمین پر نافذ کی جا رہی ہیں۔
آج یمن ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ یا تو بحرانوں کے اسی بھنور میں پھنسا رہے، یا پھر اس حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھے جو انسان کو اس کی قدر و قیمت اور وسائل کو خوشحال زندگی کی تعمیر میں ان کا اصل کردار لوٹا دے۔ یہ غربت اور محتاجی ان غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے جنہیں ارادے، شعور اور اخلاص کی موجودگی میں بدلا جا سکتا ہے، اور یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک حکمران اور بااثر طبقات اپنے رب اور خالق کے حکم پر لبیک نہ کہیں جس نے ان کے لیے زندگی کے تمام معاملات کو منظم کرنے والا ایک مکمل نظام (منہج) نازل فرمایا اور سیدنا محمد ﷺ کو انسانیت کا ہادی بنا کر بھیجا۔ اللہ کی کتاب آج بھی ہمارے پاس موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہمارے درمیان روشن ہے۔ لہٰذا، اسلام کی حکمرانی کو دوبارہ لانے اور دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے پوری محنت اور جانفشانی سے کام کریں، بے شک حزب التحریر نے خود کو اسی عظیم مقصد کے لیے وقف کر رکھا ہے اور وہ آپ کو اس قافلے میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہے۔
===
Latest from
- یمنی بندرگاہیں: بااثر افراد کی بدعنوانی اور ایجنٹوں کی کشمکش سے نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ تک
- بے تحاشہ مہنگائی کی لہریں اور حکومتی پالیسیوں کا بانجھ پن
- شام کے معاشی بحران کا صحیح حل، موجودہ صورتحال کا تجزیاتی جائزہ اور اسلامی متبادل
- اسیروں اور مسجدِ اقصیٰ کا مسئلہ: ایک بیماری کی علامتیں اور ایک ہی علاج
- ٹرمپ کے دورۂ چین کے نتائج!




