بسم الله الرحمن الرحيم
ٹرمپ کا اصرار ہے کہ مزاحمت کار مسلمان اپنے ہتھیار پھینک دیں، جبکہ امہ کے دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔
خبر:
اسلام آباد، 31 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان "بورڈ آف پیس" کے تحت تخفیفِ اسلحہ کے عمل پر غزہ امن منصوبے کے مطابق عمل درآمد کی جانب ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اپنی ایکس پوسٹ میں انہوں نے کہا: "امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت ثالثی کرنے والے ممالک اس پیشرفت کے حصول میں اپنی کاوشوں کے لیے خصوصی تحسین کے مستحق ہیں۔ صدر ٹرمپ کی بہادرانہ قیادت میں، یہ بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔"
31 جولائی 2026
https://www.app.com.pk/national/pakistan-welcomes-developments-on-disarmament-under-gaza-peace-plan-pm/
تبصرة
غزہ کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ یہ ہے کہ ناجائز قبضے کے خلاف مسلمان مزاحمت کار اپنے ہتھیارڈال دیں، جبکہ یہودی وجود کو ہر قسم کے جدید ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی جائے۔ فلسطین کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ فلسطین کی مبارک سرزمین کی سرنڈر اور اس پر ان لوگوں کا دائمی قبضہ ہے جن پر اللہﷻ کا غضب نازل ہوا، یعنی یہود۔ بورڈ آف پیس کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ علاقائی اتحادوں کا ایک جال بننا ہے، تاکہ یہودی وجود کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے جائیں اور مسلمان ریاستیں یہود کو معاشی، عسکری اور ثقافتی طور پر اپنا لیں۔ رہے ٹرمپ کے ایجنٹ، یعنی پاکستان کے حاکم، تو وہ اپنے آقا کے احکامات سے آگے نہیں دیکھتے، اور اللہﷻ، اس کے رسولﷺ اور مومنین سے مکمل غفلت برتتے ہیں۔
اے پاکستان کے مسلمانو! ہم نے غزہ کی حمایت میں مسلمانوں کی افواج کے متحرک ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ ایک مبارک مطالبہ ہے۔ ہمارے اس مبارک مطالبے نے توانائی، امید اور تحریک پیدا کی، جبکہ امہ کے دشمنوں کو خوفزدہ کر دیا۔ ہمیں نہ تو اپنے مطالبے سے غافل ہونا چاہیے اور نہ ہی اس سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ ہمیں اپنے مطالبے پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور اس کے اثر کو مضبوط کرنا چاہیے۔ یقیناً ہمارا مطالبہ مبارک ہے کیونکہ اس کی بنیاد اللہﷻ کی شریعت میں ہے۔
اللہﷻ کی شریعت مسجد اقصیٰ کی سرنڈر کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ ہمارے دلوں میں ایمان سے وابستہ ہے۔ اللہﷻ نے فرمایا:
﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾
"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گردونواح کو ہم نے برکت دی" [ الاسراء :1]۔
اور اللہﷻ کی شریعت ہماری زمینوں پر قابضین کے ساتھ اتحاد کی اجازت نہیں دیتی۔ اللہﷻ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ان سے جنگ کریں، اور ہمیں ان سے جنگ کرنے سے منع نہیں کرتا:
﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
"اللہﷻ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی، تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں" [ الممتحنہ : 9]۔
پس آئیے ہم اپنے مبارک مطالبے پر ثابت قدم رہیں اور اس کے اثر کو مضبوط کریں۔ آئیے ہم اپنے تمام رشتہ داروں، دوستوں اور مسلمانوں کی افواج میں موجود عزیز افسران و جوانوں سے رابطہ کریں۔ آئیے ان سے مطالبہ کریں کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حمایت میں متحرک ہوں اور راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کریں۔ یقیناً اگر مسلمانوں کی کوئی فوج، یا مسلمانوں کی کسی فوج کا ایک حصہ بھی، بزدل یہود کے خلاف متحرک ہو جائے تو اللہﷻ کی اجازت سے ایک ہی دن کے چند گھنٹوں میں آزادی ممکن ہے۔
اے پاکستان کے علماء!
مسلمانوں کے ساتھ ان کے مبارک مطالبے پر کھڑے ہوں اور ان کی حمایت کریں۔ عظیم حنفی عالم، ابن عابدین شامی، جو حنفی فقہ کی کتاب "رد المحتار على الدر المختار" کے مصنف ہیں، اپنی حاشیہ (۳/۲۳۸) میں کہتے ہیں: وفرض عين إن هجم العدو على ثغر من ثغور الإسلام فيصير فرض عين على من قرب منه، فأما من وراءهم ببعد من العدو فهو فرض كفاية إذا لم يحتج إليهم، فإن احتيج إليهم بأن عجز من كان بقرب العدو عن المقاومة مع العدو أو لم يعجزوا عنها ولكنهم تكاسلوا ولم يجاهدوا فإنه يفترض على من يليهم فرض عين كالصلاة والصوم لا يسعهم تركه، وثم وثم... إلى أن يفترض على جميع أهل الإسلام شرقاً وغرباً على هذا التدريج "اور فرض عین ہے اگر دشمن اسلام کی کسی سرحد پر حملہ کر دے۔ تو یہ ان لوگوں پر فرض عین ہو جاتا ہے جو اس کے قریب ترین ہیں۔ رہے وہ جو ان سے پیچھے ہیں اور دشمن سے دور ہیں، تو وہ فرض کفایہ ہے، بشرطیکہ ان کی ضرورت نہ ہو۔ لیکن اگر ان کی ضرورت پڑ جائے، اس لیے کہ دشمن کے قریب والے دشمن کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں، یا عاجز نہیں ہیں لیکن سستی کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے، تو پھر ان کے پیچھے والوں پر فرض عین ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے نماز اور روزہ فرض عین ہیں، اور انہیں اسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں۔ پھر یہ فرض عین آگے بڑھتا رہتا ہے... یہاں تک کہ مشرق و مغرب کے تمام اہلِ اسلام پر فرض عین ہو جاتا ہے، اس تدریجی انداز میں۔"
#ArmiesToAqsa